اہل وعیال کی اسلامی تربیت
ابو حمدان اشرف فیضی ؍ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ ،آندھرا پردیش
ایک انسان پر اللہ کے حق کے ساتھ اور بھی بہت سے حقوق عائد ہیں جن کی ادائیگی لازمی اور ضروری ہے ،جس طرح حقوق اللہ میں کمی وکوتاہی باعث خسارہ ہے اسی طرح حقوق العباد میں غفلت بھی ناکامی ونامرادی کو مستلزم ہے ،ایک مومن کو بحیثیت شوہر جہاں بہت سی ذمہ داریوں کا مکلف بنایا گیا ہے ان اساسی ذمہ داریوں میں اہل وعیال کی اسلامی تربیت بھی ہے ،ایک مومن کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کی دنیاوی ضروریات کا خیال کرے اس سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ان کے دین وایمان کی فکر کرے ،لیکن آج جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی اعتبار سے ہم اپنے بیوی بچوں پر بہت توجہ دیتے ہیں مگر دین کے معاملے میں بالکل غافل نظر آتے ہیں ،کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر ہماری بیوی کسی دن وقت پر کھانا تیار نہ کرسکی یا کھانے کا ذائقہ کچھ متاثر ہو گیا تو ہم جذبات میں آجاتے ہیں اور لعن طعن شروع کر دیتے ہیں ،اسی طرح اگر ہمارا بچہ کبھی اسکول یا ٹیوشن نہیں گیا تو ہم غصے میں آجاتے ہیں ،سرزنش کرتے ہیں،ہمیں بچے کے رزلٹ کی فکر شروع ہوجاتی ہے،لیکن ہمارے بیوی بچے دن اور رات میں ایک بھی نماز نہ پڑھیں ،اسلامی احکام وقوانین کی بالکل پابندی نہ کریں تو ہمیں کچھ بھی احساس نہیں ہوتا ،اور ہم خاموش تماشائی بن جاتے ہیں ،ہماری غیرت مر جاتی ہے ،دراصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصد حیات کی کوئی فکر نہیں،ہمیں مال ودولت کی ایسی حرص ہے کہ ہم صرف دنیاوی آرام وراحت کے لئے جیتے ہیں اس لئے ہماری سوچ اور فکر صرف دنیادارانہ ہے ،گناہوں کی کثرت نے ہمارے دلوں سے ایمان کا نور کمزور کر دیا ہے ،ہمارے قلوب سخت ہو چکے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا کچھ بھی احساس نہیں ہے :
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ذیل کے سطور میں معاشرے کے احوال کا جائزہ لیتے ہوئے ’’ اہل وعیال کی اسلامی تربیت ‘‘ سے متعلق ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے، تاکہ ہمارے گھروں میں اسلامی ماحول قائم ہو ،گھریلو اختلافات کا خاتمہ ہو ،ازدواجی ناخوشگواریاں مفقود ہوں،میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کو سمجھنے لگیں،اس طرح سے اہل خانہ کی اصلاح اور تربیت کے بعدایک صالح وپاکیزہ معاشرہ قائم ہو ،اللہ ہمیں نیک توفیق عطا فرمائے ۔آمین
اہل وعیال کی اسلامی تربیت اہل ایمان کی عظیم ذمہ داری:اہل وعیال کی اسلامی تربیت اللہ کی طرف سے بندوں پر ایک فریضہ ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اس فریضے کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْْہَا مَلَائِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا یَعْصُونَ اللَّہَ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُون}[التحریم:۶] اے لوگو جو ایمان لائے ہو !اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس کے اوپر بے رحم اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں ،اللہ تعالیٰ انہیں جو حکم دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہی کرتے ہیں جو حکم دیئے جاتے ہیں۔
آیت کریمہ میں اللہ رب العالمین نے اہل ایمان کو ان کی ایک عظیم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ جہنم کی آگ سے بچاؤ اوراپنے اہل وعیال کو بھی اس آگ سے بچانے کی ہر ممکن فکر اور کوشش کرو۔
شیخ ابو بکر جابر الجزائری ؍حفظہ اللہ فرماتے ہیں:آیت مبارکہ میں اپنے اہل کو آگ سے بچانے کا حکم ارشاد ہوا ہے جو کہ صرف اللہ کی اطاعت سے ہی ممکن ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کے کاموں کی معرفت حاصل کی جائے جو تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ،اولاد بھی اہل میں داخل ہے ،آیت مبارکہ کی رو سے ان کی تعلیم وتربیت اور نیک کاموں اور اللہ ورسول کے احکام کے بجا لانے پر انہیں آمادہ کرتے رہنا اور شوق دلانا بھی لازم ٹھہرا،اور گناہوں ،نافرمانیوں ،خرابیوںاور شرارتوں سے انہیں دور رکھنا بھی آیت کریمہ کی رو سے ضروری ہے تاکہ انہیں عذاب جہنم سے بچا سکیں‘‘ [اسلامی طرز زندگی :۱۳۶]
محمد اقبال کیلانی ؍حفظہ اللہ رقمطراز ہیں:یاد رہے کہ شوہر کے لئے اس کی بیوی اہل ہے اور بیوی کے لئے اس کا شوہر اہل ہے ،گویا مرد اور عورت دونوں پر یہ واجب ہے کہ وہ ایک دوسرے کو جہنم سے بچانے کی کوشش کرتے رہیں ،ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب مرد اور عورت دنیا میں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساجھی ہیں تو آخرت کے دکھ سکھ میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہوں ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور عورت کے لئے رحمت کی دعا فرمائی ہے جو ایک دوسرے کو تہجد کی نماز کے لئے اٹھائیں ،ارشاد مبارک ہے:اللہ رحمت فرمائے اس مرد پر جو رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی تہجد کے لئے جگائے اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ‘‘ [ابو داؤد:کتاب التطوع،باب قیام اللیل،صحیح الترغیب والترہیب رقم:۶۲۵]دوسری حدیث میں ارشاد مبارک ہے :تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے شکر گزار دل ،ذکر کرنے والی زبان اور مومن بیوی جو آخرت کے معاملے میں تمہاری مددگار ثابت ہو ،کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے ‘‘[ابن ماجہ:کتاب النکاح،باب أفضل النساء،صحیح الجامع الصغیر رقم:۵۳۵۵]کس قدر خوبصورت اور سکون بخش تصور ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو دیا ہے کہ مومن مرد اور مومن عورت کا ہدف صرف اس دنیا کی رفاقت تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ آخرت کی رفاقت بھی پیش نظر رہنی چاہئے جہاں نیک شوہر اور نیک بیوی دونوں کو پھر سے جنت میں اکٹھا کر دیا جائے گا ،اہل میں بیوی کے علاوہ بچے بھی شامل ہیں ،آیت کی رو سے اہل ایمان مردوں پر جس طرح اپنی بیویوں کو آگ سے بچانے کی کوشش کرنا واجب ہے اسی طرح اپنی اولاد کو بھی آگ سے بچانا فرض قرار دیا گیا ہے ،اولاد کے حوالے سے دونوں میاں بیوی (یعنی والدین)پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولا د کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کریں ،اس ذمہ داری کا اندازہ اس حدیث مبارک سے ہوتا ہے کہ ’’ہر بچہ فطرت (یعنی اسلام)پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا آتش پرست بنا دیتے ہیں‘‘[بخاری:کتاب الجنائز،مسلم:کتاب القد ر]ملاحظہ ہو:[امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان:۲۷۔۲۸]
مولانا محمد اعظمی؍حفظہ اللہ اپنی کتاب ’’آداب زواج ‘‘ میں نقل کرتے ہیں کہ:مسلمان بیوی کی تعلیم وتربیت ایسا اہم فریضہ ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات جو اس امت کی مائیں ہیں وہ بھی مستثنیٰ نہیں رکھی گئی ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف فرما ہوتے تو ان کو طہارت وعبادت کے مسائل کا سبق دیتے اور امور خانہ داری ،حقوق وفرائض اور اخلاق ومعاشرت کی تعلیم وتربیت کا سلسلہ برابر جاری رکھتے ،یہی وجہ ہے کہ درسگاہ نبوی کی اولین طالبات میں ازواج نبی سر فہرست ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو صرف زبانی پڑھانے سکھانے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ علم کتابت (لکھنا)حاصل کرنے کے لئے ترغیبی حکم دیا اور اپنی بیوی حفصہ کو کتابت (لکھنے)کی بھی تعلیم دلائی ،حدیث میں ہے :قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لاحدی الصحابیات وکان اسمہا الشفاء الا تعلمین ہذہ یرید حفصۃ رقیۃ النملۃ کما علمتہا الکتابۃ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابیہ شفاء نامی سے فرمایا کہ:کیا تم حفصہ کو نملہ کا منتر نہیں سکھاتیں ؟جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے ،اس سے معلوم ہوا کہ حفصہ نے شفاء نامی صحابیہ سے علم کتابت حاصل کیا تھا۔[ابو داؤد:کتاب الطب ،باب ما جاء فی الرقی ،صحیح الجامع الصغیر:(۲۶۵۰)آداب زواج:۱۵۲۔۱۵۳]
اسی طرح حدیث میں بھی اس فریضہ کا تاکیدی ذکرآیا ہے جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ألا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ فالأمیر الذی علی الناس راع علیہم وہو مسئول عنہم والرجل راع علی أہل بیتہ وہو مسئول عنہم والمرأۃ راعیۃ علی بیت بعلہا وولدہ وہی مسئولۃ عنہم والعبد راع علی مال سیدہ وہو مسئول عنہ فکلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ‘‘[صحیح سنن أبی داؤد:کتاب الخراج ،باب ما یلزم الامام من حق الرعیۃ:(۲۹۲۸)]لوگو!آگاہ رہو،تم سب کے سب حاکم ہو اور تم سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ،حکمران لوگوں پر حاکم ہے لہٰذا اس سے سارے لوگوں کے بارے میں جواب طلب کیا جائے گا ،مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے لہٰذا اس سے گھر کے تمام افراد کا حساب لیا جائے گا ،عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد پر حاکم ہے لہٰذا اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ،غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے لہٰذا غلام سے اپنے آقا کے مال کے بارے میں سوال کیا جائے گا ،پھر سنو!تم سب ذمہ دار ہو اور تم سب اپنی اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہو۔
تربیت کے مختلف مراحل:اہل وعیال کی تربیت کے مختلف پہلو ہیں ان تمام پہلؤوں پر توجہ ہونی چاہئے ،مثلاً:
(۱)عقیدۂ توحید کی تعلیم:ایک انسان کی دنیوی واخروی کامیابی کے لئے ایمان اور عقیدۂ توحید کا التزام ضروری ہے ،بغیر ایمان کے کوئی بھی عمل اللہ رب العالمین کے پاس قابل قبول نہیں،تمام پیغمبروں کی اولین دعوت یہی تھی ،اور سبھوں نے پوری زندگی سب سے زیادہ اسی پر جد وجہدکی،اس لئے والدین پر فرض ہے کہ سب سے پہلے خود اپنے ایمان اور عقیدے کی حفاظت کریںنیز اپنی اولاد کی اسی منہج پر تربیت کریں،اور توحید کی راہ میں کسی قسم کی مداہنت سے کام نہ لیں،ن کے دل ودماغ میں رب کی عظمت و قدرت کاتصور قائم کریں ،شرک کے تمام انواع سے ڈرائیں،توحید کی اہمیت اور شرک کی مذمت وضاحت کے ساتھ بیان کریں،ہر قسم کے باطل عقائد ونظریات سے دور رہنے کی تلقین کریں،تاکہ وہ مرتے دم تک پکے سچے مسلمان اور موحد بن کر رہیں،توحید سے متعلق درج ذیل باتوں پر خصوصی توجہ دیںاور ان باتوں کی نصیحت کریں:
ہماری پیدائش کا مقصد صرف رب کی عبادت ہے،ہر قسم کی عبادت کا مستحق صرف اللہ ہے،اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے،اللہ تعالیٰ ہی روزی دینے والاہے،اللہ تعالیٰ ہی ہر وقت اور ہر جگہ بندوں کی پکار کو سنتا ہے،اللہ ہی اولاد دیتا ہے،اللہ ہی بیمار کو شفا دیتا ہے ،اللہ ہی ہدایت دیتا ہے،عزت،ذلت ،نفع اور نقصان کا مالک اللہ ہی ہے ،حقیقی کارساز اللہ ہی ہے،وہی مختار کل ہے،وہ حی اور قیوم ہے،دعا صرف اللہ سے کرنی چاہئے ،پناہ صرف اللہ سے مانگیں،مدد صرف اللہ سے طلب کریں،اللہ کاخوف ہر خوف پر غالب ہو،موت برحق ہے،عذاب قبر حق ہے،مرنے کے بعد اللہ ہی دوبارہ زندہ کرے گا،قیامت قائم ہوگی،حساب وکتاب ،میزان ،پل صراط،حوض کوثر ، ،جنت وجہنم برحق ہیں،روز قیامت شفاعت قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے،الغرض ایمان اور اسلام کے تمام ارکان تفصیل سے سمجھائیں،اور شرک کی تمام قسموں سے ڈرائیںجیسا کہ لقمان حکیم نے اپنے بچے کی تربیت کرتے ہوئے کہا:یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ}[لقمان:۱۳]اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگی:وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَام}اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔[ابراہیم:۳۵] افسوس کہ اکثر والدین کو اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی فکر ضرور ہے ،ان کی خواہش ہے کہ ہمارا بچہ اچھا انجینئر ،ماہر ڈاکٹر،لائق پروفیسر بنے،مگر ان کے ایمان اور عقیدے کی فکر نہیں ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج تعلیم کے نام پر ہمارے بچوں کے ایمان کا سودہ کیا جا رہا ہے،نئی نسل تیزی سے ارتداد کا شکار ہے ،ضرورت ہے کہ قوم کے عمائدین ورؤساء ،علماء وفضلاء،اور مسلم مفکرین ودانشوران سنجیدگی سے اس پر غور وفکر کریں،اور نئی نسل کی منہج سلف کے مطابق تربیت کریں تاکہ انہیں باطل افکار وخیالات اور عقائد ونظریات سے بچا یا جا سکے۔
(۲)اسلامی عبادات کی تعلیم:
نماز کی تربیت:عقیدۂ توحید کے بعد عبادات کا حکم دیں،اسلامی احکام وآداب بتائیں،عبادات میں سب سے عظیم عبادت نماز ہے ،جو اسلام کا دوسرا رکن ہے،ایک مسلم اور کافر کے درمیان حد فاصل ہے،قیامت کے دن حقوق اللہ سے متعلق سب سے پہلا حساب اسی کے بارے میں ہوگا،اس لئے نماز کے بارے میں اہل وعیال کی تربیت بیحد ضروری ہے،جیسا کہ حدیث میں ہے عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ (شعیب) اپنے دادا (عبد اللہ بن عمرو)سے روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مروااولادکم بالصلاۃ وہم أبناء سبع سنین واضربوہم علیہا وہم ابناء عشر وفرقوا بینہم فی المضاجع‘‘جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کی تلقین کرو اور جب دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں (اور نماز میں سستی کریں)تو اس پر انہیں سرزنش کرو اور ان کے درمیان بستروں میں تفریق کر دو۔[ابو داؤد:کتاب الصلاۃ،باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ،صحیح الجامع الصغیر(۱۰۸۰۷)]
حافظ صلاح الدین یوسف حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:’’ فقہاء نے لکھا ہے کہ نماز ہی کی طرح دیگر احکام شریعت بھی بچوں کے ذہن نشین کرائے جائیں اور ممکن ہو تو ان کی عملی مشق بھی ،جیسے رمضان میں حسب عمر اور حسب طاقت بچوں سے چند روزے رکھوائے جائیں تاکہ روزوں کی اہمیت وفرضیت ان کے دماغوں میں بیٹھ جائے اور جب وہ شعور وبلوغت کی عمر کو پہنچیں تو انہیں علم ہو کہ پنج وقتہ نماز کی طرح رمضان المبارک کے روزے بھی ایک مسلمان کے لئے نہایت ضروری اور فرض ہیں،وعلی ہذا القیاس اس طرح دیگر احکام ومسائل اور معاملات ہیں جن کی تعلیم بچوں کو ان کی سمجھ کے مطابق دی جائے ‘‘ [ریاض الصالحین :۲۹۰۔۲۹۱]
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ:سرپرست بچے کو باجماعت نماز ادا کرنے ،مسواک کرنے اور دیگر اعمال بجا لانے کا حکم دے اور اسے زنا ،عمل قوم لوط ،شراب،جھوٹ اور غیبت کی حرمت کے متعلق بتائے‘‘ ۔[المجموع شرح المہذب:۳؍۱۱۔بحوا لہ:اولاد اور والدین کی کتاب:۱۸۱]
روزے کی تربیت:امام بخاری نے باب قائم کیا ہے:باب صوم الصبیان وقال عمر رضی اللہ عنہ لنشوان فی رمضان ویلک وصبیاننا صیام فضربہ‘‘بچوں کے روزے کا بیان،اور عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں شراب پیتے (ایک شخص) سے کہا :تو ہلاک ہوا (تو نے رمضان میں شراب پی لی)ہمارے تو بچے بھی روزے دار ہیں،پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو مارا پیٹا۔[بخاری:کتاب الصوم]اسی طرح صحابیات بھی اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کی تربیت کرتیںتھیںجیسا کہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کی صبح کو انصار کی بستیوں (جو مدینہ کے گرد ونواح میں تھیں)پیغام بھجوایا کہ جس نے روزہ رکھا ہو وہ روزہ برقرار رکھے اور جس نے روزہ نہ رکھا ہو وہ دن کا باقی حصہ بھی اسی حالت میں گزارے ،ربیع رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم ہمیشہ روزہ رکھتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور انہیں (اپنے ساتھ)مسجد میں بھی لے جایا کرتے تھے ،ہم بچوں کو روئی کی گڑیا بنا دیا کرتے تھے جب ان میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم (اس کا دل بہلانے کے لئے)اسے گڑیا دے دیتے حتی کہ افطار کا وقت ہو جاتا ،ایک روایت میں یہ لفظ بھی ہے کہ جب بچے ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں گڑیا دے دیتے تاکہ وہ ان سے کھیلتے رہیں حتی کہ اپنا روزہ پورا کرلیں۔ [بخاری:کتاب الصوم]
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:چھوٹے بچے پر بالغ ہونے تک روزہ رکھنا لازم نہیں لیکن جب اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اسے روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ روزہ رکھنے کی مشق کر سکے اور اس کا عادی بن جائے اور بلوغت کے بعد اس کے لئے روزہ رکھنا آسان ہو سکے ،صحابہ کرام (جو اس امت کے بہترین لوگ تھے )بچپن میں ہی اپنے بچوں کو روزے رکھوایا کرتے تھے۔[مجموع الفتاویٰ لابن عثیمین:۱۹؍۲۸۔بحوا لہ:اولاد اور والدین کی کتاب:۱۸۳]
حج کی تربیت: والدین کو چاہئے کہ اگر استطاعت ہو تو بچوں کو بھی اپنے ساتھ حج کے لئے لے جائیں،اس سے بچوں میں اس فریضے کا جذبہ پیدا ہوگا اور والدین ثواب کے مستحق ہوں گے ،جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو اٹھا کر لائی اور کہا:اے اللہ کے رسول!ألہذا حج؟کیا اس کے لئے حج ہے ؟تو آپ نے جواب دیا :ہاں،اور اس کا ثواب تمھیں ملے گا۔[مسلم :کتاب الحج]اسی طرح سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:حجُّ بی مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وانا ابن سبع سنین ‘‘مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا اور میں اس وقت سات سال کا تھا۔[بخاری :کتاب الحج]
٭واضح رہے کہ نابالغ بچہ حج تو کرسکتا ہے لیکن بلوغت کے بعد اسے حج کافی نہیں ہوگا بلکہ فرض کی ادائیگی کے لئے اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔[اولاد اور والدین کی کتاب:۱۸۵]
قیام اللیل کی تربیت:عبادات میں قیام اللیل ایک مہتم بالشان نفلی عبادت ہے ،جس کے ذریعہ بندہ اللہ کا خاص تقرب حاصل کرتا ہے،قیام اللیل کی احادیث میں بڑی فضیلتیں وارد ہیں،جیسا کہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علیکم بقیام اللیل فانہ دأب الصالحین قبلکم وہو قربۃ لکم الی ربکم ومکفرۃ للسیئات ومنہاۃ عن الاثم‘‘رات کو قیام کرو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی عادت ہے اور یہ تمہارے رب کے قرب،برائیوں کے خاتمے اور گناہوں سے دور رہنے کا سبب ہے ۔[صحیح الترمذی:رقم الحدیث(۲۸۱۴)،حسن]اسی طرح عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یاأیہا الناس أفشوا السلام وأطعموا الطعام وصلواالأرحام وصلوا باللیل والناس نیام تدخلو الجنۃ بسلام ‘‘اے لوگو !سلام کو پھیلاؤ ،کھانا کھلاؤ ،صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں (اس طرح)تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔[ترمذی،ابن ماجہ،الصحیحۃ:۲؍۱۰۹ ،رقم الحدیث:۵۶۹] نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی تعریف کی ہے جو خود رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے اہل کو بھی پڑھائے،ابو سعید خدری وابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اذا أیقظ الرجل أہلہ من اللیل فصلیا أو صلی رکعتین جمیعا کتبا فی الذاکرین والذاکرات‘‘جب کوئی شخص رات کو اپنے گھر والوں کو بیدار کرتا ہے وہ دونوں اکٹھے دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں یا وہ اکیلاادا کرتا ہے تو ان دونوں کو ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔[صحیح ابی داؤد:۵؍۵۲،صحیح الترغیب والترہیب:۱؍۱۵۲] بندۂ مومن کو چاہئے کہ پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کے ساتھ قیام اللیل کابھی التزام کرے اور اہل وعیال کو بھی ترغیب دلائے ،جیسا کہ انبیاء اور صلحاء کا طریقہ رہا ہے۔
مذکورہ تعلیمات کی روشنی میں اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم اپنے اہل وعیال کی تربیت مذکورہ نصوص کی روشنی میں کر رہے ہیں یا نہیں ؟افسوس کہ آج کتنے ایسے مسلمان بچے ہیں جو انگریزی تعلیم میں ماہر ہیں مگر انہیں قرآن کا ایک حرف بھی پڑھنا نہیں آتا،نماز اور وضوء کا شرعی طریقہ انہیں نہیں معلوم ہے،سنن ونوافل اور قیام اللیل کی ترغیب دلانا تو دور کی بات ہے کیونکہ ہم پنجوقتہ نمازوں سے بھی غافل ہیں،اور کچھ کا حال یہ ہے کہ ماںباپ بھی جاہل اور اولاد بھی جاہل ،الامان والحفیظ ۔ہمیں اپنے حال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔
تعلیم قرآن:امام بخاری نے باب قائم کیا ہے:باب تعلیم الصبیان القرآن‘‘باب،بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا۔اور اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے:عن ابن عباس رضی اللہ عنہما جمعتُ المحکم فی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت لہ وما المحکم ؟قال:المفصل ‘‘ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سب محکم سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی یاد کر لی تھیں ،میں (یعنی سعید بن جبیر)نے پوچھا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں؟انہوں نے کہا کہ :مفصل۔(اہل علم کے صحیح قول کے مطابق مفصل سورتیں سورۂ حجرات سے لے کر آخر قرآن تک ہیں)۔[بخاری:کتاب فضائل القرآن۔بحوالہ:اولاد اور والدین کی کتاب:۱۸۶]
بڑے خوش نصیب ہیں وہ ماں باپ جو اپنی اولاد کو قرآن مجید کی تعلیم دلاتے ہیں کیونکہ قیامت کے دن جنت میں انہیں قیمتی لباس پہنایا جائے گا،جیسا کہ حدیث میں ہے:ویکسیٰ والدہ حلتین لا یقوّم لہما أہل الدنیا فیقولان :بما کسینا ہذا ؟فیقال:بأخذ ولدکما القرآن ‘‘اس( قرآن پڑھنے والے )کے والدین کو ایسے قیمتی حلے (لباس)پہنائے جائیں گے کہ ساری دنیا والے مل کر بھی ان کی قیمت ادا نہ کر سکیںوہ ازراہ تعجب پوچھیں گے کہ یہ عمدہ اور قیمتی حلے ہمیں کس وجہ سے پہنائے گئے ہیں ؟تو انہیں جواب دیا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے ۔اور ایک دوسری روایت کے مطابق انہیں ان الفاظ میں جواب دیا جائے گا کہ:بتعلیم ولدکما القرآن ‘‘اپنے بیٹے کو قرآن کریم کی تعلیم دلوانے کی وجہ سے۔[مسند احمد:۵؍۳۴۸،طبرانی اوسط:۵۸۹۴،الصحیحۃ:۲۸۲۹۔بحوالہ:فضائل قرآن کی کتاب:۱۳۵]
(۳)مکارم اخلاق کی تعلیم:’’ اخلاق وکردارنسل انسانی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اگر کوئی قوم اخلاق سے محروم ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے تعمیر وترقی سے ہمکنار نہیں کر سکتی ،اس کے برخلاف بااصول وباکردار قوم کو کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی ،جنگ عظیم دوم میں جب فرانس کو شکست ہوئی تو اس کے صدر نے کہا:ہم اس لئے ہارے ہیں کہ ہمارا نوجوان کردار کھو چکا ہے ‘‘۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔‘‘[بخاری:کتاب المناقب،مسلم:کتاب الفضائل۔بحوالہ:بچوں کی تربیت کیسے کریں؟:۱۷۰]
یاد رہے کہ انسان کی زندگی میں حسن اخلاق کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے نیک اثرات دنیا اور آخرت دونوں جگہ مرتب ہوتے ہیں اس کے برخلاف برے اخلاق کے برے اثرات دنیا میں انسان کی انفرادی ،اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں رونما ہوتے ہیں اور آخرت میں ایسے لوگوں کا بڑا رسواکن انجام ہوگا۔ایک مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اخلاق حسنہ کے زیور سے آراستہ ہو اور منکرات اخلاق سے دوررہے اور اہل وعیال کو بھی ان باتوں کی تعلیم دے ،اچھے اخلاق کی ترغیب دلائے ،مثلاً:سچ بولیں،وعدہ پورا کریں،عہد نبھائیں،بڑوں کی تعظیم کریں اور چھوٹوں کے ساتھ پیار وشفقت کا معاملہ کریں،صلہ رحمی کریں،والدین کی اطاعت وفرمانبرداری کریں،زبان کی حفاظت کریں،سلام کو عام کریں،مصیبت اور پریشانی میں اللہ کا فیصلہ سمجھ کر صبر کریں اور خوشحالی کے دور میںاللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں،خیر اور بھلائی کے کام انجام دیں،نیکی اور تقویٰ کے امور میں ایک دوسرے کو تعاون کریں،کمزوروں کی مدد کریں،غریبوں کو کھانا کھلائیں،یتیموں کی کفالت کریں،مہمانوں کی عمدہ ضیافت کریں،پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کریںوغیرہ وغیرہ
اور برے اخلاق سے نفرت دلائے،مثلاً:چوری،زناکاری،شراب نوشی،بے حیائی،قتل وغارتگری،خود کشی،فتنہ وفساد،لوٹ کھسوٹ ،والدین کی نافرمانی،قطع رحمی،بد زبانی،جھوٹ،غیبت،چغلی،دھوکہ دہی،وعدہ خلافی،سب وشتم،غصہ،حرص ولالچ،بخیلی،تکبر،حسد،بغض وعناد،کسی کا مذاق ارانا،کسی کی تحقیر کرنا،وغیرہ
بعض گھروں کا حال تو یہ ہے کہ ماں باپ بڑے برے اخلاق وکردار کے حامل ہوتے ہیں،مثلاً:بات بات پر گھر میں لڑائی جھگڑا کرنا،جھوٹ بولنا،حرام کھانا،شراب نوشی کرنا،وغیرہ۔بچوں پر اس کا بڑا گہرا اثر پڑتا ہے ،بچے بڑی تیزی سے ماں باپ کے اثر کو قبول کر لیتے ہیں اور مستقبل کی زندگی انہیں نقوش پر گذارتے ہیں۔اللہ حفاظت فرمائے۔آمین
(۴)آداب اسلامی کی تعلیم:’’اعتقادات،عبادات اور اخلاقیات کے ساتھ اسلامی آداب کی تعلیم بھی بیحد ضروری ہے ،بالخصوص ترقی یافتہ اس زمانے میں جہاں روشن خیال اور مغربی فکر رکھنے والے لوگ اسلامی تعلیمات کو فرسودہ سمجھ رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زمانے کی ترقی کے ساتھ اسلامی تعلیمات منطبق نہیں ہو رہی ہیں ،نئے ماحول کے ساتھ تبدیلی کی ضرورت ہے،(العیاذ باللہ)اس پروپیگنڈے کا اثر اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر تربیت یافتہ طلباء وطالبات بڑی آسانی سے قبول کر لے رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اس وقت مسلمان غیر اسلامی تہذیب سے بالکل متاثر ہیں، ماں باپ اپنے بچوں کی اسی نہج پر تربیت بھی کررہے ہیں،بچوں کوسلام سکھانے کے بجائے گڈ مارننگ،گڈ ایوننگ،ٹاٹا،بائے وغیرہ کی تعلیم دے رہے ہیں،لباس وپوشاک،بات چیت،کھانے پینے الغرض زندگی کے تمام شعبوں میں غیر اسلامی فکر غالب ہے۔
ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے اہل وعیال کی تربیت اسلامی طریقے سے کریں،ہم انہیں کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے ،سونے جاگنے ،قضاء حاجت ،لباس وپوشاک ،اورسلام وکلام کے اسلامی آداب سکھائیں،اس طرح سے مسلم معاشرے سے سارے مسائل از خودختم ہو جائیں گے، (ان شاء اللہ) افسوس اس بات پر ہے کہ آج انسان کے اوپر مادیت اتنی غالب ہے،مال ودولت کی ایسی حرص ہے کہ اسے اہل وعیال کی تربیت کے لئے وقت ہی نہیں ہے،کتنے باپ ایسے ہیں کہ پورا ہفتہ گذر جاتا ہے مگر اپنے بچوں سے ملاقات ہی نہیں کر پاتے،بچوں کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ نہیں پاتے ،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان مال ودولت کا خزانہ جمع کر لیتا ہے،مگر یہی مال اس کے لئے فتنہ بن جاتا ہے اور وہ اپنے ہی اہل وعیال میں حقیقی چین وسکون سے محروم ہوتا ہے،اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے،آمین
انبیاء کرام اور اہل وعیال کی تربیت:اس فریضے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انبیاء ورسل نے بھی اپنے اہل وعیال کی تربیت کی فکر کی ہے ،یہاں یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اللہ کے نزدیک حسب ونسب کا اعتبار نہیں ہے ،عزت اور کامیابی کا معیار انسان کا ذاتی عمل ہے،اگر وہ ایمان اور عمل صالح سے محروم ہو تو پیغمبر بھی کسی قسم کی سفارش سے محروم ہوں گے، اور کچھ کام نہ آئیں گے،جیسا کہ حدیث میں ہے:من بطأ بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ‘‘[مسلم:کتاب الذکر والدعا والتوبۃ]
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی تربیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِیْ قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـہَکَ وَإِلَـہَ آبَائِکَ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـہاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُون}اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کی ،کہ ہمارے بچو!اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا ہے ،خبردار !تم مسلمان ہی مرنا،کیا (حضرت)یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے ؟جب انہوں نے اپنی اولاد کو کہا کہ:میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابراہیم (علیہ السلام)اور اسماعیل (علیہ السلام)اور اسحاق (علیہ السلام)کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔[البقرۃ:۱۳۲۔۱۳۳]
اسی طرح نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کافروں کا ساتھ دینے سے منع فرمایا: وَنَادَی نُوحٌ ابْنَہُ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یَا بُنَیَّ ارْکَب مَّعَنَا وَلاَ تَکُن مَّعَ الْکَافِرِیْنَ}اور نوح (علیہ السلام )اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا ،پکار کر کہاکہ:اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ رہ[ہود:۴۲]
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ آزر کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے ڈرایا،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:وَاذْکُرْ فِیْ الْکِتَابِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّہُ کَانَ صِدِّیْقاً نَّبِیّاً۔ إِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ یَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنکَ شَیْْئاً۔یَا أَبَتِ إِنِّیْ قَدْ جَاء نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَأْتِکَ فَاتَّبِعْنِیْ أَہْدِکَ صِرَاطاً سَوِیّاً۔ یَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْْطَانَ إِنَّ الشَّیْْطَانَ کَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِیّاً۔یَا أَبَتِ إِنِّیْ أَخَافُ أَن یَمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَن فَتَکُونَ لِلشَّیْْطَانِ وَلِیّاً۔قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِہَتِیْ یَا إِبْراہِیْمُ لَئِن لَّمْ تَنتَہِ لَأَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیّاً۔قَالَ سَلَامٌ عَلَیْْکَ سَأَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ إِنَّہُ کَانَ بِیْ حَفِیّاً۔وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ وَأَدْعُو رَبِّیْ عَسَی أَلَّا أَکُونَ بِدُعَاء رَبِّیْ شَقِیّاً}اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام)کا قصہ بیان کر ،بیشک وہ بڑی سچائی والے پیغمبر تھے،جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان!آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں،نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں،میرے مہربان باپ!آپ دیکھیے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں ،تو آپ میری ہی مانیں ،میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا،میرے ابا جان!آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں شیطان تو رحم وکرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے،ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں،اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم!کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کررہا ہے ،سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا ،جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ،کہا اچھا تم پر سلام ہو ،میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا ،وہ مجھ پر حددرجہ مہربان ہے،میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں ،صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا،مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا۔[مریم:۴۱۔۴۸]
اسماعیل علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے اللہ نے کہا:وَاذْکُرْ فِیْ الْکِتَابِ إِسْمَاعِیْلَ إِنَّہُ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُولاً نَّبِیّاً۔ وَکَانَ یَأْمُرُ أَہْلَہُ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَکَانَ عِندَ رَبِّہِ مَرْضِیّاً}اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام)کا واقعہ بھی بیان کر،وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی،وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا،اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول۔[مریم:۵۴۔۵۵]
اسی طرح سید المرسلین،رحمۃللعالمین،خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ نے اس مہتم بالشان عمل کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلَاۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْْہَا}اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ ۔[طٰہٰ:۱۳۲]اسی طرح آیت کریمہ {وَأَنذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ}اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اپنے رشتے داروں کو (قیامت سے)ڈراؤ،[الشعراء:۲۱۴]حکم ربانی پر عمل کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:یا معشر قریش أو کلمۃ نحوہا اشتروا انفسکم لا أغنی عنکم من اللہ شیئا یابنی عبد مناف لا اغنی عنکم من اللہ شیئا یا عباس بن عبد المطلب لا اغنی عنک من اللہ شیئا ویا صفیۃ عمۃ رسول اللہ لا اغنی عنک من اللہ شیئا ویا فاطمۃ بنت محمد سلینی ما شئت من مالی لا اغنی عنک من اللہ شیئا‘‘اے قریش کے لوگو!یا ایسا ہی جملہ کہا:اپنی جانیں بچاؤ(قیامت کے دن)اللہ تعالیٰ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا ،اے عبد مناف کے بیٹو!(قیامت کے روز)میں اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا ،اے عباس بن عبد المطلب !میں اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا ،اے صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی!میں اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا ،اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم !(دنیا میں)میرے مال سے جو چاہو مانگ لو (لیکن قیامت کے روز)اللہ تعالیٰ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔[بخاری:کتاب التفسیر]اسی طرح ایک مرتبہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک گھریلو مسئلے کی شکایت سن کر آپ نے فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہما کی تربیت کی:حدیث میں ہے،علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیستے پیستے تکلیف ہو گئی ،ہاتھ پر نشان پڑ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے شکایت کی ،اسی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قیدی آئے ہوئے تھے ،فاطمہ رضی اللہ عنہا (ایک قیدی بطور خادم مانگنے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں ،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہ ملے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ کر چلی آئیں ،جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کا (اور ان کی تکلیف کا)ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر (رات کو)ہمارے گھر تشریف لائے ،ہم دونوں (میاں بیوی)لیٹ رہے تھے ،میں نے اٹھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں اپنی جگہ لیٹے رہو،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے ،میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ألا أعلمکما خیراً مما سألتمانی ؟اذاأخذتما مضاجعکما تکبران أربعا وثلٰثین وتسبّحا ثلٰثا وثلٰثین وتحمدا ثلٰثا وثلٰثین فہو خیر لکما من خادم ‘‘میں تم کو غلا م طلب کرنے سے ایک بہتر بات نہ بتاؤں ؟جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو ۳۴ بار اللہ اکبر ،۳۳ بار سبحان اللہ اور ۳۳ بار الحمدللہ کہنا ،تمہارے لئے ایک خادم سے کہیں بہتر ہے ۔[بخاری:کتاب فضائل أصحاب النبی]اسی طرح ایک مرتبہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تربیت کی ،بچہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا بلکہ فرمایا:کخ کخ لیطرحہا ،ثم قال:أما شعرت أنا لا نأکل الصدقۃ‘‘تھو تھو کرو ،تاکہ کھجور کو منہ سے باہر نکال دیں ،پھر فرمایا:معلوم نہیں ہم زکوٰۃ نہیں کھاتے؟ ۔[بخاری:کتاب الزکاۃ]،اپنے چچا ابو طالب کو مرض الموت میںکلمۂ توحید کی تلقین کی،فرمایا:یا عم قل لا الہ الا اللہ کلمۃ أشہد لک بہا عند اللہ ‘‘اے میرے چچا کلمۂ لاالہ الا اللہ کہو،میں اللہ کے پاس تمہاری گواہی دوں گا۔[بخاری:کتاب الجنائز] مگر تقدیر کا فیصلہ غالب آیا اور کفر پر موت ہوگئی،تو آپ کو بڑا صدمہ ہوا ،اسی طرح اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس کو بحالت سفر دین کی بنیادی باتوں کی تعلیم دی،جیسا کہ حدیث میں ہے:عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سوار)تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یا غلام انی أعلمک کلمات احفظ اللہ یحفظک احفظ اللہ تجدہ تجاہک،اذا سألت فاسأل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ واعلم أن الأمۃ لو اجتمعت علی أن ینفعوک بشیء لم ینفعوک الا بشیء قد کتبہ اللہ لک ولو اجتمعوا علی أن یضروک بشیء لم یضروک الا بشیء قد کتبہ اللہ علیک ،رفعت الاقلام وجفت الصحف‘‘اے لڑکے !میں تجھے چند کلمے سکھاتا ہوں (جو یہ ہیں)اللہ تعالیٰ کے احکام کی حفاظت کراللہ تعالیٰ (دین ودنیا کے فتنوں میں )تمہاری حفاظت فرمائے گا ،اللہ تعالیٰ کو یاد کر ،تو تو اسے اپنے ساتھ پائے گا ،جب سوال کرنا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے سوال کر ،جب مدد مانگنا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگ ،اور اچھی طرح جان لے کہ اگر سارے لوگ تجھے نفع پہنچانے کے لئے اکٹھا ہو جائیں تو کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر سارے لوگ تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو تجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے ،قلم (تقدیر لکھنے والے)اٹھا لئے گئے ہیں اور صحیفے جن میں تقدیر لکھی گئی ہے خشک ہو چکے ہیں ۔[ترمذی:ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع،صحیح الجامع:(۷۹۵۷)]اسی طرح ابو حفص عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کھانے سے متعلق تربیت کرتے ہوئے کہا:یا غلام سم اللہ تعالیٰ وکل بیمینک وکل مما یلیک‘‘اے لڑکے !اللہ کا نام لو ،(بسم اللہ پڑھو)دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤاور اپنے قریب سے کھاؤ،[بخاری:کتاب الأطعمۃ،مسلم:کتاب الأشربۃ]ابو حفص عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس تربیت کا اثر یہ تھا کہ اس کے بعد میرے کھانے کا طریقہ یہی رہا۔ نیز ایک رات علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کو نماز تہجد کے لئے بیدار کرنے ان کے گھر گئے اور کہا:ألا تصلیان؟کیا تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھو گے ؟علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یا رسول اللہ!ہماری روحیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا،ہمارے اس جواب سے آپ واپس آگئے اور کوئی جواب نہیں دیئے،لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ ران پر ہاتھ مار کر (سورۂ کہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے)وَکَانَ الْإِنسَانُ أَکْثَرَ شَیْْء ٍ جَد َلا}آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے ۔[بخاری:ابواب التہجد]
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کی بھی تربیت کرتے تھے،جیسا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات گھبراہٹ کے عالم میں بیدار ہوئے ،آپ نے فرمایا:سبحان اللہ !ماذا أنزل اللیلۃ من الخزائن ؟وماذا أنزل من الفتن ؟من یوقظ صواحب الحجرات؟ ‘‘اللہ پاک ہے ،آج رات کس قدر خزانے نازل ہوئے ہیں اور کسقدر فتنے نازل ہوئے ہیں ؟کون ہے جو حجروں میں رہنے والیوں (مراد :آپ کی ازواج مطہرات)کو بیدار کرے تاکہ وہ تہجد کی نماز ادا کریں؟،کثرت کے ساتھ ایسی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس زیب تن کرنے والی ہیں لیکن آخرت میں بغیر لباس کے ہوں گی۔[بخاری:ابواب التہجد] اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی من اللیل فاذا أوتر قال:قومی فأوتری یا عائشۃ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد پڑھتے اور جب وتر ادا فرمانے لگتے تو کہتے :عائشہ!اٹھو اور وتر پڑھو۔[مسلم :کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا]نیزماہ رمضان میں آخری عشرے کی فضیلت اور شب قدر کی سعادت حاصل کرنے کے لئے خود رات بھر جاگ کر عبادت کرتے اور اہل وعیال کو بھی جگاتے جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل العشر أحیا اللیل وأیقظ أہلہ وشد المئزر‘‘جب (رمضان کا آخری)عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے اور (عبادت کے لئے)کمر کس لیتے۔[بخاری:کتاب لیلۃ القدر،مسلم:کتاب الاعتکاف]۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے حد درجہ محبت کرتے تھے مگر محبت تربیت کی راہ میںکبھی حائل نہ ہوتی بلکہ فوراً تنبیہ کر دیتے ،جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے (ایک روز)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ان کی دوسری بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا کی بابت)عرض کیا:حسبک من صفیۃ کذا وکذا ‘‘آپ کے لئے صفیہ کا ایسا ویسا ہونا کافی ہے ،بعض راویوں نے کہا کہ :عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہ پست قد ہیں ،تو آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزجتہ‘‘تو نے ایسی بات کہی ہے اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ اس کا ذائقہ بدل ڈالے ۔عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کے سامنے ایک آدمی کی نقل اتاری تو آپ نے فرمایا کہ:میں پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں چاہے اس کے بدلے میں مجھے اتنا اتنا مال ملے۔[ابو داؤد:کتاب الادب،ترمذی:ابواب صفۃ القیامۃ،صحیح الترغیب والترہیب:رقم الحدیث:۲۸۳۴]
صحابۂ کرام اور اہل وعیال کی تربیت:اہل وعیال کی تربیت کا جو جذبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کے دلوں میں تھااس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی،صحابہ تربیت کے معاملے میں کسی قسم کی مصالحت سے کام نہیں لیتے تھے،چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
٭ خلیفۂ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ:کان یصلی من اللیل ماشاء اللہ حتی اذا کان من آخر اللیل أیقظ اہلہ للصلاۃ یقول لہم:الصلاۃ الصلاۃ ثم یتلو ہذہ الآیۃ:وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلَاۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْْہَا}عمر رضی اللہ عنہ رات کو جس قدر اللہ چاہتا (نفل)نماز پڑھتے جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو نماز کے لئے اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے ،ان سے مخاطب ہو کر کہتے:نماز!نماز!پھر یہ آیت تلاوت فرماتے: وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلَاۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْْہَا}۔[مؤطا امام مالک:۱؍۸۶،مصنف عبد الرزاق:۳؍۴۹،علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے،ملاحظہ ہو:مشکاۃ المصابیح:رقم الحدیث:۱۲۴۰]
٭ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ ‘‘اللہ نے گودنے ا ور گدوانے والی عورتوںپر، چہرے سے بال نکالنے اورنکلوانے والی عورتوں پر،خوبصورتی کے لئے دانت کشادہ کرنے یا کروانے والی عورتوں پر،اللہ کی خلقت بدلنے والیوں پرلعنت کی ہے،یہ خبر بنو اسد کی ایک خاتون کو معلوم ہوئی جس کا نام ام یعقوب تھا ،وہ قرآن پڑھا کرتی تھی،وہ عبد اللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی :تمہاری طرف سے مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے لعنت کی ہے گودنے اور گودانے والی عورتوںپر، چہرے سے بال نکالنے اور نکلوانے والی عورتوں پر،خوبصورتی کے لئے دانت کشادہ کرنے یا کروانے والی عورتوں پر،اللہ کی خلقت بدلنے والی عورتوں پر؟عبد اللہ بن مسعود نے کہا:میں کیوں نہ لعنت کروں ان پر جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ تو اللہ کی کتاب میں موجود ہے ،وہ عورت بولی:میں نے تو دو نوں تختیوں کے درمیان جس قدر قرآن تھا پڑھ ڈالا ہے مگر مجھے یہ بات نہیں ملی ،عبد اللہ بن مسعود نے کہا:اگر تو پڑھتی (جیسا چاہئے تھا غوروفکر کر کے)تو تجھ کو مل جاتی،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا}اور تمہیں جو کچھ رسول دیں لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔[الحشر:۷]وہ عورت بولی :ان باتوں میں سے تو بعض باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے،عبد اللہ بن مسعود نے کہا:جاؤگھر میں دیکھ لو،وہ گئی تو ان کی عورت کے پاس کچھ بھی نہیں دیکھی،پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی:ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی ہے،عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:أما لو کان ذلک لم نجامعہا‘‘اگر وہ ایسا کرتی تو ہم اس سے صحبت نہیں کرتے۔[مسلم:کتاب اللباس والزینۃ]
٭ ابو بردہ بن ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو شدید درد ہوا جس سے وہ بیہوش ہو گئے ،ان کا سر ان کے گھر والوں میں سے ایک خاتون کی گود میں تھا،اہل خانہ کی ایک خاتون نے چلانا شروع کر دیا ،ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (غشی کی وجہ سے )اسے روک نہ سکے ،جب ہوش آیا تو فرمانے لگے:أنا بریء مما بری منہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بریء من الصالقۃ والحالقۃ والشاقۃ‘‘جس بات سے اللہ کے رسول بیزار ہیں میں بھی اس سے بیزار ہوں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلانے والی ،بال نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی (عورت سے)اظہار بیزاری فرمایا ہے۔[مسلم:کتاب الایمان]
٭ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لا تمنعوا اماء اللہ أن یصلین فی المسجد،فقال ابن لہ انا لنمنعہن فغضب غضباً شدیداً وقال:أحدثک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتقول :انا لنمنعہن‘‘کوئی شخص اللہ کی بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکے ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے نے کہا:ہم تو روکیں گے،عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:میں تیرے سامنے حدیث رسول بیان کررہا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے۔[صحیح ابن ماجہ:کتاب المقدمۃ:۱؍۸]
٭ عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا بھتیجا پہلو میں بیٹھا کنکریاں پھینک رہا تھا ،عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ،نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا کرنے سے نہ تو شکار ہو سکتا ہے نہ دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ،البتہ اس سے (کسی کا )دانت ٹوٹ سکتا ہے یا آنکھ پھوٹ سکتی ہے ،بھتیجے نے دوبارہ کنکریاں پھینکنی شروع کر دیں تو عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا:أحدثک أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیٰ عنہا ثم عدت تخذف لا أکلمک أبدا ‘‘میں نے تجھے بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تو پھر وہی کام کررہا ہے ،لہٰذا میں تجھ سے اب کبھی بات نہیں کروں گا ۔[صحیح ابن ماجہ:کتاب المقدمۃ:۱؍۸]
سبحان اللہ !یہ تھی صحابہ کی ایمانی تربیت کہ اپنے اہل وعیال میں خلاف شرع کوئی بھی کام دیکھنا گوارہ نہیں کرتے بلکہ فوراً تنبیہ کرتے ،اصلاح نہ کرنے پر تادیبی کارروائی اختیار کرتے تھے۔
اہل وعیال کی تربیت سے غفلت کے بھیانک نتائج:اگر سماج وسوسائٹی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بیشتر تعلیم یافتہ گھرانے بھی اسلامی تربیت کے محتاج ہیں ،کتنے ایسے لوگ ہیں جو اہل وعیال کی تربیت میں غفلت کے بھیانک نتائج سے دوچار ہیں ،ازدواجی الجھنوں کے شکار ہیں ،اہل وعیال میں اعتقادی واخلاقی بگاڑ نے ان کا سکون غارت کر دیا ہے ،ایک انسان کے لئے اس سے بڑا خسارہ اور کیا ہوگا کہ قیامت کے دن اس کی نظروں کے سامنے اس کا باپ ،اس کی ماں ،اس کا بھائی ،اس کی بہن ،اس کی بیوی،اس کے بچے ،اور دیگر اعزہ واقرباء جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوا أَنفُسَہُمْ وَأَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَلَا ذَلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْن}کہہ دیجئے کہ!حقیقی زیاں کار وہ ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے ،یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے۔[الزمر:۱۵]
محمد اقبال کیلانی ؍حفظہ اللہ معاشرے کے احوال کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’تربیت اولاد کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بیشتر والدین کا کردار بڑا مایوس کن ہوتا جارہا ہے،یہ درست ہے کہ گھر سے باہر نکلتے ہی بچوں کو بگاڑنے والے فتنے چہار سو پھیلے نظر آتے ہیں،لیکن گھر کے اندر کا ماحول تو بہر حال والدین کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے ،معصوم اور بھولی بھالی بچیاں جن کی فطرت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بے پناہ شرم وحیاء رکھی ہوتی ہے ،کو مختصر ،باریک اور نیم عریاں لباس پہنا کر شرم وحیا سے محروم کرنے کا ذمہ دار کون ہے ؟یہ جانتے ہوئے کہ ٹی وی ’’ام الفتن ‘‘ہے ،بے حیائی ،فحاشی ،عریانی،گانے بجانے اور عشق ومحبت کے شرمناک طریقے سکھانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ،گھر میں لانے کا ذمہ دار کون ہے ؟یہ جانتے ہوئے کہ عریاں تصاویر اور عشق ومحبت کی فرضی داستانوں پر مشتمل غلیظ اور گندا لٹریچر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جنسی ہیجان پیدا کرتا ہے ،گھر میں لانے کا ذمہ دار کون ہے ؟یہ جانتے ہوئے کہ موبائل فون نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان ناجائز تعلقات اور رابطے پیدا کرنے کا انتہائی آسان ،محفوظ اور ہمہ وقتی ذریعہ ہے ،بچوں کو مہیا کرنے کا ذمہ دار کون ہے ؟کبھی سنا تھا آپ نے کہ کنوارری لڑکی خود اپنی زبان سے اصرار کرے کہ میں تو صرف فلاں سے ہی شادی کروں گی ورنہ نہیں کروں گی،گھر کی چاردیواری میں یہ ’’روشن خیالی ‘‘پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہے ؟والدین نہیں تو اور کون ؟۔[امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان:۲۹۔۳۰]
ہمیں سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریوں کا محاسبہ کرنا چاہئے اور اہل وعیال کی تربیت میں کسی قسم کی غفلت سے بچنا چاہئے ورنہ اس سے بھی مہلک نتائج برآمد ہوں گے،اس وقت سوائے حسرت وافسوس کے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
اہل وعیال کی تربیت کیسے کریں؟
(۱) خود دین کی ضروری وبنیادی باتیں سیکھیں اور سیکھ کر اہل وعیال کو سکھائیں:جیسا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم ایک جیسی عمر کے نوجوان تھے ،ہم بیس راتیں آپ کے پاس قیام پذیر رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے،چنانچہ آپ کو خیال ہوا کہ ہم اپنے گھر والوں (کی ملاقات)کے مشتاق ہو گئے ہیں،پس آپ نے ہم سے پیچھے چھوڑے ہوئے ہمارے گھر والوں کی بابت پوچھا،تو ہم نے آپ کو اس کی تفصیل سے آگاہ کیا ،جسے سن کر آپ نے فرمایا:ارجعواالی أہلیکم فأقیموا فیہم وعلموہم ومروہم وصلوا صلاۃ کذا فی حین کذا وصلوا کذا فی حین کذا،فاذا حضرت الصلاۃ فلیؤذن لکم أحدکم ولیؤمکم اکبرکم‘‘تم اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ اور وہیں رہو اور ان کو بھی (دین کی باتیں)سکھاؤ اور انہیں (بھلائی کا)حکم کرو اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت میں ،جب نماز کا وقت ہو جائے،تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ تمہیں نماز پڑھائے۔[بخاری:کتاب الاذان،مسلم:کتاب الصلاۃ]
(۲)اہل وعیال کی تربیت کے لئے فارغ اوقات گھر میں رہیں:جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجات کے لئے ہمیں جن اہم باتوں کا حکم دیا ہے ان میں یہ تعلیم بھی موجود ہے،عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ماالنجاۃ؟نجات کس طرح ممکن ہے ؟آپ نے فرمایا:أمسک علیک لسانک ولیسعک بیتک وابک علی خطیئتک ‘‘اپنی زبان کو قابو میں رکھو،تمہارا گھر تمہیں اپنے اندر سمالے (یعنی تمہارا فارغ وقت گھر کے اندر ہی گزرے )اور اپنی غلطیوں پر خوب روؤ۔[ترمذی :ابواب الزہد،صحیح الترغیب والترہیب :۳۳۳۱]مومن کو چاہئے کہ فارغ اوقات گھر میں گذارے،تاکہ اہل خانہ کی صحیح طور پر تربیت کر سکے۔غیر ضروری طور پر بازاروں میں نہ رہے،دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے سے احتراز کرے،کیونکہ قیامت کے دن اس کی عمر کے بارے میں اس سے سوال کیا جائے گا،اگر فارغ اوقات گھر میں رہیں تو ہم بہت سے غلط کاموں سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیںاور اہل خانہ کے ساتھ گھریلو امور میں تعاون بھی کر سکتے ہیں ،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہی تھا۔
(۳)اہل وعیال کو دینی باتیں سیکھنے کا موقع دیں:اہل وعیال کو تربیت کے مقصد سے مساجد لے جائیں،دینی مجلسوں میں شرکت کا موقع دیں،جیسا کہ عہد نبوی میں صحابہ اپنے بچوں کو آپ کی مجلسوں میں لے جاتے تھے،خواتین نماز کے لئے مسجدوں میں آتی تھیں،آپ سے شرعی مسائل دریافت کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتی تھیں،بلکہ ان کے جذبۂ ایمانی کا حال یہ تھا کہ ایک دن چند عورتیں آپ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں:اے اللہ کے رسول!غلبنا علیک الرجال فاجعل لنا یوما من نفسک‘‘(آپ سے فائدہ اٹھانے میں )مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں اس لئے آپ اپنی طرف سے ہمارے وعظ کے لئے بھی کوئی دن خاص فرما دیں،تو آپ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمایا۔[بخاری:کتاب العلم]نیز ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے’’ سورۂ ق‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن سن کر یاد کر لی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کو منبر پر کھڑے ہو کر خطبۂ جمعہ میں اس سورت کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔[مسلم:کتاب الجمعۃ]مذکورہ حدیث سے جمعہ میں خواتین کی شرکت اور خطبۂ جمعہ سے علمی استفادہ کا ثبوت ملتا ہے۔
(۴)اہل وعیال کے لئے ہم قدوہ بنیں:پہلے ہم خود احکام شریعت کے پابند ہوں ،اسلامی اصول وضوابط کا پہلے ہم التزام کریں،تاکہ ہماری بات موثر ہو
سکے،یقینا اگر شوہر نیک ہو،نماز روزے کا پابند ہو،تو اس کے اچھے اثرات اس کے اہل وعیال میں مرتب ہوں گے،اور اس کی نصیحت میں اثر بھی ہوگا،لیکن اگر انسان خود محتاج تعارف ہو تو وہ نہ دوسروں کی تربیت پر توجہ دے گا اور نہ ہی اس کی بات موثر ہو سکتی ہے،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ}کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو ؟اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو،کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں ؟[البقرۃ:۴۴]
(۵)دعاؤں کا اہتمام کریں :اہل وعیال کی صالح تربیت میں مخلصانہ جدوجہد کرتے ہوئے نیک دعاؤں کا بھی اہتمام کریں،اس لئے کہ بحیثیت انسان ہمارا کام صرف حتی المقدور کوشش کرنا ہے باقی ہماری کوششوں کو کامیابی یا ناکامی سے بہرہ ور کرنے والا اللہ رب العالمین ہے ،ہم اس سے دعائیں کریں ،بطور نمونہ چند دعائیں ذکر کی جارہی ہیں:
٭ابراہیم علیہ السلام کی دعا:{ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاَۃِ وَمِن ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء }[ابراہیم:۴۰]
٭ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی دعا:{رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ} [البقرۃ:۱۲۸]
٭زکریا علیہ السلام کی دعا:{ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِن لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً إِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَاء}[آل عمران:۳۸]
٭اہل ایمان کی دعا:{رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَاماً }[الفرقان:۷۴]
٭مومن کی دعا:{رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہُ وَأَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ إِنِّیْ تُبْتُ إِلَیْْکَ وَإِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ}[الاحقاف:۱۵]
خلاصۂ کلام :مذکورہ بالا ارشادات کی روشنی میں یہ بات مترشح ہو گئی کہ اہل وعیال کی تربیت اہل ایمان پر فرض ہے،یہ اسوۂ انبیاء ہے،صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مبارک عمل ہے ،اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی وغفلت برتنے سے قیامت کے دن ہم مسؤل ہوں گے ،اس لئے اگر ہم دنیا اور آخرت میں حقیقی سکون اور کامیابی کے متمنی ہیں تو اسلام کے بتائے ہوئے مذکورہ اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔اللہ ہم سب کو نیک توفیق دے۔آمین
 
Top