بسم اللہ الرحمن الرحیم

🥀امام ابن حبان کے عقائد کے تعلق سے چند تحقیقی باتیں🥀

(1) امام ابن حبان ایک جلیل القدر محدث اور اہل حدیث کے منہج کے مطابق قرآن و سنت اور اجماع امت سے استدلال کرتے تھے اور عقائد کے باب میں اخبار آحاد سے استدلال کرنے میں اہل سنت کے موافق تھے.

(2) سوائے چند چیزوں کے امام ابن حبان عقیدہ کے اکثر و بیشتر مسائل میں اہل سنت و جماعت کے ہم خیال تھے.

(3) آپ اہل سنت و جماعت کے عقیدہ کے خلاف قبر کے پاس جا کر دعا کرنے،زیارت کی نیت سے قبروں کا قصد کرکے سفر کرنے اور صالحین سے تبرک حاصل کرنے کو جائز سمجھتے تھے.

(4) اہل سنت کے برخلاف آپ انبیاء سے صغیرہ گناہوں کے وقوع کو ممکن تصور کرتے تھے.... اور یہ جو معروف ہے جس کی وجہ سے آپ کو شہر بدر ہونا پڑا تھا کہ آپ نبوت کو ایک کسبی چیز سمجھتے ہیں تو یہ غلط ہے آپ کا ایسا کوئی عقیدہ نہیں تھا .

(5) صفات کے باب میں آپ نے ابن کلاب کے منہج کو اختیار کیا ہے چنانچہ بیشتر اوقات آپ صفات فعلیہ کی تاویل کرتے ہیں اور بسا اوقات صفات ذاتیہ کی بھی تاویل کر بیٹھتے ہیں.

(6) آپ نے صفت عجب، ضحک، ساق، تقرب، معیت، نفس، شکر اور حدیث ان الله خلق آدم على صورته وغیرہ کی تاویل کی ہے

(7) مرجئہ کی طرح آپ دین سے خارج کر دینے والا کفر صرف اس کفر کو گردانتے ہیں جو جھٹلانے اور انکار کرنے کے ذریعے ہو.

(8) کرامات اولیاء کے باب میں آپ اہل سنت کے برخلاف اشاعرہ کے موافق ہیں.... واضح رہے کہ کرامات اولیاء کے تعلق سے اسلامی فرقے تین گروہوں میں منقسم ہیں:

اول:وہ جو علی الاطلاق کرامات اولیاء کا انکار کرتے ہیں جیسے معتزلہ جہمیہ ابن حزم اور ابو اسحاق اسفرائینی.

دوم: وہ جو کرامات اولیاء کا اقرار کرتے ہیں لیکن معجزات انبیاء اور کرامات اولیاء میں تفریق کرتے ہیں جیسے اہل سنت و جماعت.

سوم: وہ جو کرامات اولیاء کا اقرار کرتے ہیں لیکن معجزات اور کرامات میں تفریق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ دونوں ایک ہی چیز ہے بس الفاظ مختلف ہیں جیسے اشاعرہ اور صوفیہ وغیرہم.

ان تفصیلات کے بعد عرض ہے کہ آپ رحمہ اللہ کی نسبت کسی معین فرقے کی طرف کرنا یہ غور طلب ہے کیونکہ آپ اکثر مسائل میں اہل سنت کے منہج پر قائم ہیں چند مسائل میں آپ نے کلابیہ کی موافقت کی ہے جب کہ ایک دو مسئلے میں اشاعرہ کی موافقت کی ہے.....لہذا آپ کو اہل سنت ہی سمجھنا اور یہ کہنا کہ بعض مسائل میں آپ سے اجتہادی غلطیاں ہوئیں ہیں زیادہ قرین انصاف ہے ورنہ بہت سارے ائمہ کرام ایسے مل جائیں گے جنہوں نے بعض مسائل میں اہل سنت کے منہج سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے منحرف فرقوں کے منہج کو اپنایا ہے چنانچہ اگر ان سب کو ان کے دو چار مسائل میں اختلاف کی وجہ سے اہل سنت سے خارج تصور کیا جانے لگے تو بہت سارے ائمہ و محدثین کرام اہل سنت کی صف سے باہر ہو جائیں گے...

واللہ اعلم بالصواب

✍ مامون رشید ہارون رشید سلفی
 
Top