ذیشان خان

Administrator
کتب ستہ کی صحیح اور معتمد ترتیب

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

متاخرین علما کے یہاں کتب ستہ کی صحیح اور معتمد ترتیب یہ ہے:
صحیح بخاری،
پھر صحیح مسلم،
پھر سنن ابی داود،
پھر جامع ترمذی،
پھر سنن نسائی،
پھر سنن ابن ماجہ
۔


کتب ستہ کی ترتیب میں علما کے یہاں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لیکن جس پر آخر میں تقریبا علما کا اتفاق ہوا ہے وہ مذکورہ ترتیب ہے۔

واضح رہے کہ یہ ترتیب اصحاب کتب ستہ کی وفیات کے اعتبار سے ہے، ان کتب کی صحت اور منزلت کے اعتبار سے نہیں، ورنہ سنن نسائی کا مقام ومرتبہ صحیحین کے بعد ہونا چاہئے تھا، جامع ترمذی کے بعد نہیں۔

اس میں ایک اشکال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پھر سنن ابن ماجہ کو سب سے آخر میں کیوں ذکر کیا جاتا ہے، حالانکہ ابن ماجہ کی وفات ابو داود، ترمذی اور نسائی سے پہلے ہوئی ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ سنن ابن ماجہ کو کتب ستہ میں بعد میں شامل کیا گیا ہے۔ پہلے کتب خمسہ کی اصطلاح رائج تھی، یا بطور چھٹی کتاب سنن دارمی یا موطا امام مالک کو شمار کیا جاتا تھا۔ ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی المعروف بابن القیسرانی نے شروط الائمہ الستہ میں اسے پہلی بار کتب ستہ میں داخل کیا۔ اس لئے اس ترتیب میں ابن ماجہ کو سب سے آخر میں ذکر کیا جاتا ہے۔
 
Top