ذیشان خان

Administrator
مُعَل روایتوں کو بیان کرنے میں امام نسائی اور ترمذی کا منہج

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

امام نسائی کا منہج یہ ہے کہ اگر حدیث میں کوئی علت ہو تو غالبًا ایسی مُعَل روایت کو پہلے ذکر کرتے ہیں، پھر اس کے بعد صحیح روایت لاتے ہیں۔

امام ترمذی رحمہ اللہ کا منہج بھی اس سے قریب تر ہے۔

حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وقد اعترض على الترمذي ـرحمه الله ـ بأنه في غالب الأبواب يبدأ بالأحاديث الغريبة الإسناد غالباً، وليس ذلك بعيب، فإنه ـ رحمه الله ـ يبين ما فيها من العلل، ثم يبين الصحيح في الإسناد، وكان مقصده ـ رحمه الله ـ ذكر العلل، ولهذا تجد النسائي إذا استوعب طرق الحديث بدأ بما هو غلط، ثم يذكر بعد ذلك الصواب المخالف له". شرح علل الترمذي (2/625)۔

(امام ترمذی پر یہ اعتراض کیا گیا کہ غالبًا اکثر ابواب میں غریب اسانید والی احادیث پہلے لاتے ہیں، حالانکہ یہ کوئی عیب کی بات نہیں، آں رحمہ اللہ ان کی علتوں کو بیان کرتے ہیں، پھر صحیح اسانید کو بھی بیان کرتے ہیں، اس سے آپ کا مقصد علل کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اسی لئے آپ امام نسائی کو پائیں گے کہ جب آپ حدیث کے تمام طرق کو اکٹھا کر لیتے ہیں تو اس طریق سے شروعات کرتے ہیں جو غلط ہو، پھر اس کے بعد اس کے بالمقابل صحیح کو لاتے ہیں۔)

امام نسائی وترمذی کا یہی اسلوب ومنہج شیخ محمد بن علی آدم اثیوبی نے "ذخيرة العقبى في شرح المجتبى" (34/360) میں، ابو ذر عبد القادر بن مصطفی محمدی نے "الشاذ والمنكر وزيادة الثقة - موازنة بين المتقدمين والمتأخرين" (ص: 29) میں اور شیخ شریف حاتم العونی نے اپنے درس "مصادر السنة ومناهج مصنفيها " (مفرغ فی الشاملہ، ص: 19) میں بیان کیا ہے۔
 
Top