ذیشان خان

Administrator
دفاع رسول صلى الله عليه وسلم کا فریضہ انجام دیا جائے

✍⁩ تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

اللہ تعالٰی نے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلی اخلاق حسنہ کی گواہی قرآن میں دی ہے
اور اللہ تعالٰی کی گواہی کے بعد کسی شیطان صفت انسان کے مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کے بغیر اللہ کے رسول کی کردار کشی کرنے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کے مقام و مرتبہ میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوگی ،
بلکہ درحقیقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک شخصیت پر انگشت نمائی کرنے والے شیطان صفت انسان دونوں جہاں میں اپنی بدبختی کا سامان تیار کرتے ہیں،
کیوں کہ ساری کائنات کے رب اللہ تعالٰی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دونوں جہاں میں جس اعلی مقام و مرتبہ پر فائز کیا ہے کوئی فرد بشر اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
اسلامی احکامات کے مطابق گستاخ رسول کی سزا گردن زدنی ہے
ہاں فقہاء اسلام کے مابین توبہ کرنے والے کے سلسلے میں اختلاف ہے کہ توبہ کرنے کے بعد بھی اس کی سزا قتل ہوگی یا نہیں ۔
مسلم ممالک میں تو شریعت کا قانون گستاخ رسول پر نافذالعمل ہونا چاہئے۔
اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں
بعض آیات میں صرف نبی کی نصرت کا تذکرہ ہے
اور اللہ تعالٰی نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلمان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کی نصرت کا فریضہ انجام نہیں دیں گے تو اللہ تعالٰی خود اپنی نبی کی نصرت فرمائے گا ۔
جب مسلمان نبی کی نصرت اور اللہ کے دین کی نصرت کے فریضے سے غفلت برتیں گے، تو ایسے غافل مسلمان اخروی سزا سے پہلے دنیا میں بھی اللہ کے عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا اپنے اشعار کے ذریعے دفاع کرتے تھے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصرت اور دفاع کا فریضہ ہر مسلمان کے دائرہء اختیار اور دائرہء کار کے اعتبار سے مختلف مراتب اور درجات کا حامل ہے۔

شیخ صالح العصيمي کہتے ہیں:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نصرت کے شرعی حیثیت سے چند مراتب اور درجات ہیں:
بعض کا تعلق امت مسلمہ کے حکمرانوں سے ہے، بعض کا تعلق امت مسلمہ کے علماء سے ہے اور بعض کا تعلق پوری امت مسلمہ سے ہے ۔ ان سارے احکامات اور تفصیلات کا فقہاء اسلام نے اپنی تصنیفات میں ذکر کیا ہے۔ اس طرح ایک مسلمان پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نصرت کے تئیں اپنے حقوق و فرائض کو پہچانے، تاکہ ہر مسلمان صحیح معنوں میں نصرت نبی کا حق ادا کر پائے۔ اگر ایک مسلمان اپنے دائرہء اختیار سے باہر ہو کر کوئی غیر شرعی کام کرے گا، تو نصرت نبی کا حق ایک مسلمان سے ادا تو نہیں ہوگا بلکہ ایسا مسلمان گناہ کا مستحق ہوگا۔
اس طرح ہر مسلمان اپنی صلاحیت اور قابلیت کے اعتبار سے نصرت نبی کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کرے۔
مسلم ممالک کے حکمرانوں پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے عالمی سطح پر بھی یہ مسئلہ اٹھایا جائے کہ دنیا میں رائج شدہ معروف و مشہور عالمی ادیان و مذاہب کی قابل احترام مذہبی شخصیات کی کردار کشی کرنے والوں کے خلاف اقوام متحدہ میں بین الاقوامی قرار داد پاس کی جائے، کوئی کافر ملک گستاخ رسول کی پشت پناہی کرتا ہے تو ایسے اسلام دشمن ملک کے خلاف سب سے پہلے اقتصادی بائیکاٹ سمیت سیاسی بائیکاٹ کیا جائے
اور اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے اور کوئی کافر ملک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی میں حد سے آگے بڑھ جائے تو ایسے ملک کے خلاف فوجی کارروائی پر بھی غور ہونا چاہئے،

یقینا کوئی مسلم ملک اپنے باشندوں کی ایمانی پختگی اور فوجی طاقت کے ساتھ اس حالت میں نہیں ہے کہ
وہ کسی بھی اسلام دشمن ملک پر اپنا رعب و دبدبہ ڈال سکے
اور اس ملک کو جنگ کی دھمکی دے سکے ۔

پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پوری دنیا میں ہو رہے مظالم کے خلاف مسلم ممالک کو اپنے سارے اختلافات پس پشت ڈال کر متحد ہونے کی سخت ضرورت ہے
اسلامی اتحاد کے اس عمل صالح کو اسلام اور اہل اسلام کے دفاع میں اگر مسلم ممالک رو بہ عمل لائیں گے، تو اللہ تعالٰی اپنی نصرت ضرور نازل فرمائے گا،
اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی دعائیں بھی ان مسلم ممالک کے ساتھ ہوں گی.
اللہ تعالٰی اسلام اور اہل اسلام کا رعب و دبدبہ کافروں اور اعداء اسلام کے دلوں میں پیدا فرمائے،
اللہ تعالٰی ساری دنیا کے مسلمانوں کو اعداء اسلام کے ہر چھوٹے بڑے مکر و فریب سے محفوظ رکھے، آمین۔
 
Top