ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: 27؍ربیع الاول؍1442ھ مطابق 13؍ نومبر؍ 2020 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بُعیجان
موضوع: حصولِ علم کی ترغیب۔
ترجمہ: نور عالم محمد ابراہیم سلفی

پہلا خطبہ

یقینا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی حمد بجا لاتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں،اور اُسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفس کے شر سے اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ جسے ہدایت دےوہی دراصل ہدایت یافتہ ہے، اور وہ جسے گمراہ کردے اُسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو تمام گناہوں کو مٹادے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں، جس نے اپنی شریعت کے ذریعہ دلوں کے غم کو دور کردیا، اور انہیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا، رسالت پہنچادیا، امانت ادا کردی، امت کی خیر خواہی کی، اور اسے ایسے روشن راستے پر چھوڑا جس کی رات اُس کے دن کی مانند ہے، اُس سے وہی شخص بھٹک سکتا ہےجس کے مقدر میں ہلاکت ہو، درود وسلام نازل ہوں نبی ﷺ اور ان کے آل واصحاب پر، اور قیامت تک آپ کی دعوت کو عام کرنے والوں پر۔
امابعد!
سب سے بہتر بات اللہ کا کلام ہے، سب سے بہتر طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے،سب سے بری بات دین کے اندر نئی بات ایجاد کرنا ہے، ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
اللہ کے بندو!
میں اپنے آپ کو اور آپ لوگوں کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہی اگلے اور پچھلے لوگوں کی وصیت ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

وَلَـقَدۡ وَصَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَاِيَّاكُمۡ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ
”اور ہم نے اُن لوگوں کو جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی وصیت کی تھی کہ اللہ سے ڈرو،“ (نساء:131)۔
اے مسلمانو!
علم اصلاح کا ذریعہ ، کامیابی کا راستہ اور کامرانی کا وسیلہ ہے، کائنات میں جن چیزو ں کو حاصل کیا جاتا ہے اُن میں سب سے افضل، اور اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر جو انعامات کیے ہیں اُن میں سب سے بہتر علم ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ‌ؕ
”اللہ تم میں سے ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجات بلند کرے گا۔“ (مجادلہ: 11)۔
علم کسی بھی معاشرے کی تشکیل ، اس کی تہذیب وثقافت کے فروغ، اُس کی آبادی کی وسعت، اُس کے اثر ونفوذ کے پھیلاؤ ، اُس کے پرچم کی بلندی اور اُس کے دین کے انتشار میں سب سے بنیادی کرادار ادا کرتا ہے۔
علم اخلاق واقدار کی کسوٹی، فضیلتوں کا معیار، بلندیوں تک پہنچنے کا زینہ، امیدوں کا سرچشمہ اور قومو ں کی ترقی کا راز ہے، کچھ قوموں کو اللہ تعالی نے علم سے نوازا تو وہ ترقی یافتہ ہوگیے، اور کچھ قوموں کو علم سے محروم رکھا تو وہ پسماندہ ہوگیے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِىۡ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‌ؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ‏ ﴿۹﴾
”اے میرے نبی! آپ کہہ دیجیے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ بے شک عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔“ (زمر:9)۔
اللہ تعالی نے اہل علم کی تکریم کچھ اِس طرح سے کی ہے کہ اپنے ساتھ اُن کا ذکر کیا ہے، اور اپنی وحدانیت پر اُن کو گواہ بنایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَاُولُوۡا الۡعِلۡمِ قَآٮِٕمًا ۢ بِالۡقِسۡطِ
”اللہ گواہی دیتا ہے کہ اُس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہلِ علم بھی گواہی دیتے ہیں، وہ (اپنے احکام میں) عدل پر قائم ہے۔“ (آل عمران: 18)۔
اہلِ علم ہی حقیقی معنوں میں اللہ سے ڈرنے والے اور اُس کے برگزیدہ بندے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے:

اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُاؕ
”بے شک اللہ سے اُس کے بندوں میں سے علما ہی ڈرتے ہیں۔“ (فاطر:28)۔
یہی لوگ واضح طور پر شرف وفضیلت والے ہیں، اور اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُسے دین کی سوجھ بوجھ عطا کرتا ہے، ہدایت چاہنے والے اُنہی کے ذریعے راہ راست پر گامزن ہوتے ہیں، اور اُنہی کے علم کی روشنی سے ہدایت پانے والے منور ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے:

‌ فَسۡــَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَۙ‏ ﴿۴۳﴾
”پس اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو علم رکھنے والوں سے پوچھ لو۔“ (نحل:43)۔
دوسری جگہ فرمایا:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ ﴿٤٣﴾
”اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، اور اُنہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں۔“(عنکبوت:43)۔

اللہ تعالی نے لوگوں کے درمیان اُن کے جھنڈے کو بلند کیا، اور احکام کے ساتھ اُن کے قلم کو جاری کردیا، چنانچہ وہ انبیائے کرام کے وارثین ہیں، ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”جو شخص حصولِ علم کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالی اُسے جنت کے راستے پر چلاتا ہے، اور فرشتے طالبِ علم کی خوشنودی کے لیے اُس کے راستے میں اپنے پَر بچھاتے ہیں، آسمان وزمین کی تمام مخلوقات حتی کہ پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی عالم کے لیے مغفرت طلب کرتی ہیں، اور ایک عالم کو عابد پر ویسے ہی فضیلت حاصل ہے جیسے چاند کو تمام ستاروں پر فضیلت حاصل ہے۔علما انبیا کے وارث ہیں، اور انبیا اپنی وراثت میں درہم ودینار نہیں چھوڑتے ، بلکہ وہ علم کی وراثت چھوڑتے ہیں، لہذا جس نے علم حاصل کیا اُس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔“ (اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے)۔

اللہ کے بندو!

علم حاصل کرو، کیونکہ اُسی سے دنیا وآخرت کی نجات ممکن ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ: ”سن لو! بےشک دنیا اور اُس میں پائی جانے والی تمام چیزیں ملعون ہیں، سوائے اللہ کے ذکر اور اُس سے متعلق چیزوں کے، اور عالم کے یا علم سیکھنے والے کے۔“ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے)۔

علم حاصل کریں اور اُسے سیکھیں ؛ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص حصولِ علم کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالی اُس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے، اور جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں بیٹھ کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے سے اُس کا درس لیتے ہیں، تو اُن پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت اُنہیں ڈھانپ لیتی ہے، اورفرشتے چاروں طرف سے اُنہیں گھیر لیتے ہیں، اور اللہ تعالی اپنے پاس موجود فرشتوں کے سامنے اُن کا تذکرہ کرتا ہے، جس کو اُس کا عمل پیچھے کردے، اُس کاحسب ونسب اُسے آگے نہیں کرسکتا۔“ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔
علم حاصل کریں اور اُسے سیکھیں؛ کیونکہ یہ اہل ِ جنت کے راستوں کا مینار، وحشت کا غمخوار، تنہائی کا ساتھی، دشمنوں کے خلاف ہتھیار اور بلند مراتب تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ
”اللہ تم میں سے ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجات بلند کرے گا۔“ (مجادلہ: 11)۔
علم حاصل کریں اور اُسے سیکھیں، کیونکہ یہ دلوں کی زندگی اور بصیرتوں کی روشنی ہے، اِسی کے ذریعے انسان بلند درجات اور نیکو کاروں کے مرتبے تک پہنچتا ہے، اِسی کے ذریعے حلال وحرام کی تمیز ہوتی ہے، اِسی کے ذریعے اللہ تعالی کچھ قوموں کو بلند کرتا ہے اور خیر وبھلائی کے امور میں اُنہیں قیادت وسربراہی عطا کردیتا ہے،پھر اُن کے آثار کی تحقیق کی جاتی ہے اور اُن کےاعمال اور نقشِ قدم کی پیروی کی جاتی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَاُولُوۡا الۡعِلۡمِ قَآٮِٕمًا ۢ بِالۡقِسۡطِ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُؕ‏ ﴿۱۸﴾
” ”اللہ گواہی دیتا ہے کہ اُس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہلِ علم بھی گواہی دیتے ہیں، وہ (اپنے احکام میں) عدل پر قائم ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ عزت والا اور حکمت والا ہے۔“ (آل عمران: 18)۔
علم حاصل کریں اور اُسے سیکھیں، کیونکہ اس سے خشیتِ الہی آتی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُاؕ
”بے شک اللہ سے اُس کے بندوں میں سے علما ہی ڈرتے ہیں۔“ (فاطر:28)۔
علم حاصل کرنا عبادت ہے، نہ جاننے والوں کو اُسے سکھانا صدقہ ہے، اہل علم میں اُس کی نشر واشاعت کرنا تقربِ الہی کا ذریعہ ہے، اور اُسے تلاش کرنا جہاد ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:
وَمَا كَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِيَنۡفِرُوۡا كَآفَّةً‌ ؕ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِنۡ كُلِّ فِرۡقَةٍ مِّنۡهُمۡ طَآٮِٕفَةٌ لِّيَـتَفَقَّهُوۡا فِىۡ الدِّيۡنِ وَ لِيُنۡذِرُوۡا قَوۡمَهُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُوۡنَ‏ ﴿۱۲۲﴾
”اور یہ بات مناسب نہیں ہے کہ تمام ہی مومن جہاد کے لیے چلے جائیں، ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہر جماعت کے کچھ لوگ نکلیں، تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں، اور جب اپنی قوم کے پاس واپس لوٹیں تو اُنہیں اللہ سے ڈرائیں، تاکہ وہ بُرے کاموں سے پرہیز کریں۔“ (توبہ:122)۔
اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے لیے قرآ ن کو بابرکت بنائے، اور اُس کی آیتو ں اور حکیمانہ نصیحتوں کو ہمارے اور آپ کے لیے مفید بنائے۔


دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے قلم کے ذریعے سکھایا، اور انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا، ہم انعامات واحسانات پر اُس کی حمد بجالاتے ہیں، اور اُس کے فضل وکرم پر اُس کا شکر ادا کرتے ہیں۔

اللہ کے بندو!

یقینا علم تربیت کی اصل اور بنیاد ہے، اِسی سے اخلاق کی تربیت ہوتی ہے، اقدار کے بیج بویے جاتے ہیں، غلطیوں کا علاج کیا جاتا ہے، مفاہیم درست کیے جاتے ہیں، اور کجی دور کی جاتی ہے۔

علم مضبوط قلعہ ، اور زبردست بنیاد ہے، اور جب ابتلا وآزمائش کی بہتات ہوتو اسی کے ذریعے ثابت قدمی اور مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔

لہذا اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر توجہ دیں، اولاد کی اصلاح ، معاشرے کی تعمیر اورآنے والی نسلوں کی تربیت کے سلسلے میں تعلیمی ودعوتی اداروں کا تعاون کریں۔ ”تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اُس سے اُن کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اُس کے بچوں کا ذمہ دار ہے، اور اُس سے اُن کے بارے میں سوال کیا جائے گا، خبردار! تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر ایک سے اُس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“

اے والدین حضرات!

شرعی طور پر آپ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے ذمہ دار ہیں، اس لیے اپنے فرض کی ادائیگی میں محنت کریں، اپنی اولاد کی اصلاح اور رہنمائی کریں، اُن کے تعلیمی پروگرام کی نگرانی کریں، اور اُن کی رہنمائی پر مامور اساتذہ کی مدد کریں، اُنہیں مناسب ماحول فراہم کریں، اور اپنی استطاعت بھر اُن کی تعلیمی ضروریات کو پوری کریں، شاید اللہ تعالی اِن کوششوں کی بدولت آپ کی اولاد کو نیک بنا دے اور اُنہیں نفع بخش علم عطا کرے، کیونکہ یہی سب سے بڑی قربت ، سب سے بڑی اطاعت ، باقی رہنے والا نیک عمل اور موت کےبعد صدقہ جاریہ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”جب انسان مرجاتا ہے تو اُس کے عمل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم اور اُس کے لیے دعا کرنے والی نیک اولاد۔“

اس لیے تعلیم وتربیت کے ذریعے اپنی اولاد کی اصلاح کریں، اُن کے خالی اوقات کو مفید کاموں میں لگائیں، اُنہیں نیکی و بھلائی اور تلاوتِ قرآن کی رغبت دلائیں، تاکہ اُن کی ہدایت اور دعاؤوں سے آپ پر رحم کیا جائے، ارشادِ باری تعالی ہے:

لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَـكُمۡ نَفۡعًا‌ؕ
”تمہیں نہیں معلوم کہ اُن میں سے کون تمہارے لیے زیادہ نفع بخش ہیں۔“ (نساء:11)۔
اس لیے علم کے لیے ضرور کچھ وقت نکالیں، اور اپنے بچوں کو علم کے راستے میں جد وجہد کرنے پر اُبھاریں۔ کیونکہ تربیت کے لیے یہی سب سے بہتر وسیلہ ، تزکیہ کے لیے سب سے زیادہ یقین کی مضبوطی فراہم کرنےوالا، فتنے سے سب سے زیادہ محفوظ رکھنے والا، ابتلا وآزمائش میں سب سے زیادہ صبر وثبات فراہم کرنے والا، سب سے بہتر نیکی، سب سے بڑا تقربِ الہی کا ذریعہ اور سب سے بلند مرتبہ ہے۔

اے مربی و اساتذہ کرام!

آپ آئیڈیل بنیں، آنے والی نسل آپ کی امانت میں ہے، اور امت کا مستقبل آپ کی ذمہ داری میں ہے، اس لیے اپنی ذمہ داری کے بارے میں اللہ سے ڈریں۔

ان کے اندر دینی اقدار پیوست کریں، اُن کے دل میں علم کی محبت پیدا کریں، اور فضیلت اور اخلاقی اقدار کے مطابق اُن کی تربیت کریں۔

اللہ رب العالمین کی طرف سے بہت زیادہ اجر وثواب آپ کو مبارک ہو۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو ہدایت کی دعوت دی، تو اُسے بھی اُس کی اتباع کرنے والوں کی طرح اجر ملے گا ، اُن کی نیکی میں کسی کمی کے بغیر۔“ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔

مبارک ہو آپ کو کہ آپ تعلیم کی ذمہ داری ادا کرکے انبیا اور مصلحین کے جانشین بن گیے، کیونکہ اللہ تعالی نے انبیائے کرام کو معلم بنا کر بھیجا تھا۔

مبارک ہو اپ کو کہ آپ علم کی صحبت، اُس کی خدمت اور نشر واشاعت، خیر خواہی اور لوگوں کو سکھانے کے لیے چنے گیے ہیں۔

بہت مبارک ہو آپ کو کہ اِس عمل کی وجہ سے لوگ آپ کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس لیے نیت کی اصلاح کریں، اور اللہ سے نیکی کی امید رکھیں، ارشادِ باری تعالی ہے:

”اور تم جو نیکی اپنے لیے آگے بھیج دو گے، اُسے اللہ کے پاس زیادہ بہتر پاؤگے۔“ (مزمل:2)۔

اللہ کے بندو!

یقینا اسلام کے جامع اور مانع اصولوں میں سے ایک اصول اتحاد واتفاق کی تاکید اور اختلاف وانتشار سے دوری ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌
”اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اور اختلاف نہ کرو۔“ (آل عمران: 103)۔
دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

” اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور جس کا ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔“ (شوری:11)۔
اِس مبارک ملک میں اللہ تعالی کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ یہاں صحیح اور معتدل اسلامی عقیدے کی پابندی، شریعت کی تنفیذ، کتاب وسنت کے طریقے پر عمل اور اجتماعیت اور امامت کے اصولوں پر عمل آوری جیسی نعمتیں موجود ہیں۔

یہاں کی سپریم علما کونسل کی جانب سے لوگوں کو گمراہ اور منحرف جماعتوں سے دور رہنے کے سلسلےمیں نہایت واضح اور کافی وشافی بیان جاری کیا گیا ہے، اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ کتاب وسنت اور سلفِ صالحین کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رہے،اور حق سے منحرف جماعتوں سے دور رہے، اُن کی طرف خود کو منسوب کرنے یا اُن سےہمدردی رکھنے سے گریز کرے۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو حق اور ہدایت پر متحد ہونے کی توفیق دے، یقینا وہ بہت سخی اور کریم ہے۔

اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔

اے اللہ تو اِس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وامان کا گہوارہ بنادے!

اے اللہ تو ہمیں اپنے وطنوں میں امن وامان نصیب فرما، اور ہمارے بادشاہوں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

اے اللہ! تو ہمارے بادشاہ خادم ِحرمین شریفین کو خیر کے کاموں کی توفیق عطا فرما، اور تو اُن کی مدد فرما۔

اے اللہ! تو اُنہیں اور اُن کے ولی عہد کو اپنی پسند اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطافرما، اے دعاؤں کے سننے والے!

اے اللہ تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔

اے اللہ، اے دلوں کے بدلنے والے! تو اپنے دین پر ہمارے دلوں کو جمادے،اے دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔

اے اللہ تو ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، اور سرحدوں پر تعینات ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، اے طاقتور اور غالب ذات!

اے اللہ! بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، توبےنیاز ہے اور ہم تیرے محتاج ہیں، تو ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں محروموں میں سے نہ بنا۔

اے اللہ تو بارش نازل فرما، اےاللہ تو بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہم پر خوش گوار، موسلا دھار ، نفع بخش اور غیر نقصان دہ بارش نازل فرما،

اے اللہ! تو بارش نازل کرکے مردہ زمینوں کو زندگی بخش دے، اور اپنی رحمت سے اسے تمام شہروں اور دیہاتوں تک پہنچا دے، اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

اے اللہ تو ہم پر رحمت والی بارش نازل فرما، جلدی نازل فرما، تاخیر نہ فرما، اے ارحم الراحمین۔

اے اللہ ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، یقینا تو بہت زیادہ بخشنے والا ہے،لہذا تو ہم پر آسمان کے دہانے کھول دے۔اے اللہ تو جو کچھ ہم پر نازل فرما اُسے ہماری قوت کا ذریعہ بنا۔اے ارحم الراحمین۔

اے اللہ تو محمد ﷺ اور اُن کے تمام آل واصحاب پر درود وسلام نازل فرما۔
 
Top