ذیشان خان

Administrator
ذکرِحبیب اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم

تحریر از ✍ أبو حسن میاں سعید

دور نبوت کی عورتیں افضل تو ہیں ہی لیکن ایک دوسرے پر سبقت لیے ہوئے بھی ہیں اور نرالی شان والی بھی ہیں

کہیں وہ ہیں کہ جو پہلے اسلام قبول کرنے والی اور سیدالاولین و الاخرین صلی اللّٰه علیہ وسلم کا قرب پانے والی اور جن کے بطن سے اللّٰه تعالیٰ نے ایسی اولاد عطاء فرمائی کہ جن جیسی کسی اور کو نہ عطاء فرمائی

کہیں وہ ہیں کہ جن کے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ معراج کیلئے بلاوا آگیا (سیدہ ام ہانی رضی اللّٰه عنہا)

کہیں وہ ہیں کہ جنہیں عورتوں میں پہلی شہید ہونے کا درجہ ملا

اور بہت سی فضیلت والی ہستیاں ہیں جن کا ذکر کرنے بیٹھوں تو اصل موضوع سے یہ ذکر طوالت اختیار کر جائے گا

کچھ عجائب دیکھتا ہوں 🤔 کون آیا تھا؟

یہ دودھ کہاں سے آیا؟ 🤔

یہانپر تو دودھ دینے والی کوئی بکری یا جانور نہیں؟ 🤔

وہ آئے تھے

وہ کون؟ 🤔

کیسے تھے؟ 🤔

مجھے انکا وصف بتاؤ (حلیہ مبارک)

اب جو انہوں نے حلیہ مبارک بیان کیا تو ویسا اعلیٰ نقشہ کوئی نہ کھینچ سکا اور نہ ہی کسی مرد کو ایسی فضیلت ملی

بے شک بہت سے صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم نے اپنے انداز میں بیان کیا لیکن یہ عورت سب پر سبقت لے گئی

ابھی تو سیدالاولین و الاخرین صلی اللّٰه علیہ وسلم نے بمشکل چند ساعتيں ہی اس کے خیمہ پر گزاری تھیں تو اس باکمال عورت نے انتہا کردی اگر یہ مدینہ میں مقیم ہوتیں تو حد ہی کر دیتیں

تابعین سے لیکر آج تک اور قیامت تک آنے والی اس امت کے ایمان والے اس عورت کے شکر گزار رہے ہیں اور رہیں گے

دو عورتوں کا خاص طور پر میں شکر گزار ہوں اور میرا دل و جان ان کیلئے بچھ بچھ جاتے ہیں جن میں سے ایک ام معبد خزاعیہ رضی اللّٰه عنہا ہیں

اللّٰه تعالی اُمّ ِ معبد خُزاعیہ کی قبر کو منور کرے اور انکے درجات کو بلند فرمائے کیا ہی خوبصورت نقشہ کھینچا کہ آج بھی امت انکے الفاظ پر فدا ہے ،اللہ اکبر

ہجرت کے وقت رسول اللّٰه ﷺ اُمّ ِ معبد خُزاعیہ کے خیمے سے گذرے تو اس نے آپﷺ کی روانگی کے بعد اپنے شوہر کے کہنے پر آپﷺ کے حلیہ مبارک کاجو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا۔

قالَ: صِفيهِ لي يا أمَّ معبدٍ، قالَت: رأيتُ رجلًا ظاهرَ الوضاءةِ، أبلجَ الوجهِ، حسَنَ الخلقِ، لم تَعِبْهُ ثَجلةٌ، ولم تُزريهِ صعلةٌ، وسيمٌ قسيمٌ، في عَينيهِ دعجٌ، وفي أشفارِهِ وطفٌ، وفي صوتِهِ صَهَلٌ، وفي عنقِهِ سَطعٌ، وفي لحيتِهِ كثاثةٌ، أزجُّ أقرَنُ، إن صمتَ فعليهِ الوقارُ، وإن تَكَلَّمَ سماهُ وعلاهُ البَهاءُ، أجملُ النَّاسِ وأبهاهُ من بعيدٍ، وأحسنُهُ وأجملُهُ من قريبٍ، حُلوُ المنطقِ فَصلًا، لا نزرٌ ولا هذرٌ، كأنَّ منطِقَهُ خرزاتُ نظمٍ، يتَحدَّرنَ ربعةٌ لا تشنأَهُ من طولٍ، ولا تَقتحمُهُ عينٌ من قِصَرٍ، غُصنٌ بينَ غُصنَينِ، فَهوَ أنضرُ الثَّلاثةِ مَنظرًا وأحسنُهُم، قدرًا لَهُ رفقاءُ يحفُّونَ بِهِ، إن قالَ: سمِعوا لقولِهِ، وإن أمرَ تبادروا إلى أمرِهِ، مَحفودٌ محشودٌ لا عابسٌ ولا مفنَّدٌ،

چمکتا رنگ ، تابناک چہرہ ، خوبصورت ساخت ، نہ توند لے پن کا عیب ، نہ گنجے پن کی خامی ، جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر ، سرمگیں آنکھیں ، لمبی پلکیں ، بھاری آواز، لمبی گردن ، سفید وسیاہ آنکھیں ، سیاہ سرمگیں پلکیں ، باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو ، چمکدار کالے بال ، خاموش ہوں تو باوقار ، گفتگو کریں تو پرکشش ، دور سے (دیکھنے میں) سب سے تابناک و پُر جمال ،قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں ، گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دوٹوک ، نہ مختصر نہ فضول ، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں۔ درمیانہ قد ، نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے، نہ لمبا کہ ناگوار لگے ، دوشاخوں کے درمیان ایک شاخ جو تینوں میں سب سے زیادہ تازہ وخوش منظر وپُر رونق ، رفقاء آپﷺ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ، کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں۔ کوئی حکم دیں تو لپک کر بجالاتے ہیں مطاع ومکرم نہ ترش رو، نہ لغو گو

اللّٰه تعالی نے اس امت سے اپنے حبیب ﷺ کی ہر وہ ادا محفوظ کروائی جو اس نے محفوظ کروانی چاہی ،چلتے چلتے حضرت علی رضی اللّٰه عنہ کا خوبصورت انداز بیان بھی ذکر کردوں

حضرت علی رضی اللّٰه عنہ آپﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

آپ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے کھوٹے ، لوگوں کے حساب سے درمیانہ قد کے تھے ، بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑے ، دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی ، رخسار نہ بہت زیادہ پُر گوشت تھا ، نہ ٹھڈی چھوٹی اور پیشانی پست ، چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل ، پلکیں لمبی ، جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی ، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر ، بقیہ جسم بال سے خالی ، ہتھیلی اور پاؤں پر گوشت ، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤں اٹھا تے۔ اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں، جب کسی طرف ملتفت ہوتے تو پورے وجود کے ساتھ ملتفت ہوتے ، دونوںکندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپﷺ سارے انبیاء کے خاتم تھے۔ سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مند، سب سے زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہد وپیمان کے پابندِ وفاء۔ سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی۔ جو آپﷺ کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہوجاتا۔ جوجان پہچان کے ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپﷺ کا وصف بیان کر نے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپﷺ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد آپﷺ جیسا نہیں دیکھا ( یہ وہ الفاظ ہیں کہ روح تک کو سرشار کر دیتے ہیں )

ربیع بنت معوذ کہتی ہیں کہ اگر تم حضور کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہے۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰه عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپﷺ کو دیکھا ، آپ پر سُرخ جوڑا تھا۔ میں رسول اللہﷺ کو دیکھتا ، اور چاند کودیکھتا۔ آخر (اسی نتیجہ پر پہنچا کہ ) آپ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی لگتا تھا سورج آپﷺ کے چہرے میں رواں دواں ہے۔ اور میں نے رسول اللّٰه ﷺ سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا۔ لگتا تھا زمین آپ کے لیے لپیٹی جارہی ہے۔ ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے تھے۔ اور آپ بالکل بے فکر۔

حضرت کعب بن مالک رضی اللّٰه عنہ کا بیان ہے کہ جب آپﷺ خوش ہوتے تو چہرہ دمک اٹھتا ، گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔

ایک بار آپﷺ حضرت عائشہ رضی اللّٰه عنہا کے پاس تشریف فرماتھے۔ آپﷺ جوتا سی رہے تھے۔ اور وہ دھاگا کات رہی تھیں۔ پسینہ آیا تو چہرے کی دھاریاں چمک اٹھیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللّٰه عنہا مبہوت ہوگئیں۔ اور کہنے لگیں کہ اگر ابو کبیر ہذلی آپﷺ کو دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کے اس شعر کے حقدار کسی اور سے زیادہ آپ ہیں:

وإذا نظرت إلی أسرۃ وجہہ ،،،،،، برقت کبرق العارض المتہلل
جب ان کے چہرے کی دھاریاں دیکھو تو وہ یوں چمکتی ہیں جیسے روشن بادل چمک رہا ہو

اور پھر آپﷺ کے بارے میں ہے کہ جب آپﷺ غضب ناک ہوتے تو چہرہ سرخ ہوجاتا گویا دونوں رخساروں میں دانۂ انار نچوڑ دیا گیا ہے

ذکرِ حبیب اللّٰه صلی اللہ علیہ وسلم ہورہا ہے تو اس بہن کا بھی لکھ دوں جس نے بچپن میں اپنے عظیم المرتبت بھائی کیلئے انتہائی عمدہ اشعار کہے

سیدہ شیماء بنت حارث کے وہ اشعار جو بھائی کی محبت میں چور ہوکر انہوں نے بچپن میں کہے تھے جب وہ رسول اللّٰه ﷺ کو کھیلایا کرتی اور لوری سنایا کرتی تھیں کیا ہی خوب بہن تھی اور کیا اعلی اور افضل بھائی ؟ اللّٰه اکبر

سيدة شيماء بنت حارث رضى اللّٰه عنہا کو خود بھی خبر نہیں کہ جن ﷺ کیلئے وہ یہ دعائیں کہہ رہی ہیں ان ﷺ کے رب نے اس مبارک ہستی کو سیدالاولین و الاخرین ﷺ بنانا ہے ، اللّٰه اکبر کبیرا

اللّٰه تعالی بہترین جزاء عطاء فرمائے سیدہ شیما بنت حارث اللّٰه عنہا کو جنہوں نے اتنے اعلی اشعار کہے کہ دل مسرور ہوگیا

يا ربنا أبق لنا محمدا حتى أراه يافعا وأمردا
اے میرے رب(میرے بھائی) محمد ﷺ کو ہمارے لئے سلامت رکھ یہاں تک کہ میں آپﷺ جوان دیکھوں

ثم أراه سيدا مسودا واكبت أعاديه معا والحسدا
یہاں تک کہ میں آپﷺ سردار دیکھوں جس کی سب اطاعت کرتے ہوں اور (اے میرے رب) انکے دشمنوں و حاسدوں کو ذلیل و رسوا کر

وأعطه عزا يدوم أبدا
اور انکو دائمی عزت عطا فرما

جزاک اللّٰه خیرا

اللّٰه تعالیٰ ہمیں دین حق کی سمجھ عطا فرمائے اور سیدالاولین و الاخرین صلی اللّٰه علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل پیرا ہونے والوں میں شامل فرمائے اور بدعات سے نفرت کرنے والا اور شرک سے بچنے والا بنائے اور قرآن و سنت کی دعوت دینے والا بنائے، آمین
 
Top