ذیشان خان

Administrator
پنج وقتہ نمازوں کے بعد اپنے گریبان میں پھونکنا

✍از قلم :حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ

ناشر :البلاغ اسلامک سینٹر
=================================

الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، اما بعد :

محترم قارئین! معاشرے میں کئی لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ پنج وقتہ نمازوں کے بعد اپنے گریبان میں پھونکتے ہیں پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک کر انہیں اپنے جسم پر ملتے ہیں۔ اب وہ کیا پڑھ کر اِس طرح کا عمل کرتے ہیں؟ اِس کا علم مجھے نہیں ہو سکا۔
اِس عمل کو کرنے والے ایک آدمی سے میں نے پوچھا کہ آپ کوئی خاص چیز پڑھ کر یہ عمل کرتے ہیں یا کیا معاملہ ہے؟ کچھ بتائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ کوئی خاص چیز پڑھ کر نہیں بلکہ نماز کے بعد کے اذکار پڑھ کر یہ عمل کرتا ہوں۔

راقم عرض کرتا ہے کہ :
(1) صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو فرض نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نماز کے بعد آپ کو کئی دعاؤوں کو پڑھتے ہوئے بھی سنا، پھر اُن دعاؤوں کو ہو بہو آگے لوگوں تک پہنچایا بھی لیکن کسی بھی صحابی نے یہ نہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی فرض نماز کے بعد کوئی خاص دعا یا فرض نماز کے بعد کے اذکار پڑھ کر اپنے گریبان میں پھونکا ہو پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک کر انہیں اپنے جسم پر ملا ہو۔
(2) صحابہ کرام میں سے کسی صحابی نے بھی فرض نماز کے بعد مذکورہ عمل نہیں کیا ہے۔
فيما اعلم والله اعلم.

لہذا تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ فرض نماز کے بعد اپنے گریبان میں نا پھونکیں اور نہ ہی اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک کر اُنہیں اپنے جسم پر ملیں بلکہ صرف اذکار کا اہتمام کریں کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے اتنا ہی کیا ہے۔ واللہ ہو الموفق.

🌸 ایک عجیب و غریب بات :
جس بھائی سے میں نے یہ سوال کیا تھا، اُن کو میں نے زیر بحث عمل کی حقیقت بتائی تھی لیکن پھر بھی وہ اِس عمل کو کر رہے ہیں، پتہ نہیں کیوں؟
کیا اُن کو اتنی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ جو کام نبی کریم ﷺ نے نہیں کیا اور صحابہ کرام نے نہیں کیا تو وہ کام میں کیسے کر سکتا ہوں؟
اللہ صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

🌸 اب ایک بات بطور فائدہ پیش خدمت ہے :

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللہُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلْ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ“
”نبی کریم ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر قل ہو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس (تینوں سورتیں مکمل) پڑھ کر اُن پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ ﷺ تین دفعہ کرتے تھے“۔(صحیح البخاری :5017)

قارئین ! آپ معاشرے کا جائزہ لیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مذکورہ عمل جو کہ ثابت ہے، اُسے ہمارے معاشرے میں کرنے والے لوگ بہت کم ہیں لیکن زیر بحث عمل جو کہ ثابت تو دور، کسی بھی ضعیف یا موضوع سند سے بھی مروی نہیں ہے، اُسے کرنے والے لوگ بہت ہیں۔
مسلمانوں سے گزارش ہے کہ جو چیز ثابت ہے، اُسے کریں اور جس چیز کا وجود ہی نہیں ہے، اُسے نا کریں۔

🌸 خلاصۃ التحقیق :
فرض نماز کے بعد کوئی خاص دعا پڑھ کر یا فرض نماز کے بعد کے اذکار پڑھ کر اپنے گریبان میں پھونکنا پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک کر انہیں اپنے جسم پر ملنا، یہ عمل نہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اور نہ ہی کسی صحابی رسول سے مروی ہے لہذا ہم مسلمانوں کو اِس عمل سے بچنا چاہیے۔ واللہ ولی التوفیق.

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.

حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ
صدر البلاغ اسلامک سینٹر
🗓 06 - ربیع الاول - 1442ھ
🗓 27 - اکتوبر - 2020ء
 
Top