بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
*ایک اچھی ساس کی پہچان*
*ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*
*.......................................................*
موجودہ سماج میں اور بالخصوص دیہاتوں میں ساس بہو کے جھگڑے ناقابل بیان ہیں، یہ مُسلَّمہ حقیقت ہے کہ آج جہالت کی وجہ سے اکثر ساسوں کا رویہ بہت تلخ ہو چکا ہے، کتنے گھرانے ہیں جو ساس کے ظلم اور بداخلاقی کے سبب اجڑ رہے ہیں، لہٰذا ضرورت ہے کہ جمعہ کے خطبات میں یا دینی پروگراموں میں اس جیسے حساس موضوعات پر گفتگو کی جائے، مضامین لکھے جائیں تاکہ پڑھ کر یا سن کر کچھ اصلاح ہوسکے، تو آج ہم آپ کو مختصراً یہ بتائیں گے کہ اچھی ساس کی پہچان کیا ہے تاکہ ہر ساس اپنے اندر ان پاکیزہ صفات کو اپنے اندر پیدا کرے اور مثالی ساس بنے، وہ اوصاف درج ذیل ہیں-
1) ساس دیندار ہو، روزہ نماز کی پابند ہو-
2) صبح جلد بیدار ہونے والی ہو اور اپنی بہو کو پیار وشفقت سے جگانے والی ہو-
3) ساس صبر کرنے والی ہو-
4) ساس اپنی طاقت کے مطابق اپنا کام خود کرنے والی ہو، نہ کہ ہر جگہ صرف اپنی بہو سے کام کرانے والی ہو-
5) ساس اپنی بہو کے کاموں پر شکر ادا کرنے والی ہو اور بہو کو خوب دعا دینے والی ہو-
6) ساس اپنی بیمار بہو کا علاج کرانے والی ہو-
7) ساس اپنی بہو کی غلطی پر نرمی سے ٹوکنے والی ہو اور اصلاح کرنے والی ہو-
8) ساس اپنی بہو پر خرچ کرنے والی ہو یعنی بخیل اور کنجوس نہ ہو-
9) ساس اپنی بہوؤں یا پوتوں پوتیوں کے درمیان انصاف کرنے والی ہو-
10) ساس اپنی بہو کو اپنی بیٹی ماننے والی ہو۔
11) اپنی بہو کی غلطیوں پر چشم پوشی سے کام لینے والی ہو، مزید بہو کی خامی خرابی کو دوسرے سے نہ بیان کرنے والی ہو-
12) اپنی بہو سے مشورہ کرنے والی ہو-
13) ساس اخلاق مند ہو، نہ کہ بات بات پر جھگڑنے یا بحث وتكرار کرنے والی نہ ہو-
14) ساس اپنی بہو کے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والی ہو-
15) ساس اپنی بہو کو اچھی نصیحت کرنے والی ہو، اللہ کے عذاب سے ڈرانے والی ہو-
16) ساس اپنی بہو کی نفسیات سمجھنے والی ہو، اور بہو کی جائز ضرورتوں کو پوری کرنے والی ہو-
17) ساس اپنی بہو کو اس کے گھر یعنی میکے آنے جانے سے نہ روکنے والی ہو-
18) ساس اپنی بہو کو ہدیہ، تحفہ تحائف دینے والی ہو-
19) ساس اپنی بہو کی عزت کرنے والی ہو اس کے اچھے نام سے بلانے والی ہو-
20) ساس اپنی بہو کی خوشی غمی میں برابر شریک رہنے والی ہو-
یہ کچھ صفات اور خصوصیات ہیں جو ہر ایک ساس کے اندر لازمی طور پر ہونا چاہیے تبھی وہ ساس کہلانے کے لائق ہوگی، ساس کا مطلب ہی ہوتا ہے کہ وہ بہو کے لیے ایک ماں کا کردار پیش کرے اور ماں ہمیشہ اپنی بیٹی کے لیے خیرخواہ ہوتی ہے، لہٰذا ہر ساس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی بہو کے ساتھ اچھا سلوک کرے، مل جل کر رہے، اختلاف اور جھگڑے سے دور رہے، لیکن یاد رہے کہ اگر ساس نے کہیں اپنی بہو پر کسی بھی طرح کا ظلم ڈھایا یا ناحق سختی کی تو اللہ ضرور انتقام لے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ظلم کی سزا نہیں ٹالتا ہے، اس لیے ہر ایک شخص کو چاہیے کہ وہ ظلم سے بچے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
13 /10/2020
 
Top