ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: ۱۳؍ ربیع الاول؍ ۱۴۴۲ھ مطابق ۳۰؍ اکتوبر؍ ۲۰۲۰ م
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ
موضوع: قرآن مجید میں اللہ تعالی کی قسمیں۔
ترجمہ: نورعالم محمد ابراہیم سلفی۔

پہلا خطبہ

یقینا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اُس کی حمد بیان کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اُسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کے شر سے اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے ہداہت دے اُسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور وہ جسے گمراہ کردے اُسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں، بہت زیادہ درود وسلام نازل ہوں اُن پر اور اُن کے آل و اصحاب پر۔
امابعد:
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے، اور رازداری و سرگوشی ہر حال میں تمہیں اُس کی نگرانی کا احساس رہے۔
اے مسلمانو!
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو دائمی نشانی اور بلیغ نصیحت کا ذریعہ بنایا ہے، اور اُس میں ہدایت کے متعدد اسالیب اختیار کیے ہیں۔ اللہ تعالی کا مختلف چیزوں کی قسم کھانا بھی ایمان و ہدایت کے ذرائع میں سے ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے پندرہ مکی سورتوں کی ابتدا قسم سے کی ہے، اِن کے علاوہ قرآن کے دیگر مقامات پر بھی اللہ نے قسمیں کھائی ہیں۔ اِن قسموں کا مقصد یہ ہے کہ بندوں کو قسم کھانے والے ، جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے اور جس چیز کے لیے قسم کھائی جارہی ہے اُن سب کی عظمت سے آگاہ کیا جائے۔
اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں عظیم ترین ذات کی قسم کھائی ہے جو کہ خود اُس کی اپنی ذات ِ مقدسہ ہے اور جو صفات کمال سے متصف ہے، اور یہ قسم عظیم ترین چیز کے لیے کھائی ہے جو کہ ایمان کی بنیاد اور دین کا خزانہ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿۲۳﴾
آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم! یہ بات ایسے ہی ایک حقیقت ہے جیسے تمہارا بولنا ایک حقیقت ہے۔“ (ذاریات:۲۳)۔
اور قیامت کےدن بندوں کو جمع کرنے کے بارے میں اپنی ربوبیت کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ ﴿ۚ۶۸﴾
”آپ کے پروردگار کی قسم! ہم انہیں ضرور جمع کریں گے۔“ (مریم:۶۸)۔
اور یہ کہ بندہ قیامت کےدن اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا، اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور اُس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
فَوَ رَبِّکَ لَنَسۡئَلَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿ٙ۹۳﴾ ٙ
”آپ کے پروردگار کی قسم ! ہم ان سے ضرور (ان اعمال کی) باز پرس کریں گے، جو وہ کیا کرتے تھے۔“ (حجر: ۹۲-۹۳)۔
اور مشرکین کے محاسبہ کے بارے میں اپنی الوہیت کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا:
تَاللّٰہِ لَتُسۡئَلُنَّ عَمَّا کُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۶﴾
”اللہ کی قسم! جو کچھ تم اللہ پر افترا کرتے ہو اس کی تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔“ (نحل:۵۶)۔
اسی طرح اللہ تعالی نے اپنی کمالِ قدرت ، اور بندوں کو بدلہ اور حساب کے لیے دوبارہ اٹھائے جانے کے سلسلے میں ہر اس چیز پر اپنی ربوبیت کی قسم کھائی ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾ عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ ۙ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿۴۱﴾
”میں مَشرقوں اور مغربوں کےرب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم یقینا اس بات پر قادر ہیں؛ کہ ان کے بدلے ان سے بہتر مخلوق لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔“ (معارج: ۴۰-۴۱)۔
نبی ﷺ کے ساتھ اپنی ربوبیت کی قسم کھاتے ہوئے ایسے شخص کے ایمان کی نفی کی ہے جو نبی ﷺ کو فیصل اور حاکم تسلیم نہ کرے، اور آپ ﷺ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرے، ارشادباری تعالی ہے:
فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵﴾
”(اےمحمد ﷺ!) تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔“ (نساء: ۶۵)۔
اللہ تعالی جب چاہتا ہے ،جیسے چاہتا ہے اور جس چیز کے بارے میں چاہتا ہے کلام فرماتا ہے، اور قرآن کریم اللہ کی اشرف و عظیم ترین کلام ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن کے نازل کرنے کی قسم کھاتے ہوئے ارشادفرمایا:
حٰمٓ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ ﴿۳﴾
”حم۔ اس واضح کتاب کی قسم! یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے۔“ (دخان:۲-۳)۔
اور اپنے نبی کی رسالت ونبوت کی صحت وصداقت پر قرآن کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا:
وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾
” قسم ہے حکمت والے قرآن کی ! آپ بلاشبہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔“ (یس:۲-۳)۔
اور آخرت کے وقوع کو ثابت کرنے کے لیے قرآن کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا:
وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ﴿۱﴾ۚ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ۚ﴿۲﴾ ءَاِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ۚ ذٰلِکَ رَجۡعٌۢ بَعِیۡدٌ ﴿۳﴾
” قسم ہے اس قرآن کی جو بڑی شان والا ہے۔ بلکہ یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا ہے۔ چنانچہ کافروں نے کہا کہ : یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی بن جائیں گے (تو پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟) یہ واپسی تو (عقل سے) بعید ہے۔ “ (ق:۱-۳)۔
اللہ تعالی نے اپنی کتاب اور اُس کے لکھے ہونے کی صفت کی قسم کھائی ہے :
فِیۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍ ۙ﴿۳﴾
”جو کھلے ہوئے صفحات میں لکھی ہوئی ہے۔“ (طور:۳)۔
یعنی جو چھوڑی ہوئی نہیں ہے۔ بلکہ وہ :
بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ کِرَامٍ ۢ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾
” ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے جو بزرگ اور پاکباز ہیں۔“ (عبس:۱۵-۱۶)۔
اِس میں قرآن کا خیال رکھنے کی طرف اشارہ ہے۔
اسی طرح ہمارے نبی محمد ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں میں سب سے افضل ہیں، اور اُن کی زندگی انس وجن کے لیے باعثِ ہدایت ورحمت اور برکت ہے، اور اللہ نے اپنے فضل سے اُنہیں اُن کی طرف بھیجا ہے، تاکہ اُن کی اطاعت کرنے والا نعمتوں والے باغات سے سرفراز ہو، اسی طرح نبی ﷺ کی عمر آپ کی امت کو دعوت دینے کے سلسلے میں بہت بڑی نعمت اور نشانی ہے،کیونکہ نبی ﷺ نے اپنی پوری زندگی مکمل اخلاص وتقوی کے ساتھ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلانے میں صرف کردیا، جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ کو جنت میں بلند ترین مقام عطا فرمایا، اُن کے دین وشریعت کی حفاظت فرمائی، اور اُن کا مذاق اڑانے والوں کے لیے خود کافی ہونے کا وعدہ کیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الۡمُسۡتَہۡزِءِیۡنَ ﴿ۙ۹۵﴾
”ہم تمہاری طرف سے مذاق اڑانے والوں (کی خبر لینے) کے لئے کافی ہیں۔“ (حجر:۹۵)۔
اور آپ ﷺ سے بغض وعداوت رکھنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کو دُم بریدہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ ٪﴿۳﴾
”یقیناً تیرا دشمن ہی لا وارث اور بے نام و نشان ہے۔“ (کوثر:۳)۔
تمام اولاد آدم کی عمروں میں آپ کی عمر کی خصوصیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زندگی کی قسم کھائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
لَعَمۡرُکَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ سَکۡرَتِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۷۲﴾
” (اے نبی )! آپ کی عمر کی قسم! اُس وقت وہ اپنی مستی میں دیوانے ہو رہے تھے۔“ (حجر: ۷۲)۔
یعنی وہ اپنی گمراہی میں بھٹک رہے تھے۔
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اِس سے یعنی اللہ تعالی کا نبی ﷺ کی زندگی کی قسم کھانے سے نبی ﷺ کے لیے عظیم شرف اور بلند جاہ ومرتبہ کا ثبوت ملتا ہے۔
فرشتے اللہ کی عظیم مخلوق ہیں، جوبنا تھکے اللہ کی عبادت میں پابندی کے ساتھ مصروف ہیں، اُن پر ایمان لانا ارکانِ ایمان میں سے ہے، لہذا اُن کی عظمت ِ شان بیان کرنے کی خاطر اللہ تعالی نے اپنے سامنےان کے صف بستہ کھڑے ہوکر عبادت کرنےکی قسم کھائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾
”قسم ہے ان فرشتوں کی جو (آسمانوں میں) صف باندھے ہوتے ہیں۔“ (صافات: ۱)۔
دنیا کا نظام چلانے کے سلسلے میں اللہ تعالی کی جانب سے تفویض کی گئی ذمہ داریوں کے اعتبار سے فرشتوں کی متعدد اقسام ہیں، چنانچہ اللہ تعالی بادل وغیرہ کو ڈانٹ کر حکم دینے والے فرشتوں کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ﴿۲﴾
”پھر اُن فرشتوں کی قسم ہے جو (بادلوں کو) زبردست ڈانٹ کے ذریعے ہانکتے ہیں۔“ (صافات: ۲)۔
اُن فرشتوں کی بھی اللہ نے قسم کھائی ہے جو کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے:
فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾
”پھر اُن فرشتوں کی قسم جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔“ (صافات:۳)۔
اور اُن فرشتوں کی بھی قسم کھائی ہے جو مخلوق کے درمیان اللہ کے فیصلوں کو نافذ کرتے ہیں، جیسے روزی کی تقسیم، تائیدِ الہی اور عذاب وغیرہ، ارشادِ باری تعالی ہے:
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾
”اُن فرشتوں کی قسم جو اللہ کے حکم کے مطابق روزی تقسیم کرتے ہیں۔“ (ذاریات: ۴)۔
موت ایک بھیانک منظرہے، کچھ فرشتے ایسے ہیں جو قوت کے ساتھ انسان کی روح قبض کرتے ہیں، اور ڈوب کر روح کھینچتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے اُن فرشتوں کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا ہے:
وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ﴿۱﴾
”قسم ہے اُن فرشتوں کی جو (کافر کے جسم میں) ڈوب کر روح کو سختی سے نکالتے ہیں۔“ (نازعات: ۱)۔
اور کچھ فرشتے ایسے ہیں جو آسانی اور تیزی کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں، اللہ تعالی نے اُن کی بھی قسم کھائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَّ النّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ﴿۲﴾
”اور اُن فرشتوں کی قسم جو (مومن کی روح کو) نرمی سے نکالتے ہیں۔“ (نازعات: ۲)۔
اُن فرشتوں کی بھی اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے جو رسولوں کے پاس آکر حق وباطل کے درمیان تفریق کرتے تھے، اوررسولوں کے پاس دھمکی اور تنبیہ پر مبنی وحی لے کر آتے تھے۔ ارشادِ باری تعالی ہے؛
فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ﴿۴﴾ فَالۡمُلۡقِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۵﴾ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ﴿۶﴾
”پھر اُن فرشتوں کی قسم جو حق وباطل میں فرق کردیتے ہیں۔ پھر اُن فرشتوں کی قسم جو وحی لے کر آتےہیں۔ تاکہ حجت قائم کردیں یا ڈرا دیں۔“ (مرسلات: ۳-۶)۔
کائنات اللہ تعالی کی عجیب مخلوقات میں سے ہے، اور کائنات کے اندرجو باریک کاریگری ہے اُس پر غور وفکر کرنے سے انسان اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کی عظمت اور قوت کا معترف ہوجاتا ہے۔
چنانچہ آسمان قدر ومنزلت، اونچائی، وسعت، رنگ اور چمک کے اعتبار سے اللہ کی عظیم ترین نشانی ہے، اور ہمارا رب آسمان کے اوپر ہے، یہی فرشتوں کا محل ہے، یہی سے روزیاں اترتی ہیں، اوراُسی کی طرف اعمال اور روح چڑھتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی آسمان اور اُسے بنانے والے کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾
”اور قسم ہے آسمان کی اور اُس ذات کی جس نے اُسے بنایا۔“ (شمس: ۵)۔
اور اس کی بلندی کی صفت کی بھی اللہ نےقسم کھائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَ السَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ ۙ﴿۵﴾
”اور قسم ہے اونچی چھت (یعنی آسمان) کی۔“ (طور: ۵)۔
اور آسمان کی بناوٹ میں جو زینت ، جمال اور مضبوطی ہے، اُس کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾
”اور اُس آسمان کی قسم جس میں راہداریاں بنی ہیں۔“ (ذاریا: ۷)۔
اور آسمان میں جس ٹوٹنے والے ستارے کی روشنی چمکتی ہے، اُس کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ ۙ﴿۱﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الطَّارِقُ ۙ﴿۲﴾ النَّجۡمُ الثَّاقِبُ ۙ﴿۳﴾
”قسم ہے آسمان کی، اور رات کو آنے والے کی۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے؟ وہ چمکدار ستارہ ہے۔“ (طارق: ۱-۳)۔
اور آسمان میں موجود برجوں کی قسم کھائی ہے، جن پر سورج، چاند اورگھومنے والے ستارےنازل ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِ ۙ﴿۱﴾
”قسم ہے آسمان کی جو بُرجوں والا ہے۔“ (بروج: ۱)۔
اسی طرح اُس آسمان کی قسم کھائی ہے جو بارش کے ساتھ لوٹتاہے، اور یکے بعدیگرے بندوں پر لوٹتا رہتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے:
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾
”اور قسم ہے بارش والے آسمان کی۔“ (طارق: ۱۱)۔
اسی طرح ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھائی ہے جو کہ رات ودن، سال و مہینے اور دنوں کے جاننے کا ذریعہ ہے: ارشادِ باری تعالی ہے:
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾
”میں ستاروں کے گرنے کی جگہ اور وقت کی قسم کھاتا ہوں۔“ (واقعہ: ۷۵)۔
ستاروں کے مختلف احوال ہوتے ہیں، جن سے وہ گزرتے ہیں، اُن کے طلوع ہونے کی جگہ ہوتی ہے جہاں سے وہ طلوع ہوتے ہیں، پھر اللہ کے حکم کے تابع ہوکر اپنے غروب ہونے کی جگہ کی طرف جاتے ہیں، اُن کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾
”پھر قسم ہے آسانی سے چلنے والے ستاروں کی۔“ (ذاریات: ۳)۔
اور ستاروں کے تینوں احوال یعنی غروب ہونے، چلنے اور طلوع ہونے کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾۔ الۡجَوَارِ الۡکُنَّسِ ﴿ۙ۱۶﴾
”میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی، چلنے پھرنے والے چھپ جانے والے ستاروں کی۔“ (تکویر:۱۵-۱۶)۔
اسی طرح اللہ تعالی نے چھپ کر سننے والے شیطانوں پر ٹوٹنے والے ستارے کی قسم کھائی ہے، اور گمراہی وضلالت سے نبی ﷺ کی پاکیزگی بیان کی ہے کہ وہ سچے ہیں اور صرف ایسی وحی شدہ بات کرتے ہیں جو کہ شیطانوں کے چوری چھپے سننے سے محفوظ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَالنَّجۡمِ اِذَا هَوٰىۙ‏ ﴿۱﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوٰى‌ۚ‏ ﴿۲﴾
”ستارے کی قسم جب وہ گرتا ہے، تمہارا ساتھی (یعنی رسول اللہ ﷺ ) نہ گمراہ ہوئے ہیں اور نہ بھٹکے ہیں۔“ (نجم: ۱-۲)۔
آسمانِ دنیا پر نظر آنے والی مخلوقات میں سورج اور چاند اللہ کی عظیم ترین مخلوقات ہیں، جن کی حرکت سے لوگوں کا مفاد وابستہ ہے، اور لوگ اپنی روزی کے لیے اُن دونوں سے کبھی بے نیاز نہیں ہوسکتے، ان کی عظمت بیان کرتے ہوئے اللہ نے اُن دونوں کی قسم کھائی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَالشَّمۡسِ وَضُحٰٮهَاۙ‏ ﴿۱﴾ وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَاۙ‏ ﴿۲﴾
”آفتاب اور اُس کی روشنی کی قسم، اور ماہتاب کی قسم جب وہ آفتاب کے بعد نکلتا ہے۔“ (شمس: ۱-۲)۔
زمین فرش اوربچھونا ہے، اللہ تعالی نے اُسے مخلوقات کے لیے تیار کرکے اُسے ہموار بنایا ، اُسے پھیلایا ، اُس میں برکت دی، اُس میں حیوانات اور چوپایوں کو پیدا کیا اور اُس میں ندیاں اور چشمے جاری کیے، چنانچہ زمین، اُس کی وسعت اور اُس کو بچھانے اورپھیلانے والے کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰٮهَاۙ‏ ﴿۶﴾
”اور قسم ہے زمین کی اور اُس کو بچھانے والے کی۔“ (شمس:۶)۔
اور زمین سے نکلنے والے پودوں کی قسم کھائی ہے جو کہ زمین اور اس پر بسنے والوں کی زندگی کا باعث ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے؛
وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِۙ‏ ﴿۱۲﴾
”اور قسم ہے پھٹنے والی زمین کی ۔“ (طارق:۱۲)۔
ہوائیں اللہ کی عجیب مخلوق ہیں جو نظر نہیں آتیں، اللہ تعالی اُن کےذریعے مدد کرنے یا عذاب دینے یا روزی دینے کے لیے اُنہیں چلنے اور کام کرنے کاحکم دیتاہے، چنانچہ حکم ِ الہی کی مسلسل پابندی پر اللہ تعالی اُن کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
وَالۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًاۙ‏ ﴿۱﴾
”ان ہواؤں کی قسم جو پے در پے چلتی ہیں۔“ (مرسلات: ۱)۔
اسی طرح اللہ کے حکم سے آندھی طوفان بن جانے والی ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًاۙ‏ ﴿۲﴾
”پھر اُن ہواؤں کی قسم! جو آندھی کی طرح چلتی ہیں۔“ (مرسلات: ۲)۔
اور اپنے ساتھ مٹی اور پانی کو اڑا لے جانے والی ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالذّٰرِيٰتِ ذَرۡوًاۙ‏ ﴿۱﴾
”اُن ہواؤں کی قسم! جو گرد اُڑاتی ہیں۔“ (ذاریات: ۱)۔
اور پانی سے بھرے بادلوں کوڈھونے والی ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًاۙ‏ ﴿۲﴾
”اور اُن بادلوں کی قسم! جو بارش کا پانی ڈھوئے پھرتے ہیں۔“ (ذاریات: ۲)۔
سمندر اللہ تعالی کی نشانیوں میں بڑی نشانی ہے، جس میں بہتا پانی بھرا ہوا ہے، اور یہ سمندر اللہ کے حکم سے زمین پر طُغیانی برپا کرنے سے رُکا ہوا ہے، ورنہ وہ زمین والوں کو غرق کرکے رکھ دے گا، اور اُس میں بھاری بھرکم کشتیاں اللہ کی دی ہوئی روزیوں کو لےکر چلتی ہیں، اور اُس میں خُشکی کے مقابلےمیں کئی گُنا زیادہ مخلوقات ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے سمندر کے عجائبات اور اُس میں موجود پانی کی قسم کھائی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِۙ‏ ﴿۶﴾
” قسم ہے جوش مارتے ہوئے سمندر کی۔“ (طور:6)۔
اللہ تعالی نے اولادِ آدم کو بہت ساری مخلوقات پر فضیلت بخشی، اور اُن کے اصل مسکن یعنی مکہ جو کہ تمام بستیوں کا مرکز ہے، اور جو تمام ممالک کا مرجع ہے، اُس کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
لَاۤ اُقۡسِمُ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ‏ ﴿۱﴾ وَاَنۡتَ حِلٌّ ۢ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ‏ ﴿۲﴾
”میں اِس شہر (مکہ ) کی قسم کھاتا ہوں۔ درانحالیکہ آپ اِس شہر میں اقامت پذیر ہیں۔“ (بلد: 1-2)۔
اِسی طرح انسان کی اصل یعنی تمام انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا:
وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَۙ‏ ﴿۳﴾
”اور میں قسم کھاتا ہوں ہر باپ اور ہر اولاد کی۔“ (بلد: 3)۔
کتابت اور قلم انسان پر اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہیں، کیونکہ یہ دین کی حفاظت اور اسلام کی معرفت کے اہم ترین وسائل میں سے ہیں، اُن کے ذریعے لوگوں کی مصلحتیں پوری ہوتی ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے اِس بات پر اُن دونوں کی قسم کھائی ہے کہ اُ س کے نبی دشمنوں کے لعن طعن سے پاک ہیں، اور یہ کہ وہ باعزت نبی ہیں جنہیں اُن کے رب نے اخلاق کے عظیم ترین مرتبے پر فائز کیا ہے جہاں تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا، ارشادِ باری تعالی ہے:
نٓ‌ وَالۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُوۡنَۙ‏ ﴿۱﴾ مَاۤ اَنۡتَ بِـنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُوۡنٍ‌ۚ‏ ﴿۲﴾ وَاِنَّ لَڪَ لَاَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُوۡنٍ‌ۚ‏ ﴿۳﴾ وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿۴﴾
”ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے فرشتے لکھتے ہیں۔ آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں۔ اور بے شک آپ کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ اور یقینا آپ اخلاق کے بڑے بلندمرتبہ پر ہیں “ (قلم: ۱-۴)۔
گھوڑا سواری اور زینت کا ذریعہ ہے، اور استفادہ اُس کا لازمی عنصر ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک بھلائی باندھ دی گئی ہے۔“ (بخاری ومسلم)۔ اللہ تعالی نے گھوڑے کی ایسی صفت کی قسم کھائی ہے جس میں کوئی دوسرا جانور شریک نہیں ہوسکتا، چنانچہ اُس کے طاقتور اور بلیغ دوڑ کی قسم کھائی ہے جس سے اس کے سینے سے اُس کی سانس کی آواز نکلتی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَالۡعٰدِيٰتِ ضَبۡحًاۙ‏ ﴿۱﴾
”قسم ہے گھوڑوں کی جو (دشمن کی طرف تیزی کے ساتھ) پھنکارتے ہوئے دوڑتے ہیں۔“ (عادیات: ۱)۔
اور اُس کے کھُروں کی مضبوطی کے باعث پتھر سے ٹکرانے پر آگ کی چنگاریاں نکلنے کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَالۡمُوۡرِيٰتِ قَدۡحًاۙ‏ ﴿۲﴾
”پھر اُن گھوڑوں کی قسم! جو (اپنے کھُروں کی رگڑ سے ) راہ کے پتھروں سے چنگاریاں اُڑاتے ہیں۔“ (عادیات: ۲)۔
اور صبح کے وقت اُس کے حملہ کرنے کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
فَالۡمُغِيۡرٰتِ صُبۡحًاۙ‏ ﴿۳﴾
”پھر اُن گھوڑوں کی قسم جو صبح کے وقت دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں۔“ (عادیات: ۳)۔
گھروں کا سردار بیت المعمور ہے جو کہ آسمان میں ہے، پہاڑوں کا سردار کوہِ طور ہے جس پر اللہ تعالی نے اپنے نبی موسی علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا، کتابوں کا سردار قرآن ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے اِن تمام چیزوں کی ایک ساتھ قسم کھائی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَالطُّوۡرِۙ‏ ﴿۱﴾ وَكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍۙ‏ ﴿۲﴾ فِىۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍۙ‏ ﴿۳﴾ وَالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِۙ‏ ﴿۴﴾
”طور (پہاڑ) کی قسم! اور ایک لکھی کتاب کی قسم۔ ایک کھلے کاغذ میں، اور آباد گھر کی قسم۔“ (طور: ۱-۴)۔
مکہ کو دیگر مقامات کے مقابلے میں اعلی مقام ومرتبہ عطا کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ نے اُس کی قسم کھائی ہے اور اُسے امن والا شہر قرار دیا ہے، ارشادِباری تعالی ہے:
وَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِ‏ ﴿۱﴾ وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَ‏ ﴿۲﴾ وَهٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ‏ ﴿۳﴾
”قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ اور قسم ہے طورِ سینا کی۔ اور قسم ہے اِس امن والے شہر کی۔“ (تین: ۱-۳)۔
رات سکون حاصل کرنے اور اللہ کی عبادت کرنے کا وقت ہے، اور ہر رات کے تیسرے پہر ہمارا آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے، اور اپنے فضل وکرم کی بنیاد پر اپنے بندوں کے سامنے اپنی رحمتیں پیش کرتا ہے۔
اللہ تعالی نے اپنی کَونی نشانیوں میں رات کی سب سے زیادہ قسم کھائی ہے، اور اُس کے مختلف احوال کی قسم کھائی ہے، چنانچہ رات کی رخصتی کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا:
وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَۙ‏ ﴿۱۷﴾
”اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگتی ہے۔“ (تکویر: ۱۷)۔
اور اُس کے داخل ہونے اور جاری ہونے کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ‌ۚ‏ ﴿۴﴾
”اور قسم ہے رات کی جب وہ گزر رہی ہوتی ہے۔“ (فجر:۴)۔
اور رات جب لوگوں کو اپنی تاریکی میں ڈھانپ لیتی ہے تو اس وقت کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىۙ‏ ﴿۱﴾
”قسم ہے رات کی جب وہ (دن کو ) ڈھانپ لیتی ہے۔“ (لیل: ۱)۔
اور جب رات ٹھہر جاتی ہے، اور اُس کی تاریکی مہیب ہوجاتی ہے، اُس وقت کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالَّيۡلِ اِذَا سَجٰىۙ‏ ﴿۲﴾
”اور قسم ہے رات کی جب تاریکی گہری ہوجاتی ہے۔“ (ضحی:۲)۔
رات جب جانے لگتی ہے اُس وقت کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالَّيۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَۙ‏ ﴿۳۳﴾
”اور رات کی قسم جب وہ پیچھے چلی جائے۔“ (مدثر: ۳۳)۔
اور رات میں جو پیدا کردہ چیزیں اور نشانیاں ہیں اُن کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے :
وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَۙ‏ ﴿۱۷﴾
”اور قسم ہے رات کی اور اُن چیزوں کی جنہیں وہ سمیٹ لیتی ہے۔“ (انشقاق: ۱۷)۔
یعنی رات جن چیزوں کوشامل ہے، غرضیکہ رات بذات خود ایک نشانی ہے اور اُس کے اندر جو چیزیں ہیں وہ دوسری نشانی ہیں۔
رات ودن زندگی اور زمین پر دوڑو ودھوپ کا وقت معلوم کرنے کے ذرائع ہیں، اور اُن دونوں میں سے ہر ایک کے اندر بڑی نشانیاں پوشیدہ ہیں، اُن کی آمد و روفت ہر ایک میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جوکہ اُن کے بنانے والے کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں، چنانچہ رات ودن کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالَّيۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَۙ‏ ﴿۳۳﴾ وَالصُّبۡحِ اِذَاۤ اَسۡفَرَۙ‏ ﴿۳۴﴾
”اور رات کی قسم جب وہ پیچھے چلی جائے، اور صبح کی قسم! جب وہ روشن ہوجائے۔“ (مدثر: ۳۳-۳۴)۔
اسی طرح اللہ تعالی نے شفق کی قسم کھائی ہے جو کہ رات کی آمد اور دن کے جانے کی نشانی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِۙ‏ ﴿۱۶﴾
”میں شفق (یعنی شام کی سرخی ) کی قسم کھاتا ہوں۔“ (انشقاق: ۱۶)۔
رات کی رخصتی اور دن کے سانس لینے میں تاریکی کے چھٹنے کا اشارہ ہے، جس کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَۙ‏ ﴿۱۷﴾ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ‏ ﴿۱۸﴾
”قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگتی ہے۔ اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لینے لگتی ہے۔“ (تکویر: ۱۷-۱۸)۔
سال بھر کی راتوں میں سب سے افضل راتیں ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں، اور اُن کی فضیلیت کی وجہ سے اللہ تعالی اُن کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
وَالۡفَجۡرِۙ‏ ﴿۱﴾ وَلَيَالٍ عَشۡرٍۙ‏ ﴿۲﴾
”فجر کے وقت کی قسم۔ اور (ذی الحجہ کی ابتدائی ) دس راتوں کی قسم۔“ (فجر:۱-۲)۔
قیامت کا دن آخری دن ہے، اُس دن ہم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے، پھر وہاں ہمارے تمام اعمال کا حساب وکتاب ہوگا، اور اس کے مطابق ہمیں بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے بہت ساری جگہوں پر قیامت کے دن کی قسم کھائی ہے، ایک جگہ پر اُس کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِۙ‏ ﴿۲﴾
”اور قسم ہے اُس روزِ قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔“ (بروج:۲)۔
جس طرح اللہ تعالی نے اپنی مخلوقات میں سے متعدد چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں، اسی طرح اُن چیزوں کی بھی قسم کھائی ہے جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے، اور جنہیں خاص کرکے قسم نہیں کھایا ہے، بلکہ عمومی طور پر اُن کے بارے میں فرمایا ہے:
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿۳۸﴾ وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿۳۹﴾
”میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو، اور اُن چیزوں کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو۔“ (حاقہ: ۳۸-۳۹)۔
اور یہ سب سے زیادہ عام قسَم ہے جو کہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔
اے مسلمانو!
یقینا اللہ تعالی نے انسانوں کو اچھے ڈھنگ سے پیدا کیا،اور اُنہیں چیلنج کیا کہ وہ ایک ذرہ یا گیہوں یا جَو کا ایک دانہ ہی پیدا کرکے دکھائیں، نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح پیدا کرنے کی کوشش کرے، پس اُنہیں چاہیے کہ وہ ایک ذرہ یا گیہوں یا جَو کا ایک دانہ ہی پیدا کرکے دکھادیں۔“ (متفق علیہ)۔
اللہ نے اپنی تمام انوکھی مخلوقات کی قسم کھائی ہے، اوران میں سے بعض مخلوقات کی تخصیص کے ساتھ قسم کھائی ہے اور اُسے اپنی وحدانیت اور قوت وقدرت کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے، اور اِن سب کا مقصد یہ ہے لوگ صرف اور صرف اُسی کی عبادت کریں، اس کی عظمت بجا لائیں، اُس کے احکام کی پابندی کریں، اور اُس کے نواہی سے اجتناب کریں۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
وَمَا قَدَرُوۡا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖ ‌ۖ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ‌ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿۶۷﴾
”اور کافروں نے اللہ کی اُس کے مقام ومرتبے کے مطابق قدر نہیں کی، اور قیامت کے دن تمام زمین اُس کی مٹھی میں ہوگی، اور سارے آسمان اُس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے، وہ مشرکوں کے شرک سے پاک اور بلند وبالا ہے۔“ (زمر:۶۷)۔
اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے لیے قرآ ن کو بابرکت بنائے، اور اُس کی آیتو ں اور حکیمانہ نصیحتوں کو ہمارے اور آپ کے لیے مفید بنائے۔ میں اپنی بات کو یہیں سے ختم کرتے ہوئے ا پنے لیے آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اُس سے مغفرت طلب کریں، یقینا وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔


دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اُس کے احسانات پر، اور اُس کی توفیق اور انعامات پر ہم اُس کا شکر ادا کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اُس کی شان عظیم ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں۔
بہت زیادہ درود وسلام نازل ہوں آپ پر اور آپ کے آل واصحاب پر۔
اے مسلمانو!
چونکہ اللہ تعالی ہی نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے، اِس لیے وہ اپنی مخلوقات میں سے جس کی چاہتا ہے قسم کھاتا ہے، لیکن اُس نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ صرف اور صرف ایک اللہ کی قسم کھائیں،اور اُسی کی عظمت بجالائیں، اور اُنہیں اللہ کے سوا کسی کی بھی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”جس کو قسم کھانا ضروری ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے، یا پھر چُپ رہے۔“ (متفق علیہ)۔
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا شرک ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائی اُس نے کفر یا شرک کا ارتکاب کیا۔“ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے)۔
اور نبی ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی نے غیر اللہ کی قسم کھالی تو اُسے چاہیے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اعلان کرے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”جس نے قسم کھاتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ قسم ہے لات اور عُزّی کی تو اُسے چاہیے کہ لا الہ الا اللہ کہے۔“ (بخاری ومسلم)۔
اور جو شخص صرف ایک اللہ کی قسم کھائے ، اپنی قسم میں اللہ کی تعظیم بجالائے، اپنی قسم میں سچا ہو، صرف ضرورت کے وقت قسم کھائے، اور ہر لمحہ بغیر ضرورت کے قسم کھانے پرہیز کرے، اپنے قول میں اللہ تعالی کے حکم کو بجالائے، اور اللہ تعالی کے فرمان: ”اپنے قسموں کی حفاظت کرو“ کا پاس ولحاظ رکھے تو حقیقت میں وہی شخص اللہ کی کما حقہ تعظیم کرنے والا ہے۔
پھر جان لیں کہ اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو اپنے نبی ﷺ پر درود وسلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏ ﴿۵۶﴾
”یقینا اللہ تعالی اور اُس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود سلام بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اُن پر درود وسلام بھیجا کرو۔“ (احزاب: ۵۶)۔
اے اللہ تو ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔
اے اللہ تو خلفائے راشدین ابو بکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللہ عنہم سے سے راضی ہوجا، جنہوں نے ہمشہ حق کا ساتھ دیا اور اُسی کے مطابق فیصلہ سنایا، اور بقیہ تمام صحابہ کرام سے بھی راضی ہوجا اور اُن کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہوجا، اے اکرم الاکرمین۔
اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اور شرک اور مشرکین کو ذلیل ورسوا فرما، ااور سلام کے دشمنوں کو تہہ وبالا کردے۔
اے اللہ تو اِس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وامان کا گہوارہ بنادے، اے سارے جہانوں کے پروردگار۔
اے اللہ تو ہرجگہ مسلمانوں کے حالات کو درست فرمادے، اے اللہ تو انہیں اچھے طریقے سے اپنی جانب واپس لوٹا دے۔
اے اللہ تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالے۔
اے اللہ تو ہمارے بادشاہ اور اُن کے ولی عہد کو اپنی پسند اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور اُنہیں نیکی اور تقوی کے کاموں میں لگا دے، اے اللہ ! تو اُن دونوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا۔
اے ہمارے رب! ہم نے اپنے نفسوں پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے، اور اگر تونے ہمیں معاف نہیں کیا، اور ہم پر رحم نہیں فرمایا تو ہم تباہ وبرباد ہوجائیں گے۔
اللہ کے بندو! یقینا اللہ تعالی عدل واحسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی وبرائی اور زیادتی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تم عظیم بزرگ اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد کرے گا، اُس کی نعمتوں اور احسانات پر اُس کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا کر ے گا، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ تعالی جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
 
Top