ذیشان خان

Administrator
قبر پر گنبد بنانا اوروہاں عبادت کرنا
(قسط اول)


از قلم :
حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ

ناشر :
البلاغ اسلامک سینٹر
================================

الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، اما بعد :

محترم قارئین! کئی مہینوں پہلے ایک بھائی نے قبر پر گنبد بنانے اور وہاں عبادت کرنے کے تعلق سے کئی چیزیں پیش کی تھیں۔
اللہ کی توفیق سے اُن تمام چیزوں کی حقیقت پیش خدمت ہے:
ا - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -
صاحب تحریر رقمطراز ہیں:

آج حضرت عباس ؓ کی قبر مبارک پر ایک عظیم قبہ (گنبد) ہے
بقول : امام ذہبی

امام ذھبی رحمہ اللہ حضرت عباسؓ جو کہ نبی کریمﷺ کے چچا تھے انکا تفصیلی ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”ومات: سنة اثنتين وثلاثين، فصلى عليه عثمان، ودفن بالبقيع وعلى قبره اليوم قبة عظيمة من بناء خلفاء آل العباس“ ”اور انکی وفات ۳۲ھ میں ہوئی، اور ان پر حضرت عثمانؓ نے نماز جنازہ پڑھی اور انکو جنت البقیع میں دفن کیا گیا اور انکی قبر مبارک پرآج ایک اعظیم قبہ (گنبد) ہے جو کہ آل عباس کےخاندان کی طرف سے بنایا گیا“۔
(سیر اعلام النبلاء جلد ۲ ، ص ۹۷)

نوٹ: امام ذھبی نے قبہ یعنی گنبد کی تعریف کرتے ہوئے اسکو اعظیم یعنی بڑا یا قابل تحسین قرار دیا ہے۔
ا- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

راقم عرض کرتا ہے کہ مذکورہ تحریر میں چند چیزیں قابل گرفت ہیں :

*[پہلی]* صاحب تحریر کی سرخی پڑھ کر ممکن ہے کوئی بادی النظر میں یہ سمجھے کہ آج موجودہ وقت میں بھی عباس رضی اللہ عنہ کی قبر پر قبہ بنا ہوا ہے لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے جیساکہ مذکورہ قول پر حاشیہ لگاتے ہوئے شیخ شعیب الارنؤوط رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”هذا كان في عصر المؤلف، أما الآن فلم يبق لها أثر“
”یہ مؤلف رحمہ اللہ کے زمانے میں تھا۔ رہی بات فی الحال کی تو اب اُس کا کوئی نشان باقی نہیں ہے“۔
(سیر اعلام النبلاء بتحقیق الارنؤوط : 2/97)
صاحب تحریر اگر مذکورہ قول کو نقل کر دیتے تو بادی النظر میں بھی کوئی یہ بات نہیں سمجھتا لیکن پتہ نہیں کیوں انہوں نے اِسے ذکر نہیں کیا؟
اِس پر مزید یہ کہ اگر کوئی صاحب تحریر کے پورے مضمون کو پڑھے گا تو کم از کم اُس کے دل میں یہ سوال ضرور پیداہو جائے گا کہ کیا فی الحال موجودہ وقت میں اُن کی قبر پر کوئی قبہ ہے کہ نہیں؟ تو اِس کا جواب شیخ شعیب الارنؤوط رحمہ اللہ کے قول میں موجود تھا۔ اگر صاحب تحریر اُس کو ذکر کر دیتے تو پورا مضمون پڑھنے کے بعد بھی یہ سوال دل میں پیدا نہیں ہوتا لیکن پتہ نہیں کیوں انہوں نے اِسے ذکر نہیں کیا؟

*[دوسری]* امام ذہبی رحمہ اللہ نے قبہ کی تعریف کرتے ہوئے اُسے عظیم نہیں کہا ہے بلکہ خبر دیتے ہوئے عظیم کہا ہےکیونکہ قبہ بڑا تھا، اِس لیے انہوں نے اِس کے لیے لفظ ”عظیمۃ“ کا استعمال کیا ہے۔

[تیسری] صاحب تحریر کہتے ہیں:
”عظیم یعنی بڑا یا قابل تحسین قرار دیا ہے“۔

راقم کہتا ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے عظیم کہا ہے لیکن قابل تحسین نہیں قرار دیا ہے لیکن اگر صاحب تحریر اپنی بات پر بضد ہیں تو مجھے بتائیں کہ امام ذہبی کے کس الفاظ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ نے اُسے قابل تحسین قرار دیا ہے؟ اللہ کے واسطے لوگوں کو دھوکہ مت دو، گمراہ مت کرو۔

اب چند باتیں بطور فائدہ پیش خدمت ہیں:

[فائدہ نمبر:1] امام ذہبی رحمہ اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ کی قبر پر قبے کا تذکرہ کیا ہے تو آپ رحمہ اللہ اِس سے یہ استدلال نہیں کر رہے ہیں یا اِس سے یہ نہیں بتانا چاہتے ہیں کہ قبر پر قبہ بنانا جائز ہے بلکہ آپ نے جو دیکھا تھا، اُسے بیان کیا ہے اور خبر دیا ہے کہ اُن کی قبر پر ایک بڑا قبہ بنا ہوا ہے۔ جب امام ذہبی رحمہ اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ کی قبر پر قبے کا تذکرہ، اِس نیت سے نہیں کیا ہے کہ قبر پر قبہ بنانا جائز ہے تو صاحب تحریر نے اِس بات کو قبر پر قبہ بنانے کے جواز میں کیسے پیش کر دیا؟

[فائدہ نمبر:2] امام ذہبی رحمہ اللہ کے بقول خلفائے آل عباس نے عباس رضی اللہ عنہ کی قبر پر قبہ بنایا تھا لیکن اُن کا یہ عمل بلا شبہ صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے قبر پر تعمیر کرنے سے منع کیا ہےاور اگر کوئی قبر پر کچھ تعمیر کرتا ہے تو اُس کا عمل مردود اور باطل قرار پائے گا۔

نبی کرم ﷺ کا حکم پیش خدمت ہے:
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نَهَى رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ“
”رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
(صحیح مسلم:970)

مذکورہ حدیث کے متعلق چند ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:

امام محمد بن یزید القزوینی، المعروف بابن ماجہ رحمہ اللہ (المتوفی : 273ھ) نے مذکورہ حدیث پر اِن الفاظ میں باب باندھا ہے :
”بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَجْصِيصِهَا..“
”قبر پر تعمیر کرنے اور اُس کو پختہ بنانے کی ممانعت کے تعلق سے مروی احادیث کا باب“۔
(سنن ابن ماجۃ، قبل الحدیث:1562)
امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی، المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی:354ھ) نے اِن الفاظ میں باب باندھا ہے :
”ذِكْرُ الزَّجْرِ عَنِ اتِّخَاذِ الْأَبْنِيَةِ عَلَى الْقُبُورِ“
”قبر پر عمارت بنانے پر زجر و توبیخ کا ذکر“۔
(صحیح ابن حبان بتحقیق شعیب :7/434، قبل الحدیث : 3163)
امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ (المتوفی : 458ھ) نے اِن الفاظ میں باب باندھا ہے :
”بَابُ لَا يُبْنَى عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُجَصَّصُ“
”اِس بات کا باب کہ قبر پر کچھ بنایا نہیں جائےگا اور نہ ہی اسے پختہ کیا جائے گا“۔
(السنن الكبرى بتحقیق محمد عبد القادر :4/6، قبل الحدیث:6762)

لہذا ہمیں نبی کریم ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے قبر پر کچھ بھی تعمیر نہیں کرنا چاہیے اور اگر کوئی تعمیر کرے تو اُسے مردود اور باطل سمجھنا چاہیے۔

🌸 خلاصۃ التحقیق:
فی الحال موجودہ وقت میں عباس رضی اللہ عنہ کی قبر پر کوئی گنبد نہیں بنا ہوا ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے قبہ کی تعریف نہیں کی ہے اور نا ہی اسے قابل تحسین قرار دیا ہے۔ نیز خلفائے آل عباس کا عمل بلا شبہ مردود اور باطل ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے قبر پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ واللہ اعلم.

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.

حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ
صدر البلاغ اسلامک سینٹر
🗓 06 - ربیع الاول - 1442ھ
🗓 27 - اکتوبر - 2020ء
 
Top