ذیشان خان

Administrator
چند دعوتی اصول

اسعد اعظمی / استاذ جامعہ سلفیہ بنارس

قرآن کریم اور سنت نبویہ میں دعوت واصلاح کے جو اصول وضوابط بیان کئے گئے ہیں ، ان کا پاس ولحاظ دعوت کے کام میں بے حد ضروری ہے ، ان سے بے اعتنائی کرنا اور اپنی من مانی کرنا دعوت کے لئے بھی مضر ہے اور داعی کے لئے بھی ۔ اس لئے دعوت وارشاد کے عمل سے وابستہ افراد کو ان امور پر توجہ دینی چاہئے اور اپنی دعوت کو مفید سے مفید تر بنانے کی ہرممکن جد وجہد کرنا چاہئے ۔ سطور ذیل میں ان میں سے بعض امور پر بالاختصار روشنی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے :
(أ ) حکمت :
قرآن کریم کی درج ذیل آیت میں دعوت کے کام میں حکمت کا راستہ اختیار کرنے کی بات کہی گئی ہے : {ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی أحسن، ان ربک ھو أعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو أعلم بالمھتدین} (سورہ نحل: ۱۲۵) ۔
ترجمہ : (اے نبی!) اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقہ سے بحث ومناقشہ کیجئے ، یقینا آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے ۔
اسی طرح ایک دوسری آیت میں کہا گیا ہے :
{یوتی الحکمۃ من یشاء، ومن یؤت الحکمۃ فقد أوتی خیرا کثیرا، وما یذکر الا أولوا الألباب}(سورہ بقرہ: ۲۶۹)
ترجمہ: وہ (اللہ) جسے چاہتا ہے حکمت ودانائی دیتا ہے ، اور جسے حکمت عطا کر دی جائے تو سمجھو اسے بہت ساری بھلائی مل گئی ، اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں ۔
ایک مقام پر ارشاد ہے :
{ولقد آتینا لقمان الحکمۃ}(سورہ لقمان: ۱۲)
ترجمہ: اور ہم نے یقینا حضرت لقمان کو حکمت عطا کی تھی َ
حکمت کا معنی ومفہوم :
علماء ومفسرین نے حکمت کے مختلف ومتعدد معانی بیان کئے ہیں ، بعض مفسرین نے حکمت کے معنی کو بیان کرتے ہوئے اہل علم کے کل (۲۹) اقوال نقل کئے ہیں ، مثلا: قرآن، نبوت ، فقہ ، سنت ، علم وعمل ، برجستہ درست جواب، عقل وفہم ، اصابت رائے ، قوت فیصلہ وغیرہ وغیرہ ۔ شیخ سعید بن علی القحطانی نے ان تمام اقوال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک جامع تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ’’الاصابۃ فی الأقوال والأفعال والاعتقاد، ووضع کل شیء فی موضعہ باحکام واتقان‘‘(الحکمۃ فی الدعوۃ الی اللہ تعالی ، ص: ۳۰)
یعنی قول، فعل اور عقیدہ سب میں صواب ودرستگی کو پہنچنا ، اور ہر چیز کو ٹھوس طریقہ پر عمدگی کے ساتھ اس کی جگہ پر رکھنا۔
یعنی نرمی کی جگہ نرمی ، سختی کی جگہ سختی ، ترغیب کی جگہ ترغیب اور ترھیب کی جگہ ترھیب وغیرہ وغیرہ ۔
حکمت کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ اور آپ کی سیرت طیبہ کا بنظر غائر مطالعہ کرنا چاہئے آپ کا تو معاملہ ہی یہی تھا کہ ’’ہر کام حکمت سے بھرا، ہر بات میں سو خو بیاں‘‘ ۔
آپ کے اقوال ، افعال اور تصرفات میں حکمت ودانائی اور فہم وبصیرت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو دعاۃ ومبلغین کو بہت کچھ سکھاتی ہیں ، چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔
۱ - ہجرت کے موقع پر :
سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت کرتے وقت نبی اکرم ﷺ نے مکہ سے نکل کر سیدھے مدینہ کے راستہ کا رخ نہیں کیا ، بلکہ مدینہ کا راستہ جو شمال کی طرف جاتا ہے اسے چھوڑ کر اس کے برعکس جنوب کی طرف پانچ میل دور ’’ثور‘‘ نامی پہاڑ کے ایک غار میں تین دن ٹھہرے رہے، یہ حکمت عملی آپ نے اس لئے اپنائی کہ مکہ والے آپ کے مکہ چھوڑنے کی خبر پاکر آپ کے تعاقب میں نکلیں گے اور مدینہ کے راستوں پر آپ کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے ، ان کو مایوس کرنے کے لیے اور اپنے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے یہ تدبیر اختیار کی کہ متوقع جگہوں سے دور ہٹ کر ایک غیر متوقع جگہ پر قیام کیا ، تین دن کے بعد جب آپ کی تلاش جستجو کی کوششیں کچھ تھم گئیں تو وہاں سے خاموشی سے نکل کر آپ نے مدینہ کی راہ لی ، مدینہ کے سفر میں بھی آپ نے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جن پر عموما کم لوگ آیا جایا کرتے ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: الرحیق المختوم : عربی ص : ۱۶۴ - ۱۶۷) ۔
نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکل کر سیدھے شمال کی طرف مدینہ کے راستہ پر بھی چل سکتے تھے ، آپ اللہ کی اجازت سے ہجرت کے لیے نکلے تھے ، دین اور اہل دین کا تحفظ مقصود تھا ، اللہ تعالی یقینا آپ کی حفاظت کرنے والا تھا مگر ان سب کے باوجود آپ نے یہ حکمت عملی اختیار کرکے امت کو اور اپنے نائبین (ورثۃ الأنبیاء) کویہ پیغام دیا کہ احتیاط اور پیش بندی توکل کے منافی نہیں بلکہ عین حکمت ہے اور مختلف مواقع پر اس کی ضرورت پیش آتی ہے ۔
۲ - یہود سے معاہدہ :
ہجرت کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے پہلے مرحلے میں جو اہم کام انجام دیئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا، اور ان کو مسلمانوں کا حلیف بنا دیا ، حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہودی کبھی مسلمانوں کا یا حق کا بھلا چاہنے والے نہیں رہے ، قرآن نے تو ان کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے : {لتجدن أشد الناس عداوۃ للذین آمنوا الیھود والذین أشرکوا}(سورہ مائدہ: ۸۲) ترجمہ : (اے نبی!) یقینا آپ اہل ایمان کا سب سے بڑا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے ۔
نبی اکرم ﷺ ان تمام حقائق کے باوجود یہ نہیں چاہتے تھے کہ ابتداء ہی سے مدینہ کے ان پڑوسیوں کو اپنا مخالف اور حریف بنا کر رکھا جائے اور اپنی دفاعی قوت کا ایک بڑا حصہ ان پر صرف کیا جائے ، کیوں کہ ادھر مکہ والے آپ اور آپ کے دین کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہی ہوئے تھے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف رہتے تھے ، اگر ابتدا سے یہود بھی اعلانیہ مشرکین مکہ کا رویہ اختیار کر لیتے تو مسلمانوں کے لئے بیک وقت سب سے مورچہ لینا آسان نہ ہوتا ۔ اس لیے حکمت اور دور اندیشی کا تقاضا تھا کہ مدینہ کے پڑوسیوں کو ابھی نہ چھیڑا جائے ان کی ظاہری وباطنی خباثتوں کو انگیز کرتے ہوئے ان سے مصالحت کا رویہ اختیار کیا جائے ۔
حکیمانہ تصرف کی ان دو مثالوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد آپ کے حکیمانہ اقوال ونصائح کی کچھ مثالیں بھی ملاحظہ ہوں :
۳ - زنا کی اجازت چاہنے والے نوجوان سے آپ کی حکیمانہ گفتگو:
مسند احمد میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار ایک نوجوان نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! مجھ کو زنا کی اجازت دیدیجئے ۔ لوگ فورا اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو ڈانٹ پھٹکار کرنے لگے ، اور تھو، تھو، کرنے لگے ۔ لیکن اللہ کے رسول ۔ﷺ نے اس نوجوان کو اپنے قریب بلاکر بیٹھایا اور اس کو اس طرح سمجھایا :
اللہ کے رسول : بتائو! کیا تم اپنی ماں کے لئے اس فعل کو پسند کروگے ؟
نوجوان : واللہ ، ہرگز نہیں ، میں آپ پر قربان جائوں ۔
اللہ کے رسول : اسی طرح تمام لوگ اس فعل کو اپنی مائوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔ اور کیا تم اپنی بیٹی کے لئے یہ
فعل پسند کروگے ؟
نوجوان : واللہ ، ہرگز نہیں ، اے اللہ کے رسول ! میں آپ پر قربان جائوں ۔
اللہ کے رسول : اسی طرح تمام لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے اس کام کو پسند نہیں کرتے، اور کیا اپنی بہن کے لئے اس
کام کو پسند کروگے ؟
نوجوان : واللہ ، ہرگز نہیں، میں آپ پر قربان جائوں ۔
اللہ کے رسول : ایسے ہی تمام لوگ اپنی بہنوں کے لیے اس کام کو ناپسند کرتے ہیں ، اور کیا تم اپنی پھوپھی کے لیے یہ
کام پسند کروگے ؟
نوجوان : واللہ، ہرگز نہیں، میں آپ پر قربان جائوں ۔
اللہ کے رسول : اسی طرح تمام لوگ اپنی پھوپھیوں کے لئے اس فعل کو ناپسند کرتے ہیں، تو کیا تم اپنی خالہ کے لئے
اس فعل کو پسند کروگے ؟
نوجوان : واللہ ہرگز نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں ؟
اللہ کے رسول : ایسے ہی تمام لوگ اپنی خالائوں کے لیے اس فعل کو پسند نہیں کرتے ۔
پھر اس کے بعد آپ نے اس نوجوان کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا اور یہ دعا دی :
اے اللہ ! اس کا گناہ بخش دے ، اس کے دل کو صاف کردے ، اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت کر ، اس کے بعد سے اس نوجوان کے دل میں کبھی اس طرح کا خیال بھی نہیں آتا تھا ۔ (مسند احمد: ۵؍ ۲۵۶ - ۲۵۷ ، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألبانی : ۳۷۰)
اس واقعہ پر غور کریں ایک نوجوان سید الانبیاء وافضل الرسل سے زناکاری کے لئے اجازت مانگ رہا ہے ، یہ حد درجہ جرأت بلکہ گستاخی کی بات تھی ، اس کو سن کر برداشت کر لینا ، سائل کے ساتھ شفقت ونرمی کا برتائو کرنا اور اس کو عقلی اور منطقی اسلوب سے مطمئن کرنا یہ نبی رحمت کا حصہ تھا ۔ حدیث رسول : ’’لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ‘‘ (متفق علیہ) ترجمہ : تم میں کا کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ، یہ حدیث بار بار پڑھی اور سنائی جاتی ہے ، مگر عملی اور تطبیقی اعتبار سے مذکورہ واقعہ اس کی بہترین مثال ہے، مخاطب کو شرعی دلائل کے ساتھ عقلی اور کونی دلائل سے مطمئن کرنا،مثالیں بیان کرکے سمجھانا اور موقع ومحل کے اعتبار سے قصص وواقعات بیان کرنا، یہ سب کتاب وسنت کے اسلوب کے عین مطابق ہے ، کتاب وسنت میں جگہ جگہ ان دلائل ووسائل کو استعمال کیا گیا ہے ۔
۴ - حکیمانہ جواب :
بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بار یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ’’السام علیک‘‘ (یعنی آپ کے اوپر موت ۔ یہودیوں نے اپنی خباثت اور مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’السلام علیکم‘‘ کے ذریعہ دعا دینے کے بجائے ’’ السام علیک‘‘ کہہ کر بد دعا دے دی ) رسول اکرم ﷺ نے جواب میں ’’وعلیکم‘‘ کہا، (اور اس طرح گویا ان کی بد دعا ان ہی کے اوپر لوٹا دی) حضرت عائشہ سے نہ رہا گیا ِ انہوں نے کہا : ’’ السام علیکم ، ولعنکم اللہ وغضب علیکم‘‘ یعنی تمہارے اوپر موت ہو اور اللہ کی لعنت اور غضب بھی ۔
اللہ کے رسول نے فوراً کہا کہ عائشہ ٹھہرو، رکو! نرمی کا پہلو اختیار کرو ، سخت کلامی اور فحش گوئی سے بچو، حضرت عائشہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول : کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہہ دیا ؟ اللہ کے رسول نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں میں نے کیا جواب دیا ؟ میں نے (ان کی بد دعا) ان ہی پر لوٹادی، میری دعا قبول ہوگی، اور میرے حق میں ان کی بد دعا قبول نہیں ہوگی۔ (بخاری)
اس واقعہ میں نبی کا مختصر اور حکیمانہ جواب بڑی معنویت رکھتا ہے ، بغیر کسی اشتعال وسب وشتم کے آپ نے یہود کی شاطرانہ چال کو ان ہی کے اوپر لوٹا دیا ، وہ اپنا سا منھ لے کر رہ گئے ہوں گے ۔ اس طرح کے مواقف کا دعاۃ کو بارہا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر ہوش مندی سے کام نہ لیاگیا تو ہمیشہ توتو میں میں ہوتی رہے گی اور دعوت کے کاز کو نقصان پہنچے گا ۔
۵ - لفظ ’’ رحمن‘‘ اور لفظ ’’رسول‘‘ پر اعتراض :
صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس معاہدہ کو تحریری شکل دینے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ مکلف کئے گئے ، قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو کے سامنے نبی اکرم ﷺ نے صلح نامہ لکھوانا شروع کیا اور کہا کہ لکھو : ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ سہیل بن عمرو نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ ’’رحمن‘‘ کیا ہے ہم اس کو نہیں جانتے ، صرف ’’باسمک اللھم‘‘ لکھا جائے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی سے کہا کہ ٹھیک ہے ایسے ہی لکھو! پھر آپ نے آگے یہ الفاظ لکھنے کو کہا: ’’ھذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ‘‘ یہ محمد رسول اللہ کی جانب سے کی جانے والی صلح کا بیان ہے ، سہیل نے پھر ٹوکا اور کہا اگر ہم آپ کو ’’رسول اللہ‘‘ مانتے تو کیوں خانہ کعبہ سے روکتے اور آپ سے لڑائی کرتے ، اس لئے آپ ’’ محمد رسول اللہ‘‘ کے بجائے ’’ محمد بن عبد اللہ ‘‘ لکھوائیے ، آپ ﷺ نے فرمایا بھلے تم لوگ جھٹلائو ،مگر میں تو اللہ کا رسول ہی ہوں ، پھر آپ نے حضرت علی سے کہا کہ ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ لکھ دو اور ’’ رسول اللہ ‘‘ کا لفظ مٹا دو ، حضرت علی اس کو نہیں مٹا رہے تھے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اسے مٹادیا ۔ اس طرح نزاع ختم ہوگیا ، اور پورا صلح نامہ لکھا گیا ۔ (دیکھئے کتب سیرت)
ظاہر بات ہے کہ اگر اس لفظی نزاع کو ناک کی بات بنالیا جاتا تو مصالحت کا پورا معاملہ کھٹائی میں پڑجاتا اور نہ جانے یہ قضیہ کیا رخ اختیار کرتا ، اللہ کے رسول نے اپنے موقف کی وضاحت کے بعد اس نزاع کو فوراً ختم کر دیا اور صلح کی کارروائی مکمل ہو گئی، اس صلح سے مسلمانوں کو مستقبل میں کتنے فوائد حاصل ہوئے سیرت پر نظر رکھنے والے اس کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔
آج کی دنیا میں بھی الفاظ اور ٹائیٹل وغیرہ کو لے کر بڑے ہنگامے ہوتے ہیں ، لیکن رسول کے اس حکیمانہ تصرف کی مثال شاید ہی دیکھنے میں آئے ۔ (جاری)
 

ذیشان خان

Administrator
دوسری اور آخری قسط

چند دعوتی اصول

(اسعد اعظمی،بنارس)

(ب) شفقت ونرمی :
شفقت ونرمی نیک طبیعت لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے ، اس صفت کا دوسروں پر بڑااثر ہوتا ہے ، نرم مزاج انسان لوگوں کا دل جیت لیتا ہے اور اپنے مشفقانہ رویے کی وجہ سے لوگوں کو اپنے قریب کر لیتاہے ، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں قرآن بڑی صراحت سے کہا ہے :
{فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم، ولو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک ۔۔۔}(سورہ آل عمران: ۱۵۹)
ترجمہ: (اے نبی!) اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں، اور اگر آپ بد زبان اورسخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ۔
اس سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوئی کہ اپنے مخاطب کے ساتھ نرمی وشفقت کا رویہ اختیار کرکے ہی ان کو قریب کیا جا سکتا ہے ، سخت دلی اور بے مروتی سے فاصلے بڑھنا شروع ہوتے ہیں اور ایسا آدمی اکیلا رہ جاتا ہے ، دعوت کے کام میں اس کی اہمیت دو چندہو جاتی ہے ، اسی لیے اللہ رب العزت نے حضرت موسی وہارون کو فرعون کے پاس بھیجتے وقت یہ ہدایت کی تھی :
{اذھبا الی فرعون انہ طغی، فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر أو یخشی}(سورہ طہ: ۴۳ - ۴۴)
ترجمہ (اے موسی وہارون !) تم دونوں فرعون کے پاس جائو، اس نے بڑی سرکشی کی ہے ، اسے نرمی سے سمجھائو شاید کہ وہ سمجھ لے یا خوف کرے ۔
فرعون کی سرکشی اور اس کا ظلم وعدوان ضرب المثل بن گیا ہے ، ’’أنا ربکم الأعلی‘‘ کا نعرہ لگا کر اس نے تمام حدود ہی کو پار کر ڈالا تھا ۔ مگر رب حقیقی کی طرف سے یہ تاکید ہوتی ہے کہ اس سے بھی نرم لہجے ہی میں بات کی جائے ، دعوت وتبلیغ کے باب میں شفقت ونرمی کی ضرورت کی اس سے واضح دلیل یا مثال کیا ہو سکتی ہے ۔
اسی لئے احادیث نبویہ میں بھی بار بار رفق ولین کو اختیار کرنے اور شدت وعنف سے احتراز کی ترغیب دی گئی ہے ، چند حدیثیں ملاحظہ ہوں :
(۱) ’’ان اللہ رفیق یحب الرفق فی الأمر کلہ‘‘ (متفق علیہ)
ترجمہ: اللہ تعالی نرمی کرنے والاہے اور ہر معاملے میں نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔
(۲) ’’ان اللہ رفیق یحب الرفق ، ویعطی علی الرفق ما لا یعطی علی العنف، وما لا یعطی علی ما سواہ‘‘ (مسلم)
ترجمہ: اللہ تعالی نرمی کرنے والا ہے ، نرمی کو پسند فرماتا ہے ، نرمی پر وہ جوکچھ عطا کرتا ہے وہ سختی پر اور اس کے علاوہ کسی چیز پر عطا نہیں کرتا ۔
(۳) ’’ان الرفق لا یکون فی شیء الا زانہ، ولا ینزع من شیء الا شانہ‘‘ (مسلم)
ترجمہ: جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے زینت دار بنا دیتی ہے اور جس سے یہ نکال لی جاتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے ۔
(۴) ’’من یحرم الرفق یحرم الخیر کلہ‘‘ (مسلم)
ترجمہ: جو شخص نرمی سے محروم ہوگیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہو گیا ۔
(۵) ’’کان رسول اللہ ﷺ اذا بعث أحدا من أصحابہ فی بعض أمرہ قال: بشروا ولا تنفروا، ویسروا ولا تعسروا‘‘(متفق علیہ)
ترجمہ: اللہ کے رسول اپنے صحابہ میں سے کسی کو جب کسی مہم پر بھیجتے تو اس سے کہتے: خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی کرنا ، سختی نہ کرنا ۔
ان قولی حدیثوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد ان کی عملی تطبیق کے چند نمونے بھی ملاحظہ ہوں :
(۱) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی مسجد میں آکر پیشاب کرنے لگا ، لوگ اس کی طرف بڑھے اور اس کو جھڑکنے اور منع کرنے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو روکا اور کہا کہ اس کا پیشاب نہ کاٹو اسے پیشاب کر لینے دو، جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے اسے بلایا اور اس سے کہا کہ یہ مسجدیں پیشاب اور گندگی وغیرہ کے لئے نہیں ہیں ، یہ مسجدیں تو محض ذکر الٰہی، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں ‘‘ اس کے بعد ایک آدمی سے کہا کہ ایک ڈول پانی لے آکر اس پیشاب پر ڈال دو ۔ (مسلم)
(۲) حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہاتھا کہ مصلیان میں سے کسی کو چھینک آگئی ، میں نے’’یرحمک اللہ‘‘ کہہ دیا ، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا : ’’ہائے ماں کی جدائی‘‘ (یہ عرب کا محاورہ ہے جس کا مقصد بد دعا نہیں) کیا بات ہے تم لوگ مجھے گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ پس وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے ، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے - پس میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - میں نے آپ جیسا معلم (استاد) نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد جو آپ سے زیادہ اچھی تعلیم دینے والا ہو ، اللہ کی قسم ! آپ نے نہ تو مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ برا بھلا کہا ، صرف اتنا فرمایا کہ دیکھو یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس میں انسانوں کی گفتگو میں سے کوئی بات درست نہیں ، یہ تو صرف تسبیح ، تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے … ۔ (مسلم)
دعوت کے تعلق سے تقریر ہو یا تحریر یا کوئی اور عمل، اس میں متانت ، سنجیدگی اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے ہرگز چھوٹنا نہیں چاہئے ، اپنے مخاطبین یامخالفین سے سخت لب ولہجے میں بات کرنا ، ان پر غصہ اتارنا، ان کے اقوال یا اعمال سے مشتعل ہوجانا یا ان کو مشتعل کرنا، یہ سب دعوتی اسلوب ومنہج کے شایان شان نہیں ، اس سے سوائے دوریاں بڑھنے ، عداوتیں جڑ پکڑنے اور نفرتوں کے بازار گرم ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ، مقرر یا محرر چاہے اپنے آپ کو جتنا بھی مخلص اور برحق سمجھتا ہو ۔
(ج) مخاطبین کی صلاحیت کا لحاظ :
جس طرح ہر عمر، ہر مزاج اور ہر جنس کے لیے دوا کی نوعیت اور مقدار وغیرہ مختلف ہوتی ہے اسی طرح دعوت کے کام میں بھی عمر ، جنس ، ذہنی صلاحیت وغیرہ کے فرق کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ پڑھے لکھے اور با شعور لوگوں سے خطاب کا لب ولہجہ اور اس کے موضوعات الگ ہوں گے اور ان پڑھ اور کم سوجھ بوجھ والوں سے گفتگو کا اسلوب اور موضوعات الگ ہوں گے، اسی طرح بچوں ، نوجوانوں ، اور بزرگوں کے درمیان اور عورتوں اور مردوں کے درمیان فرق کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا۔ سب کو ایک انداز سے خطاب کرنا ، یا کم شعور والوں کے سامنے دقیق اور علمی مسائل بیان کرنا جو ان کی عقل وفہم میں نہ سما سکیں یہ حد درجہ کا دعوتی قصور ہے جس کا ارتکاب کرتے ہوئے بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے ۔
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’حدثوا الناس بما یعرفون أتحبون أن یکذب اللہ ورسولہ‘‘ (بخاری)
لوگوں سے وہی باتیں بیان کرو جنہیں وہ سمجھ سکیں ، کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے ؟
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ما أنت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ‘‘(مسلم)
جب تم کسی قوم سے ایسی بات بیان کروگے جس کا ان کی عقل ادراک کرنے سے قاصر ہے تو وہ بات بعض لوگوں کے لیے فتنہ کا باعث ہوگی۔
ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
’’یا عائشۃ، لولا أن قومک حدیث عھدھم بکفر لنقضت الکعبۃ وجعلت لھا بابین: باب یدخل الناس وباب یخرجون‘‘ (بخاری)
اے عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ رہتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا کر اسے دو بارہ تعمیر کرتا اور اس میں دو دروازے لگاتا ، ایک اند جانے کے لیے، دوسرا باہر نکلنے کے لیے ۔
چونکہ لوگوں کو کفر چھوڑے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے ، ابھی ان کے ایمان میں پختگی نہیں آئی تھی ، خانہ کعبہ کی مشرکین بھی بے حد تعظیم وتکریم کرتے تھے اور اسے ایک عظیم عبادت گاہ کے طور پر دیکھتے تھے ، نو مسلموں کے لیے خانہ کعبہ کی مسماری ایک آزمائش ثابت ہو سکتی تھی جو بسا اوقات ان کو دین ہی سے برگشتہ کر دیتی، اس لیے ضرورت یا مصلحت کے باوجود اللہ کے رسول نے اس کو ہاتھ نہیں لگایا اور اپنی حالت پر اسے رہنے دیا ۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے لیے جو باب باندھا ہے اس پر غور کیجئے :
’’باب من ترک بعض الاختیار مخافۃ أن یقصر فھم بعض الناس عنہ فیقعوا فی أشد منہ‘‘
یعنی بعض اچھے کاموں کو اس خوف سے ترک کر دینا کہ کہیں بعض لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اس سے بھاری غلطی کے مرتکب نہ ہو جائیں ۔
علامہ ابن حجر اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ کسی خرابی کے پیدا ہونے کے اندیشے سے مصلحت کا کام ترک کیا جا سکتا ہے ، اور منکر پر نکیر کرنا ترک کیا جا سکتا ہے جب یہ خوف ہو کہ نکیر کرنے سے کہیں اس سے بڑے منکر کا ظہو ر نہ ہو جائے ۔ (فتح الباری: ۱ ؍ ۲۲۵)
٭٭٭
 
Top