🎙 صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

خطبہء مسنونہ کے بعد ۔۔۔۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی اپنے طاعت گزار بندوں کی مدد کرتا ہے، تقوی اختیار کرنے والوں، اور پاک لوگوں کو اللہ تعالی پسند کرتا ہے، وہ ذات مقدسہ : اَلَّذِىْ خَلَقَ فَسَوّ ٰ ى (2) جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا۔
وَالَّـذِىْ قَدَّرَ فَـهَدٰى (3)
اور جس نے (ہر چیز کا) تخمینہ ٹھہرایا پھر راہ دکھائی۔
وَالَّـذِىٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى (4)
اور وہ جس نے چارہ نکالا۔
فَجَعَلَـهٝ غُثَـآءً اَحْوٰى (5)
پھر اس کو خشک سیاہ چورا (کچرا) کر دیا۔
وہی اللہ ہے جو ہنساتا ہے اور رلاتا ہے، جو مارتا ہے اور جلاتا ہے، وہی اللہ ہے جس نے مرد و عورت کو پیدا کیا،
وہی اللہ ہے جو بندوں کو آزماتا ہے، پستی اور بلندی عطا کرتا ہے، عزت و ذلت دیتا ہے، وہ جو چیز چاہے عطا کر سکتا ہے، اور جسے چاہے روک سکتا ہے، اور یہ ساری چیزیں ایک حکمت کے تحت ہیں، اللہ ہی ہے جو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، بندوں پر خوب رحمت نازل کرنے والا ہے،ان کی توبہ کو قبول کرنے والا ہے، اللہ تعالی وسیع علم رکھنے والا ہے، غالب ہے اور حکمت والا ہے، اس نے انبیاء کرام کو بھیجا ان کی مدد کی، ظلم سے نجات دیا، اور اللہ نے ان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دیا۔
اللہ ہی سبحانہ تعالی ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام کو آزمایا، پھر انہیں آگ سے سلامتی کے ساتھ بچا لیا، اسماعیل علیہ السلام کا امتحان لیا، اور پھر ان کی جگہ ایک عظیم ذبیحہ عطا کر دیا، ھود و لوط و صالح اور شعیب علیہ السلام کو نجات دیا، اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کر دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے گھروں میں ہی گرے پڑے ہوئے تھے۔
وہی اللہ ہے جس نے مچھلی کے پیٹ سے یونس علیہ سلام کی دعا کو قبول کیا، زکریا نے اللہ سے بیٹا طلب کیا تو انہیں یحی سے نوازا، ایوب علیہ السلام کی مصیبت کو دور کیا، سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا، موسی علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنا دیا، فرعون اور اس کے ماننے والوں کو اسی دریا میں غرقاب کر دیا، قارون کو اس گھر کے اندر ہی دھنسا دیا زمین میں، وہی اللہ جس نے عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا، ان کی امی کو پوری جہان کے لئے نشانی بنا دیا، اور وہی اللہ ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں چاند کے دو ٹکڑے کر دیئے۔
اللہ رب العالمین کی صفات، اور اس کے اسماء حسنی بڑے عظیم وجلیل ہیں۔
اللہ نے قرآن کریم میں بیان کیا :
هُوَ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَۚ الْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَـبِّـرُ ۚ سُبْحَانَ اللّـٰهِ عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ ( حشر۔ 23)
وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ، پاک ذات، سلامتی والا، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زبردست، بڑی عظمت والا ہے، اللہ پاک ہے اس سے، جو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں جو انہیں یاد کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اللہ نے ہمیں اپنے ان ناموں کو سکھایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اس کو پکاریں، اس کی عبادت کریں، اللہ تعالی علم والا ہے، اور علم کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالی جواد اور سخی ہے، اور جود و سخا کو پسند کرتا ہے، اللہ یکتا ہے اور یکتائیت کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ جمیل ہے، اور جمال و خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالی شکور ہے، شکر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالی غفور ہے، اور مغفرت طلب کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، اللہ صبور ہے اور صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالی حلیم ہے، اور برباد لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
اللہ کے بندو جب بھی کوئی غم آئے، کسی بیماری میں مبتلا ہو، سختی کے وقت سے گزرو، مصیبتوں نے آ گھیرا ہو، اللہ کو پکارو، صرف اور صرف اللہ کو پکارو، کیونکہ وہی تمہاری پکار کو سننے والا ہے۔
اللہ کا ارشاد ہے :

اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَیَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ النمل۔ 63﴾
بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بے قرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور اللہ ہے؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

میرے بھائیو! "اللہ" یہ جو نام ہے یہ بڑا عظیم و جلیل ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ہر ذکر میں اللہ رب العالمین نے ملا دیا ہے، بس اللہ کی تکبیر اس کی تھلیل اس کی تسبیح،اس کی تحمید وغیرہ ، سب میں اللہ رب العالمین کا یہ عظیم نام شامل ہے، بندہ جب مصیبت میں پریشانی میں دکھ میں، تکلیف میں یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ، کہہ کے پکارتا ہے ، تو اللہ تعالی اس کی دعا کو رد نہیں کرتا ہے،
اے مومنو !
اللہ رب العالمین کی عظمت، اس کی بڑائی اور کبریائی، اس کے جلال کو سمجھو، اور اس کے احکام کی پاسداری کرو ۔
اللہ کا ارشاد ہے : ذٰلِكَ وَمَنْ يُّـعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللّـٰهِ فَهُوَ خَيْـرٌ لَّـهٝ عِنْدَ رَبِّهٖ ۗ (الحج۔ 30)
یہی حکم ہے اور جو اللہ کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اس کے لئے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے۔
اللہ کی عظمت کا احترام کرو ، اور موذن جب اذان میں اللہ اکبر کی صدا بلند کرے تو صلاة کے لئے دوڑ پڑو، باجماعت مسجد میں صلوۃ ادا کرو، ذکر و اذکار کے ذریعہ، توبہ و استغفار کے ذریعہ، تلاوت قران کے ذریعہ، اللہ کی عظمت اور اس کے وقار اس کی شان ، اس کی وحدانیت کا اقرار و تعظیم کرو، اس کی طاعت و بندگی کو بجا لاو، اسی میں دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی ہے ۔
اللہ تعالی ہم سب کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے ۔آمین ۔
 
Top