ذیشان خان

Administrator
شراب نوشی کے فوائد

✍ مامون رشید ہارون رشید سلفی

مقدس قرآن کریم کے اندر اللہ حکیم وعلیم کا ارشاد ہے:"یسْأَلُونَكَ عن الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُل الْعَفْوَ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ"(سورة البقرة آیت نمبر 219)

ترجمہ: لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے لیے ڈھیر سارے منافع وفوائد بھی ہیں،لیکن ان کے گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑے ہیں، اور آپ سے لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ جو (تمہاری ضروری اخراجات سے) زیادہ ہو اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتوں کو تمہارے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور وفکر کر سکو—

اس آیت کریمہ کے اندر اللہ رب العالمین نے "اثم" واحد کے مقابلے میں "منافع" جمع منتہی الجموع کا صیغہ استعمال کیا ہے جو کثرت پر دلالت کرتا ہے اور یہ بتلاتا ہے کہ شراب اور جوئے میں بہت سارے فوائد ہیں......جن میں سے بعض کا تذکرہ میں یہاں کروں گا...

لیکن اشکال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اثم کو واحد اور اس کے مقابلے میں منافع کو جمع کیوں استعمال کیا ؟ کیا اس کے نتیجے میں لوگوں میں شراب نوشی کی رغبت مزید نہیں بڑھے گی جب وہ سنیں گے کہ اس میں ایک دو نہیں ڈھیر سارے فوائد ہیں....
تو علمائے مفسرین اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یقینا اول وہلہ میں ایک عام انسان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس میں قرآنی بلاغہ مضمر ہے کہ دیکھو شراب کے منافع عدیدہ وفوائد کثیرہ ہونے کے باوجود اس کے گناہ زیادہ ہیں جس کی وجہ سے وہ حرام ہے اگر ایک دو فائدے ہوتے اور ان کے مقابلے میں گناہ زیادہ ہوتے تو کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ ایک کے دو کے مقابلے میں کثرت کا کیا اعتبار یہ ایک نسبی امر ہے شراب کے گناہ معمولی ہیں اور پھر لوگوں پر اس کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑتا...

شراب کے فوائد:

🔷 شراب بدن میں مستعدی اور چستی پیدا کرتی ہے

🔷شراب نوشی سے ذہن تیز اور حافظہ مضبوط ہوتا ہے ۔

🔷 شراب پینے سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے عائلی زندگی میں خوشحالی آتی ہے ۔

🔷شراب کی خرید و فروخت ایک نفع بخش کاروبار ہے چونکہ اس کے خریدار بہت ہوتے ہیں جو مسلسل اس کے نشے میں مست ہونے کی وجہ سے اسے زندگی کا جز سمجھتے ہیں اور ہر قیمت پر اسے حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں جس کے سبب تاجر کو خسارے کا امکان بہت ہی کم نظر آتا ہے۔

🔷 شراب نوشی سے لذت حاصل ہوتی ہے اسے پی کر دلی سکون محسوس کرتا ہے.

🔷 شراب نوشی سے مستی حاصل ہوتی ہے اور ایک انسان کیف و سرور کے عالم میں مست ہو کر زندگی کے چند حسین لمحوں کو خوشی اور اطمینان خاطر کے ساتھ گزارتا ہے-

🔷 شراب نوشی سے دل مضبوط ہوتا ہے، اس میں ایک طرح کی پختگی حاصل ہوتی ہے-

🔷 شراب نوشی سے انسان نڈر بے خوف اور جری وبہادر بن جاتا ہے-

🔷شراب نوشی کے بعد ایک بزدل انسان بھی بہادر بن جاتا ہے اور عظیم کارنامے سرانجام دیتا ہے زمانہ جاہلیت کے جنگی کارنامے اس پر بین دلیل ہیں -

🔷 شراب نوشی سے انسان کے بدن کا رنگ نکھرتا ہے اس میں ایک نوعیت کی شفافیت پیدا ہوتی ہے اور وہ خوبصورتی کی جانب قدم بڑھاتا ہے-

🔷شراب نوشی سے ہاضمہ درست اور مضبوط رہتا ہے -

🔷شراب نوشی سے معدے کے اندر کی خرابی درست ہو جاتی ہے اور ساری پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں-

🔷شراب نوشی کے ذریعے ایک بخیل انسان سخاوت پر آمادہ ہو جاتا ہے اور دل کھول کر فیاضی کا دریا بہاتا ہے-

🔷 شراب نوشی سے غم کافور ہو جاتا ہے تکلیفوں کا احساس نہیں ہوتا اور بے خودی کے عالم میں ایک انسان اپنے درد والم کے ایام کو گزار دیتا ہے -

(ملاحظہ فرمائیں: فتح القدير 1/253 .... فتح البيان في مقاصد القرآن 1/441)

قارئین کرام شراب نوشی کے ان فوائد کو حیطہ تحریر میں لانے کا مقصد اس کی پذیرائی یا لوگوں کو شراب نوشی پر ابھارنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ شراب کے اندر اتنے سارے فوائد ومنافع موجود ہونے کے باوجود بھی وہ حرام ہے تو غور کیجئے جس چیز کے اندر فوائد کیا فائدہ نام کی ایک چیز بھی نہیں ہے بلکہ الٹا اس میں نقصانات ہیں وہ کیسے جائز ہو سکتی ہے مثلاً: سگریٹ بیڑی تمباکو کھینی وغیرہ وغیرہ جو خمر ہی کی جنس سے ہیں.
 
Top