ذیشان خان

Administrator
معاصر علمائے کرام کی بلند ہمتی

✍ مامون رشید ہارون رشید سلفی

سماحۃ الشیخ صالح بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ:ایک مرتبہ میں (شیخ العربیۃ واستاذ الأدباء واللغویین) شیخ محمود محمد شاکر رحمہ اللہ کے پاس تھا تو ان سے پوچھ بیٹھا کہ مجھے لغت پر کسی ایسی کتاب کے بارے میں بتائیں جس سے میں استفادہ کروں ؟
انہوں نے مجھ سے کہا کہ کتاب "لسان العرب" کا مطالعہ کرو!
میں نے کہا: لسان العرب تو بیس جلدوں پر مشتمل ہے میں اس کا مطالعہ کیسے کروں ؟
شیخ نے فرمایا کہ :تب میں تمہارے لیے کسی نوکری یا کام کا انتظام کرتا ہوں جس میں تم اپنے آپ کو لگاؤ گے تم علم حاصل کرنے کے لائق نہیں ہو !
پھر شیخ محمود شاکر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ : بیس جلدیں کیا حیثیت رکھتی ہیں؟
ہم نے اسے اپنے شیخ کے پاس دو مرتبہ پڑھا ہے تیسری بار بھی پڑھ رہے تھے لیکن مکمل نہ کر سکے.(میرے خیال سے وہ اپنے استاد سید بن علی مرصفی کی بات کر رہے تھے)

(الطریق الی النبوغ العلمی للشیخ صالح آل الشیخ ص:296)
 
Top