ذیشان خان

Administrator
منع کی دلائل

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا امر نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).


اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کامل واکمل نازل کیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

((اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلٰمَ دِیْناً)) [المائدۃ:۳]

’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیااور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا ۔‘‘

دوسری جگہ فرمایا:

((أَمْ لَھُمْ شُرَکَآئُ شَرَعُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَأْذَنْ بِہٖ اللّٰہُ وَلَوْ لَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ))[الشوری:۲۱]

’’کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے)شریک (مقرر کر رکھے)ہیں جنہوں نے ایسے (احکام )دین مقرر کر دئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی)ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ۔یقینا ان ظالموں کے لئے ہی درد ناک عذاب ہے۔‘‘

اور نبی ﷺ نے فرمایا۔

خبردار!تم دین میں نئی ایجادات سے باز آجاؤ،بیشک ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

[ابوداؤد،ترمذی]

نبی ﷺ ان کلمات کو اپنے ہر خطبہ کے اندر پڑھا کرتے تھے۔جب دین کامل واکمل ہے اور اس میں کسی قسم کا نقص نہیں تو نئی چیز لانے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔
 
Top