ذیشان خان

Administrator
اسلاف النبیﷺ یعنی نبیﷺ کے ہم زلف حضرات

✍⁩تحریر: محمد فھد حارث

عرب ماہرِ انساب نے نبیﷺ کے مختلف ہم زلف حضرات کا ذکر کیا ہے جن کی تعداد کم و بیش بیس سے اوپر بنتی ہے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہؓ کے رشتے سے آپﷺ کے سب سے پہلے ہم زلف ربیع بن عبدالعزیٰ بن عبد شمس ہیں جن کی زوجہ سیدہ خدیجہؓ کی بہن ہالہؓ بنت خویلد تھیں۔ ان ہالہ ؓکے بیٹے ابو العاص بن ربیعؓ نبیﷺ کے سب سے بڑے داماد تھے جن کو نبیﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی سیدہ زینب بنت رسول اللہﷺ بیاہی تھیں۔ ان سے دو بچے علی اور امامہ ہوئے جن میں سے امامہ کی شادی اپنی خالہ سیدہ فاطمہؓ کے انتقال کے بعد ان کے شوہر سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے ہوئی تھی۔

سیدہ خدیجہؓ کی انہیں بہن ہالہ کا دوسرا نکاح ان کے دیور ربیعہ بن عبدالعزیٰ بن عبد شمس سے ہوا تھا، پس ربیعہ بن عبدالعزیٰ بھی سیدہ خدیجہؓ کے واسطے سے نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرتے ہیں۔ ہالہ کی تیسری شادی بنو ثقیف میں وہب بن عبداللہ ثقفی سے ہوئی تھی جس سے قطن بن وہب پیدا ہوئے۔ اس لحاظ سے وہب بن عبداللہ کو بھی نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف حاصل تھا۔ سیدہ خدیجہؓ کی یہ واحد بہن تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

سیدہ خدیجہؓ کی ایک بہن خالدہ بنت خویلدبھی تھیں جن کے رشتے سے ان کے شوہر علاج بن ابی سلمہ بن عبدالعزیٰ نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔ سیدہ خدیجہؓ کی دوسری بہن رقیقہ بنت خویلد کے رشتے سے عبداللہ بن بجاد بن حارث بھی نبیﷺکے ہم زلف تھے۔

اس کے بعد سیدہ سودہ بنت زمعہؓ کے واسطے سے ان کی بہن ام حبیبہ بنت زمعہ ؓ کے شوہر عشرہ مبشرہ صحابی عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نبیﷺ کے ہم زلف بنے تھے۔ اسی طرح سیدہ سودہؓ کی ایک اور بہن ام کلثوم بنت زمعہؓ تھیں جن کے شوہر حویطب بن عبدالعزیٰؓ نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔ سیدہ سودہؓ کی تیسری بہن ہریرہ بنت زمعہ تھیں جن کے رشتے سے ان کے شوہر بدری صحابی معبدؓ بن وہب نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔ ان معبد بن وہب‌ؓ کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا تھا وہ زمین میں اللہ کے شیر ہیں۔

سیدہ عائشہؓ بنت ابو بکر صدیقؓ کی بہن اسماء بنت ابی بکرؓ کے رشتے سے نبیﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور سیدہ خدیجہؓ کے بھتیجے سیدنا زبیر بن العوامؓ نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔ سیدہ عائشہؓ کی بہن ام کلثوم بنت ابی بکرؓ کے واسطے سے عشرہ مبشرہ صحابی سیدنا طلحہ بن عبیداللہؓ نبیﷺ کے ہم زلف تھے جن سے زکریا اور عائشہ پیدا ہوئے تھے۔ یہی طلحہ بن عبیداللہؓ دوسری مرتبہ سیدہ زینب بنت جحشؓ کی بہن حمنہؓ بنت جحش کے رشتے سے نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرے۔ تیسری دفعہ یہی طلحہ بن عبیداللہؓ سیدہ ام سلمہؓ کی بہن قریبہ بنت ابی امیہؓ کے واسطے سے آپﷺ کے ہم زلف بنے تھے۔ گویا سیدنا طلحہ بن عبیداللہؓ کو تین دفعہ نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

ام المومنین حفصہ بنت عمرؓ کی بہن فاطمہ بنت عمرؓ کے رشتے سے عبدالرحمٰن بن زید بن خطابؓ کو بھی نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ عبدالرحمٰن بن زید سیدنا عمرؓ کے بھتیجے تھے جو ان کے بھائی زید بن خطاب کے بیٹے تھے۔ اسی طرح رقیہ بنت عمرؓ کے رشتے سے ابراہیم بن نعیم بھی نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرتے ہیں۔ سیدہ حفصہؓ کی ایک بہن زینب بنت عمرؓ بھی تھیں جن کی شادی عبداللہ بن عبداللہ بن سراقہ سے ہوئی تھی۔ اس رشتے سے عبداللہ بن عبداللہ بن سراقہ بھی نبیﷺ کے ہم زلف ہوئے۔عبداللہ بن عبداللہ بن سراقہ کے بعد ان زینب کا نکاح معمر بن عبداللہ بن عبداللہ بن ابی سلول سے ہوا۔ اس حساب سے معمر بن عبداللہ بن عبداللہ بن ابی سلول کو بھی نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ سیدہ حفصہ ؓ کی بہن صفیہ بنت عمرؓ کے رشتے سے ان کے شوہرمشہور صحابی سیدنا قدامہ بن معظونؓ بھی نبی ﷺ کے ہم زلف بنتے ہیں ۔

ام المومنینؓ سیدہ ام سلمہ ہند بنت ابی امیہؓ کے رشتے سے سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نبی ﷺ کے ہم زلف تھے کیونکہ ان کی شادی سیدہ ام سلمہؓ کی بہن قریبۃ الصغریٰ بنت ابی امیہ سے ہوئی تھی۔ جبکہ ام سلمہؓ کی دوسری بہن قریبۃ الکبریٰ بنت ابی امیہ سے زمعہ بن الاسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ نے نکاح کیا تھا، اس رشتے سے زمعہ بن الاسود بھی نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرتے ہیں۔ قریبۃ الصغریٰ کے سیدنا معاویہؓ کے نکاح میں آنے سے قبل ابن سعد ان کے سیدنا عمرؓ کے نکاح میں رہنے کا ذکر کرتے ہیں، جن کے طلاق دینے کے بعد ہی سیدنا معاویہؓ نے ان سے نکاح کیا تھا، اس لحاظ سے سیدنا عمرؓ کو بھی نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف نصیب ہوتا ہے۔ سیدنا معاویہؓ کے بعد ان قریبۃ الصغریٰ سے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نے نکاح کرلیا تھا پس یوں وہ بھی نبیﷺ کے ہم زلف حضرات کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔ سیدہ ام سلمہؓ کی بہن ریطہ بنت ابی امیہ کے رشتے سے ان کے شوہر سیدنا صہیب بن سنان نمری رومی ؓ بھی نبی ﷺ کے ہم زلف تھے۔ اسی طرح سیدہ ام سلمہؓ کی دو بہنیں جن کا نام معلوم نہیں ہوسکا، ان کے رشتے سے منبہ بن حجاج سہمی اور عبداللہ بن سعید بن حکم بھی نبی ﷺ کے ہم زلف تھے۔

ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیانؓ کے رشتے سے نبیﷺ کے بھتیجے حارث بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلبؓ نبی ﷺ کے ہم زلف تھے جن کی شادی ام حبیبہؓ کی بہن ہند بنت ابی سفیانؓ سے ہوئی تھی۔ ام حبیبہؓ کی ایک اور بہن رملہ بنت ابو سفیانؓ کے رشتے سے ان کے شوہر سعید بن عثمان بن عفانؒ کو بھی نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف نصیب ہوا۔ سعید بن عثمان کے بعد رملہ بنت ابو سفیانؓ کا نکاح سیدنا سعید بن العاص امویؓ کے بیٹے عمرو الاشدق سے ہوا۔ یوں عمرو الاشدق بن سعید بن العاصؒ بھی نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرے۔ اسی طرح سیدہ ام حبیبہؓ کی ایک اور بہن سیدہ جویریہ بنت ابو سفیانؓ جو سیدہ ہندؓ بنت عتبہ کے بطن سے تھیں کا نکاح عبدالرحمٰن بن حارث بن امیہ الاصغر بن عبد شمس سے ہوا تھا۔ اس رشتے سے عبدالرحمٰن بن حارث کو نبیﷺ کی ہم زلفیت نصیب ہوئی۔

عبدالرحمٰن بن حارث سے قبل یہ جویریہ سائب بن ابی حبیش بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کی زوجیت میں تھیں پس سائب کو بھی نبیﷺکا ہم زلف کہا جائے گا۔ نبیﷺ کے ایک ہم زلف صفوان بن امیہ جمحی بھی تھے جن کو ابو سفیانؓ کی دختر امیمہ بنت ابو سفیانؓ بیاہی تھیں۔ صفوان سے نکاح سے قبل امیمہ بنی عامر بن لوی کے حویطب بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں ، یوں حویطب بن عبدالعزیٰ اس رشتے سے بھی نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرے۔ حویطب کے بعد سیدہ امیمہؓ کا نکاح عبداللہ بن معاویہ العبدی سے ہوا جن کو اس رشتے سے نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ سیدہ ام حبیبہؓ کی ایک بہن ام الحکم بنت ابو سفیانؓ بھی تھیں جن کی پہلی شادی عیاض بن غنم فہری سے ہوئی تھی، اس کے بعد یہ بنو ثقیف کے عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ کے نکاح میں آئیں۔ یوں عیاض بن غنم اور عبداللہ بن عثمان دونوں نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرے۔

سیدہ ام حبیبہؓ کی ایک بہن صخرہ بنت ابو سفیانؓ تھیں جن کے کافر شوہر سعید بن اخنس بن شریق ثقفی کو نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف نصیب ہوا۔ اس سعید بن اخنس کے بیٹے ابو بکر بن سعید ؒ نے اپنی خالہ ام حبیبہ ؓ سے حدیث روایت کی ہیں۔اسی طرح سے مشہور ثقفی صحابی سیدنا عروہ بن مسعود ثقفیؓ بھی نبیﷺ کے ہم زلف تھے کیونکہ ان کو سیدہ ام حبیبہؓ کی بہن سیدہ میمونہ بنت ابو سفیانؓ بیاہی تھیں۔ سیدنا عروہ بن مسعود ثقفیؓ کی اہل ثقیف کے ہاتھوں شہادت کے بعد میمونہ بنت ابو سفیان سے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے نکاح کرلیا تھا۔ یوں سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ بھی سیدہ میمونہ ؓ کے رشتے سے نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرے۔ سیدہ ام حبیبہؓ کی ایک بہن قریبۃ بنت ابو سفیانؓ بھی تھیں جن کی شادی سیدنا علیؓ کے بڑے بھائی عقیل بن ابی طالبؓ سے ہوئی تھی یوں نبیﷺ کے یہ چچازاد بھائی عقیل بن ابی طالبؓ بھی نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔

ام المومنین سیدہ زینبؓ بنت جحش کی بہن حمنہؓ جحش کا ایک نکاح مصعب الخیر بن عمیر بن ہاشم بن عبدمناف بن عبدالدار سے ہوا یوں مصعب الخیر جو سابقون الاولون میں سے تھے نبیﷺ کے ہم زلف بنے۔ انہیں زینب بنت جحش کی ایک بہن ام حبیبہ بنت جحشؓ تھیں جن کا نکاح سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے ہوا تھا۔ یوں عبدالرحمٰن بن عوفؓ اس رشتے سے بھی نبیﷺ کے ہم زلف بنتے تھے۔

ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارثؓ اور سیدہ زینب بنت خزیمہؓ کے رشتے سے کئی سردارانِ مکہ کو نبیﷺ کے ہم زلف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ سیدہ میمونہ بنت حارث اور سیدہ زینب بنت خزیمہؓ آپس میں ماں جائی بہنیں تھیں۔ میمونہ بنت حارثؓ کی بہن سلمی ٰبنت عمیس کے رشتے سے سیدنا حمزہ ؓ بن عبدالمطلب نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔ سیدنا حمزہ ؓ کی شہادت کے بعد ان سلمیٰ سے شداد بن اسامہ نے نکاح کرلیا تھا، یوں شداد کو نبیﷺ کا ہم زلف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اسی طرح نبیﷺ کے دوسرے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ بھی سیدہ میمونہؓ کی بہن ام الفضل لبابہؓ بنت الحارث کے رشتے سے نبیﷺ کے ہم زلف ٹھہرے۔ سیدہ میمونہؓ کی بہن اسماء بنت عمیسؓ کے رشتے سے سیدنا جعفر ؓبن ابی طالب، سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا علی بن ابی طالبؓ تینوں نبیﷺ کے ہم زلف بنے تھے کیونکہ سیدہ اسماء بنت عمیسؓ یکے بعد دیگرے ان تینوں کی زوجیت میں آئی تھیں۔ مشہور دشمنِ اسلام ولید بن مغیرہ کو بھی نبیﷺ کا ہم زلف ہونے کا شرف حاصل تھا کیونکہ اس کو سیدہ میمونہؓ کی بہن لبابۃ الصغریٰ بیاہی تھیں جن سے سیدنا خالد بن ولیدؓ متولد ہوئے تھے۔پس نبیﷺ سیدنا خالد بن ولیدؓ کے خالو بھی تھے۔ بعینہٖ موذی اسلام ابی بن خلف جمحی جس کو نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے احد کے دن قتل کیا تھا، آپ ﷺ کا ہم زلف تھا کیونکہ اس کو سیدہ میمونہ بنت حارثؓ کی بہن عصماء بنت الحارث بیاہی تھی۔ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی نے سیدہ میمونہؓ کی ایک بہن عزہ بنت الحارث کا شوہر عبداللہ بن مالک بن بجیر الہلالی کو بتایا ہے اور اس رشتے سے ان کو نبیﷺ کا ہم زلف قرار دیا ہے۔ سیدہ میمونہ بنت الحارث کی بہن سلامہ بنت عمیس کا نکاح عبداللہ بن کعب بن عبداللہ خثعمی سے ہوا یوں یہ عبداللہ بن کعب بھی نبیﷺ کے ہم زلف تھے۔ عبداللہ بن کعب کے بعد ان سلامہ کا نکاح یزید بن معاویہ بن ابو سفیان کے سسر سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ سے ہوا جو نبیﷺ کے بھتیجے بھی تھے یوں سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ بھی نبیﷺ کے ہم زلف بنتے تھے۔ اگر ماریہ قبطیہ کے رشتے سے دیکھا جائے تو شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابتؓ کو بھی نبیﷺ کی ہم زلفی کا شرف حاصل تھا کیونکہ ماریہ قبطیہؓ کی بہن شیریں سیدنا حسانؓ کی ام ولد تھیں۔

یہ ساری رشتہ داریاں تفصیل کے ساتھ علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی کی کتاب المحبر میں صفحہ ٩٩ سے ١١٠ میں "اسلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" کی سرخی کے ذیل میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ رشتہ داریوں کے لیے "الاصابہ فی تمییز الصحابہ" اور "طبقات ابن سعد" میں متذکرہ شخصیات کے تراجم میں تفاصیل موجود ہیں۔ ہمارے مضمون کا ماخذ "کتاب المحبر"، "طبقات ابن سعد"، "نسب قریش"، جمہرة الانساب" اور "الاصابہ" ہیں۔
 
Top