ذیشان خان

Administrator
نماز میں ٹخنہ سے نیچے شلوار

شلوار کا ٹخنے سے نیچے لٹکانا حرام ہے اور شدید گناہ کا باعث ہے ، اس سے متعلق بہت ساری روایات ہیں ۔ایک روایت میں ہے ۔
مَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ مِنْ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ ۔(رواه البخاري :5787)
"یعنی کپڑے کا وہ حصہ جو ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا ہے وہ آگ میں ہے ۔''
ایک دوسری روایت میں ہے ۔
لا ينظر الله إلى من جر إزاره بطراً" (رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه عن أبي سعيد)
"جو شخص اپنا کپڑا غرور و تکبر سے لٹکائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا ''۔
گویا ٹخنہ سے نیچے شلوار لٹکانا سخت گناہ ہے چاہے نماز کی حالت ہو یا غیر نماز کی ۔
اگر کسی نے ٹخنہ سے نیچے شلوار کرکے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ شیخ ابن عثیمین ؒ اور شیخ ابن باز ؒ کا بھی یہی رجحان ہے ۔
بعض علماء نے ٹخنہ سے نیچے شلوار ہونے کو ناقض وضو بتلایا اور نماز بھی درست نہ ہونے کا فتوی دیا ۔ حالانکہ یہ موقف احادیث کی روشنی میں صحیح نظر نہیں آتا۔
کیونکہ کسی بھی فقیہ یا محدث نے اسبال کو نواقض وضو میں نہیں شمار کیا۔ جس روایت سے ناقض وضو اور نماز کی عدم صحت کی دلیل پکڑتے ہیں وہ روایت یہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
(سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب الإصبال فی الصلاۃ)
آپ ﷺ نے ایک آدمی کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا (اذھب فتو ضا)جااور وضو کر، تو وہ گیا اور وضو کیا، پھر وہ آیا ، تو آپ نے پھر کہا جاؤ اور وضو کرو، تو وہ گیا اور وضو کیا ۔ پھر وہ آیا۔ تو آپ سے ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! آپ نے اسے کیوں وضو کرنے کا حکم دیا ۔ پس خاموش ہوگئے ۔ پھر فرمائے : وہ ازار (شلوار) لٹکاکر نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اللہ تعالی ازار لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا۔
اس روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اِ س کی سند میں ابو جعفر غیر معروف راوی ہے۔ امام منذری نے مختصر سنن ا بی داؤد ۱١/۳۲۴٤ اور علامہ شو کافی نے نیل الا و طار ۳٣/ ۱۱۸ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند میں اہل مدینہ سے ایک راوی ہے جس کا نام معروف نہیں۔
علامہ البانی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ، دیکھیں: (ضعیف ابی داؤد:124)
اور مشکوٰۃ المصابیح پر تعلیق لکھتے ہوئے شیخ البانی حفظہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
اس حدیث کی سند ضعیف ہے اس میں راوی ابو جعفر ہے، اس سے بیان کرنے والا یحییٰ ابن ابی کثیر ہے اور وہ انصاری مدنی مؤذن ہے جو کہ مجہول ہے جس طرح ابن القطان نے کہا ہے اور تقریب میں ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اس کی حدیث کمزور ہے ۔
علامہ البانی حفظہ اللہ مزید کہتے ہیں کہ جس نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اسے وہم ہوا ہے۔(مشکٰوۃ ۱/۲۳۸)
یہ روایت ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں نماز لوٹائے جانے کا ذکر نہیں ہے یعنی مسبل ازار اپنی نماز نہیں لوٹائے گا ، اس کی نماز صحیح ہے ، مزید برآن کسی محدث نے اسے نواقض وضو میں شمار نہیں کیا تو جس آدمی کا کپڑا ٹخنے سے نیچے ہو جائے اس کا وضو اور اس کی نماز دونوں درست ہوگی البتہ یہ جرم ضرور ہو گا جس کی وعید احادیث میں مذکور ہے۔​
 
Top