خشیت الٰہی
ابو حمدان اشرف فیضی (ناظم:جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ،آندھرا پردیش)
خشیت الٰہی کامفہوم:
’’خوف وخشیت سے مراد وہ خوف کی کیفیت ہے جو کسی بندہ کے قلب میں اللہ تعالیٰ کے ڈر کی بناء پر ہو،جس کی وجہ سے بندہ قادر مطلق کے اختیارات اور پکڑ کو مد نظر رکھتے ہوئے اندرونی طور پر خوف زدہ ہو جائے ،اس کے عقاب اور غضب سے بچنے کے لئے اس کی وسیع رحمت کی دعا کرتا رہے،یہ کیفیت اس وقت ہوتی ہے کہ جب بندہ کو اللہ تعالیٰ کی کمال معرفت حاصل ہو اور اس پر کامل بھروسہ اور دل میں اس کا انتہائی خوف ہو،اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کی وجہ سے طبیعت میں سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے جب کہ خوف وخشیت کی وجہ سے دل میں ڈر اور جسم پر کپکپی طاری ہوتی ہے،سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ:اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَاباً مُّتَشَابِہاً مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ ذَلِکَ ہُدَی اللَّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَنْ یَشَاء ُ وَمَن یُضْلِلْ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَاد}[الزمر:۲۳](اللہ نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا ہے یعنی ایک کتاب جس کی آیتیں معانی میں ملتی جلتی ہیں ،جنہیں بار بار دہرایا جاتا ہے،جنہیں سن کر ان لوگوں کے بدن کانپ جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ،پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف مائل ہوتے ہیں)۔
انسان کے اندر خوف طبعی اور جبلی وصف ہے اور اس سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ انبیاء بھی ،جیسا کہ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا جب اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس دعوت توحید کے لئے مکلف کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے خوف کا اظہار کیا:قَالَ رَبِّ إِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْساً فَأَخَافُ أَن یَقْتُلُونِ}[القصص:۳۳] (موسیٰ (علیہ السلام)نے کہا پروردگا!میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی قتل کرڈالیں)۔ اور یہ کبھی بطور ابتلا وامتحان ہوتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا:وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْن}[البقرۃ:۱۵۵]( اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے دشمن کے ڈر سے ،بھوک پیاس سے،مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے )۔ نیز مجرمین کے لئے اللہ کی طرف سے گناہوں کی سزا کی ایک قسم بھی ہے،اللہ نے فرمایا:وَضَرَبَ اللّہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ آمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَأْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَداً مِّن کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللّہِ فَأَذَاقَہَا اللّہُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُواْ یَصْنَعُون}[النحل:۱۱۲](اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا)۔
خشیت الٰہی کے مفہوم پر دلالت کرنے والے بہت سے الفاظ قرآن میں وارد ہیں مثلاً:الوجل،الخوف،الرہبۃوغیرہ۔
حکم:
یہ عظیم قلبی عبادت ہے بلکہ صحت ایمان کے لئے لازمی امر ہے،بندے کے ایمان کے بقدر اس کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے،مومن کو چاہئے کہ وہ ہر حال میں اللہ کے خوف کے ساتھ زندگی گزارے،کوئی بھی لمحہ اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی نہ ہو،اور مومن اپنے دل میں صرف اللہ کا خوف بسائے ،اسباب واعمال اور افراد وشخصیات کا خوف موجب ہلاکت ہے،جیسا کہ اللہ نے قرآن مجید میں متعدد آیات میں اسی بات کا حکم دیا ہے ،چند آیات ملاحظہ فرمائیں:وَإِیَّایَ فَارْہَبُون}[البقرۃ:۴۰] (اور مجھ ہی سے ڈرو) {وَإِیَّایَ فَاتَّقُون}[البقرۃ:۴۱](اور صرف مجھ ہی سے ڈرو){الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ إِیْمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل}[آل عمران:۱۷۳] (وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لئے ہیں تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے ) {إِنَّمَا ذَلِکُمُ الشَّیْْطَانُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاء ہُ فَلاَ تَخَافُوہُمْ وَخَافُونِ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْن}[آل عمران:۱۷۵](یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو) {فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ}[المائدۃ:۴۴] (اب تمہیں چاہئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو) {أَتَخْشَوْنَہُمْ فَاللّہُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْہُ إِن کُنتُم مُّؤُمِنِیْن}[التوبۃ:۱۳] (کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟اللہ ہی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو)۔
آج جب ہم معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اللہ سے زیادہ اُلو اور بلی سے ڈرتے ہیں،جو پیروں اور خود ساختہ ولیوں پر اللہ سے زیادہ بھروسہ رکھتے ہیں،انہیں حاجت روا اورمشکل کشا سمجھتے ہیں(العیاذ باللہ)ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہئے اور اپنے دلوں میں صرف اللہ کا خوف قائم کرکے آیات متذکرہ سے نصیحت حاصل کرنا چاہئے،اسی میں دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے کہ انسان اپنے عقیدے کی اصلاح کرے اور اعمال صالحہ کے ذریعہ ایمان کو مستحکم بنائے ،اورتمام باطل افکار ونظریات سے دور رہے، اللہ انہیں نیک توفیق دے،آمین
اہمیت : اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لفظ خوف تنہا قرآن میں ۲۱ مرتبہ اور اپنے مشتقات کے ساتھ ۱۲۴مرتبہ مذکور ہے،نیز یہ ملائکہ،انبیاء ورسل اور علماء وصلحاء کی عظیم صفت ہے حتی کہ جمادات بھی اس صفت سے متصف ہیں:
ملائکہ کی صفت:اللہ نے فرمایا:وَلِلّہِ یَسْجُدُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ مِن دَآبَّۃٍ وَالْمَلآئِکَۃُ وَہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ۔یَخَافُونَ رَبَّہُم مِّن فَوْقِہِمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُونَ}[النحل:۴۹۔۵۰] (یقینا آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے،اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ،ڈرتے ہیںاور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں)۔
انبیاء کی صفت:اللہ نے فرمایا:یَعْلَمُ مَا بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا یَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَی وَہُم مِّنْ خَشْیَتِہِ مُشْفِقُون}[الأنبیاء:۲۸] (وہ ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں)۔ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّہِ وَیَخْشَوْنَہُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَداً إِلَّا اللَّہَ وَکَفَی بِاللَّہِ حَسِیْباً}[الأحزاب:۳۹] (یہ سب ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے)۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل وعیال کی مدح میں فرماتا ہے:وَزَکَرِیَّا إِذْ نَادَی رَبَّہُ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْداً وَأَنتَ خَیْْرُ الْوَارِثِیْنَ۔فَاسْتَجَبْنَا لَہُ وَوَہَبْنَا لَہُ یَحْیَی وَأَصْلَحْنَا لَہُ زَوْجَہُ إِنَّہُمْ کَانُوا یُسَارِعُونَ فِیْ الْخَیْْرَاتِ وَیَدْعُونَنَا رَغَباً وَرَہَباً وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْنَ}[الأنبیاء:۸۹۔ہ۹] (اور زکریا (علیہ السلام)کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار !مجھے تنہا نہ چھوڑ ،تو سب سے بہتر وارث ہے ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے یحییٰ (علیہ السلام)عطا فرمایا اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کردیا ،یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے)۔
علماء کی صفت:اللہ نے فرمایا:إِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء }[فاطر:۲۸] (اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں) سلف کہتے تھے:من کان باللہ أعرف کان من أخوف‘‘ جس کو جتنا زیادہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے وہ اتنا زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔ [تفسیر القرآن للعثیمین:۴؍۲۹۱]
صلحاء کی صفت:اللہ نے فرمایا:إِنَّ الْأَبْرَارَ یَشْرَبُونَ مِن کَأْسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوراً ۔عَیْْناً یَشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللَّہِ یُفَجِّرُونَہَا تَفْجِیْراً ۔یُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُونَ یَوْماً کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیْراً ۔وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً ۔إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء وَلَا شُکُوراً ۔ إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا یَوْماً عَبُوساً قَمْطَرِیْراً[الدہر:۵۔۱۰] (بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے جو ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے ،جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے ،اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین ،یتیم اور قیدیوں کو ،ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری،بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی والا ہوگا)۔ دوسرے مقام پر فرمایا: رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْْعٌ عَن ذِکْرِ اللَّہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَاء الزَّکَاۃِ یَخَافُونَ یَوْماً تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ}[النور:۳۷] (ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خریدوفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی)۔ جمادات کی صفت:بنی اسرائیل کی زجر وتوبیخ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا:ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَۃً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الأَنْہَارُ وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّہِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُون}[البقرۃ:۷۴] (پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ،بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گر گر پڑتے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو)۔ اور فرمایا:لَوْ أَنزَلْنَا ہَذَا الْقُرْآنَ عَلَی جَبَلٍ لَّرَأَیْْتَہُ خَاشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُون}[الحشر:۲۱](اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وہ پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ،ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غوروفکر کریں)۔جب جمادات میں یہ وصف موجود ہے تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے اسے بدرجہ اولیٰ اس صفت سے متصف ہونا چاہئے۔
فوائدوثمرات:
٭عزت وقوت کا سبب:جس معاشرے میں لوگ اللہ کے خوف کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اللہ تعالیٰ وہاں پر ظالموں کو ہلاک کردیتا ہے اور ان کی زمینوں کا مالک خائفین کو بنا دیتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا:وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّـکُم مِّنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا فَأَوْحَی إِلَیْْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظَّالِمِیْنَ۔وَلَنُسْکِنَنَّـکُمُ الأَرْضَ مِن بَعْدِہِمْ ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْد}[ابراہیم:۱۳۔۱۴](کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں ملک بدر کردیں گے یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ ،تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہی غارت کردیں گے۔اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے ،یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میری وعید سے خوفزدہ رہیں)۔
٭خوف انسان کوعمل صالح کرنے ،عمل میں اخلاص پیدا کرنے اور دنیا میں کسی بدلے کا طلبگار نہ بننے پر ابھارتا ہے،ملاحظہ کریں: [الدہر:۵۔۱۰]
٭خوف وخشیت تقرب الٰہی ،امتثال اوامر اور اجتناب نواہی کا اہم ذریعہ ہے۔
٭دلوں کی اصلاح :جس دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے وہ دل ہمیشہ بیدار رہتا ہے ،وہ انسان وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھاتا ہے،آیات الٰہیہ سے عبرت ونصیحت حاصل کرتا ہے،لیکن جو دل اس وصف سے خالی ہو وہ اس دنیا میں غافل ہوکر زندگی گزارتا ہیجیسا کہ اللہ نے فرمایا:طہ ۔مَا أَنزَلْنَا عَلَیْْکَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَی۔ إِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَن یَخْشَی}[طہ :۱۔۳](طہ ،ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے )۔اسی طرح:إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن یَخْشَاہَا}[النازعات:۴۵](آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوںکو آگاہ کرنے والے ہیں)۔اور فرمایا:فَذَکِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّکْرَی ۔سَیَذَّکَّرُ مَن یَخْشَی}[الأعلیٰ:۹۔۱۰](تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائدہ دے،ڈرنے والا تو نصیحت لے گا)۔
٭ہدایت ورحمت کے مستحق:اللہ نے فرمایا:وَفِیْ نُسْخَتِہَا ہُدًی وَرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُون}[الأعراف:۱۵۴](اور ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی)۔دوسرے مقام پر فرمایا:إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّہَ فَعَسَی أُوْلَـئِکَ أَن یَکُونُواْ مِنَ الْمُہْتَدِیْن}[التوبۃ:۱۸](اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں ،نمازوں کے پابند ہوں،زکوٰۃ دیتے ہوں،اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں،توقع ہے کہ یہی لوگ یقینا ہدایت یافتہ ہیں)۔
٭رضاء الٰہی کا حصول:اللہ نے فرمایا: رَّضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ}[البینۃ:۸](اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے،یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے)۔
٭عرش الٰہی کا سایہ:جیسا کہ حدیث میں ہے:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ :امام عادل،وشاب نشأ فی عبادۃ اللہ تعالیٰ ورجل قلبہ معلق فی المساجد،ورجلان تحابا فی اللہ اجتمعا الیہ وتفرقا علیہ ورجل دعتہ امرأۃ ذات منصب وجمال فقال:انی أخاف اللہ ورجل تصدق بصدقۃ فأخفاہا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ ،ورجل ذکر اللہ خالیا ففاضت عیناہ‘‘[بخاری:کتاب الزکاۃ،باب الصدقۃ بالیمین،مسلم:کتاب الزکاۃ:باب فضل اخفاء الصدقۃ]سات آدمی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔انصاف کرنے والا حکمران،وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پل کر بڑھا ہو ا ہو ،وہ آدمی جس کا دل مسجدوں میں اٹکا ہوا ہو،وہ دو آدمی جو اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اسی کی وجہ سے باہم جمع ہوتے ہیں اور اسی پر ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ،وہ آدمی جس کو منصب وجمال والی عورت دعوت گناہ دے اور وہ اس کے جواب میں کہہ دے میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں ،وہ آدمی جس نے اس طرح خفیہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ علم نہیں ہوا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ،وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے (اس کے خوف سے)آنسو رواں ہوگئے۔
٭گناہوں کی مغفرت:جیسا کہ مشہور حدیث ہے:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(بنی اسرائیل کے) ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا جس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا( اور ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے جس نے اپنے نفس پر زیادتی کی تھی )کہ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ فوت ہوجائے تو اسے جلادینا ،اس کے جسم کی آدھی راکھ کو خشکی میں اڑادینا اور آدھی کو سمندر میں گرا دینا کیونکہ اللہ کی قسم!اگر اللہ نے اس پر قابو پالیا تو اس کو ایسا عذاب دے گا کہ اس طرح کا عذاب جہاں والوں میں سے کسی کو نہ دے گا،جب وہ فوت ہوگیا تو اس کے گھر والوں نے اس کے کہنے کے مطابق عمل کیا ،چنانچہ اللہ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر نے اس کے اجزاء کو اکٹھا کردیا اور ہوا کو حکم دیا تو ہوا نے اس کے تمام اجزاء کو اکٹھا کردیا ،پھر اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا تھا ؟بندے نے کہا:من خشیتک یا رب وأنت أعلم دوسری روایت میں ہے:مخافتک یا رب!اے میرے رب تجھ سے ڈرتے ہوئے اور تو خوب جانتا ہے،چنانچہ اللہ نے اسے معاف کردیا ۔[بخاری:کتاب الرقاق ،باب الخوف من النار،کتاب احادیث الأنبیاء،باب حدیث الغار،مسلم:کتاب التوبۃ:باب فی سعۃ رحمۃ اللہ]
٭دخول جنت کاسبب:اللہ نے فرمایا:وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَان}[الرحمٰن:۴۶](اوراس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں)۔دوسرے مقام پر فرمایا:وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی ۔فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوَی}[النٰزعٰت:۴۰۔۴۱](ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے)۔اسی طرح حدیث میں ہے:عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ،آپ فرماتے تھے:یعجب ربک عز وجل من راعی غنم فی رأس شظیۃ بجبل یؤذن للصلاۃ ویصلی،فیقول اللہ عز وجل:انظروا الی عبدی ہذا یؤذن ویقیم للصلاۃ یخاف منی قد غفرت لعبدی وأدخلتہ الجنۃ‘‘[سنن أبی داؤد:کتاب صلاۃ السفر ،باب الأذان فی السفر،الصحیحۃ:۴۱]تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر (اکیلا ہوتے ہوئے)نماز کے لئے اذان کہتا اور نماز پڑھتا ہے،اللہ عزوجل فرماتا ہے:دیکھو میرے اس بندے کو جو نماز کے لئے اذان اور اقامت کہتا ہے اور مجھی سے ڈرتا ہے ،میں نے اپنے اس بندے کو بخش دیا اور جنت میں داخل کردیا۔
٭قیامت کے خوف سے نجات:حدیث قدسی میں ہے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وعزتی لا أجمع لعبدی أمنین ولا خوفین ان ہو أمننی فی الدنیا أخفتہ یوم أجمع فیہ عبادی وان ہو خافنی فی الدنیا أمنتہ یوم أجمع فیہ عبادی[صحیح ابن حبان :کتاب الرقائق ،باب حسن الظن باللہ تعالیٰ ،الصحیحۃ:۷۴۲،صحیح الترغیب والترہیب:۳؍۱۷۳]مجھے میری عزت کی قسم !میں اپنے بندے پر دو امن اور دو خوف جمع نہیں کرسکتا یعنی اگر میرا بندہ دنیا میں مجھ سے امن میں رہا (اللہ کے عذاب سے بے خوف اور مامون رہا)تو میں اسے بندوں کے حشر والے دن ڈراؤں گا ،اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہا تو لوگوں کے جمع ہونے والے (قیامت )کے دن اسے امن عطا کروں گا۔
دوسری حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ثلاث مہلکات وثلاث منجیات ،فقال:ثلاث
مہلکات:شح مطاع وہویً متبع واعجاب المرء بنفسہ ،وثلاث منجیات:خشیۃ اللہ فی السر والعلانیۃ والقصد فی الفقر والغنی والعدل فی الغضب والرضا‘‘[الصحیحۃ:۱۸۰۲]تین( برائیاں)ہلاک کرنے والی اور تین(نیکیاں)نجات دینے والی ہیں۔تین ہلاک کردینے والی برائیاں یہ ہیں:بخل جس کی پیروی کی جائے،خواہش نفس جس کے پیچھے چلا جائے اور بڑائی خور ہونا،تین نجات دینے والی نیکیاں یہ ہیں:خلوت وجلوت میں اللہ تعالیٰ کی خشیت،فقروغنی میں میانہ روی ،غضب ورضا میں عدل۔
اصل خشیت کیا ہے؟ :اصل خشیت یہ ہے کہ بندہ غائبانہ طور پر اور خلوت وجلوت میں معصیت کے ارتکاب اور فرائض کے ترک سے ڈرے،اور وہ یہ سوچے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے جس ذات کو مجھے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے اس ذات سے میں کسی بھی طرح چھپ نہیں سکتا،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:إِنَّ اللّہَ لاَ یَخْفَیَ عَلَیْْہِ شَیْْء ٌ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ فِیْ السَّمَاء}[آل عمران:۵](یقینا اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں)دوسری جگہ فرمایا:یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُور}[غافر:۱۹](وہ آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو (خوب)جانتا ہے)۔نیز فرمایا:وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْْنَ مَا کُنتُمْ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْر}[الحدید:۴](اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کررہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے)۔
اور اللہ سے ایسے ہی ڈرنے والے بندوں کے لئے گناہوں کی مغفرت،اجر عظیم اور جنت نعیم کا وعدہ کیا گیا ہے،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:إِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْْبِ لَہُم مَّغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ کَبِیْرٌ}[الملک:۱۲](بے شک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا ثواب ہے)۔اور فرمایا:وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْْرَ بَعِیْدٍ ۔ ہَذَا مَا تُوعَدُونَ لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیْظٍ ۔مَنْ خَشِیَ الرَّحْمَن بِالْغَیْْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِیْبٍ ۔ادْخُلُوہَا بِسَلَامٍ ذَلِکَ یَوْمُ الْخُلُودِ ۔لَہُم مَّا یَشَاؤُونَ فِیْہَا وَلَدَیْْنَا مَزِیْد}[ق:۳۱۔۳۵](اور جنت پرہیزگاروں کے لئے بالکل قریب کردی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی،یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو،جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو،تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے،یہ وہاں جو چاہیں انہیں ملے گا (بلکہ) ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے)۔۔
حدیث میں ہے:ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اتق اللہ حیثما کنت۔۔۔الحدیث[سنن ترمذی:أبواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی معاشرۃ الناس،صحیح الترغیب والترہیب:۲۶۵۵،الصحیحۃ:۱۳۷۳]تم جہاں کہیں بھی رہو اللہ سے ڈرو۔
غور کریں کیسی جامع نصیحت ہے ،یقینا آج لوگوں میںاسی قسم کے خوف کی ضرورت ہے،ورنہ مسجدوں میں ،لوگوں کے مجمع میں اور ظاہری طور پر ڈرنے والوں کی کمی نہیں ہے،جواپنے وضع قطع سے خوف وخشیت کا خوب اظہار کرتے ہیں مگر باطنی طور پر اللہ سے بے خوف ہوکر زندگی گزارتے ہیں۔
 
Top