ذیشان خان

Administrator
آج کی روشنی ، کل کا اندھیرا
✍⁩ مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر شمالی طائف (مسرہ)
گرچہ آج کا زمانہ بہت ہی ترقی کرچکا ہے مگر اصلیت گم اور فریبی پہلواجاگرہوتاجارہا ہے ، کل اندھیرا تھا تو اس قدر فریب نہیں تھا جس قدر آج روشنی میں فریب دیا جارہاہے ۔ ربڑ سے چاول ، شکر سے شہد اور کیمیکل سے جعلی دودھ تیار ہوتا دیکھ کرکون اس زمانے کی ترقی کا قائل نہیں ہوگا ؟ مگر کیا انسانیت کے حق میں ایسی ترقی مفید ہے یا مضر ایک سوال پیدا ہوتا ہے ؟ ترقی یافتہ دور کے ایسے چاول، شہد اور دودھ کھانے پینے سے صحت برقرار رہ سکتی ہے یا بگڑ ے گی اپنے آپ میں ایک سوال ہے ؟ چہروں پر جھریاں ، آنکھوں پر موٹی پلکیں اوربوسیدہ کپڑے پہننے والے پرانے خیالات کے بزرگ آج بھی جدت پسند طبیعت سے یہی کہتے ہیں ۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے ۔ روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
ایک صدی پیچھے پلٹ کر بزرگ کے پرانے خیالات تولتے ہیں تو واقعی ہم دیکھتے ہیں کہ باغوں میں آم کم پھلتے تھے مگر ان میں قدرتی مٹھاس ہوتی، چاول وگیہوں کی پیداوار کم تھی مگر صحت مند غذا تھی ، چراغوں کی شعائیں مدھم تھیں مگر آج کی طرح لوٹ ومار نہیں تھی، آدمی کم تھے مگر ہاتھوں سے فولادی کام کیا کرتے تھے جوآج مصنوعی آلات کررہے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ بزرگ کی باتوں میں ہمیں صداقت نظر آئی اور ہم بھی زبان حال سےکہنے لگے کہ اے کاش آج بستیاں جلانے والی روشنی نہیں ہوتی ، صحت بگاڑنے والی مصنوعی غذا نہ ہوتی ، پھلوں کے مصنوعی ذائقے نہ ہوتے،قتل وخون مچانےوالی ترقی نہ ہوتی بلکہ وہی پرانی سی دیواریں، مدھم دئے ، صحت مند غذا ئیں اور باہم تعاون کرنے والے فرد ومعاشرہ ہوتے۔
 
Top