ذیشان خان

Administrator
جرابوں پر مسح جائز ہے

✍⁩محدث العصر شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

ج: حدیث میں آیا ہے کہ
عن ثوبان قال بعث رسول اللہ سریۃ….امرھم ان یمسحوا علی العصائب والتساخین.
ترجمہ: ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی….انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کو گرم کرنے والی اشیاء (جرابوں اور موزوں) پر مسح کریں۔ (سنن ابی داؤد ،الرقم:146)
اس روایت کی سند صحیح ہے، اسے حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ اور حافظ ذھبیؒ دونوں نے صحیح کہا ہے۔ (المستدرک والتلخیص ،الرقم:602)

اس حدیث پر امام احمد رحمہ اللہ کی جرح کے جواب کے لئے نصب الرایہ (165/1) وغیرہ دیکھیں۔

امام ابوداؤدؒ فرماتے ہیں:
ومسح علی الجوربین علی بن ابی طالب و ابو مسعود والبراء بن عازب و انس بن مالک و ابو أمامۃ وسھل بن سعد وعمرو بن حریث وروی ذلک عن عمر بن الخطاب و ابن عباس.
ترجمہ: اور علی بن ابی طالب، ابو مسعود، والبراء بن عازب ،انس بن مالک ،ابو أمامۃ، سھل بن سعد اور عمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیا اور عمر بن الخطاب اور ابن عباس سے بھی جرابوں پر مسح مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد،الرقم:159)

صحابہ کرامؓ کے یہ آثار مصنف ابن ابی شیبہ (189،188/1)، مصنف عبد الرزاق (200،199/1)، محلی ابن حزم (84/2) الکنی للدولابی (181/1) وغیرہ میں باسند موجود ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اثر الاوسط لابن المنذر (462/1) میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔

جیسا کہ آگے آرہا ہے، علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:
’’ولان الصحابۃ رضی اللہ عنھم مسحوا علی الجوارب ولم یظھر لھم مخالف فی عصرھم فکان اجماعا‘‘
ترجمہ: اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا لہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے۔(المغنی 181/1 مسئلہ226)

خفین پر مسح متواتر احادیث سے ثابت ہے، جرابیں بھی خفین کی ایک قسم ہے جیسا کہ سیدنا انسؓ، ابراھیم نخعی، اور نافع وغیرھم سے مروی ہے، جو لوگ جرابوں پر مسح کے منکر ہیں ،ان کے پاس قرآن، حدیث اور اجماع سے ایک بھی صریح دلیل نہیں ہے۔

(1) امام ابن المنذر النیسابوریؒ نے فرمایا:
حدثنا محمد بن عبد الوہاب ثنا جعفر بن عون: ثنا یزید بن مردانبۃ: ثنا الولید بن سریع عن عمرو بن حریث قال: رایت علیا بال ثم توضأ و مسح علی الجوربین.
ترجمہ: عمرو بن حریثؓ نے کہا میں نے دیکھا (سیدنا) علیؓ نے پیشاب کیا، پھر وضوء کیا اور جرابوں پر مسح کیا۔ (الاوسط 462/1،وفی الاصل مردانیۃ وھو خطأ،طبعی)
اس کی سند صحیح ہے۔

(2) سیدنا ابو امامہؓ نے جرابوں پر مسح کیا۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (188/1 ح:1979،وسندہ حسن)

(3) سیدنا براء بن عازبؓ نے جرابوں پر مسح کیا۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ(189/1ح:1984 و سندہ صحیح)

(4) سیدنا عقبہ بن عمروؓ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (189/1 ح 198) اور اس کی سند صحیح ہے۔

(5) سیدنا سہل بن سعدؓ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (189/1 ح 1990) و سندہ حسن

ابن منذرؒ نے کہا: (امام) اسحاق بن راھویہؒ نے فرمایا:
’’صحابہؓ کا اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (الاوسط ابن المنذر 264-265/ 1)

تقریباً یہی بات ابن حزمؒ نے کہی ہے۔(المحلی 85/2،مسئلہ نمبر212)

ابن قدامہ کا قول سابقہ صفحہ پر گزر چکا ہے۔

معلوم ہوا کہ جرابوں پر مسح کے جائز ہونے کے بارے میں صحابہؓ کا اجماع ہے اور اجماع (بذات خود مستقل) شرعی حجت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ میری امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کریگا۔(المستدرک للحاکم 116/1 ح 397-398)

نیز دیکھئیے: ابراء اہل الحدیث والقرآن معا فی الشواھد من التھمۃ والبھتان‘‘ص:32 تصنیف حافظ عبد اللہ محدث غازی پوریؒ(متوفی 1337 ھ)

مزید معلومات:

(1) ابراھیم النخعی رحمہ اللہ جرابوں پر مسح کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 188/1 ح 1977) اس کی سند صحیح ہے۔

(2) سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے جرابوں پر مسح کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 189/1 ح 1979) اس کی سند صحیح ہے۔

(1) عطاء بن ابی رباحؒ جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔ (المحلی86/2)

معلوم ہوا کہ تابعین کا بھی جرابوں پر مسح کے جواز پر اجماع ہے ،والحمد للہ

(1) بقول حنفیہ قاضی ابو یوسف جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔ (الھدایہ 61/1)

(2) بقول حنفیہ محمد بن حسن الشیبانی بھی جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔ (ایضا 161/1 باب المسح علی الخفین)

(3) آگے آرہا ہے کہ (بقول حنفیہ) امام ابو حنیفہ پہلے جرابوں پر مسح کے قائل نہیں تھے لیکن بعد میں انہوں نے رجوع کرلیا تھا۔

امام ترمذیؒ فرماتے ہیں:
سفیان الثوری، ابن المبارک، شافعی، احمد اور اسحق (بن راھویہ) جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔ (بشرطیکہ وہ موٹی ہوں) دیکھئے (سنن الترمذی ،ح:99)

سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’باقی رہا صحابہؓ کا عمل، تو ان سے مسح جراب ثابت ہے، اور تیرہ صحابہ کرامؓ کے نام صراحت سے معلوم ہیں، کہ وہ جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے ۔(فتاویٰ نذیریہ332/1)

جورب: سوت یا اون کے موزوں کو کہتے ہیں۔
(درس ترمذی334/1 تصنیف محمد تقی عثمانی دیوبندی)

نیز دیکھئے البنایہ فی شرح الھدایہ للعینی (597/1)

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ خفین (موزوں) جوربین مجلدین اور جوربین منعلین پر مسح کے قائل تھے مگر جوربین (جرابوں) پر مسح کے قائل نہیں تھے۔

ملا مرغینانی لکھتے ہیں:
’’وعنہ انہ رجع الی قولھما وعلیہ الفتویٰ‘‘
اور امام صاحب سے مروی ہے کہ انہوں نے صاحبین کے قول پر رجوع کرلیا تھا اور اسی پر فتویٰ ہے۔(الھدایہ61/1)

صحیح احادیث، اجماع صحابہ، قول ابی حنیفہ اور مفتی بہ قول کے مقابلہ میں دیوبندی اور بریلوی حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے، اس دعویٰ پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
(شہادت، جنوری :2001)

سوال: جرابوں پر مسح کرنے والی روایت میں سفیان ثوری رحمہ اللہ عن سے روایت کرتے ہیں اور آپ سفیان ثوری کی عن والی روایت کو نہیں مانتے۔ (دیکھئے نور العیین، ترمذی کی روایت)
تو کیا جرابوں پر مسح جائز ہے؟ کیا آپ کے پاس تحدیث یا ثقہ متابعت ہے؟
اگر ہے تو ضرور چاہئے ،علامہ مبارک پوری نے تحفۃ الاحوذی میں جراب پر مسح کی روایت کو ضعیف کہا ہے۔
جواب: سیدنا علی رضی للہ عنہ سے باسند صحیح جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔
(الاوسط لابن منذر462/1 ت 476)
اس روایت کی سند میں نہ تو سفیان ثوری ہیں اور نہ کوئی دوسرا مدلس راوی بلکہ یہ سند بالکل صحیح ہے۔
یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ 189/1 ح 1986،میں بھی موجود ہے مگر غلطی سے عمرو بن حریث کے بجائے عمرو بن کریب چھپ گیا ہے۔
ان کے علاوہ دیگر کئی صحابہ سے المسح علی الجوربین ثابت ہےجن کا کوئی مخالف معلوم نہیں لہذا جرابوں پر مسح کے جواز پر صحابہؓ کا اجماع ہے۔
(181/1،مسئلہ 426، دیکھئے المغنی ابن قدامہ و الاوسط لابن منذر665-666/ 1،والمحلی 87/2) اور ھدیۃ المسلمین ،ص:20،17ح4)
اجماع صحابہ بذات خود بہت بڑی دلیل ہے لہذا سفیان ثوری کی معنعن روایت پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، اسے صرف اس اجماع کی تائید میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
(ماہنامہ شھادت جنوری:2003)

وضوکی خبیث ترین بدعت جرابوں پر مسح میں تنگی (اور انکار) ہے۔

بہت سے لوگ، طہارت اور وضو کے بعد، پہنی ہوئی جرابوں پر مسح کرنے میں (سخت) حرج (تنگی) محسوس کرتے ہیں حالانکہ بعض سلف صالحین کے نزدیک جرابیں موزوں کے قائم مقام ہیں۔

ہم نے اسے اس لئے خبیث ترین بدعت کہا ہے کیونکہ اس سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ، اس صحیح حدیث کی مخالفت ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے جرابوں پر مسح کیا تھا۔ اسی طرح اس (بدعت) سے جماعتِ صحابہؓ سے ثابت شدہ اس بات کی (بھی) مخالفت ہوتی ہے کہ وہ جرابوں کو موزوں کے قائم مقام سمجھتے اور ان پر مسح کرتے تھے۔ اب اس بات کی تفصیل سن لیں:
مغیرہ بن شعبہؓ سےصحیح ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
[ابوداؤد کتاب الطہارۃ باب المسح علی الجوربین ح 159، اس میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے روایت کرتے ہیں (لہذا یہ سند ضعیف ہے) لیکن یہ روایت اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے ۔خاص طور پر جب اجماعِ صحابہ بھی اس کا مؤید ہے تو صحیح ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟/ مترجم]
یہ حدیث صحیح و ثابت ہے، اسے ابن حزم نے صحیح کہا۔ حافظ اسماعیلی نے فرمایا کہ اس کی سند بخاری کی شرط پر صحیح ہے لہذا امام بخاری کو یہ چاہئے تھا کہ صحیح بخاری میں درج کرتے ۔ (النکت الظراف لابن حجر 493/8)
حافظ ابن القیمؒ نے “زاد المعاد” (199/1) میں کہا:
“اور نبی کریم ﷺ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا ہے ” یہ قول اس کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک مغیرہ بن شعبہؓ کی حدیث صحیح ہے ۔صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے (اس مسئلہ میں) آثار (بہت زیادہ ہیں)۔
ابن المنذر النیسابوری نے “الاوسط” (464/1) میں امام احمدؒ سے نقل کیا ہے :
“سات یا آٹھ صحابۂ کرام نے جرابوں پر مسح کیا ہے ۔”
ان جلیل القدر صحابۂ کرام میں سے بعض کی روایات درج ذیل ہیں:
1: علی بن ابی طالبؓ
عمرو بن حریث نے کہا :میں نے دیکھا، علیؓ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا، اسے ابن ابی شیبہ (189/1 ح 1986 و فی سندہ تصحیف) اور ابن المنذر (الاوسط 452/1) نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

2: البراء بن عازبؓ
مصنف عبدالرزاق (778) مصنف ابن ابی شیبہ (189/1 ح 1974) الاوسط لابن المنذر (453/1) اور السنن الکبریٰ للبیہقی (285/1) میں “الأعمش عن إسما عیل بن رجاء عن رجاءبن ربیعۃ الزبیدی“ کی سند سے مروی ہے کہ میں (رجاء) نے دیکھا، براءؓ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا ۔ اس کی سند حسن ہے ۔ [الاعمش صرح بالسماع]

3: انس بن مالکؓ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک انسؓ جرابوں پر مسح کرتے تھے (ابن ابی شیبہ 188/1 ح ،الاوسط262/1، المعجم الکبیر للطبرانی 244/1) اس کی سند صحیح ہے (قتادہ مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا یہ روایت ضعیف ہے)

4: ابو مسعودؓ
عبد الرزاق (777) اور ابن المنذر نے “الأعمش عن إبراھیم عن ھمام بن الحارث عن أبي مسعود” کی سند سے روایت کیا ہے کہ ابو مسعود (عقبہ بن عمرو البدری الانصاری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ جرابوں پر مسح کرتے تھے۔ اس کی سند صحیح ہے۔

[]اس روایت کی سند اعمش کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن مصنف ابن ابی شیبہ 189/1ح 1987 میں اس کا صحیح شاہد ہے لہذا یہ روایت بھی اس شاہد کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے۔]

5: ابو امامہ الباہلیؓ
ابن ابی شیبہ (1979 و سندہ حسن) اور ابن المنذر (463/1) نے حماد بن سلمہ عن ابی غالب والی حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ میں (ابو غالب) نے ابو امامہ کو جرابوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

[سیدنا سہل بن سعد الساعدیؓ نے جرابوں پر مسح کیا ۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ۱۸۹/۱ح ۱۹۹۰ و سندہ حسن]
ابن ابی شیبہ (۱10/1 ح 1992) نے حسن سند کے ساتھ نافع مولیٰ ابن عمر سے اور صحیح سند کے ساتھ ابراہیم النخعی سے نقل کیا کہ جرابیں موزوں کے حکم میں ہیں] ابراہیم نخعی والا قول تو نہیں ملا لیکن ابن ابی شیبہ 188/1 ح 1977 نے صحیح سند سے نقل کیا کہ ابراہیم (نخعی) جرابوں پر مسح کرتے تھے [اور یہی قول احمد بن حنبل کا مذہب ہے اور اسے ہی ابن المنذر نے عطاء ، سعید بن المسیب ، ابراہیم النخعی، سعید بن جبیر ، الاعمش ، سفیان ثوری ، حسن بن صالح، ابن المبارک ، زفر بن الہذیل اور اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا ہے ۔ (465/1)

جرابوں اور موزوں پر مسح کی بدعات میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں مثلًا

1: ظاہر اور باطن (اوپر اور نیچے) مسح کرنا۔

یہ بات نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ سنت کے خلاف ہے۔

(حافظ) ابن القیم فرماتے ہیں:
“آپ ﷺ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے، آپ سے صحیح سند کے ساتھ موزوں کے نیچے مسح کرنا ثابت نہیں ہے۔ اس بارے میں جو حدیث آئی ہے اس کی سند منقطع ہے اور یہ روایت صحیح احادیث کے مخالف بھی ہے ۔” (زاد المعاد 199/1)

یہی بات مغیرہؓ کی جرابوں پر مسح والی حدیث آئی ہے۔
جریر بن عبد اللہؓ کی (بیان کردہ) حدیث میں ہے : ((رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَ مَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہِ)) میں نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں کے اوپر مسح کیا۔
(صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ فی الخفاف ح 387 و صحیح مسلم، الطہارۃ باب المسح علی الخفین ح 272)

“عَلیٰ” کا (ظاہر) مفہوم “اوپر” ہے لہذا اس حدیث سے جراب یا موزہ کے اوپر مسح کرنے کا ثبوت واضح ہوتا ہے۔ البتہ عبد اللہ بن عمرؓ سے صحیح ثابت ہے کہ وہ (اپنے موزوں یا جرابوں پر) اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ، اوپر نیچے صرف ایک دفعہ مسح کرتے تھے (الاوسط لابن المنذر ۴۵۲/۱ ، اس کی سند صحیح ہے / اس میں عبدالرزاق راوی مدلس ہے اور سند عن سے ہے ۔بیہقی 291/1 نے حسن سند کے ساتھ نقل کیا کہ عبد اللہ بن عمرؓ موزے کے نیچے اور اوپر مسح کرتے تھے)

یہ عبداللہ بن عمرؓ کا اجتہاد ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کی صحیح و ثابت سنت کے مخالف ہے اور غالباً یہ اس پر ہی محمول ہے کہ انھیں درج بالا حدیث نہیں پہنچی تھی۔ یہ مسئلہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ بعض ایسی احادیث ہیں جو بعض صحابہ کو اگر معلوم تھیں تو دوسروں کو ان کا علم ہی نہیں تھا ۔اس بات کا اچھی طرح سمجھ لیں۔

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ بعض روایات میں یہ صراحتاً آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ موزوں پر، نیچے کے بجائے (صرف) اوپر ہی مسح کرتے تھے لیکن یہ ساری روایات (بلحاظِ سند ) ضعیف ہے ۔ ہم انہیں یہاں دو وجہ سے ذکر کر رہے ہیں:

1: ان کا ضعیف ہونا واضح کر دیں۔

2: کوئی یہ نہ کہہ دے کہ تم سے اس مقام پر ایسی صحیح احادیث رہ گئی جو تمہارے قول کی واضح دلیل ہیں ۔ توفیق دینا اللہ ہی کا فضل و کرم ہے۔

موزوں پرمسح کی احادیث (بلحاظ مسح) عام ہیں۔ نیچے یا اوپر مسح کی صراحت کے ساتھ صرف تین احادیث مروی ہیں:
1: الفضل بن مبشر نے کہا :”میں نے دیکھا۔ جابر بن عبد اللہ (الانصاریؓ) نے وضو کیا ۔آپ نے صرف ایک دفعہ ہی موزوں کے اوپر مسح کیا پھر (اس وضوکی حالت میں جتنی نمازیں آئیں) سازی نمازیں (بغیر نئے وضو کے) پڑھیں اور فرمایا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اسی طرح کر رہا ہوں جیساکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا ” (الاوسط لابن المنذر 454/1) یہ روایت مسح کے ذکر کے بغیر سنن ابن ماجہ (ح 511) میں بھی موجود ہے۔

اس روایت کا راوی فضل بن مبشر (محدثین کے نزدیک) حدیث میں ضعیف ہے ۔
2: عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے اپنے والد سے انھوں نے عروہ بن الزبیر سے، انھوں نے مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کیا کہ میں نے دیکھا، نبی کریم ﷺ موزوں کے ظاہر پر (یعنی اوپر) مسح کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد:161 و سندہ حسن، سنن ترمذی :98و قال :”حدیث حسن”)

امام ترمذی نے کہا :”یہ روایت عبد الرحمٰن کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی ہے “یعنی اس کلام سے امام ترمذی نے عبد الرحمٰن کی زیادت کے منکر ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ بات وہی ہے جو امام ترمذی نے کہی ہے کیونکہ ابن ابی الزناد کے حافظہ میں (محدثین کا) کلام ہے لہذا ایسے راوی کی زیادت مذکورہ کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ محفوظ یہی ہے کہ مغیرہؓ کی حدیث میں ظاہر اور اوپر کے الفاظ نہیں ہیں۔
[تنبیہ: عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ سلیمان بن داود الہاشمی کی روایت میں صحیح الحدیث اور دوسرے شاگردوں کی روایت میں حسن الحدیث ہے دیکھئے میری کتاب “نور العینین” ص 184،183 اور سیر اعلام النبلاء 169،168 لہذا ا س سند پر جرح صحیح نہیں ہے / مترجم]

3: علیؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ موزوں کے اوپر مسح کر رہے تھے ۔ (سنن ابی داود 164،162 واسانیدہ ضعیفۃ)
اس کا راوی ابو اسحاق السبیعی مدلس ہے اور عن سے روایت کررہا ہے ۔ (لہذا یہ سند ضعیف ہے )

مغیرہ بن شعبہؓ سے یہ (بھی) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزے کے نیچے اور اوپر (دونوں جگہوں پر) مسح کیا ہے ۔
(سنن ابی داود : 165، سنن ترمذی: 97، سنن ابن ماجہ : 550، الاوسط بن المنذر 453،454/1/ وسندہ ضعیف)
امام ترمذی نے کہا :”یہ حدیث معلول (یعنی ضعیف)ہے ۔ اسے ولید بن مسلم کے علاوہ کسی دوسرے نے ثور بن یزید سے مسنداً (سند سے) روایت نہیں کیا۔ ابو زرعہ اور (امام ) بخاریؒ دونوں کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ یہی روایت عبد اللہ بن المبارک نے ثور عن رجاء بن حیوۃ قال: حدثت عن کاتب المغیرۃ عن النبی ﷺ مرسلًا بیان کی ہے ۔اس میں مغیرہ کاذکر نہیں کیا۔”
امام ابوداؤد نے اس حدیث (کے ضعیف ہونے کی) ایک اور علت (وجۂ ضعیف کی دلیل) بیان کی ہے :”مجھے معلوم ہوا کہ ثور نے یہ روایت رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی تھی۔”
ابن المنذر نے امام احمد بن حنبل سے نقل کیا کہ وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔

2: موزوں یا جرابوں پر ایک سے زیادہ بار مسح کرنا۔
مسنون یہی ہے کہ موزوں پر ایک ہی دفعہ مسح کیا جائے۔ آپ ﷺ سے ، ایک سے زیادہ بار مسح کرنا ثابت نہیں ہے ۔ ابن عمرؓ سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک ہی دفعہ مسح کرتے تھے جیساکہ گزر چکا ہے(ص56) یہ بھی یاد رکھیں کہ مسح، دھونے کے خلاف عمل ہے۔ دھونے سے خوب صفائی مقصود ہے جو مسح میں مطلوب نہیں ، اس لئے بار بارے ہونے کی طرح بار بار مسح کرنا صحیح نہیں ہے۔

3: موزے یا جرابیں اتار کر (خوامخواہ) پاؤں کا دھونا۔
بعض لوگ اپنے آپ کو خود ساختہ مشقت میں مبتلا کرکے جہل مرکب کے مرتکب بن جاتے ہیں۔
(اصل کتاب “السنن و المبتدعات فی العبادات” میں ) ص 22 پر صحیح حدیث گزر چکی ہے :”بے شک اللہ یہ (اسی طرح) پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح کہ وہ ناپسند کرتاہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔”
(صحیح مسند احمد 108/2 صحیح ابن خزیمہ : 950، صحیح ابن حبان ، الموارد :545 و سندہ حسن و للحدیث شواہد کثیرۃ)

وہ عبادات جن میں دونوں صورتیں جائز ہوں (ان میں) بے معنی تکلفات سے منع کیا گیا ہے ۔ انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ((نُھِیْنَا عَنِ التَّکَلُّفِ)) ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ باب مایکرہ من کثرۃ السوال ح 7293)

ابن القیم نے “زاد المعاد” (۱۹۹/۱) میں کہا :
“نبی کریم ﷺ (جرابوں اور موزوں وغیرہ میں) اپنے حال کے خلاف بے جا تکلف نہیں کرتے تھے ۔ اگر آپ کے پاؤں میں موزے ہوتے تو اتارنے کے بغیر ہی ان پر مسح کرلیتے اور اگر آپ کے پاؤں ننگے ہوتے تو انہیں دھو لیتے۔ اس مسئلہ میں مسح افضل یا دھونا؟ (تو اس میں ) یہی قول سب سے زیادہ راجح ہے کہ اگر پاؤں ننگے ہوں تو دھو لے اور اگر موزے یا جرابیں ہوں تو مسح کرلے۔ یہی بات ہمارے استاد (امام ابن تیمیہ) نے فرمائی ہے۔”

میرے ساتھ طالب علمی کے ابتدائی زمانہ میں ایک عجیب حادثہ رونما ہوا۔ میں بری (خشکی کے) راستے سے اپنے (دینی ) بھائیوں کے ساتھ، کویت سے عمرہ ادا کرنے کے لئے چلا تھا۔ اتنی شدید سردی تھی کہ درجۂ حرارت صفر سینٹی گریڈ تک گر جاتا تھا۔ میں نے ایک اعلان کرنے والے کو یہ منادی کرتے ہوئے سنا:”اپنی جرابیں اتار دو اور عزیمت پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاؤں دھو لو” ۔ مجھے تعجب ہوا کہ شیطان نے کس طرح اس کمزور اور فاسد رائے کو اس شخص کے دل میں ڈال رکھا ہے ، جس کی بنا پر وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت پر بھی مقدم کررہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ دوسروں کو اس کی دعوت بھی دے رہا ہے۔ جن بے چاروں کو ان مسائل کا کوئی علم نہیں ان کے نزدیک رخصت اور عزیمت میں کوئی فرق نہیں ۔ لوگوں کے اس طرزِ عمل کی شکایت، ہم اللہ ہی سے کرتے ہیں۔

پھٹی ہوئی جراب یا موزے پر مسح نہ کرنا۔
(لوگوں کا) یہ طرزِ عمل سلف صالحین اور محقق علماء کے خلاف ہے۔

سفیان ثوری فرماتے ہیں:
“اس وقت تک مسح کرتے رہو جب تک وہ (موزے) تیرے پاؤں سے لٹکے رہیں، کیا تجھے معلوم نہیں کہ مہاجرین اور انصار کے موزے پھٹے ہوئے ہی ہوتے تھے “؟ (مصنف عبدالرزاق ج 1 ص 194 ح 753، البیہقی: 283/1)

اسی بات کو شیخ الاسلام (ابن تیمیہؒ) نے اختیار کیا ہے ۔ فرماتے ہیں:
“دو اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ لفافوں پر مسح جائز ہے اسے ابن القیم وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور پھٹے ہوئے موزے پر اس وقت تک مسح جائز ہے جن تک اسے موزہ کہا جائے اور اس میں چلنا ممکن ہو۔ امام شافعی کا یہی قدیم فتویٰ ہے ۔ ابو البرکات وغیرہ علماء نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے ” (الاختیارات العلمیۃ 390/4)
 
Top