ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ:۶/ربيع الأول/۱۴۴۲ھ،مطابق ۲۳/اکتوبر/۲۰۲۰ عیسوی۔
خطیب: لفضيلة الشيخ/ عبدالباري الثبيتي حفظہ اللہ
موضوع: ہدایاتِ سورۃ الضحی میں غور و فکر
ترجمہ: حافظ محمد اقبال راشد
باللغة: الأردية.

پہلا خطبہ
قرآنِ مجید کی ایک ایسی سورت ، جو رسول اللہ ﷺ کے قلبِ اطہر پر نازل ہوئی اور اس نے آپ کے تمام دکھوں اور تکلیفوں کا مکمل ازالہ کرتے ہوئے ، آپ کو مطمئن اور خوش کردیا۔

رسول اللہ ﷺ پر کچھ دیر کے لیے وحی آنا بند ہوئی ، تو آپ کی عداوت کے منتظر اور شکی لوگوں نے آپ کے خلاف خوب پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ توالله تعالٰی نے یہ سورت نازل کرکے فرمایا:

(دن کے اُجالے اور رات کی تاریکی کی قسم ! اللہ تعالی نے آپ کو چھوڑا نہ آپ سے بیزار ہوا

اس سورت کے نازل ہونے سے رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے اور اللہ کے نزدیک آپ کی محبت ، فضیلت اور قرب میں نکھار آگیا کیونکہ آپ اللہ سے واقعتاً محبت کرتے ہیں اور اللہ بھی آپ سے پیار کرتا ہے۔

(اللہ نے آپ کو چھوڑا نہ آپ سے بیزار ہوا)

خدا ایسے دل کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ، جو اس سے مانوس ہو ، اس سے مناجات کرتا ہو اور اس کی آیات و کلام سے لطف اندوز ہوتا ہو۔

جس بندے کا دل اللہ سے جُڑ جائے ، اللہ تعالی اس سے بے رخی نہیں کرتا، بلکہ اسے اپنے قریب ترین کرتے ہوئے اس کا مقام و مرتبہ مزید بلند کر دیتا ہے۔

یہ آیت رسول اللہ ﷺ اور ہر اُس مومن مرد اور عورت سے مخاطب ہے ، جس کا تعلق اللہ تعالی سے سچا ہے۔

اور یہ دل میں الله کی دوستی ، قربت اور معیت کا احساس پیدا کرتے ہوئے ، اُسے خوشی ، سعادت اور مٹھاس سے بھر دیتی ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالٰی حدیثِ قدسی میں فرماتا ہے : "میرا بندہ مسلسل نفلی عبادات سے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہانتک کہ میں اس سے محبت و دوستی کر لیتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کر لیتا ہوں ، تو پھر میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، اگر وہ مجھ سے سوال کرے ، تو میں اسے عطا کر دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے ، تو میں اسے ضرور پناہ دے دیتا ہوں" .

( یقیناً آپ کے لیے آخرت، دنیا سے بہتر ہے )

بلاشُبہ آپ کے لیے ہر معاملے کا انجام ، آغاز سے بہتر ہوگا.آپ ﷺ مسلسل بلندیوں کو عبور کرتے رہے ۔ اوراللہ بھی آپ کے دین کو مضبوط اور اس
کی نصرت کرتا رہا اور آپ کے احوال کو سنوارتا رہا یہانتک کہ آپ کی روح قبض ہو گئی

جیسے جیسے آپ کی زندگی کے دن گزرتے گئے ، اللہ تعالٰی بھی آپ کی عزت ، نصرت اور تائید میں اضافے پر اضافہ کرتا رہا ، یہانتک کہ آپ نے دیکھ لیا کہ ، لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں ۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے ، آپ کے لیے مکہ فتح کر دیا اور آپ کی دعوت کو زمین کے کونے کونے میں پھیلا دیا۔

اور اللہ کے سارے فیصلے آغاز کی نسبت انجام میں بہتر ثابت ہوئے۔

بندے کا معاملہ اس ربِ کریم کے ساتھ ہے ، جو بندے کو آزماتا ہے ، پھر فراخی کر دیتا ہے اورآخر كار معاملہ آسودہ ہو جاتا ہے۔

لہذا تمہاری ہر آخری حالت ، پہلی تمام حالتوں سے بہتر اور افضل ثابت ہوئی ۔

(یقیناً آپ کے لیے انجام ، آغاز سے بہتر ہے)

اللہ تعالی جانتا کہ اس کے رسول کو دنیا سے آخرت کے بہتر ہونے کا علم ہے ، کیونکہ وہی تو کہنے والے ہیں کہ ،

اللہ تعالٰی فرماتا ہے:" میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ، جنت میں ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ، جو کبھی آنکھ نے دیکھی نہیں ، کان نے سنی نہیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا

اور انہوں نے ہی تو بتایا ہے کہ: "جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ ، دنیا و مافیہا سے افضل ہے

آپ کی بیماری کی حالت میں ، جب آپ کو مرضی کی زندگی گزارنے اور جو نعمتیں کے اللہ کے ہاں ہیں، ان میں اختیار دیا گیا، تو آپ نے اللہ کے ہاں انعامات کو اختیار کیا۔

عقلِ راست والے سب جانتے ہیں کہ آخرت ، دنیا سے بہتر اور افضل ہے ، کیونکہ دنیا زوال پذیر اور اس کی ہر چیز فانی ہے۔ جبکہ صرف تیرے رب ذوالجلال والاکرام کی ذات ہی ہمیشہ رہنے والی ہے ۔

اور یہی وہ بنیادی مفہوم ہے ، جو ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی بہتری ، عمل کی اصلاح ، باطن کی تہذیب اور اپنے اوقات کو ثمر آور بنانے پر ابھارتا ہے

(تجھے تیرا رب بہت جلد انعام دے گا اور تو راضی ہوجائے گا).

کئی زمانوں سے اس آیت کی تلاوت ہو رہی ہے ، کان اسے محفوظ کر رہے ہیں ، دلوں پر لرزہ طاری ہے ، اور یہ عطا کرنے والے کےنزدیک عطا پانے
والے کے مقام ومرتبے کو بیان کر رہی ہے۔

حالانکہ یہ آیت اپنے معنی اور مدلول کے اعتبار سے ، بذاتِ خود ایک سراپا عطا ہے۔

پھر کیا کہنے ہیں ایسے عطا کرنے والے کے ، جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ، جس کی عطا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور جس کی نعمتیں اور بدلہ بلا حدود ہے۔

اللہ تعالی نے آپ کو دنیا میں بلند ترین آسمانوں سے اونچا وہ مقام عطا فرمایا ، جو تمام انبیا سے اوپر ہے اور آپ کو خاتم الرسل بنایا ، آپ کی امت کو سب سے افضل امت قرار دیا ، آپ پر سب سے افضل کتاب نازل کی ، آپ کو سب سے افضل شریعت عطا کی اور آپ کے اصحاب و ازواجِ مطہرات کو عزت و شرف بخشا۔ الغرض آپ پر اتنا فضل کیا کہ ، جس کا احاطہ ناممکن ہے۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے: (اللہ تعالیٰ ایسی بابرکت ذات ہے کہ اگر وہ چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عطا کر دے ، جو ان کے کہے ہوئے باغات سے کہیں بہتر ہوں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور آپ کو بہت سے محلات بھی دے دے

میدانِ محشر میں باہمی فیصلہ ہونے تک ٹھہرنے والوں کی شفاعت اور جنتیوں کو جنت میں داخل کروانے کی شفاعت کا شرف بھی اللہ نے آپ کو ہی عطا کیا ہے۔

رضا مندی بھی اس شخص کے لیے اللہ کی عطا ہے ، جو اللہ کے سامنے گڑگڑایا اور اللہ نے اسے پسند کرلیا اور جسے اس کا رب پسند کر لیتا ہے ، اسے وہ اپنا قرب نصیب کر دیتا ہے، اور وہ اسے بہت جلد خوش کردے گا۔

دنیا میں راحتِ نفس ،اطمینانِ قلب،خوشحالی اور بے فکری کے ذریعے ۔(جبکہ آخرت میں تو وہ من پسند آرام کی زندگی میں ہوگا

(سو تو اپنے رب کی طرف اس طرح لوٹ کہ،تو اس سے راضی اور وہ تم سے راضی).

(کیا اس نے تجھے یتیمی میں پاکر جگہ نہیں دی؟ اور تجھے راہ بھولا پاکر، ہدایت نہیں دی؟).

جیسا کہ الله تعالٰی نے آپ کو یتیمی میں سنبھالا ، بذریعہ وحی ہدایت دی اور آپ کو مال اتنا عطا کیا ، کہ جو آپ زندگی کے ہر مرحلے کے لیے کافی ہو۔

جیسا کہ اللہ تعالی نے آپ کو ابو طالب کی آغوشِ تربیت فراہم کی ، جب ابو طالب کی مالی حالت کمزور ہوئی ،تو اللہ تعالی نے آپ کو خدیجہ کی دولت سے مالامال کر دیا ،اور جب اس میں بھی کمی آگئی ، تو ابوبکر کی دولت کے ذریعے غنی کردیا اور جب ابوبکر کی حالت غیر متحمل ہوئی تو اللہ نے آپ کو ہجرتِ مدینہ کا حکم دیا اور انصار کی مدد سے مالامال کر دیا۔

بلاشُبہ یہ نعمتیں جو اللہ تعالی نے اپنے نبی کو عطا کی ہیں ، اگر کوئی مصیبت و غم کا مارا یا جس کے سامنے مصائب و رکاوٹیں کھڑی ہو جائیں، ان پر غور و فکر کرتا
ہے ، تو اس کے لیے اچھی توقعات کے آفاق اور امیدوں کی کرنیں روشن ہوجاتی ہیں ۔

اور اس کے ارادہ و عمل میں قوت بھر جاتی ہے ۔

اور وہ نا امیدی ، مایوسی ، ناکامی اور شکست کے جذبات سے نکل کر ، اپنے مشن اور زندگی میں پیچھے ہٹنے سے بچ جاتا ہے۔

سو اللہ کی رحمت و عطا کی عمومیت و شمولیت کی کوئی حد نہیں ہے۔

(پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کر اور نہ سوالی کو ڈانٹ ڈپٹ).

یہ آیات اس دانشمندانہ زندگی کی بنیاد ہیں ، جس کی اساس یکجہتی و ہمدردی ہے .

اور یہ پکار ہیں ہر اس شخص کے لیے ، جسے غیر معروف ہونے کے بعد اللہ نے عظیم رتبے کے احسان سے نوازا اور یتیمی کے بعد سہارا دیا ، فقیری کے بعد تونگری دی ، ذلت کے بعد رفعت و بلندی عطا کی تاکہ وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرے۔

چنانچہ تم یتیم پر رعب نہ جماؤ اور نہ ہی ڈانٹ ڈپٹ سے اسے ذلیل کرو ، بلکہ اس کے ساتھ حسنِ سلوک اور مہربانی سے پیش آؤ۔

نیز کمزوروں کے لیے مغرور ، متکبر اور بدکلام نہ بنو اور مساکین کو انتہائی مہربانی اور نرمی سے جواب دو۔
(اور تو اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ).


ووسرا خطبہ

(اور تو اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ).

اپنی زندگی کی ورق گردانی کرو ، تاکہ تجھے اپنے اوپر اللہ کے اس وقت کے احسانات دکھائی دیں ، جب اس نے تجھے نا چیز سے قابلِ ذکر بنایا۔

ہر ہر حرکت اور ہر ہر سانس کے ساتھ اللہ کے احسانات ہیں۔

جیسا کہ پیدا کرنا ، راہِ راست پہ چلانا ، امن و سلامتی عطا کرنا، آنکھ ، کان اور مال و اولاد دینا، پُر سکون نیند اور خوشگوار بیداری ، یہ سب اللہ کے ہی احسانات ہیں ۔ بلکہ تیرے سر سے پاؤں کے تلوے تک ، اللہ کے انعام ہی انعام ہیں۔

(اور خود تمہاری ذات میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو).

اللہ کے انعامات پر ذرا غور کر ، جو اس نے تمہارے لیے سورج ، چاند ، نہروں، سمندروں ، درختوں، چوپایوں اور لیل و نہار کو مسخر و مطیع کیا ہے۔اللہ کے احسانات پر غور کرو اور اقرار ، اعتراف ، وفا اور اطاعت کے طور پر ، بیان کیا کرو، تاکہ تمہیں اللہ کے فضل کا اندازہ اور اس کے حق کی پہچان ہو۔اور تمہاری حالتِ غفلت فرمانبرداری میں اور حالتِ کوتاہی شکر گزاری میں تبدیل ہو سکے اور تم تن ، من، دھن کے ساتھ قولاً فعلاً اللہ کا شکر بجا لاؤ اور اِن تمام نعمتوں کو اللہ کے فرائض کی ادائیگی اور شریعت کی بالادستی کے لیے بروئے کار لاؤ۔

(قسم ہے چاشت کے وقت کی اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے ، نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوگیا ہے ، یقیناً تیرے لیے انجام ، آغاز سے بہتر ہوگا ، تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی و خوش ہو جائے گا ، کیا اس نے تجھے یتیم پاکر جگہ نہیں دی؟ اور تجھے راہ بھولا پا کر ہدایت نہیں دی اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟ ، پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر، اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ ،اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ).
 
Top