ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
موضوع: احوال قیامت
بتاريخ / ۲٠، ربيع الأول، ۱۴۴۲هـ ٦، نومبر،۲٠۲٠م
ترجمة خطبة الجمعة بالمسجد النبوي الشريف.
خطیب: لفضيلة الشيخ/ صلاح البدير حفظہ اللہ.
للمترجم: حافظ محمد اقبال راشد.
باللغة: الأردية.

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں ، جو ابتدا سے بنانے والا اور دوبارہ لوٹانے والا ہے۔

جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہی فیصلہ کرتا ہے اور وہی بزرگی و حمد کے لائق ہے۔

اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،اسی کو قیامت کا علم ہے اور یومِ میعاد اسی کی طرف واپسی ہوگی۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی و سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور ساری کائنات سے افضل رسول ہیں۔

آپ کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے والا جنت کا وارث ، اور نافرمانی کرنے والا راندہ درگاہ ہوگا۔

اللہ تعالی آپ اور آپ کی آل و اصحاب پر، رہتی دنیا تک صلاۃ و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاہ کے بعد :

اے مسلمانو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ، اُس کے مقام سے ڈرو ، اُس کی شدید پکڑ سے ہوشیار رہو۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے :

(جس نے نیک عمل کیا وہ اُسی کی ذات کے لیے مفید اور جس نے برائی کی ، اُس کا وبال بھی اُسی پر ہوگا ، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے )۔

اے مسلمانو !

دنیا کے خاتمے و فراغت کا وقت آن پہنچا ہے، اور اُس کازوال و قضا نزدیک ہو چکا ہے ، قیامت قریب اور وقوع پذیر ہونے والی ہے ، آنے والی گھڑی قریب آچکی ہے اور اس کا بپا ہوا نزدیک ہے۔

رسولِ ہدیٰ ﷺ نے اُس کے حوادث و علامات بتا دیں اور اُس کی نشانیاں واضح کردیں اور اُس کے مقدمات و دلالات کے ذکر کے ساتھ خبردار کر دیا ، تاکہ لوگ خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر ، اپنے نفسوں کی فکر کریں ، تیار ہوجائیں ، اپنی کمی کو پورا کر لیں ، اچانک گرفتاری سے قبل توبہ کرلیں۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے :( کیا وہ اُس قیامت کے منتظر ہیں ، جو یکایک اُنہیں دبوچ لے گی ، جبکہ اُس کی نشانیاں تو نمودار ہو چکی ہیں)۔

نشانیوں کے بارے میں ، ایسی صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، جن کا انکار و رد جائز نہیں ہے ۔

قیامت کی نشانیوں کے بارے میں جتنی نصوص وارد ہوئی ہیں ، وہ ساری حق اور شک سے بالاتر ہیں۔

اے مسلمانو!

قیامت کی جو نشانیاں ظاہر ہوئیں اور جو گزر چکی ہیں ، اُن میں سے ایک ، ہمارے نبی و سردار محمد ﷺ خاتم النبیین و عاقب المرسلین کی بِعثت ہے ، جس سے اللہ نے دین کو مکمل کیا اور جہانوں پر حجت قائم کی۔

قیامت کے بیان کے لیے مبعوث ہوئے اور فرمایا: " میں اور قیامت ان دونوں کی مانند ہیں اور اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے (قیامت) کی نزدیکی کو بیان کیا ، پھر اُن دونوں کو پھیلایا"۔ (بخاری و مسلم).

رسول الله ﷺ نے اپنی موت کو ، قیامت کی نشانی شُمار کیا۔ اور آپ کی موت سب سے بڑی مصیبت ہے ، جس نے اہلِ اسلام کو پریشان کرکے رکھ دیا۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:"جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے ، تو اُس کی ہر چیز روشن ہوگئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی ، تو اُس دن ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا ، ہمارے ہاتھ ابھی آپ کی تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے ، کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلا ہوا پایا"۔(ترمذی شریف).

بلاشُبہ قیامت سے چند دن قبل، جہالت عام ہوجائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا ، عمل کم ہو جائے گا ، پریشانیاں ظاہر ہو جائیں گی اور ایک سے ایک بڑھ کر فتنے ظاہر ہوں گے ، اس طرح کہ بعد میں آنے والے فتنے سے پہلے والا فتنہ چھوٹا محسوس ہو گا۔

سو مومن کہے گا ، یہ فتنہ میری تباہی ہے۔ پھر وہ چھٹ جائے گا اور دوسرا فتنہ ظاہر ہو گا ، تو مومن کہے گا ، یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہو گا۔

اور ایک آدمی کسی دوسرے شخص کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا ، کاش کہ میں اس کی جگہ ہوتا۔ اور دلوں میں بخل بھر جائے گا۔

ھرج بڑھ جائے گا ۔ یعنی قتل زیادہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آجائیگاکہ قاتل نہ جانتا ہو گا کہ ، اُس نے قتل کیوں کیا اور مقتول کو پتہ نہیں کہ اسے کیوں قتل کیا گیا ہے۔ اور پھر قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔

لوگوں پر مکروفریب والے سال آئیں گے۔ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا۔ خائن کو امین اور امین کو خائن سمجھا جائے گا۔

حقیر اور کمینے لوگ ، لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کریں گے۔ امانت ضائع ہوجائے گی اور معاملات نالائق لوگوں کے سپرد کردیئے جائیں گے۔

گھٹیا لوگوں سے علم طلب کیا جائے گا۔

لوگ مساجد کی تعمیر پر تو بہت فخر کریں گے ، جبکہ انہیں آباد کرنے والے بہت تھوڑے ره جائیں گے.

زمانہ بہت قریب ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک سال ، ایک ہفتے کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک گھنٹے کے برابر ہوجائے گا۔ اور ایک گھنٹہ ، کھجور کے خشک پتے کے جلنے کے برابر ہو جائے گا۔

جب زمانہ قریب ہو جائے گا تو ، مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے۔ اور مسلمان کا خواب ، نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔

اور قیامت قائم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ درندے ، انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں۔ اور آدمی سے اُس کے کوڑے کا کنارہ ، گفتگو نہ کرنے لگے۔

اور اُس کے جوتے کا تسمہ نہ گفتگو کرنے لگے۔ اور اُس کی ران ، اُس کام کی خبر نہ دینے لگے ، جو اُس کی بیوی نے اُس کی عدم موجودگی میں انجام دیا ہو ۔

دین کی انتہائی کمزوری اور علم کی قلت کے وقت ، مسیح دجال کی گمراہی کا ظہور ہوگا۔

اور وہ اولادِ آدم میں سے ایک ہوگا۔ اور آدم سے لے کر قیامت تک ، کوئی مخلوق شر و فساد میں ، دجال سے بڑی نہیں ہوگی۔

جس کا فتنہ تمام فتنوں سے بڑا ہوگا۔ اُس کی دائیں آنکھ کانی ہے ، گویا اُس کی آنکھ ، پھولا ہوا انگور ہو۔

اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ، کافر لکھا ہو گا۔ جس کو ہر مومن باآسانی پڑھ سکے گا۔ خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔

دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا۔ اور اُس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ، زمین پر چلیں گے۔

اور وہ ہر شہر میں داخل ہو گا۔ سوائے مکہ و مدینہ کے۔ اور مدینہ کی سر زمین اپنے باسیوں سمیت ، تین بار لرزے گی ، جس کی وجہ سے ، اِس میں سے ہر کافر اور منافق اس کی طرف نکل جائے گا۔ دجال چالیس دن رہے گا۔ جن میں سے ایک دن ، ایک سال کا ہو گا اور ایک دن ایک مہینے کا اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا۔ جبکہ باقی دن تمہارے اِن دنوں کے برابر ہوں گے۔ پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے گا۔ اور اُن کو کفر کی طرف بلائے گا ، اور وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی بات مان لیں گے۔ چنانچہ وہ آسمان کو حکم کرے گا اور وہ پانی برسائے گا۔پھر وہ زمین کو حکم دے گا اور وہ گھاس اور اناج اگائے گی۔

تو شام کو جانور آئیں گے اور پہلے سے زیادہ اُن کے کوہان لمبے ہونگے ، تھن کشادہ ہونگے ، کوکھیں تنی ہونگی۔

پھر دجال دوسری قوم کے پاس آئے گا ، اور اُن کو بھی کفر کی دعوت دے گا۔

لیکن وہ اُس کی بات کو نہیں مانیں گے۔

تو وہ اُن سے ہٹ جائے گا۔

تو ان پر قحط سالى ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ نہ رہے گا.

اور دجال ویران زمین پر نکلے گا اور اسے کہے گا : اے زمین ! اپنے خزانے نکال ، تو وہاں کے خزانے نکل کر ، اس کے پاس جمع ہو جائیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں ، بڑی مکھی کے گرد ہجوم کرتی ہیں۔

دجال کے ساتھ جنت و دوزخ ہوگی۔ اگرچہ اس کی جہنم حقیقت میں جنت اور اس کی جنت حقیقت میں آگ ہوگی۔

اور اس کے ساتھ دو نہریں ہونگی۔ ایک سفید پانی کی اور دوسری میں دہکتی آگ ہوگی۔

پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے ، وہ اس نہر میں گرے ، جو آگ دکھائی دیتی ہو ۔ کیونکہ وہ میٹھا ، ٹھنڈا اور عمدہ پانی ہوگا ۔

ممبروں پر دجال کے بیان کو بھلا دینا بھی ، اس کے ظہور کی نشانیوں میں سے ہے۔سو اُس کے فتنے سے ، اللہ کی پناہ مانگو ۔ اور ایمان سے مسلح ہوکر ، اس کی آزمائش سے بچو۔ دجال بھی ایک بے بس مخلوق ہے اور اسے موت بھی آئے گی۔

جبکہ صرف الله ہی وہ ذات ہے ، جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور وہی ہر چیز کا خالق اور حی لایموت ہے۔

جب فتنہ دجال ، پورے زوروں پر ہوگا ۔

تب اللہ تعالٰی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا ، جو دمشق کے سفید مشرقی مینار کے پاس ، اپنے دونوں ہاتھ ، دو فرشتوں کے پروں پر رکھے اترے گا۔

اور دجال کو ، فلسطین میں ، بابِ لُد کے پاس پائے گا اور اُسے اپنی برشی سے قتل کر دے گا ۔

اور مومن دجال کے پیروکاروں کو قتل کر کے ، اُنہیں شکست دے دیں گے۔

اور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ، یاجوج ماجوج ، جو بشر اور آدم و حوا کی اولاد سے ہیں ، کثرت و شدت کی وجہ سے ، ان کا یہ نام پڑا ہے۔ اللہ ان کو اجازت دے گا اور وہ ذوالقرنین کے بنائے ہوئے بند کو توڑ کر ظاہر ہونگے اور نکلیں گے اور ہر ٹیلے سے چڑھ دوڑیں گے۔ اور جس پانی سے گزریں گے ، اسے پی جائیں گے اور ہر چیز کو تباہ کر دیں گے۔ ان کا سب سے پہلا حصہ، بحیرہ طبریہ سے گزرے گا ، اور اس کا سارا پانی پی جائے گا ، یہاں تک کہ جب اس کا آخری حصہ گزرے گا تو وہ کہیں گے ، کبھی یہاں پانی ہوتا تھا۔

لوگ ان سے بھاگیں گے ، جس سے ان کا تکبر وسرکشی مزید ہوجائے گی۔ اور وہ کہیں گے ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا ہے ، اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں۔ پھر وہ اپنے تیر اور نیزے آسمان کی طرف چلائیں گے ، جنہیں اللہ خون سے تر کر کے لوٹائے گا۔

پھر ان کی گردنوں پر ایک کیڑا چھوڑا جائے گا ، جس سے وہ ایک نفس کی موت کی مانند مر جائیں گے۔ اور زمین پر ایک بالشت جگہ ، ایسی نہ رہے گی جہاں ان کی بدبو نہ ہو۔ پھر اللہ کے نبی عیسی اور ان کے ساتھی ، اللہ تعالٰی سے دعا کریں گے ، تو اللہ تعالٰی پرندے بھیجے گا ، جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر ، وہاں پھینکیں گے جہاں اللہ چاہے گا۔

پھر الله تعالٰی بارش برسائے گا ، جس سے کوئی پختہ یا غیر پختہ مکان چھوٹنے نہیں پائے گا۔ اور یہ بارش زمین کو دھو دے گی۔ اور پھر زمین کو حکم ہوگا کہ تو اپنے پھل اُگا اور اپنی برکت واپس لوٹا ۔ تو اس وقت ایک انار پوری جماعت کے لیے کافی ہوگا اور اس انار کے چھلکوں سے وہ سایہ حاصل کریں گے۔

اور دودھ میں اتنی برکت دے دی جائے گی کہ ، ایک اونٹنی کا دودھ ، لوگوں کی کئی جماعتوں کے لیے کافی ہو گا۔

اور ایک دودھ دینے والی گائے ، ایک قبیلے کے لوگوں کے لیے کافی ہو گی اور ایک دودھ دینے والی بکری ، ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہوگی ۔ زمین امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اونٹ اور شیر اکٹھے چریں گے اور چیتے گایوں کے ساتھ چریں گے اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے۔ اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ کینہ ، بغض اور حسد ختم ہوجائے گا۔

اور لوگ سات سال اس طرح گزاریں گے کہ ، دو آدمیوں کے درمیان ، کوئی دشمنی نہ ہوگی ۔

اللّٰہ کے نبی عیسیٰ ﷺ زمین پر چالیس سال ٹھریں گے پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان آپ کا جنازہ پڑھیں گے ۔

اور جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوگا ، قیامت قائم نہیں ہوگی۔

اور جب سورج مغرب سے نکلے گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے ، تو سب ایمان لے آئیں گے . اور یہی وہ وقت ہوگا ، جب کسی کو اس کا کا ایمان نفع نہیں دے گا ، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا . یا جس نے ایمان کے کوئی نیکی نہ کی ہوگی۔

اور چاشت کے وقت لوگوں پر زمین سے چوپایہ نکلےگا۔

اور مومنوں اور کافروں کے درمیان امتیازی نشان لگائے گا۔ پھر لوگوں سے باتیں کرے گا کہ لوگ اللہ کی آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔ اللہ تعالی ٹھنڈی ہوا چلائے گا ، جس سے زمین پر موجود ہر وہ شخص فوت ہوجائے گا ، جس کے دل میں ایمان یا خیر کا ایک ذرا بھی ہوگا۔ پھر صرف وہ بدترین لوگ ہی رہ جائیں گے ، جو نیکی اور برائی سے بے خبر اور بتوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہونگے۔ پس انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔

یمن سے آگ نکلے گی ، جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے ، وہ بھی وہیں رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے ، وہ بھی وہیں قیلولہ کرے گی۔ اور جو گر جائے گا یا پیچھے رہ جائے گا ، وہ اسی کا ہو کر رہ جائے گا۔ قیامت قائم ہوجائے گی ، حالانکہ آدمی اونٹنی دوہتا ہوگا ، سو نہ پہنچا ہو گا برتن اس کے منہ تک کہ قیامت آجائے گی اور دو آدمی خرید و فروخت کرتے ہوں گے کہ کپڑے کی خرید و فروخت نہ کرچکے ہوں گے کہ قیامت آجائے گی۔ اور کوئی آدمی اپنا حوض درست کر رہا ہوگا، سو اس کو درست کر کے واپس نہ آئے گا کہ قیامت آ جائے گی۔ اور قیامت جمعہ کی دن قائم ہوگی۔ جب صور میں گرجدار پھونک ماری جائے گی ، آسمان و زمین کی ساری مخلوق مر جائے گی ، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے گا۔

پھر اللہ تعالی بارش نازل کرے گا ، جس سے لوگوں کے جسم ، سبزے کی مانند اگ جائیں گے۔

پھر صور میں بعث و نشور کے لیے پھونکا جائے گا ، سو وہ اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے آنے لگے گے۔

اور دونوں نفخوں کے مابین چالیس کا وقفہ ہو گا۔ پھر لوگوں سے کہا جائے گا ، اپنے رب کی طرف آؤ ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ( انہیں کھڑا کرو ، کیوں کہ ان سے بازپرس ہوگی).

اور فرمایا: ( اللہ تعالی کے منہ کے سوا ، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، اسی کا حکم چلتا ہے اور اسی کی طرف سب کی واپسی ہے).

اللہ تعالٰی میرے اور تمہارے لیے کتاب وسنت کو بابرکت بنائے اور مجھے اور آپ کو اس کے دلائل و حکمت سے نفع پہنچائے ، اسی پر اکتفا کرتے ہوئے ، میں اللہ تعالی سے اپنے ، تمہارے اور تمام مسلمانوں کے لیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں ، تم بھی اسی سے بخشش طلب کرو ، بیشک وہ غفور الرحیم ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کے احسانات پر اس کی تعریف اور توفیق و انعامات پر اس کا شکر ہے ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، وہی عظیم الشان ہے ۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺاس کے بندے اور رسول ہیں۔

اللہ تعالی آپ اور آپ کی تمام آل و أصحاب بھائیوں پر بے بہا صلاة وسلام نازل فرمائے۔

حمد وثنا كى بعد: اے مسلمانو!

اللہ سے ڈرو اور اس کی نگرانی کو ذہن نشین رکھو ، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔

) اے ایمان والو ! اللہ تعالی سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو(۔

اے مسلمانو!

تمہارا کیا حال ہوگا ، جب صور پھونکا جائے گا ، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ، اور تب کیا حال ہوگا ، جب اعمال نامے تقسیم کیے جائیں گے ، اور پل صراط نصب کیا جائے گا ، اور گناہ گھیر لیں گے ، جنت قریب کر دی جائے گی اور آگ بھڑکا دی جائے گی ، تمہارا کیا بنے گا ، جب حساب نزدیک ہوگا ، اور اعضا گواہی پیش کر دیں گے ، اور اعمال نامہ کھول دیا گیا۔

جب تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے اور عذاب قریب ہو جائے گا ، سو جلدی جلدی کرو ، توبہ اور رجوع کا وقت ہوچکا ہے ، رونے اور آنسو بہانے کا وقت ہو چکا ہے ، اللہ ہر تائب کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے ،

توبہ کرنے والا ایسے ہوتا ہے ،جیسے اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں ، لہٰذا وقت گزرنے سے پہلے پہل ، اپنی کمی کو پورا کر لو ، کیونکہ اللہ کا وعدہ آکر ہی رہے گا۔

اے اللہ ! ہمیں ان ہولناکیوں سے محفوظ فرما ،اور بڑی گھبراہٹ کے دن ہمیں امن نصیب کرنا ، ملاقات کے وقت ہمیں کامیابی سے ہمکنار فرمانا۔

اے اللہ کے بندو !

بلاشُبہ اللہ تعالی نے تمہیں اس چیز کا حکم دیا ہے ، جس کو اس نے خود شروع کیا اور دوسرے اس کے تقدس کی تسبیح پڑھنے والے فرشتے ہیں۔

اور اس نے اپنے تمام جن و انس سے ، تم مومنوں کو پکارا اور اپنے عظیم بول سے فرمایا :

ارشادِ باری تعالی ہے:﴿بیشک اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے ، نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجو ﴾۔
 
Top