ذیشان خان

Administrator
سورہ اخلاص کی فضلیت؟

تحقیق حدیث: فضیلۃ الشیخ حافظ ابو یحییٰ نورپوری حفظه الله

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک میں تھے کہ سورج ایسی روشنی لے کر طلوع ہوا کہ ہم نے اس کے پہلے کبھی اس طرح طوع ہوتا نہیں دیکھا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل! مجھے کیا ہے کہ میں آج سورج کو خوب روشنی سے طوع ہوتے دیکھا ہے اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ معاویہ بن معاویہ لیثی مدینہ میں فوت ہوئے ہیں اللہ نے ایک ہزار فرشتے ان کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بھیجے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا ان کو یہ فضلیت کسی وجہ سے ملی؟ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ دن رات، چلتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے کثرت سے قل ھو اللہ احد(سورہ اخلاص) پڑتھے تھے۔کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کے لیے زمین کو سمیٹ دوں تا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں؟ فرمایا جی ہاں(زمین کو قریب کر دیا گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ لیثی کی نماز جنازہ پڑھی۔"( مسند أبي يعلى الموصلي، ح : 4267)
یہ روایت من گھڑت ہے۔علاء ابو محمد ثقفی پر جھوٹ بولنے کی جرح ہے۔
نوٹ : بعض روایات میں ستر ہزار فرشتوں کا ذکر ہے۔یہ روایت اپنی تمام سندوں سے ضعیف ہے۔(تفسیر ابن کثیر: 8/496)
 
Top