ذیشان خان

Administrator
مومن کے لئے شرعی دلیل کافی ہے

اردو ترجمانی: حافظ عبدالرشید عمری

علامہ ابن عثيمين رحمہ اللہ کہتے ہیں:

بعض لوگ عقلی دلائل سے قطع نظر صرف شرعی دلائل سے ہی مطمئن ہو جاتے ہیں
درحقیقت ایسے ہی لوگ قوی ایمان سے متصف ہیں
اور بعض لوگ شرعی دلائل سے اس وقت مطمئن ہوتے ہیں جب عقلی دلائل بھی بطور تائید پیش کی جائیں ،
ایسے لوگوں کو آپ شرعی دلائل سے زیادہ عقلی دلائل سے مطمئن پائیں گے،
ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ ایمانی خطرہ لاحق رہتا ہے
کیوں کہ حق کی معرفت میں انہوں نے شرعی نصوص اور دلائل کے مقابلے میں عقلی دلائل کو فوقیت دی ہے۔
اور اس کے بالمقابل قرآن و سنت کے نصوص اور دلائل سے مطمئن رہنے والوں کو تم ایمانی اور عملی حیثیت سے سب سے زیادہ مطمئن پاؤ گے ۔
اہل ایمان میں شرعی دلائل سے شرح صدر کا حصول خیر کی علامت ہے ۔
اگر تم کو اپنے دل میں قرآن و سنت کے نصوص اور دلائل سے ثابت شدہ
شرعی احکام کے تئیں کچھ تردد ،اضطراب اور کھٹکا محسوس ہوتا ہو
تو جان لو کہ تمہارا دل ایمانی لحاظ سے بیمار ہے۔

[شرح رياض الصالحين ٢٥١/٢]
 
Top