ذیشان خان

Administrator
پہلی قومیں زیادہ خوش تھیں یا آج ہم زیادہ خوشحال

انتخاب:--- بلال شمسی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا۟ مِعْشَارَ مَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ فَكَذَّبُوا۟ رُسُلِى ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
ترجمہ: اور اِن سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا اور یہ اس کے دسویں حصّے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے اُن (پہلے گزرے ہوؤں) کو دیا تھا پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، سو میرا انکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہوا!
[سورۃ السباء، آیت نمبر ۴۵]
اللہ فرماتا ہے:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا ۖ فَتِلْكَ مَسَـٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّنۢ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًۭا ۖ وَكُنَّا نَحْنُ ٱلْوَٰرِثِينَ
ترجمہ: اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو برباد کر ڈالا جو اپنی خوشحال معیشت پر غرور و ناشکری کر رہی تھیں، تو یہ ان کے مکانات ہیں جو ان کے بعد کبھی آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم، اور (آخر کار) ہم ہی وارث و مالک ہیں۔
[سورۃ القصص، آیت نمبر ۵۸]
اور اللہ ہی فرماتا ہے:
أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةًۭ ۚ
ترجمہ: کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اِن سے پہلے تھے حالانکہ وہ اِن سے کہیں زیادہ زورآور تھے۔
[سورۃ الفاطر، آیت نمبر ۴۴]
اس موضوع پر بیشمار آیات ہیں اور ان ہی کی وجہ سے میں نے آرکیولوجی کا خاص طور پر مطالعہ کیا ہے۔ دنیا میں ایک نہیں، بیشمار قومیں ہیں جن کا آج کوئی وجود نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ طے کرچکا ہے اور قرآن میں بار بار کہتا ہے کہ ہم کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتے اگر اس کے باشندے نیکوکار ہوں، مگر یہ کہ وہ ظالم ہوتے ہیں۔ اور اللہ بار بار کہتا ہے کہ زمین میں چلو اور پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ یہ واضح بات ہے کہ جتنی بھی قومیں آج نیست و نابود ہوچکی ہیں، وہ اللہ کے عذاب کے سبب ہوئیں۔
مگر اصولی بات ایک مزید یہ بھی ہے کہ ہم لوگ گُمان کرتے ہیں کہ ہم سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ ہم نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس زمانے سے بہتر کوئی زمانہ نہیں۔ ہم سے بہتر کوئی قومیں نہیں ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں علم الآثار کی روشنی میں مناسب معلوم نہیں ہوتی ہیں۔ ایسی ایسی قومیں ہیں جن کی حرکات آج تک لوگوں کو حیران کردیتی ہیں اور جن کی تعمیرات آج بھی اہلِ بصیرت کے لیے ایک تعجب خیز امر ہیں۔ اور قدیم یونان کی علم و حکمت کا مطالعہ کیجیئے، آپ کو آج کا زمانہ علم و حکمت میں قلیل الفہم نظر آئے گا کہ اتنا ذوق و شوق تو آج بھی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر متکبر قوم اسی گُمان کے سبب ہلاک ہوتی ہے کہ اس کے خیال میں سب سے بہتر وہی ہے۔ جبکہ وہ کچھ نہیں، وہ دسویں حصّے کو بھی نہیں پہنچتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔ اس کمزوری کے دور کا بھلا ان ادوار سے کیا تقابل ہے؟ ہر کمزوری پر مشتمل بیماری بڑھ رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے، آج موٹاپا بھوک سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ ہم کمزور ہیں مگر خود کو طاقتور گُمان کرتے ہیں اور یہی گُمان ہالک ہے۔
 
Top