ذیشان خان

Administrator
"آداب الزفاف" کی تالیف کا سبب

✍⁩ ابو تقي الدین رحیمي

یہ شیخ البانی رحمہ اللہ کی مشہور تصنیف ہے، یہ کتاب "بقامت کمتر بقیمت بہتر" کی شاندار مثال ہے، اپنی کم ضخامت کے باوجود یہ اس موضوع (ازدواجی زندگی) پر جامع کتاب شمار ہوتی ہے.
شیخ البانی کہتے ہیں :
"اس تالیف کا اولین سبب، اور لوگوں کے سامنے پیش کش کا باعث، ہمارے اسلامی بھائی استاد عبد الرحمن البانی ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے اپنی شادی کے موقع پر بطور تجویز مجھے ترغیب دی کہ میں اس اہم موضوع پر کتاب لکھ دوں، چنانچہ میں نے یہ کتاب لکھ دی اور انہوں نے خود ہی اپنے خرچے پر چھپوا کر اپنی شادی کی محفل میں یوں تقسیم کر دی جس طرح لوگ اس قسم کی تقریبات پر مٹھائیاں بانٹتے ہیں جن کا کوئی دیرپا فائدہ نہیں ہوتا".
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں" آدابِ مباشرت" اس طرح ترتیب دیے ہیں :
1 - بستر پر یکجائی کے وقت پہلے عورت کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنا.
2 - دونوں کو مل کر دو رکعت نماز ادا کرنا.
3 - ایک دوسرے کو فرحت بخش مشروبات پلانا.
4 - پھر عورت کا دل بہلانا.
5 - الفت ومحبت کی باتیں کرنا.
6 - بوقت مجامعت دعا پڑھنا.
7 - آداب وضو.
8 - طریقۂ غسل.
9 - ولیمہ.
10 - آدابِ حسن معاشرت.
11 - آپس کی رازداری کی باتیں فاش نہ کرنا.
ان کے علاوہ بھی شیخ نے بہت آداب درج کیے ہیں جنہیں بالعموم لوگوں نے ترک کر دیا ہے.
اس کتاب میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے خواتین کو گولائی والے حلقہ دار زیورات پہننے کی ممانعت کی ہے کیونکہ آپ اس قسم کے گول مٹول طلائی زیورات کی حرمت کے قائل ہیں اور اس مسئلے میں منفرد ہیں.
اس کتاب کو لوگوں میں عام کرنے کی ضرورت ہے.
 

Attachments

Top