رافضیت ایسا دین ہے جو نبی ﷺ کے لائے ہوئے دین سے بالکل مختلف ہے
اعداد وتقدیم: ابومعاویۃ حسن علی فاروقی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ ممکن ہی نہیں کہ شیعیت اسلام کی اکثر فروع و اصول میں موافقت کر جائے۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ان کے بڑے مزعومہ آیۃ اور علماء نے دلائل کے درمیان ترجیح کے ایسے قواعد مرتب کیے ہیں کہ جو بات اہل السنۃ کے مخالف ہو اسے وہ ’’العامہ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور اس کے بر عکس اسے صحیح ترین قول قرار دیتے ہیں جو ان کی جھوٹی روایات کی سند کے ساتھ ہو۔ وہ قاعدہ ان کے اندر اصل مانا جاتا ہے جو اسلام کی فروع و اصول کے ساتھ واضح مخالفت پہ مشتمل ہو۔

ایک رافضی عالم ’’الحر العاملی‘‘ اپنی کتاب ’’وسائل الشیعہ‘‘ میں باب باندھتے ہوئے لکھتا ہے’’عدم جواز ھما یوافق العامہ ویوافق طریقتہم‘‘ اس بات کے عدم جواز میں کہ جو بات عامہ کی موافقت میں ہو۔ پھر کہتا کہ اس بات کے عدم جواز میں وارد احادیث متواترہ ہیں یعنی اس بات پہ عمل کے جواز میں جو عامہ کے موافق ہو اور اس میں صادق علیہ السلام کا قول ہے دو مختلف حدیثوں میں ’’ اعرضوا علی اخبار العامہ۔ای اھل السنة والجماعة۔ فما وافق اخبارھم فذروہ وما خالف اخبار ھم فخذوہ‘‘ مجھ پہ عامہ کی خبریں پیش کرو۔ یعنی اہل السنۃ کی۔ تو جو خبریں ان کی آپس میں موافقت کر جائیں ان کو چھوڑ دو اورجو مخالف ہوں انہیں لے لو

وقال علیہ السلام ’’خذ بما فیہ خلاف العامہ فما خالف العامہ ففیہ الرشاد‘‘
اس بات کو لے لو جس میں عامہ کا اختلاف ہو کیوں کہ ہدایت اسی میں ہے۔

اسی طرح ’’عیون الاخبارالرضی‘‘ میں ہے کہ ایک صدوق نے علی بن اسباط سے روایت کی وہ کہتا ہے کہ میں نے رضا علیہ السلام سے کہاکہ کوئی معاملہ ہو جاتا ہے لیکن مجھے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا اور جس شہر میں میں رہتاہوں وہاں کوئی ایسا بھی نہیں کہ اس سے فتویٰ لوں تو انہوں نے کہا :

اِیْتِ فقیہ البلد فاستفتہ فی امرک فاذا افتاک بشیء فخذ بخلافہ فان الحق فیہ

کہ تو شہر کے(سنی) فقیہ کے پاس جا اور اپنے معاملے میں اس سے فتویٰ لے اور جب وہ تجھے فتویٰ دیدے تو اس کے خلاف عمل کر کیوں حق اسی میں ہے۔

یہ بات معلوم ہے کہ اسلام…اجمالاً وتفصیلاً …خالق کی توحید، مخلوقات کی اللہ عزوجل کے لیے عبادت اور نبی ﷺ کی اقتداء پہ اور متبع غیرِبدعتی کی اقتداء پہ قائم ہے۔ یہ تمام باتیں ان دلائل پر مبنی ہیں جو کہ کتاب و سنت میں وارد ہوئے ہیں۔

جبکہ رافضیت بنیادی طور پہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ساتھ شرک اور مخلوق کی غیر اللہ کیلیے عبادت، وسیلہ و تضرع کے ساتھ قائم ہے۔ اسی طرح رافضیت اس دعویٰ پہ قائم ہے کہ اللہ عزوجل کی کتاب قرآن تحریف شدہ ہے اور اس میں کمی بیشی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سنتِ نبی ﷺ کا بھی انکار کرتے ہیں چاہے وہ صحیح ہو۔ رافضیت ان کی تکذیب کرتی ہے اور انکو ہماری طرف نقل کرنے والوں کی طرف خیانت منسوب کرتی ہے جبکہ وہ امت کے اشراف میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایسی صحیح ترین کتب کا بھی انکار کردیا جن کو امت نے اجتماعی طور پہ قبولیت بخشی اور ان کتابوں کو ہماری طرف نقل کرنے والے لوگ انتہائی ثقہ تھے۔ وہ کتابیں جن کا انکار کیا گیا ان میں صحیح بخاری وصحیح مسلم سب سے پہلے ہیں جبکہ ان کے علاوہ جو کچھ ہیں ان کا انکار تو بالاولیٰ ٹھہرا۔

جیسے کہ ان کا دین مسلمانوں کی متفقہ امامت و خلافت کے انکار پہ قائم ہے۔ وہ خلافت کہ جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ جبکہ ان آئمہ کی تعریف خود نبی ﷺ نے فرمائی اور انہیں ہدایت یافتہ کے نام سے موسوم فرمایا، انکی سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا بلکہ ان کی سنت کو اپنی سنت کے برابر ذکر کیا۔ لیکن رافضیت تو ام المومنین عائشہ صدیقہ طاہر ہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا بھی انکار کرتی ہے جن کی برأت کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا اور جن لوگوں نے ان کی عزت کے بارے میں زبان دراز کی اور ان پہ تہمت لگائی ، اللہ تعالیٰ نے انکی سخت پکڑ کی اور انہیں تنبیہ فرمائی۔

نعمۃ اللہ الجزائری اپنی کتاب ’’انوار النعمانیۃ‘‘ میں کہتا ہے باب اس بارے میں کہ ’’روشن بات اور علت امامیہ کے دین میں یہ ہے کہ جس کے سبب ہم عامہ کے مخالف قول کو پکڑتے ہیں‘‘۔ ہم ان کے ساتھ یعنی اہل السنۃ کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے نہ کسی برتن پر، نہ کسی نبی پر نہ کسی امام پر اور یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب وہ ہے جس کے نبی محمد ﷺ ہیں اور ان کے بعد ان کے خلیفہ ابوبکرؓ ہیں۔ جبکہ ہم یہ بات نہیں کہتے کہ ایسارب ہمارا رب ہے اورنہ ایسا نبی ہمارا نبی ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ وہ رب جس کے نبی محمد ﷺہیں اور ابوبکرؓ ان کے خلیفہ ہیں وہ ہمارا رب نہیں ہے اور نہ ہی ایسا نبی ہمارا نبی ہے‘‘۔

سید حسین الموسوی کہتا ہے اور وہ ان کے ایسے قلیل علماء میں سے ہے جن کی فطرت کو اللہ تعالیٰ نے سالم رکھا تو اس نے اپنی کتاب {لِلّٰہِ ثُمَّ لِلتَّارِیْخ} میں رافضیوں کے موقف کو یہ کہتے ہوئے باطل قرار دے دیا ’’ کہ ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ کسی مسئلہ میں حق عامہ یعنی اہل السنۃ کے ساتھ ہے تو کیا پھر بھی ہم پہ یہ واجب ہے کہ ہم ان کے خلاف ہی عمل کریں۔ اس سوال کا جواب ایک دفعہ مجھے سید محمد باقر نے دیا اور کہا ، ہاں کہ ان کے خلاف ہی عمل کیا جائے گا کیونکہ اقوال ان کے خلاف عمل کرنے کو ہی کہتے ہیں چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ یہ بات اس سے کم تر ہے کہ ہم یہ فرض کر لیں کہ کسی مسئلہ میں حق ان کے ساتھ ہے۔
 
Top