ذیشان خان

Administrator
مقدمہ برائے توحید الأسماء والصفات

✍ عبيد الله الباقي أسلم

یقیناً اللہ رب العزت کی ذات و صفات کی معرفت حاصل کرنا ہی سب سے بہترین علم ہے؛ کیونکہ اس کا تعلق اللہ عزوجل کی ذات سے ہے، اور اسی لئے کہتے ہیں کہ "شرف العلم بشرف المعلوم"، اور جب اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سب سے عظیم ہے تو اس سے متعلق علم بھی سب سے عظیم ہے.
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اسماء حسنی اور صفات علیا توقیفی ہیں؛ اس لئے واجب ہے کہ بغیر تحریف و تعطیل اور بغیر تکییف و تمثیل کے اللہ تعالیٰ کے لئے انہیں ثابت کیا جائے، مگر جنہوں نے ان مسائل کو لے کر اپنے عقلی گھوڑے دوڑائے وہ زلل کے شکار ہوئے، چنانچہ اس گمراہی سے بچنے کے لئے علماء سلف رحمہم اللہ نے کچھ ایسے قواعد و ضوابط کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انہیں اپنا کر ایک انسان اپنے عقیدے کی حفاظت کر سکتا ہے، اور اسی اہمیت کے مد نظر ان میں سے بعض اہم اصولوں کا اختصار پیش خدمت ہے؛ جو دراصل "مبادئی توحید الأسماء والصفات" کے تحت آنے والے اہل السنہ والجماعہ کے اصولوں کا خلاصہ ہے.
امید کہ اس مختصر سی تمہید سے ہمارے لئے منزل مقصود تک کا سفر کسی حد تک آسان ہو جائے گا ان شاء اللہ.

اسماء وصفات کے باب میں اہل السنہ والجماعہ کا منہج " الجمع بين النفي الإثبات " پر قائم ہے.
اس کے لئے وہ چار شرطیں لگاتے ہیں:
أ- عدم تحريف
ب- عدم تعطيل
ج- عدم تكييف
د- عدم تمثيل
اثبات و نفی کے لئے مندرجہ ذیل ضابطوں کا التزام کرنا ضروری یے:
ضابطہ اثبات کے تحت دو چیزیں آتی ہیں:
أ- عدم تكييف
ب- عدم تمثيل
ضابطہ نفی کے تحت دو چیزیں آتی ہیں:
أ- عدم تحريف
ب- عدم تمثيل
اسماء وصفات کے باب میں بہت سارے لوگ گمراہی کے شکار ہوئے، چنانچہ بنیادی طور چار قسم کے مدارس عقدیہ وجود میں آئے:
أ- مدارس فلسفیہ
ب- مدارس کلامیہ
ج- مدراس کشفیہ
د- مدارس اہل السنہ والجماعہ
ان تمام کے مدارس عقدیہ کے درمیان شدید اختلافات کے باوجود وہ منجملہ دو باتوں پر متفق ہیں:
أ- اللہ عزوجل کے لئے کمال صفات کو ثابت کرنا
ب- ہر طرح کے عیوب و نقائص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرنا.
لہذا اثبات کمال میں جنہوں نے غلو کیا وہ تشبیہ کے شکار ہوئے، اور جنہوں نے تنزیہ میں غلو کیا وہ تعطیل کے شکار ہوئے.
تشبیہ اور تعطیل سے بچنے کے لئے اہل السنہ والجماعہ نے تین اہم اصولوں کو اختیار کیا:
أ- اثبات کمال.
ب- عیوب و نقائص سے تنزیہ.
ج- اداک کیفیت کی کوشش نہ کرنا.
سابقہ سطور سے یہ معلوم ہوا کہ اہل السنہ والجماعہ کا منہج " الجمع بين النفي الإثبات " پر قائم ہے، ایسے میں یہ بات واضح رہے کہ اسماء وصفات کے باب میں " اثبات " اصل ہے جبکہ " نفی " فرع ہے کیونکہ:
1- اثبات کے علم کے بعد ہی نفی کا علم حاصل ہو سکتا ہے.
2- نفی محض سے عدم لازم آتا ہے.
3- صفات کے مکمل علم کے بغیر نفی کا کوئی فائدہ نہیں.

خلاصہ :
اسماء و صفات کے باب میں اہل السنہ والجماعہ کا منہج مندرجہ ذیل امور سے واضح ہوتا ہے:
أ- اللہ تعالیٰ اپنے اسماء حسنی سے مسمی اور صفات کمال سے متصف ہے.
ب- اللہ تعالیٰ ہر طرح کی صفات کمال سے متصف ہے، ساتھ ہی ہر قسم کے عیوب ونقائص سے پاک ہے.
ج- اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں کسی بھی مخلوق کے مماثل نہیں ہیں ہے؛ بلکہ اپنی تمام صفات کے ساتھ خود اکیلا تنہا متصف ہے.
د- ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے معانی کو جانتے ہیں مگر ان کی کیفیات کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں.
ھ- ہم پر واجب ہے کہ ہم ان تمام اسماء حسنی اور صفات علیا کو ثابت کریں جو قرآن و سنت میں ثابت ہیں، اور ان کا انکار کریں جن کی نفی آئی ہے.
جب یہ واضح ہو گیا کہ اسماء وصفات کے باب میں اصل" اثبات " ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ ہر صفت کی اپنی کیفیت ہوتی ہے چنانچہ اسماء وصفات کے باب میں اہل السنہ والجماعہ کا مذہب دو اصل الأصول پر مبنی ہے:
1- اصل اثبات
2- کیفیت اثبات
اصل اثبات کے تحت منجملہ چار أصول مندرج ہیں :
پہلی اصل : خارجی وجود صفات ثبوتیہ اور کیفیات خاصہ سے ہی متحقق ہوتا ہے.
دوسری اصل : دو نقیض( مخالف) چیزوں کا جس طرح ایک ساتھ پایا جانا محال ہے، اسی طرح ان کا ایک ساتھ نہ پایا جانا بھی محال ہے
تیسری اصل : کمال صفات میں مخلوق کا خالق سے زیادہ کامل ہونا، یا اس کے مساوی ہونا محال ہے.
چوتھی اصل : مخلوق کی ہر وہ صفات کمال جن میں کوئی نقص و عیب نہ ہو؛ خالق ان صفات کمال کا زیادہ مستحق ہے.

کیفیت اثبات کے ضمن میں آٹھ اصول مندرج ہیں :
پہلی اصل : صفات کا باب توقیفی ہے.
دوسری اصل : ذات وصفات دونوں کا حکم ایک ہی ہے.
تیسری اصل : باعتبار حقیقت تمام صفات الہی کا حکم ایک ہی ہے.
چوتھی اصل : ذات الہی سے تعلق کے اعتبار سے صفات الہی متنوع ہیں.
پانچویں اصل : نام کے تماثل سے ذات میں تماثل لازم نہیں آتا ہے.
چھٹی اصل : صفات کی تقسیم ایک اجتہادی امر ہے.
ساتویں اصل : اللہ عزوجل کے لئے الفاظ مجملہ میں سے صرف ان ہی الفاظ کا استعمال ہوگا جو کمال مطلق پر دلالت کرے.
آٹھویں اصل : "الجمع بين النفي الإثبات" کے بغیر کمال مطلق متحقق نہیں ہو سکتا ہے.

جب یہ واضح ہوا کہ "الجمع بين النفي الإثبات" ہی کے ذریعہ کمال مطلق متحقق ہو سکتا ہے؛ لہذا اثبات کے باب میں اہل السنہ والجماعہ نے طریقہ تفصیل کو اختیار کیا ہے، جبکہ نفی کے باب میں اجمال کا طریقہ اپنایا ہے.
_اس کے برعکس اہل الکلام نے نفی کے باب میں تفصیل جبکہ اثبات کے باب میں اجمال کا طریقہ اختیار کیا ہے._

مذکورہ تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ :
ذات، صفات، اور کیفیات لازم ملزوم ہیں، اسی لئے اہل السنہ والجماعہ کا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے مطابق اس کی صفات ہیں، اور ان صفات کی کیفیات بھی ہیں، مگر ان کے ادراک سے ہم قاصر ہیں، لہذا کیفیت صفات الہی کے حوالے سے مندرجہ ذیل باتوں کا التزام کرنا ضروری ہے:
1 - کیفیت صفات کے بارے میں دو باتوں کو ثابت کیا جائے:
أ- ہر صفت کی کیفیت موجود ہے.
ب- صفات الہی کی کیفیت کا علم اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے.

2- کیفیت صفات کے بارے میں دو باتوں کی نفی کی جائے:
أ- اللہ عزوجل کا کوئی مثیل نہیں ہے.
ب- صفات الہی کی کیفیات کا ادراک ممکن نہیں ہے.

اللہ تعالٰی ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے، اس عظیم باب کی معرفت حاصل کرنے میں کسی بھی طرح کی لغزش سے محفوظ رکھے، ہمیں اس کے اسماء حسنی اور صفات علیا پر ایمان رکھنے، انہیں سمجھنے اور ان کے تقاضے کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین.

وفقنا الله وإياكم جميعاً لكل ما يحبه ويرضاه.
 
Top