ذیشان خان

Administrator
تشہد میں انگلی حرکت دینا

سوال: تشہد کی حالت میں شروع ہی میں انگلی کو حرکت دینی شروع کردینی چاہئے یا درود کے بعد جب دعائیں شروع کریں پھر حرکت دینا چاہئے۔ مسنون عمل کون سا ہے؟ اسی طرح دو سجدوں کے درمیان بھی حرکت دینی چاہئے؟

جواب: ظاہر یہ ہے کہ تشہد میں اُنگلی کو حرکت شروع سے دے۔ حدیث کے لفظ یحرّکھا کا تقاضا یہی ہے کہ اسے سلام پھیرنے تک حرکت دیتا رہے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری ؒفرماتے ہیں:

«ظاهر الأحادیث یدلّ علی الإشارة من ابتداء الجلوس»(تحفۃ الاحوذی: ۲؍۱۸۵)

’’احادیث کی ظاہری دلالت تو یہی ہے کہ تشہد میں بیٹھنے کی ابتدا سے ہی اشارہ کیا جائے‘‘

پھر یدعو بھا (انگلی کے اشارے سے دعا کرتے )کا مفہوم بھی یہی ہے …سجدوں کے درمیان اشارہ والی حدیث عبدالرزاق نے المُصَنَّف(۲؍۶۸) اور اس سے احمد(۴؍۳۱۷) نے اور طبرانی نے معجم کبیر (۲۲؍۳۳) میں ذکر کیا ہے۔ اس روایت کے راوی وائل بن حجر ہیں۔لیکن اس بارے میں وائل کی جملہ روایات اس کے خلاف ہیں او رجن دوسرے صحابہ نے نبیﷺ کی نماز کی حالت بیان کیا ہے، ان کی روایات بھی وائل کی اس روایت کے خلاف ہیں۔ ان کے مطلق اور مقید الفاظ کا تعلق تشہد کی بیٹھک سے ہے ۔ پھر علامہ بکر بن عبداللہ ابوزید فرماتے ہیں:

’’علمائِ سلف میں سے کسی نے سجدوں کے درمیان اشارہ کرنے کی صراحت نہیں کی او رنہ کسی نے اس کے متعلق کوئی عنوان قائم کیا ہے اور مسلمانوں کا مسلسل عمل سجدوں کے درمیان اشارہ نہ کرنا اور انگلی کو حرکت نہ دینا ہے ‘‘

امام بیہقی نے السنن الکبریٰ (۲؍۱۳۱) میں اس حدیث کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن باز او رعلامہ البانی رحمہما اللہ نے کہا کہ

’’عبدالرزاق کی یہ روایت ثوری عن عاصم بہ سے ہے جس میں عبدالرزاق، ثوری سے متفرد ہے اور محمدبن یوسف فریابی اس کا مخالف ہے جبکہ وہ ہمہ وقت ثوری کے ساتھ رہے۔ انہوں نے حدیث کے آخر میں سجدئہ مذکور کا ذکر نہیں کیا۔ عبداللہ بن الولید نے محمد کی متابعت کی ہے۔حدیث کے آخر میں یہ زیادتی ثُمّ سَجَدَ عبدالرزاق کے وہموں سے ہے۔ روایات اس بات پر متفق ہیں کہ اشارہ کا تعلق پہلے اور دوسرے تشہد کے بیٹھنے سے ہے‘‘ ( تمام المنۃ :۱؍۲۱۴ تا ۲۱۷ ،السلسلۃ الصحیحۃ (۵؍۳۰۸ تا۳۱۴ حدیث نمبر۲۲۴۷،۲۲۴۸)

مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب لاجدید فی أحکام الصلاۃ، ص ۳۸ تا ۴۶ ازعلامہ بکر بن عبداللہ ابوزید۔
 
Top