ذیشان خان

Administrator
شیخ علی حسن الحلبی کا عقدی وفکری منہج

(مرجئہ کے امام، وحدۃ الادیان کے داعی، بدعتیوں کے حامی)

✍: مامون رشید ہارون رشید سلفی.

مشہور و معروف قلمار، مؤلف کتب کثیرہ شیخ علی حسن حلبی رحمہ اللہ بروز اتوار بوقت صبح اپنی زندگی کے ماہ وسال پورے کر کے دار القرار کی طرف انتقال کر گئے إنا لله وإنا إليه راجعون -

"اردن" ( Jordan ) کے "زرقاء" نامی شہر میں 29 جمادی الثانی 1380 ہجری کو آپ کی ولادت ہوئی، آپ کا گھرانہ اصلا فلسطینی تھا یہودی حملے کے خوف سے آپ کے والد گرامی سنہ 1948 مطابق 1368 ہجری میں ہجرت کر کے اردن آ کر آباد ہو گئے تھے،.....آپ کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے سوانح نگاروں نے زیادہ کچھ نہیں لکھا ہے البتہ موثوق ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ درس نظامی کے نہج پر آپ کی تعلیم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی آپ نے کسی مدرسہ یا یونیورسٹی میں پڑھا ہے.... جب علامہ محمد ناصر الدین البانی عمان ہجرت کر کے آئے تو ان کی کتابوں سے بہت متاثر ہوئے اور گاہے بگاہے ان کے پاس سوال وجواب کی نشستوں میں حاضر ہوتے رہے اور یہیں سے اپنے علمی سفر پر گامزن ہو گئے...آپ کے اساتذہ میں صرف دو لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے ایک محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین البانی (جس کا بطلان میں نے اپنی تحریر "مرجئ بدعتی علی حسن بن عبد الحمید الحلبی الاثری محدث العصر علامہ البانی کے شاگرد نہ تھے" کے اندر دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے ملاحظہ فرمائیں: مرجئ بدعتی علی حسن بن عبد الحمید الحلبی الاثری محدث العصر علامہ البانی کے شاگرد نہ تھے (https://ahlehadees.co/index.php?threads/476/) ) دوسرے لغوی مقرئ شیخ عبد الودود الزراری ہیں ہو سکتا ہے ان کے علاوہ بھی آپ کے اساتذہ رہے ہوں لیکن انہی کی سر پرستی میں سوانح نگاروں نے صرف انہیں دونوں عالموں کا نام ذکر کیا ہے -
آپ رحمہ اللہ بہت ساری کتابوں کے مؤلف محقق اور مخرج ہیں بہت ساری جمعیات وتنظیمات سے وابستہ رہے اور ان میں سے بعض کی صدارت کا فریضہ بھی انجام دیا...
آپ اپنے ابتدائی عہد میں بظاہر خالص سلفی منہج پر قائم تھے اپنی کتابوں تقریروں اور خطبات و محاضرات کے ذریعے سلفیت کو عام کرتے اور اس کی طرف دعوت دیتے تھے لیکن جب ائمہ ثلاثہ البانی ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ کی وفات ہو گئی تو آپ دھیرے دھیرے بدلنے لگے اور یہاں تک پہنچ گئے کہ گمراہوں کا سردار بن بیٹھے.....علامہ البانی شیخ مقبل الوادعی اور شیخ عبد المحسن العباد وغیرہم سے جو آپ کا تزکیہ وتعدیل اور آپ کی تعریف منقول ہے وہ سب آپ کے اس سلفی دور کے کارناموں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جب آپ میں تبدیلی آ گئی اور گمراہی کے آغوش میں آ گئے تو پھر کبار علمائے اسلام نے آپ پر شدید قسم کے جروح کئے....
آپ خود اس تبدیلی کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"اللہ کی قسم تم پر واجب ہے کہ تم غور وفکر اور مقارنہ کرو اس نرمی کے درمیان جس کی اللہ نے ہمیں اس مرحلے میں توفیق دی ہے ( اور اس سختی کے درمیان جس پر ہم پہلے تھے) بعد اس کے کہ ہم مبالغہ آرائی اور تشدد وتعنت میں تقریباً غرق ہونے ہی والے تھے- ہم یہ کہتے ہیں اور اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور اس سے معذرت خواہی یا رجوع کرنے سے تکبر اختیار نہیں کرتے - اللہ کی قسم جس طرح ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ (طریقہ) حق پر نہیں ہے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ یہ طریقہ جس پر اب ہم ہیں یہ بھی حق پر نہیں ہے تو بلا کسی شک و شبہ کے ہم اسے بھی چھوڑ دیں گے-(مقدمة كتاب "عمدة الأبي في رد تأصيلات وضلالات علي الحلبي" للشيخ ربيع بن هادي المدخلي، "إجابة السائل في تلخيص علي الحلبي والرد عليه في الأصول والمسائل"ص:2 علي الحلبي يقرُّ بنفسه أنه تغير فلماذا يدافع عنه المميعة ؟ (https://www.youtube.com/watch?v=_bn2cyre4oc) )

یہی اصل گمرہی کی علامت ہے کہ انسان اچانک حلال کو حرام اور حرام کو حلال اور اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگے چنانچہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"جان لو حقیقی گمراہی یہی ہے کہ تم اس چیز کو اچھا(معروف) سمجھنے لگو جس کو تم برا (منکر) سمجھتے تھے اور اس چیز کو برا سمجھنے لگو جس کو تم اچھا سمجھتے تھے اور ہاں دیں میں رنگ بدلنے (تلون) سے بچو کیونکہ اللہ کا دین ایک ہی ہے" (الإبانة الكبرى 1/189)

نیز فرماتے ہیں:"اگر تم میں سے کوئی یہ جاننا چاہے کہ وہ فتنے میں مبتلا ہوا ہے یا نہیں ؟ تو وہ دیکھے! اگر وہ کسی ایسی چیز کو جسے وہ حرام سمجھتا تھا حلال سمجھنے لگے تو وہ فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو جسے وہ حلال سمجھتا تھا حرام سمجھنے لگے تو بھی وہ فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے"( مستدرك على الصحيحين 8443 هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه ووافقه الذهبي... اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح اور بخاری و مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے ان کی تائید کی ہے)

اسی طرح امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ:"وہ لوگ (یعنی صحابہ کرام) دین میں تلون کو حرام سمجھتے تھے" (الإبانة الكبرى 2/205)
سلف صالحین کے ان نقول سے قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس تلون کا شکار ہو کر علی الحلبی صاحب گمراہی کے دلدل میں پھنسے ہیں یا نہیں ؟یاد رہے یہ اس زمانے کی بات کر رہے ہیں جب کہ وہ علامہ البانی اور ان کے ہم عصر مشائخ کے ساتھ تھے گویا ایک طرح سے حلبی صاحب ڈبے لفظوں میں شیخ البانی کے منہج کو متشدد اور غیر صائب قرار دے رہے ہیں......!!!!!!

اس تحریر کے ذریعے میں قارئین کے سامنے سلسلہ وار حلبی صاحب کی ان گمراہیوں کو طشت ازبام کروں گا جن سے ہمارے ہندوستانی مشائخ عظام بھی ناواقف ہیں اور نتیجتاً حلبی صاحب کی تعریفیں کرتے ہیں لوگوں کو ان کی کتابیں پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں اور ان کے خلاف کچھ لکھنے والوں کو سخت سست کہتے ہیں ان پر تنقیدوں کی بمباری شروع کر دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ- حالانکہ یہی سلف صالحین کا منہج ہے کہ بدعتیوں کی بدعات و خرافات کو سامنے لا کر لوگوں کو ان کے شرور وفتن سے محفوظ رکھا جائے اور عوام الناس کو ان بدعتیوں اور کی کتابوں سے دور رہنے کی تلقین کی جائے تاکہ وہ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر اپنا دین ضائع نہ کر دیں...شیخ صالح الفوزان سے پوچھا گیا کہ کیا اہل بدعت پر رد نہ کرنا ان کے باطل کو چھپانا اور ان کا دفاع کرنا مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کرنا شمار کیا جائے گا ؟ تو آپ نے جواب دیا :ہاں یہ مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ ہے، بدعتیوں کے تعلق سے خاموشی اور ان کی بدعات کی نشاندہی نہ کرنا یہ مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے اور اگر اس کے ساتھ ساتھ بدعتیوں کی مدح سرائی وثنا خوانی بھی شامل ہو جائے تو یہ اور بھی شدید اور سخت منکر ہے-اللہ کی پناہ ، لہذا اہل علم پر واجب ہے کہ وہ بدعات و خرافات کی نشاندہی کریں لوگوں کو ان سے روکیں اور ان سے دور رہنے کی تلقین کریں، خاموشی اختیار نہ کریں، خاموشی یہ کتمان علم ہے....."
(ملاحظہ فرمائیں :هل عدم الرد على أهل البدع وكتمان باطلهم والدفاع عنهم يُعد من الغش للمسلمين ؟ الشيخ صالح الفوزان (https://youtu.be/mM8Os0PKQvI) )
اسی طرح امام ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا:"اہل علم کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ فاسق و فاجر، بدعتی اور جاہل کے تعلق سے خاموشی اختیار کریں اور ان پر کلام کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ یہ انتہائی غلط اور برائی اور بدعت کے انتشار، خیر و بھلائی کے مخفی اور کم ہو جانے اور سنت کے روپوش ہو جانے کے اسباب میں سے ہے، لہذا اہل علم پر واجب ہے کہ وہ حق گوئی سے کام لیں اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیں، باطل پر نکیر کریں اور اس سے لوگوں کو ڈرائیں اور وجوبا یہ سب کچھ علم وبصیرت کے ساتھ کریں"
(مجموع فتاوى ومقالات متنوعة :6 / 53)

اب آئیے *حلبی صاحب کے تعلق سے اہل علم کے اقوال* ملاحظہ کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ علمی حلقوں میں آں جناب کی کیا حیثیت ہے:

(1) سعودی فتویٰ کمیٹی"اللجنة الدائمة " نے آں جناب کی کتاب "صيحة نذير" اور "التحذير من فتنة التكفير" کو ارجاء کی طرف دعوت دینے والی کتابیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے:"اور ہم ان کتابوں کے مؤلف کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے اور مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کے تعلق سے اللہ کا خوف کرے، اور موثوق علم واچھے عقائد کے حامل علمائے کرام سے شرعی علوم کی تحصیل میں محنت کرے، اور یہ کہ علم ایک امانت ہے جس کا صرف کتاب و سنت سے موافقت کی صورت ہی میں نشر کرنا جائز ہے، اور یہ کہ اس طرح کے آراء اور اہل علم کے کلام میں تحریف کے ناروا سلوک سے دست بردار ہو جائے,اور یہ معلوم ہے کہ حق کی طرف رجوع ایک مسلمان کے لیے فضیلت وشرف کی بات ہے واللہ الموفق"
اس فتوی پر شیخ عبد العزیز آل شیخ ، شیخ عبد اللہ غدیان ، شیخ بکر ابو زید اور شیخ صالح الفوزان کی دستخط ہے اسی طرح کا ایک فتویٰ شیخ ابن باز کی سرپرستی میں بھی شائع ہوا تھا جس میں علی حلبی کی تحقیق ومراجعہ اور نشر شدہ ایک کتاب کو ارجاء کی دعوت دینے والی کتاب اور مؤلف کو حصول علم کی نصیحت کی گئی تھی.
(التحذير من الإرجاء وبعض الكتب الداعية إليه.. اللجنة الدائمة ص:29)

(2) علامہ عبد اللہ بن عبد الرحمن غدیان نے انہیں سعودی عرب میں مرجئہ کا قائد قرار دیتے ہوئے کہا:" اتركوه لأن هذا هو الذي يقود مذهب المرجئة في المملكة" اسے چھوڑ دو کیونکہ یہی وہ شخص ہے جو مملکہ عربیہ سعودیہ میں مذہب مرجئہ کی قیادت کر رہا ہے.
( الشيخ عبدالله الغديان علي الحلبي يقود مذهب المرجئة في المملكة وربيع المدخلي يخطي اللجنة الدائمة (https://youtu.be/S-jUO_4d7KQ) )

(3) بقیۃ السلف علامہ صالح الفوزان سے جب پوچھا گیا کہ اس شخص کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے جو دین سے خارج کرنے والا کفر صرف استحلال ( یعنی کسی حرام کام کو حلال سمجھ کر کرنے ) ہی کو گردانتے ہیں اور کیا یہ بات صحیح ہے کہ لجنہ دائمہ کا علی الحلبی کے ساتھ جو اختلاف ہے وہ محض شکلی اختلاف ہے ؟
تو آپ نے جواب دیا:"ہم سے اس کلام کے تعلق سے نہ پوچھو، ارتداد کے مسائل کو علما نے پہلے ہی سے بیان کر رکھا ہے جو کتب فقہ اور کتب توحید میں صراحت کے ساتھ مذکور ہیں، ہمیں کسی ایسے نئے انسان کی ضرورت نہیں ہے جو آ کر اپنے افکار، اپنی جہالت اور اپنی اوٹ پٹانگ باتوں سے لوگوں کو کنفیوژ ( تشویش میں مبتلا) کرے، ہمیں ایسوں کی ضرورت نہیں ہے ہمارے لیے اپنے علما کی باتیں اور جو کچھ انہوں نے فقہ اور عقیدہ کی صحیح کتابوں کے اندر جمع کر رکھا ہے وہی کافی ہیں ، ہمارے لیے یہی کافی ہے اور ہم اسی پر چلیں گے، ہم ان نئی کتابوں اور نئے تعالم(بلا علم علمی تفوق کا مظاہرہ کرنا) کو چھوڑ دیں گے جنہوں نے نوجوانوں اور عام لوگوں کو الجھا کر رکھ دیا ہے. "
( الشيخ صالح الفوزان يكشف كذب و جهل علي حسن الحلبي (https://youtu.be/sz4jncxknaQ) )

(4)علامہ احمد بن یحییٰ النجمی فرماتے ہیں:" جو شخص مغراوی اور ماربی کی تعریف کرتا ہے اس سے علم نہیں لیا جا سکتا..... جیسے علي بن حسن حلبی نامی شخص"
(حوار طالب الحق السلفي مع الشيخ علي الحلبي ص:127....آپ رحمہ نے علی الحلبی کے رد میں "حوار مع فضيلة الشيخ علي الحلبي" کے نام سے ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے)

(5) جرح و تعدیل کے امام ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :"إذا لم يكن علي الحلبي مبتدعا فلا يوجد على وجه الأرض مبتدع"
اگر علی الحلبی بدعتی نہیں ہے تو روئے زمین پر کوئی بدعتی ہے ہی نہیں.
( عمدة الأبي في رد تأصيلات وضلالات علي الحلبي ص:25 یہ کتاب علی الحلبی کے رد میں شیخ ربیع بن ہادی کی لکھی ہوئی کتابوں اور تحریروں کا مجموعہ ہے جو تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر محیط ہے)

(6) علامہ عبید بن عبد اللہ جابری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:" أن علي بن حسن بن علي بن عبدالحميد) المتلقب (بالأثري) ليس صاحب أثر،بل هو مبتدع ضال مضل، داعية ضلال، مفسد في العباد والبلاد"
علی بن حسن بن عبد الحمید جو اثری کے لقب سے ملقب ہے (حقیقت میں) اثری نہیں ہے، بلکہ وہ بدعتی، گمراہ، گمراہ کن، گمراہی کی طرف دعوت دینے ولا اور لوگوں اور ملکوں میں فساد پھیلانے والا ہے-

یہ رہے مشہور و معروف علمائے کرام کے اقوال جن سے حلبی صاحب کا بدعتی ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے ان کے علاوہ شیخ عبد اللہ بن عبد الرحیم بخاری ،محمد سعید رسلان، احمد بن عمر بازمول، سعد آل حميد، محمد بن ہادی مدخلی، صالح السحیمی، حسن بن عبد الوہاب البنا وغیرہم جلیل القدر شخصیات نے بھی ان کی نقاب کشائی کی ہے اور ان پر رد کئے ہیں فاللہ الحمد علی ذلک..

*حلبی صاحب کی پہلی گمراہی ارجاء کی دعوت اور اس کی حمایت میں سر توڑ کوششیں*

حلبی صاحب نے تکفیر اور اہل تکفیر کے رد میں دو کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کا نام "التحذير من فتنة التكفير" اور دوسری کا نام "صیحۃ نذیر" رکھا ان دونوں کتابوں کے اندر آپ نے مرجئہ کے باطل مذہب کو خوب خوب پھیلایا، شبہات اور باطل دلائل کے ذریعے اپنی رائے کو قوی سے قوی تر بنانے کی کوشش کی، اقوال علما کو کاٹ چھانٹ کر کے اپنے مطلب کے مطابق فٹ کرنے کی سعی ناروا کی اور پھر کمر بستہ ہو کر اس کے دفاع میں لگ گئے اور متعدد کتابیں تصنیف کیں جن کے تعلق سے چند باتیں آگے آئیں گی.
ارجاء کے تعلق سے حلبی صاحب کی گمراہی کو قدرے تفصیل سے جاننے سے پہلے ارجاء کی تعریف جان لینا مناسب معلوم ہوتا ہے.
ارجاء لغت میں مؤخر کرنے کو کہتے ہیں جبکہ اصطلاح میں اعمال کو ایمان کی تعریف اور اس کی حقیقت ومسمی سے خارج کر دینے کو کہتے ہیں (ملاحظہ فرمائیں :حلية الأولياء 7/ 29، شرح السنة للبغوي 1/ 41، مجموع الفتاوى 7/ 666 -13/ 41).
ایمان کے مسائل میں اہل سنت اور مرجئہ کے مابین اختلاف ایمان کی تعریف اور اس کی حقیقت میں اختلاف کی وجہ سے ہے.
کتاب و سنت کے دلائل کے استقراء سے ایمان کی صحیح اور مجمع علیہ عند الصحابہ تعریف یہ ہے :"الإيمان إقرار باللسان وتصديق بالجنان وعمل بالجوارح والأركان" یا "الإيمان قول وعمل ونية" یعنی ایمان زبان سے اقرار کرنے دل سے تصدیق کرنے اور اعضاء و جوارح سے عمل کرنے کو کہتے ہیں اہل سنت کے ہاں ایمان کی تعریف جیسے اور جن عبارتوں سے بھی کی گئی ہو لیکن اس کے اندر لزوما یہ تینوں چیزیں ضرور ہوتی ہیں (ملاحظہ فرمائیں :الإيمان لابن تيمية ص:197،292 تفصیل کے لیے : آراء المرجئة في مصنفات شيخ الإسلام ابن تيمية ص:165-183)

مرجئہ کے بھی بہت سارے فرقے ہیں علماء نے اپنی کتابوں میں بارہ فرقے گنائے ہیں لیکن عند الاطلاق جو فرقہ مراد ہوتا ہے وہ مرجئة الفقہاء ہے...
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مرجئہ کے فرقوں کے تعلق سے فرماتے ہیں:"مرجئہ کی تین قسمیں ہیں:
(پہلی قسم) وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ایمان صرف دل کے اندر کی چیز ہے.
پھر ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایمان میں دل کے اعمال کو بھی داخل مانتے ہیں اور وہ مرجئہ کے بیشتر گروہ ہیں جیسا کہ ابو الحسن اشعری نے ان کے اقوال کو اپنی کتاب کے اندر ذکر کیا ہے اور بہت سارے فرقوں کا ذکر کیا ہے جن کا ذکر باعث طوالت ہے.....
اور کچھ ایسے ہیں جو اعمال کو ایمان میں داخل نہیں کرتے ہیں جیسے جہم اور اس کے متبعین جیسے صالحی, اسی کی تائید انہوں نے(اشعری) اور ان کے اکثر متبعین نے بھی کی ہے .
دوسری قسم: وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ایمان محض زبان کے قول کا نام ہے، کرامیہ سے قبل کوئی اس کا قائل نہ تھا.

تیسری قسم:( وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ) ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے قول کو کہتے ہیں یہی ان میں سے فقہاء اور عبادت گزاروں سے منقول ہے -
( ملاحظہ فرمائیں : الإيمان لابن تيمية ص:184)

اہل سنت و جماعت اور مرجئہ کے مابین ایمان کی تعریف میں فرق کو جان لینے کے بعد اب ہم حلبی صاحب کے افکار کی طرف لوٹتے ہیں:

حلبی صاحب کئی طرح سے مرجئہ کی تائید کرتے ہیں :

اول:حلبی صاحب عمل کو ایمان کی شرط کمال تصور کرتے ہیں-
چنانچہ سعودی فتویٰ کمیٹی کے فتوی "اور یہ دونوں کتابیں یہ ثابت کر کے کہ عمل ایمان کے لیے شرط صحت نہیں ہے مذہب مرجئہ کی دعوت دے رہی ہیں" پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مرجئہ کا خبیث اور باطل قول اس بات پر مبنی ہے کہ وہ لوگ عمل کو ایمان کی حقیقت سے خارج قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں :"ایمان محض تصدیق بالقلب اور نطق باللسان کا نام ہے جیسا کہ لجنۃ دائمہ کے فتوی میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے........پس مرجئہ کے ہاں عمل سرے سے ایمان کا حصہ ہے ہی نہیں چہ جائیکہ کہ ان کے نزدیک اس کے تعلق سے صحت یا کمال کے اعتبار سے بحث کیا جائے....
(ملاحظہ فرمائیں : الأجوبة المتلائمة على فتوى اللجنة الدائمة ص:4-5)

یعنی حلبی صاحب اپنے اور مرجئہ کے قول کے مابین یہ کہہ کر فرق بیان کر رہے ہیں کہ مرجئہ عمل کو ایمان میں داخل ہی نہیں مانتے ہیں اور میں تو اس کو داخل مانتا ہوں اور پھر اس کو شرط کمال تصور کرتا ہوں..... شرط صحت نہیں ....اور پھر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"اگر کہا جائے کہ من جملہ تمام اعمال (شرط صحت) ہے تو یہ خوارج اور معتزلہ کا مذہب ہے جیسا کہ یہ معلوم ہے -
اور اگر کہا جائے کہ (صرف) ارکان خمسہ ہے تو
عملی طور پر شہادتین کے علاوہ ارکان اربعہ کے ترک کے حکم میں علمائے اہل سنت کے مابین معتبر اختلاف موجود ہے....( الأجوبة المتلائمة ص:5)

شیخ صالح الفوزان ایمان کو شرط کمال قرار دینے والے پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:"
جو شخص یہ بات کہتا ہے اس نے ایمان اور عقیدہ کو سمجھا ہی نہیں ہے، اس کے اوپر واجب ہے کہ وہ اہل علم کے پاس عقیدہ سیکھے، اور اسے اس کے صحیح مصادر سے اخذ کرے پھر عن قریب وہ اس کا جواب جان جائے گا.
اور اس کا یہ کہنا کہ ایمان قول عمل اور اعتقاد کو کہتے ہیں پھر وہ یہ کہتا ہے کہ عمل ایمان کے کمال اور اس کی صحت کے لئے شرط ہے" یہ تناقض ہے! ! کیسے ایمان کے عمل کا جز ہونے کے باوجود وہ اسے شرط قرار دیتا ہے ؟ حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ شرط مشروط سے خارج (الگ) ہوتا ہے یہ اس کی جانب سے تناقض ہے..."
"الإجابات المهمة في المشاكل الملمة" (صـ 74)

دوم: حلبی صاحب کا کہنا ہے کہ بلا کسی عمل کے بھی انسان مؤمن رہتا ہے گر چہ وہ ایمان ناقص ہو.

حلبی صاحب اپنی کتاب "صیحۃ نذیر ص:27" کے اندر شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:" تحقیق شدہ بات یہ ہے کہ دل کا کامل ایمان اپنے حساب سے لا محالہ ظاہری عمل کو بھی مستلزم ہے،اور یہ ناممکن ہے کہ دل کے اندر بغیر کسی ظاہری عمل کے کامل ایمان حاصل ہو جائے"پھر اس کے بعد حلبی صاحب حاشیہ میں شیخ الاسلام کے قول "اور یہ ناممکن ہے کہ دل کے اندر بغیر کسی ظاہری عمل کے کامل ایمان حاصل ہو جائے" پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "جو شخص اس قید (یعنی "إيمان تام") پر غور کرے گا اس کے لیے بہت سارے اشکالات حل ہو جائیں گے"
مطلب حلبی صاحب شیخ الاسلام کے کلام کے ذریعے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بغیر کسی ظاہری عمل کے بھی دل کے اندر ایمان حاصل ہو سکتا لیکن وہ ایمان ناقص ہوگا ایمان تام وکامل کے لیے ظاہری عمل ضروری ہے مطلق ایمان کے لیے نہیں.( ملاحظہ فرمائیں: رفع اللائمة عن فتوى اللجنة الدائمة ص:82)

حالانکہ یہ شیخ الاسلام کی مراد نہیں ہے بلکہ وہ "ایمان تام" سے ایمان صحیح مراد لے رہے ہیں کہ بغیر ظاہری عمل کے صحیح ایمان حاصل ہو ہی نہیں سکتا ...جیسا کہ آپ کے قول "اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جس شخص نے دل سے جازم وپختہ ایمان لایا تو یہ ناممکن ہے کہ وہ قدرت کے باوجود شہادتین کا تلفظ نہ کرے، پس قدرت کے باوجود شہادتین کا اقرار نہ کرنا دل کے اندر (يستلزم انتفاء الإيمان القلبي التام) صحیح ایمان کے نہ ہونے کو مستلزم ہے" (مجموع الفتاویٰ 7/553) میں بھی ایمان تام سے ایمان صحیح ہی مراد ہے-
شیخ الاسلام کے اس کلام کے بارے میں حلبی صاحب کا کیا خیال ہے ؟اور کیا اگر قدرت کے باوجود بھی کوئی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہ کہے تو بھی وہ ناقص مؤمن رہے گا یعنی اس کے اندر اصل ایمان باقی رہے گا اور اس سے صرف کمال ایمان ہی کی نفی کی جائے گی؟ یا وہ سرے سے مؤمن ہی نہیں ہوگا ؟ اگر وہ پہلی بات کا اقرار کرتے ہیں تو یہ صریح گمراہی اور جہمیت ہے اور اگر دوسری بات کا اقرار کرتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حلبی صاحب شیخ الاسلام کے کلام کو سمجھنے میں غلطی کر گئے اور انہوں نے قارئین کو خطرناک مغالطہ دیا ہے..
اسی طرح شیخ الاسلام نے فرمایا :"وإنه يمتنع أن يكون إيمان تام في القب بلا قول ولا عمل ظاهر" اور یہ ناممکن ہے کہ دل کے اندر بلا قول( یعنی شہادتین کا اقرار) و عمل ظاہر کے صحیح ایمان موجود ہو "( مجموع الفتاویٰ 7/562)
حلبی صاحب کا کیا خیال ہے کیا یہاں بھی" إيمان تام "سے کمال ایمان مراد ہے یا ایمان صحیح ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اقرار کے بغیر بھی اصل مؤمن بر قرار رہے.... ؟؟

یہ تو صریح ارجاء ہے اور گمراہ مرجئہ کی موافقت ہے جو عمل کو ایمان کے ہونے یا نہ ہونے پر ذرا بھی مؤثر نہیں مانتے....مطلب: حلبی صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھئے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کہنے سے اصل ایمان حاصل ہو جاتا ہے اور اعمال کے ذریعے اس ایمان کو درجہ کمال تک پہنچایا جاتا ہے، اگر کوئی شخص شہادتین کا اقرار کر لے وہ مؤمن ہو جاتا ہے چاہے کوئی عمل کرے یا نہ کرے، اگر وہ کوئی عمل کرتا ہے تو اصل ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور اعمال کے حساب سے وہ درجہ کمال کو پہنچ جاتا ہے، اور اگر وہ کم عمل کرتا ہے تو اس درجہ کمال کو نہیں پہنچ پاتا بلکہ ان ظاہری اعمال میں کمی کی وجہ سے اس کے ایمان میں بھی کمی واقع ہوتی اور اگر سرے سے کوئی عمل ہی نہیں کرتا ہے تو بھی وہ اصل ایمان پر باقی رہتا ہے گر چہ اس کا ایمان کمال کی طرف ترقی نہ کرتا ہو لیکن اصل ایمان میں ہر گز کمی واقع نہیں ہوتی یہ جو کمی اور زیادتی کا تعلق ہے یہ اصل ایمان اور کمال ایمان کے مابین کے درجات تک ہی محدود ہے...

اسی طرح حلبی صاحب اپنی کتاب "صيحة نذير ص:28" کے اندر ایمان کے تعلق سے شیخ الاسلام کی بات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :"أصله في القلب وكماله في العمل الظاهر" اصل ایمان دل میں ہوتا ہے جب کہ کمال ایمان ظاہری اعمال کے ذریعے حاصل ہوتا ہے .

اور اس کے ذریعے حلبی صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ظاہری اعمال کو سرے سے چھوڑ دینے کے باوجود بھی اصل ایمان باقی رہتا.... لیکن یہ غلط فہمی ہے جس کا ازالہ شیخ الاسلام کے آگے آنے والے کلام سے ہو جاتا ہے شیخ الاسلام فرماتے ہیں:"بخلاف الإسلام فإن أصله الظاهر وكماله القلب" برخلاف اسلام کے کیونکہ اصل اسلام ظاہری اعمال میں ہوتا ہے جبکہ صحیح ایمان دل میں ہوتا ہے . ( رفع اللائمة ص:83)
تو کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام کے لئے صرف ظاہری عمل ہی کافی ہے جو کہ اسلام کا اصل ہے اور اس کمال اسلام کی ضرورت نہیں ہے جو دل میں ہوتا ہے یا اس کمال اسلام کے بغیر بھی کوئی مسلمان ہو سکتا ہے؟؟؟؟
شیخ الاسلام اس اختلاف کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:"اور یہ بات گزر چکی ہے کہ جنس اعمال ایمان قلبی کے لوازمات میں سے ہے اور یہ کہ بغیر کسی ظاہری عمل کے صحیح ایمان قلبی کا حاصل ہونا نا ممکن ہے ، خواہ ظاہری عمل کو ایمان کا لازم تصور کیا جائے یا ایمان کا جز جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے"(مجموع الفتاویٰ 7/616 )
اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ "کتاب الأم" کے اندر فرماتے ہیں:صحابہ اور ان کے بعد تابعین کا جن کا زمانہ ہم نے پایا ہے اس بات پر اجماع تھا کہ :ایمان قول عمل اور نیت کا نام ہے, تینوں میں سے دوسرے سے کفایت نہیں کرے گا"(رواه اللالكائي في شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة :1/174).

سوم: حلبی صاحب دین سے خارج کر دینے والے کفر کو صرف جحود وتکذیب کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی مسلمان اس وقت تک کافر نہیں ہوتا جب تک کہ وہ کسی عمل کو جھٹلاتے ہوئے یا انکار کرتے ہوئے نہ چھوڑ دے, اگر کوئی فرضیت و وجوب کے اقرار کے ساتھ تمام اعمال کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھی مؤمن ہے جب تک کہ وہ انکار نہ کرے یا نہ جھٹلائے.

واضح رہے کہ اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اطاعت سے منھ پھیر لینے اور اعمال کی ادائیگی کا التزام نہ کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے گرچہ اس نے جھٹلایا یا انکار نہ کیا ہو کیونکہ ان کے نزدیک عمل ایمان کا رکن اور اس کا لازمی جزو ہے اور بغیر تمام اجزاء وارکان کے کسی شئی کی حقیقت کا تصور محال ہے بطور مثال :بیع کے ارکان بائع، مشتری، سامان، قیمت اور الفاظ عقد چنانچہ اگر بائع نہ ہو یا مشتری نہ ہو یا سرے سے سامان ہی کا وجود نہ ہو تو کیا بیع منعقد ہوگی ہر گز کسی نہ کسی صورت میں ان چیزوں کا وجود لازمی ہے اسی طرح ایمان کا مسئلہ ہے اگر عمل نہ ہو یا اعتقاد نہ یا قدرت کے باوجود شہادتین کا اقرار نہ ہو تو قطعا حقیقت وماہیت ایمان حاصل نہیں ہوگی.

جبکہ مرجئہ کا عقیدہ ہے کہ ایمان صرف تصدیق کے نہ ہونے سے ختم ہوتا ہے اور کفر صرف انکار یا تکذیب کے ذریعے ہوتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک عمل ایمان کا حصہ ہے ہی نہیں لہذا اس کے ہونے یا نہ ہونے سے حقیقت ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جبکہ اس کے مقابلے میں وہ ایمان کے لیے تصدیق اور اقرار کو لازم تصور کرتے ہیں اور تصدیق کا ضد تکذیب ہے چنانچہ اگر تکذیب پائی جائے تو یہ مان کے ہاں کفر اور خارج عن الملۃ تصور کیا جائے گا.

اب حلبی صاحب کا کلام ملاحظہ فرمائیں:
آں جناب اپنی کتاب "صيحة نذير ص:28" پر لکھتے ہیں:"
قاعدہ" وہ عمل جس سے ایک مسلمان کافر ہو جاتا ہے" اہل سنت و جماعت کے ہاں- بطور اصول و قاعدہ- علم معرفت پر مبنی ہے... یا تو اولا: اعتقاد (یعنی کفر اعتقادی) جو کہ انکار کر کے یا جھٹلا کر ہوتا ہے.
یا ثانیا: استحلال ؛ کسی حلال کو حرام قرار دے کر یا کسی حرام کو حلال قرار دے کر.
یہاں تک کہ حلبی صاحب کہتے ہیں :یہی وہ قاعدہ ہے اور اسی کو کو ہم نے شروع سے لے کر اب تک پڑھ کر کے ڈائریکٹ اپنے مشائخ سے سیکھا ہے اور اپنے علما سے حاصل کیا ہے"

اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ حلبی صاحب کفر کو صرف جحود تکذیب اور استحلال کے اندر محصور قرار دیتے ہیں..؟
حلبی صاحب اس کی تاکید کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں جس سے کہ شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے:"امام طحاوی نے فرمایا ہے:کہ کوئی آدمی کافر نہیں ہوگا اس طور پر کہ وہ مسلمان تھا اور اس نے اسلام کا اقرار کر کے اسلام قبول کیا تھا، اسی طرح اس کا ارتداد بھی صرف اسلام کا انکار کرکے ہی ہوگا"
( التحذير من فتنة التكفير ص:10) اس عبارت کو نقل کرتے ہوئے حلبی صاحب نے *"إلا بجحود الإسلام"* صرف اسلام کا انکار کر کے " کو موٹے حروف میں لکھا یہ باور کرانے کے لیے کہ کفر اور ارتداد صرف جحود وانکار کے ذریعے ہی ہوتا ہے .
اسی طرح طرح قطع وبرید کے بعد علامہ عبد الرحمن السعدی کا کلام نقل کرتے ہیں:" کفر کی اس کے تمام انواع واجناس و افراد کو جامع وشامل تعریف یہ ہے:اللہ کے رسول کی لائی ہوئی باتوں کا انکار کرنا یا آپ کی لائی ہوئی بعض چیزوں کا انکار کرنا" ( التحذير من فتنة التكفير ص 11)
حلبی صاحب نے اپنی عادت کے مطابق اس عبارت کو بھی کاٹ چھانٹ کر اپنی خواہش کے مطابق اپنے موقف پر فٹ کیا ہے کہ تاکہ ان کی رائے " کفر صرف انکار کے ذریعے ہی ہوتا ہے" کے موافق ہو جائے ورنہ انہوں نے اس عبارت سے پہلے والی عبارت کو کیوں نہیں ذکر کیا جو اسی مسئلے سے متعلق ہے؟ اور وہ یہ ہے "مرتد وہ ہے جس نے اسلام لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہو اپنے قول کے ذریعے یا فعل کے ذریعے یا اعتقاد کے ذریعے یا شک کر کے"(الإرشاد إلى معرفة الأحكام ص:203)
اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اس پر تعلیق لگاتے ہوئے فرمایا:" پس جس شخص کے لیے ایمان جازم کے ذریعے اسلام کا حکم ثابت ہو گیا ہو وہ اس سے صرف اسلام کا انکار کر کے یا اسے جھٹلا کر ہی خارج ہوگا البتہ اگر وہ شک میں مبتلا تھا یا معاند یا معرض (اعراض کرنے والا) یا منافق تھا تو وہ اصلا مؤمن تھا ہی نہیں"( التحذير من فتنة التكفير ص: 11)
میں کہتا ہوں کہ اگر حلبی صاحب نے اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہ کہا ہوتا تب بھی ان پر مرجئہ کا حکم لگتا کیونکہ یہ بات بالکل صاف اور صریح ہے کہ آپ کے نزدیک ایک مسلمان صرف جھٹلا کر یا انکار کرنے سے ہی اسلام سے خارج ہوتا ہے...چاہے عمل کچھ بھی ہو یا ذرہ برابر عمل کیا ہی نہ ہو...!!!

چہارم: حلبی صاحب کفر عملی کو کفر اصغر سمجھتے ہیں بطور مثال "حکم بغیر ما انزل اللہ" شریعت اسلامیہ کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے ذریعے فیصلہ کرنے کو.

چنانچہ حلبی صاحب کہتے ہیں:" میں نے "التحذير" کے اندر ہی امام ابن القیم سے ان کا مسئلہ حکم بغیر ما انزل اللہ کو "قطعی طور پر کفر عملی ہے " سے تعبیر کرنا نقل کیا ہے لہذا اس کا ارتکاب کرنے والا حقیقی کافر کیسے ہوگا ؟- (الأجوبة المتلائمة ص:21)

اس استفہام کا مطلب یہ ہے کہ حلبی صاحب حکم بغیر ما انزل اللہ کو کفر عملی ہونے کی وجہ سے کفر اصغر سمجھتے ہیں اور کفر اصغر سے کوئی دین سے خارج نہیں ہوتا اس لیے حلبی صاحب نے یہ سوال داغ دیا..... اور ان کے نزدیک کفر عملی کے کفر اکبر نہ ہونے کی وجہ اس میں جحود وتکذیب کا نہ ہونا ہے چنانچہ اگر یہ چیز پائی جائے تبھی حلبی صاحب کفر عملی کو کفر اکبر تصور کریں گے ورنہ نہیں.

حلبی صاحب کے مرجئ ہونے کے تعلق سے باتیں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں لیکن طوالت کے خوف سے اخیر میں *ارجاء کی سنگینی کے تعلق سے علمائے سلف کے چند اقوال* ذکر کر کے اس قسط کو مکمل کرتا ہوں:

🔸مشہور تابعی امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"مرجئہ اہل قبلہ کے یہود ہیں " (السنة لعبد الله بن أحمد1/341، شرح اعتقاد أهل السنة لللالكائي5/ 1061، الإيمان والإبانة الكبرى لابن بطة 1/377) اسی طرح آپ کے سامنے مرجئہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ "وہ یہود ہیں"(السنة لعبد الله بن أحمد 1 / 323 والإبانة لابن بطة 1/377 )

🔸امام قتادۃ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"ان کے نزدیک بدعات میں سے امت کے لیے ارجاء سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہے-(السنة لعبد الله بن أحمد1/318 - 345 والشريعة للآجري 3/682 و وشرح اعتقاد أهل السنة لللالكائي5/ 1064 والإبانة لابن بطة 1/376)

🔸امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"ما ابتُدعت في الإسلام بدعة أضر على أهله من هذه" اسلام میں مسلمانوں کے لیے اس (ارجاء) سے زیادہ نقصان دہ کوئی بدعت ایجاد نہیں کی گئی.( الإبانة 2/885 لابن بطة , والشريعة 2/676 للآجري )

🔸امام یحییٰ بن ابی کثیر اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں:"ليس من الأهواء شيء أخوف عندهم على الأمة من الإرجاء" ان کے نزدیک بدعات میں سے امت کے لیے ارجاء سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہے-(السنة لعبد الله بن أحمد1/318 - 345 والشريعة للآجري 3/682 وشرح اعتقاد أهل السنة لللالكائي5/1064 والإبانة لابن بطة 1/376 وقد تقدم)

🔸امام منصور بن المعتمر فرماتے ہیں"هم إعداء الله المرجئة والرافضة" مرجئہ اور رافضہ اللہ کے دشمن ہیں. (شرح اعتقاد أهل السنة لللالكائي 5/1064 )


🔸امام شریک القاضی فرماتے ہیں" یہ خبیث ترین لوگ ہیں،خباثت میں رافضہ ہی تمہارے لیے کافی ہیں لیکن مرجئہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں"(رواه عبد الله بن أحمد 1/312 والآجري 3/683 واللالكائي 5/1066 وابن بطة 1/377)


🔸امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں:"ارجاء کی دو قسمیں ہیں: ایک میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت علی اور عثمان کے معاملے کو موخر کر دیا، یہ لوگ گزر گئے. لیکن جو آج کے مرجئہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایمان محض قول کا نام ہے عمل کا نہیں, لہذا تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو, نہ ان کے ساتھ کھاؤ پیو, نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ ادا کرو.(أخرجه الطبري في تهذيب الآثار 2/181 )

علمائے سلف کے ان اقوال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حلبی صاحب کس قدر خطرناک گمراہی کے شکار تھے اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اہل حدیثوں کا ان کے ساتھ تعامل کیسا ہونا چاہیے!! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم کے ساتھ ساتھ عمل صالح کی بھی توفیق عطا فرمائے آمین.

جاری ہے...
 
Top