✍⁩: حافظ ہدایت اللہ فارس

اکثر طلبہ ان تینوں کے استعمال میں خطا کرجاتے ہیں۔ قاعدے کا علم نہ ہونے کی وجہ سے (ہمزہ) کی جگہ( ھل) یا ھل کی جگہ (ما) استعمال کردیتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں ان تینوں کے استعمال کے کیا طریقے ہیں اور ان میں کیا فرق ہے۔
پہلے ھل اور أ ( ہمزہ استفہام )۔ میں فرق سمجھتے ہیں ۔

1/ "أ" تصدیق اور تصور کا فائدہ دیتا ہے جبکہ "ھل " صرف تصدیق کا فائدہ دیتا ہے
" أ " ۔۔ تصدیق کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان: أرأیت الذی یکذب بالدین.
" أ " ۔۔ تصدیق و تصور کی مثال: أ سافر أبوك أم أخوك
تصور۔۔ آسان جملہ میں یوں سمجھیں۔۔ کہ اس میں دو چیزوں میں سے کسی ایک کی تعین مقصود ہوتی ہے اور ایسی صورت میں جملہ کے درمیان "ام معادلہ " کو لانا ضروری ہوتا ہے۔ جیسے " أأنتم تزرعونه أم نحن الزارعون"
جبکہ ام معادلہ ھل کے ساتھ جائز نہیں

لہذا اگر کہیں دیکھیں کہ ھل کے سیاق میں ام کا استعمال ہوا ہے تو وہاں اس "أم" سے مراد أم منقطعة ہوگا أم معادلہ نہیں جیسے۔۔ قل هل يستوي الأعمى والبصير أم هل تستوي الظلمات والنور ....
یہاں ھل کے سیاق میں أم استعمال ہوا ہے تو یہ أم منقطعہ ہے معادلہ نہیں اور یہاں یہ " بل " کے معنی میں ہے۔۔۔

2/ " أ "۔ جملہ کے شروع میں ہی آتا ہے جیسے مذکورہ مثال۔ أرأیت الذی یکذب بالدین..، أأنتم تخلقونه أم نحن الخالقون ...
جبکہ " ھل" جملہ کے شروع اور درمیان دونوں جگہ استعمال ہوتا ہے۔ شروع کی مثال: ھل اتی علی الانسان حین من الدھر....
درمیان میں جیسے۔ قل ھل یستوي الذین یعلمون والذین لا یعلمون

3/ " أ " ۔ حروف عطف " واؤ ، فا ، ثم " سے پہلے آتا ہے۔جبکہ " ھل" حروف عطف کے بعد آتا ہے
پہلے کی مثال۔ أوَ کلّما عاھدوا عھدا۔۔۔۔، أفريتم ما تحرثون....، أثمّ إذا ما وقع آمنتم به... ان تمام مثالوں میں " أ" حروف عطف سے پہلے آیا ہے ۔۔
دوسرے(ھل) کی مثال۔ وهل اتٰك حديث موسى...، فھل لنا من شفعاء فیشفعوا لنا۔۔۔، فهل على الرسل إلا البلاغ المبين..
ان مثالوں میں " ھل" حروف عطف کے بعد آیا ہے...

4/ " أ " ادوات نفی پر داخل ہوتا ہے جبکہ " ھل" ادوات نفی پر داخل نہیں ہوتا ہے جیسے " ألم نشرح لک صدرک" یہاں " أ" حرف نفی " لم " پر داخل ہوا ہے، مزید مثال دیکھیں۔ ألستُ بربكم...، أفلا يعلم إذا بعثر ما في القبور...، أغير الله تدعون ان كنتم صادقين... وغیرہ
لیکن" ھل" بھی ادوات نفی پر داخل ہوا ہو ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔۔

5/ " أ "۔ کو تخفیف کے طور حذف کرسکتے ہیں جیسے کوئی " أ أنت قلت ھذا" کے بجائے تخفیف کرتے ہوئے کہے۔۔ أنت قلت ھذا ؟
یہاں مقصد سوال ہی ہے اور یہ اس کے بولنے کے انداز سے پتہ چل جائے گا
جبکہ " ھل " کو اس طرح تخفیف کے طور پر جملہ سے حذف نہیں کیا جاسکتا۔
اچھا سوال یہ ہے کہ بولنے کے انداز سے تو پتہ چل جائے گا لیکن اگر کہیں کتابی جملہ وغیرہ میں حذف ہو تو کیسے پتہ چلے گا۔؟
اس کا جواب نحوی حضرات کئی طرح سے دئے ہیں۔۔
۔۔ ١/ جملہ کے درمیان مذکور أم معادلہ سے
جیسے ۔۔ عيد بأية حال عدت يا عيد
بما مضى أم بأمر فيك..
یہاں شعر میں أم معادلہ مذکور ہے جبکہ " أ " یہاں محذوف ہے اصل عبارت اس طرح ہے ۔۔أبما مضى أم بأمر.......
واضح رہیں أم معادلہ کے ساتھ " أ" ضروری ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ لہذا جہاں مذکور نہ ہو وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ " أ" محذوف ہے

٢/جملہ میں قال اور اس کے مشتقات کے مذکور ہونے سے ۔ جیسے ، قال فرعون آمنتم به قبل أن آذن لكم ...
یہاں " أ" محذوف ہے اصل میں اس طرح ہے ۔ قال فرعون أ آمنتم به.......
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡهِ ٱلَّیۡلُ رَءَا كَوۡكَبࣰاۖ قَالَ هَـٰذَا رَبِّیۖ....
أى.. أ هذا ربي...
(واضح رہیں۔۔ ہر قال و مشتقاتہ کے بعد " أ" محذوف نہیں ہوتا بلکہ اس کا پتہ سیاق و سباق سے ہوتا ہے کہ آیا یہاں ہمزہ استفہام محذوف ہے یا نہیں۔۔)

٣/ جملہ سے پیدا ہونے والے سوال و استفہام سے پتہ چلے گا جیسے۔ يسئلونك عن الشهر الحرام قتال فيه...أى أقتال فيه ..؟
ياأيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضات ازواجك....أى أ تبتغي مرضات ازواجك..
٤/ جملہ میں مذکور حروف جواب کے ذریعہ سے بھی" أ " محذوف ہونے کا پتہ لگا سکتے ہیں جیسے۔ يحسب أن ماله اخلده كلا لينبذن .... یہاں " کلا " حرف جواب ہے لہذا اصل میں اس طرح ہے .. أيحسب أن ماله......

6/ " أ "۔ کا استعمال حروف شرط " إن ، إذا ، كلما ، لما " کے ساتھ بھی ہوتا ہے جیسے أفإن مات أو قتل انقلبتم على اعقابكم...، أ إذا متنا وكنا ترابا .....، أإذا كنا ترابا أإنا لفي خلق جديد...، أفكلما جاءكم رسول بما لا تهوى أنفسكم استكبرتم...، أولما اصابتكم مصيبة قد اصبتم مثليها....
جبکہ " هل" کا معاملہ ایسا نہیں ہے ...

7/ " أ " ۔ حروف مشبہ بالفعل " إنّ " پر داخل ہوتا ہے جیسے اللہ کا فرمان ' أإن لنا لاجرا إن كنا نحن الغالبين.، أإنك لانت يوسف..
جبکہ " ھل " حروف مشبہ بالفعل إنّ وغیرہ پر داخل نہیں ہوتا

اسی طرح سے أ صباحاً تسافر کہ سکتے ہیں لیکن ھل صباحا تسافر نہیں کہ سکتے بلکہ ایسا کہنا ہوگا۔۔ ھل تسافر صباحا۔۔

رہی بات " ما استفہامیہ " کی تو یہ غیر عاقل کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے اللہ کا فرمان : وما تلک بیمینک یاموسی
اسی طرح سے " ما" کے ذریعہ سے کسی کی صفت سے متعلق سوال کیا جاتا ہے یعنی صفت معلوم کی جاتی ہے جیسے کوئی کہے " ما محمد ؟ " (محمد کیا ہیں )تو یہاں ما کے ذریعہ سوال کرکے سائل یہ جاننا چاہتا ہے کہ محمد کس صفت سے متصف ہیں عالم ہیں یا ڈاکٹر ہیں یا کاتب ہیں وغیرہ
لہذا کوئی یہ نہ کہیں کہ یہاں تو "ما" عاقل کے لئے استعمال ہوا ہے کیوں کہ محمد عاقل ہیں تو ایسی بات نہیں ہے بلکہ ما کے ذریعہ محمد کی صفت معلوم کی جارہی ہے اور صفت غیر عاقل ہے
اسی طرح سے" ما" کے ذریعہ کسی چیز کی حقیقت معلوم کی جاتی ہے اس کی حقیقت سے متعلق سوال کیا جاتا ہے جیساکہ اللہ کا فرمان: قال فرعون وما رب العالمین۔۔

کبھی کبھی ما کے ساتھ " ذا" کو ملحق کردیا جاتا ہے اور یہ بھی غیر عاقل کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن یہ تعبیر کے لحاظ سے زیادہ قوی ہوتا ہے
جیسے اللہ کا فرمان : یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیبات۔۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top