ذیشان خان

Administrator
برکت کی قسمیں جو اللہ تعالی نے چيزوں میں رکھی ہے.

عبدالرحیم رستم الریاضی

اللہ تعالی نے چیزوں میں جو برکت رکھی ہے اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: ذاتی برکت‏، یعنی وہ برکت جو اللہ تعالی خاص شخصيات میں رکھی ہے۔
یہ وہ برکت ہے جسے اللہ تعالی نے انبیاء اور رسولوں کے جسموں کو عطا فرمائی ہے، ہر نبی کی امت کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے نبی کے جسم، پسینہ اور بالوں سے تبرک حاصل کرے، کیوں کہ اللہ تعالی نے ان کے جسموں کو بابرکت بنایا ہےہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بابرکت تھا، صحابہ کرام ان کے بال وغیرہ سے تبرک حاصل کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی جمار کیا، ہدی کا جانور ذبح کیا، اپنے سر کا بال منڈ وائے، نائی کی طرف اپنے سرکا دایاں حصہ بڑھایا، اس نے حلق کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ کو بلا کر بال ان کے حوالے فرمایا، پھر نائی کی طرف اپنے سر کا بایاں حصہ بڑھایا، اس نے حلق کیا، آپ نے وہ بال بھی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو عطا کیا اور ان سے فرمایا کہ ان بالوں کو لوگوں میں تقسیم کردو" ( صحیح مسلم) اسی طرح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم : " جب وضو کرتے تھے تو صحابہ کرام اس پانی کو لینے کے لئے ٹوٹ پڑتے تھے" ( صحیح بخاری) یہ ذاتی برکت صرف انبیاء اور رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔
دوسری قسم: معنوی برکت:
(ا) مسمان کی برکت، ہر مسلمان مبارک ہے اور یہ برکت اس کے اسلام، پرہیزگاری اور اتباع سنت کے طفیل میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ( إن من الشجرلما بركته كبركة المسلم) " ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی برکت کی مثال مسلمان کی برکت کی مانند ہے" ( صحیح بخاری) اس برکت کا تعلق عمل سے ہے، مسلمان جتنا ہی کتاب وسنت کی پابند ہوگا وہ اتنا ہی با برکت ہوگا، لہذا اہل علم وتقوی سے تبرک حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے علم، پرہیزگاری اور نیک اعمال کو دیکھا جائے اور ان جیسے بننے کی کوشش کی جائے، ان کے جسم کو چھو کر یا ان کے تھوک وغیرہ سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے کے صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے نیک افراد ان میں موجود تھے جیسے حضرت ابو بکر، عمر،عثمان اورعلی رضی اللہ عنہم ۔
(ب) بعض مقامات کی برکت جیسے خانہ کعبہ ، مسجد اقصی کے اطراف، اللہ تعالی فرماتا ہے:(الذی بارکنا حولہ ) (الاسراء: 1) " جس کےآس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے ،، لہذا یہ مقامات رہنے اور عبادات کے لئے با برکت ہیں، اسی طرح حجر اسود اس شخص کے لئے با برکت ہے جو اتباع رسول صلی اللہ میں اللہ کی اطاعت کے پیش نظر اسے استلام کرے یا چومے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو چومتے وقت فرمایا تھا:( إني أعلم أنك حجرلا تضر ولا تنفع ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك ) " میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر میں نبی صلی اللہ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے ہرگز نہ چومتا " (صحیح بخاری ومسلم)
(ت) بعض اوقات کی برکت، جیسے ماہ رمضان، ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ان دنوں میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان دنوں میں اللہ کی اطاعت اور حصول ثواب کے لئے جدو جہد کرے گا، اسے وہ عظیم اجر ملے گا جس کا حصول عام دنوں میں ممکن نہیں ۔
(ث) بعض درختوں کی برکت، جیسے کھجورکا درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ( إن من الشجر لما بركته كبركة المسلم) " ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی مثال مسلمان کی برکت کی مانند ہے" ( صحیح بخاری ومسلم) اس میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس کے پھل، ڈالی اور پتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
محتاج دعا: عبدالرحیم رستم الریاضی، دعوہ سنٹر مزاحمیہ، سعودی عرب۔
 
Top