بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم​
ان اللّٰہ وملائکتہ یصلون علی النبی یا ایہا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما
اللہ اپنے نبی پر رحمتیں نازل فرماتا ہے اور فرشتے نبی کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں ٗاے لوگو جو ایمان لائے ہو !تم بھی نبی پر درود وسلام بھیجو۔ (سورۃ الأحزاب :آیت نمبر:۵۶)
درود شریف کے فضائل ومسائل
(تلخیص کتاب:درود شریف کے مسائل ۔محمد اقبال کیلانی)

تلخیص از
ابو حمدان محمد اشرف فیضی
(ناظم:جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ ٗآندھرا پردیش)

درود شریف کا مطلب
اللہ تعالیٰ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا مطلب رحمت نازل کرنا ہے اور فرشتوں یا مسلمانوں کا آپ پر درود بھیجنے کا مطلب رحمت اور بلندی درجات کی دعا کرنا ہے ۔
حدیث:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی نماز کی جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی ہے ٗبیٹھا رہے اور اس کا وضو نہ ٹوٹے ٗتب تک فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں اور یوں کہتے ہیں :اللہم اغفر لہ ٗاللہم ارحمہ یا اللہ اس کو بخش دے ٗاس پر رحم فرما۔(بخاری)دوسری حدیث میں ہے :عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صف کے دائیں طرف کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ (ابوداؤد ۔حسن)
تمام انبیاء پر درود بھیجنے کا حکم:
درود صرف انبیائے کرام پر ہی بھیجنا چاہئے ۔
حدیث:عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کے علاوہ کسی پر درود نہ بھیجو البتہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کرو ۔ (فضل الصلاۃ علی النبی۔صحیح)
درود شریف کی اہمیت وفضیلت احادیث کی روشنی میں:
(۱) ایک مرتبہ درود پڑھنے سے اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ٗدس گناہ معاف فرماتا ہے اور دس درجات بلند فرماتا ہے ۔
حدیث:انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا ٗاللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا ٗاس کے دس گناہ معاف فرمائے گا اور دس درجے بلند فرمائے گا ۔ (نسائی۔صحیح)
(۲) کثرت سے درود پڑھنے والے قیامت کے دن جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہوں گے۔
حدیث:عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص مجھ پر بکثرت درود بھیجتا ہے ٗقیامت کے روز سب سے زیادہ میرے قریب ہوگا ۔ (ترمذی ۔صحیح)
(۳) درود شریف گناہوں کی مغفرت اور تمام دکھوں ٗمصیبتوں اور غموں سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔
حدیث:ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ٗاے اللہ کے رسول !میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں ٗاپنی دعا میں سے کتنا وقت درود کے لیے وقف کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جتنا تو چاہے ٗمیں نے عرض کیا ایک چوتھائی صحیح ہے؟آپ نے فرمایا:جتنا تو چاہے لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لیے اچھا ہے ٗمیں نے عرض کیا نصف وقت مقرر کر دوں ؟آپ نے فرمایا:جتنا تو چاہے لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لیے اچھا ہے ٗمیں نے عرض کیا دو تہائی مقرر کر دوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جتنا تو چاہے ٗلیکن اگر اس سے زیادہکرے تو تیرے ہی لیے بہتر ہے ۔میں نے عرض کیا :میں اپنی ساری دعا کا وقت درود کے لیے وقف کرتا ہوں ٗاس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ تیرے لیے سارے دکھوں اور غموں کے لیے کافی ہوگا اور تیرے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا۔ (ترمذی۔حسن)
(۴) دس مرتبہ صبح ٗدس مرتبہ شام درود پڑھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنے کا باعث ہے ۔
حدیث:ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے دس مرتبہ صبح ٗدس مرتبہ شام کے وقت مجھ پر درود بھیجا اسے روز قیامت میری سفارش حاصل ہوگی ۔ (طبرانی ۔حسن)
(۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سننے کے بعد درود نہ پڑھنے والے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرمائی ہے ۔
حدیث:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:رسوا ہو وہ آدمی جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے ۔ (ترمذی ۔صحیح)
(۶) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجنے والا بخیل ہے ۔
حدیث:علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے ٗوہ بخیل ہے ۔ (ترمذی ۔صحیح)
(۷) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجنا قیامت کے دن باعث حسرت ہوگا۔
حدیث:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس مجلس میں لوگ اللہ کا ذکر نہ کریں ٗاور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجیں وہ مجلس قیامت کے دن ان لوگوں کے لیے باعث حسرت ہوگی خواہ وہ نیک اعمال کے بدلے میں ہی جنت میں چلے جائیں۔ (مسند احمد ٗصحیح ابن حبان ٗمستدرک حاکم۔صحیح)
(۸) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجنا جنت سے محرومی کا باعث ہوگا۔
حدیث:عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا اس نے جنت کا راستہ کھو دیا ۔ (ابن ماجہ ۔صحیح)
(۹) جس دعا سے قبل درود نہ پڑھا جائے وہ دعا قبول نہیں ہوتی۔
حدیث:انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے ٗکوئی دعا قبول نہیں کی جاتی ۔ (طبرانی ۔حسن)
(۱۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سن کر درود نہ بھیجنے والے کے لیے جبریل علیہ السلام نے بددعا فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہی۔
حدیث:کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر لانے کا حکم دیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا:آمین ٗپھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا:آمین ٗپھر تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا:آمین ٗخطبہ سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے تو صحابہ نے عرض کیا :آج آپ سے ہم نے ایسی بات سنی ہے جو اس سے پہلے نہیں سنی تھی ٗرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا :ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اپنے گناہ نہ بخشوائے ٗمیں نے جواب میں کہا :آمین ٗپھر جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا :ہلاکت ہو اس آدمی کے لیے جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے لیکن وہ آپ پر درود نہ بھیجے ٗمیں نے جواب میں کہا آمین ٗجب تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی عمر میں پایا لیکن ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کی ٗمیں نے جواب میں کہا آمین ٗ(مستدرک حاکم ۔صحیح)
درود شریف پڑھنے کے مواقع:
٭ نماز ختم کرنے سے پہلے درود پڑھنا مسنون ہے۔ (ترمذی۔صحیح)
٭ نماز جنازہ میں دوسری تکبیر کے بعد درود پڑھنا مسنون ہے ۔ (بیہقی ٗمسند شافعی ۔صحیح)
٭ اذان سننے کے بعد دعا مانگنے سے پہلے درود پڑھنا مسنون ہے ۔ (مسلم)
٭ اہل ایمان کو ہر وقت ٗہر جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم ہے ۔ (مسند احمد۔صحیح)
٭ جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود پڑھنا چاہئے۔ (حاکم ٗبیہقی ۔صحیح)
٭ دعا مانگنے سے پہلے اللہ کی حمد وثنا کے بعد درود پڑھنے کا حکم ہے ۔ (ترمذی ۔صحیح)
٭ گناہوں کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے درود پڑھنا مسنون ہے ۔ (ترمذی ۔صحیح)
٭ تکلیف ٗمصیبت ٗرنج وغم کے موقع پر درود پڑھنا مسنون ہے ۔ (ترمذی۔ حسن)
٭ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سننے ٗ پڑھتے یا لکھتے وقت درود پڑھنا مسنون ہے۔ (ترمذی ۔صحیح)
٭ ہر صبح اور شام درود پڑھنا مسنون ہے ۔ (طبرانی ۔حسن)
درود شریف کے مسنون الفاظ:
حدیث:عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں:مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے ٗکیا میںتمہیں وہ چیز ہدیہ نہ دوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟میں نے کہا :کیوں نہیں ضرور۔کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے :صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو بتایا ہے ہم آپ پر اور اہل بیت پر درود کیسے بھیجیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الفاظ میں درود بھیجا کرو :اللٰہم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید ٗاللٰہم بارک علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید (بخاری)
نوٹ:مذکورہ درود کے علاوہ کتب احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح دوسرے الفاظ میں بھی مختلف درود بیان کیے گئے ہیں انہیں بھی پڑھا جاسکتا ہے مگر معاشرے میں رائج بہت سے خود ساختہ درود مثلاً:درود تاج ٗدرود لکھی ٗدرود مقدس ٗدرود اکبر ٗدرود ماہی ٗدرود تنجینا وغیرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں ۔
درود شریف سے متعلق غلط مسائل:
٭ اذان سے قبل درود پڑھنا سنت سے ثابت نہیں۔
٭ کسی بھی فرض نماز کے بعد بآواز بلند اجتماعی درود پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ۔
٭ نماز جمعہ کے بعد کھڑے ہو کر بآواز بلند اجتماعی درود پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ۔
دعوت ِ عمل
انسان کی زندگی اللہ کی ایک بڑی امانت ہے ٗاسے لہو ولعب میں ضائع کرنا عظیم خسارے کا باعث ہے ٗ ہر انسان سے اس کی زندگی کے ایک ایک لمحے کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا ٗاس کی پیدائش کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے ۔اس لیے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مقصد تخلیق کی فکر کرتے ہوئے زندگی کے ایک ایک لمحے کی قدر کرے اور اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں مشغول رکھے ٗدنیوی واخروی کامیابی کا راز اسی میں مضمر ہے ۔اللہ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے ۔آمین
 
Top