موسم سرما میں شرعی سہولیات کے چند مظاہر

✍: مامون رشید ہارون رشید سلفی.
کائنات کے اندر موسموں کی تبدیلی اور سردی وگرمی کا باہمی تعاقب اللہ رب العالمین کی قدرت کاملہ اور ربوبیت تامہ کی دلیل ہے یہ اللہ کی عظیم قدرت ہی کا مظہر ہے کہ اللہ نے سال میں دو موسم بنائے جن کا ذکر قرآن پاک کے سورہ قریش میں کچھ اس طرح وارد ہے: "لإيلاف قريْش" إِيلافهمْ رحلة الشتاء والصّيف" (ہم نے ابرہہ اور اس کی فوج کے ساتھ جو کچھ کیا) قریش کو مانوس بنانے کے لئے کیا،انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس بنانے کے لئے کیا-(تفسیر تیسیر الرحمن) قرآن کریم میں لفظ "شتاء" (جاڑا) کا ذکر صرف ایک بار آیا ہے محققین کہتے ہیں کہ سال میں صرف دو موسم ہوتے ہیں ایک سردی دوسرا گرمی چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"الشتاء نصف السنة ، والصيف نصفها" جاڑا سال کا ادھا ہے اور گرمی آدھا -(تفسیر القرطبی:20/207)
"جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ: زمانے اور موسم کی چار قسمیں ہیں:جاڑا ،سردى، بہار اور خزاں "امام ابن العربی اس قول کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:"جو بات امام مالک رحمہ اللہ نے کہی ہے وہی صحیح ترین ہے کیونکہ اللہ رب العالمین نے زمانے کو دو ہی قسموں میں تقسیم کیا ہے کوئی تیسری قسم بیان نہیں کی ہے"(احکام القرآن:4/451)
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے ان موسموں کے کچھ باطنی اسباب بھی بیان کئے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں:"جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب ! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھالیا ہے ۔تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی ، ایک سانس جاڑے میں اور ایک گرمی میں ۔ تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو ، اس کا یہی سبب ہے ۔( بخاری 3260، مسلم 1401)

قارئین کرام ابھی ہم جس موسم کا استقبال کر رہے ہیں وہ جاڑے کا موسم ہے اور اللہ کی قدرت سے جب اس کی ٹھنڈی میں شدت آ جاتی ہے تو کمزور یا بڑے بوڑھے اور بیمار قسم کے لوگوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،عبادات انجام دینے کے لیے پانی استعمال کرنے یا مسجد جانے یا اس طرح کے دیگر اعمال انجام دینے کی وجہ سے انہیں بیماری اور ضرر لاحق ہونے کا اندیشہ رہتا ہے لیکن چونکہ مذہب اسلام آسانی اور رحمدلی کا پیکر ہے اور اپنے متبعین کو ہر قسم کے اضرار وخطرات سے محفوظ رکھنے کا حل اپنے اندر رکھتا ہے اس لیے جاڑے کے موسم میں لوگوں کو پیش آنے والی پریشانیوں اور مشقتوں کا علاج بھی بعض آسانیوں اور سہولیات کی صورت میں امت مسلمہ کو عطا کر دیا ہے جن میں سے چند چیزوں کا ذکر میں اس تحریر کے اندر کروں گا ان شاء اللہ.
اس سے پہلے کہ میں اصل موضوع کی وضاحت کروں مشقت اور حرج کے تعلق سے ایک اہم ترین اسلامی اصول"المشقة تجلب التيسير" (مشقت آسانیاں لے آتی ہے) کے دلائل کا ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ اس مضمون کے مسائل کا دار و مدار اسی قاعدہ پر ہے:
قرآن کے اندر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(1) "يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر"(البقرة 185) اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے سختی وتنگی نہیں چاہتا-

(2) "لا يكلف الله نفسا إلا وسعها"( البقرة، 282) اللہ کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا-
(3) "ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به"( البقرة، 286) اے ہمارے رب ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال، جیسا کہ تو نے ہم سے پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب ! اور ہم پر اس قدر بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہ ہو -

(4) "يريد الله أن يخفف عنكم"(النساء،28)اللہ تعالیٰ تم سے بوجھ کو ہلکا کر دینا چاہتا ہے،
(5) "ما يريد الله ليجعل عليكم من حرج"( المائدة،6) اللہ تعالیٰ تمہیں کسی تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا-

(6) "وما جعل عليكم في الدين من حرج"(الحج،78) اور اس نے تمہارے لیے دین میں کسی طرح کی تنگی نہیں رکھی-
(7) "لا تكلف نفس إلا وسعها" (البقرة 233)کسی پر اس کے مقدور سے زیادہ بار نہ ڈالا جائے۔
(8) "لا نكلف نفسا إلا وسعها"( الأنعام 152، الأعراف 42، المؤمنون 62) ہم( اللہ تعالیٰ ) کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے-
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے:"فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم، وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه"(بخاری 7288, مسلم 1337 یہ مسلم کے الفاظ ہیں) جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔
نیز فرمایا:" بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ ( کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو" (صحیح بخاری: 39)
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ کو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو ۔(بخاری 3560 , مسلم 2327)
ان تمام آیات واحادیث اور اجماع صحابہ وسلف امت سے یہ قاعدہ بلکل واضح اور ثابت ہو جاتا ہے کہ جہاں بھی مشقت آئے گی وہاں اسے دور کرنے کے لیے شرعی سہولیت بھی حاضر ہو جائے گی بشرطیکہ وہ مشقت حقیقتاً شرعی نقطہ نگاہ سے مشقت ہو.
اب ہم موسم سرما میں شرعی سہولیات کے چند مظاہر کو دلائل کی روشنی میں ذکر کریں گے ملاحظہ فرمائیں:

اول: سخت ٹھنڈی کی وجہ سے گرم پانی سے وضو کا جواز -
شریعت اسلامیہ میں گرم پانی بھی عام پانیوں ہی کی طرح ہے جس میں طاہر ومطہر دونوں وصف موجود رہتا ہے، گرم ہونے کے باوجود اس کے وصف طہوریت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی گرچہ وہ اپنی اصل حقیقت وخلقت پر باقی نہیں رہتا-چنانچہ امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"گرم پانی من جملہ ان پانیوں میں سے ہے جن سے لوگوں کو طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے...اور (سلف صالحین میں سے) جن سے ہم نے گرم پانی سے وضو کا جواز نقل کیا ہے ان میں عمر بن خطاب، ابن عمر، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم ہیں-"(الأوسط لابن المنذر 1/250)
لہذا خواہ ٹھنڈا پانی استعمال کرنے میں پریشانی ہو یا نہ ہو ہر حال میں گرم پانی سے وضو کرنا جائز ہے.. لیکن کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر گرم پانی کے بجائے مشقت برداشت کرتے ہوئے ٹھنڈے پانی سے وضو کریں گے تو یہ افضل ہوگا اور اس سے زیادہ ثواب ملے گا-یہ سراسر غلط فہمی کا نتیجہ ہے اگر دونوں قسم کا پانی موجود ہو یا ٹھنڈے پانی کو گرم کیا جا سکتا ہو تو گرم پانی سے وضو کرنا ہی افضل ہے کیونکہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ کو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو ۔(بخاری 3560 , مسلم 2327) لہذا سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے سہولت اور آسانی کو ترجیح دینا ہی افضل ہے البتہ اگر گرم پانی موجود نہ ہو یا پانی گرم کرنے کے وسائل مہیا نہ ہوں تو ایسی صورت میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا بیش بہا فضائل کا حامل ہے، اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:"تین چیزیں گناہوں کو مٹانے والی ہیں، تین چیزیں درجات کو بلند کرنے والی ہیں، تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں، جہاں تک گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کا تعلق ہے تو وہ سخت ٹھنڈی کی حالت میں قاعدے سے مکمل طور پر وضو کرنا...ہے"(صحیح الترغیب 453 حسن لغیرہ)

دوم: سخت ٹھنڈی کی وجہ سے وضو یا غسل جنابت کے بدلے تیمم سے طہارت حاصل کرنے اور نماز پڑھنے کا جواز-
کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:"اور اگر تم مريض ہو يا مسافر يا تم ميں سے كوئى ايک قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو، يا پھر تم نے بيوى سے جماع كيا ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ اور طاہر مٹى سے تيمم كر لو-(المائدة 6)
اس آيت ميں دليل ہے كہ جو مريض شخص پانى استعمال نہ كرسكتا ہو يا پھر اسے غسل كرنے سے موت كا خدشہ ہو، يا مرض زيادہ ہونے كا، يا مرض سے شفايابى ميں تاخير ہونے كا ، يا پھر شديد سردى ميں پانى استعمال كرنے سے کسی کمزور وناتواں اور بوڑھے شخص کو بیمار ہونے یا بيمارى ميں مزید اضافہ ہونے كا خدشہ ہو اور پانى گرم كرنے كے ليے كوئى چيز نہ ہو تو وہ تيمم كر لے-حضرت عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
" غزوہ ذات سلاسل ميں شديد سرد رات ميں مجھے احتلام ہوگيا اس ليے مجھے يہ خدشہ پيدا ہوا كہ اگر ميں نے غسل كيا تو ہلاک ہو جاؤں گا اس ليے ميں نے تيمم كر كے اپنے ساتھيوں كو فجر كى نماز پڑھا دى، چنانچہ انہوں نے اس واقعہ كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے ذكر كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:
" اے عمرو كيا آپ نے جنابت كى حالت ميں ہى اپنے ساتھيوں كو نماز پڑھائى تھى ؟
چنانچہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو غسل ميں مانع چيز كا بتايا اور كہنے لگا كہ ميں نے اللہ تعالى كا فرمان سنا ہے:
اور تم اپنى جانوں كو ہلاک نہ كرو، يقينا اللہ تعالى تم پر رحم كرنے والا ہے( النساء 29 ).
چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مسكرانے لگے اور كچھ بھى نہ فرمايا "
(سنن ابی داود :334 وصححہ الالبانی)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اس حديث ميں اس بات كا جواز پايا جاتا ہے كہ سردى وغيرہ كى بنا پر اگر پانى استعمال كرنے سے ہلاكت كا خدشہ ہو تو تميم كيا جا سكتا ہے، اور اسى طرح تيمم كرنے والا شخص وضوء كرنے والوں كى امامت بھى كروا سكتا ہے.( فتح البارى 1 / 454 )

سوم:سخت ٹھنڈی کی وجہ سے موزوں،جرابوں، جوتوں، پگڑیوں اور عورتوں کے سروں پر بندھی چادروں پر مسح کا جواز-
موزوں پر مسح کرنا بالاجماع جائز ہے بلکہ یہ اہل سنت کے خصائص میں سے ہے کیونکہ شیعہ رافضی حضرات موزوں پر مسح نہیں کرتے ہیں, اور موزہ خواہ کسی بھی چیز سے بنا ہو اور اس کی نوعیت خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو جس پر بھی (خف) موزہ کا اطلاق ہوتا ہے اس پر مسح کیا جائے گا موٹا ہونا چاہیے یا چمڑے کا ہونا چاہیے یا اس طرح کی کوئی بھی شرط شریعت مطہرہ میں ثابت نہیں ہے -
موزوں پر مسح کے دلائل احادیث نبویہ میں بالتواتر منقول ومروی ہیں جن میں سے بعض صحیحین اور بغض دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مجھ سے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے"( 1/226)

جرابوں (چمڑے کے علاوہ کپڑے وغیرہ سے بنا ہوا پیر کا لباس) اور جوتوں پر مسح کرنا بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے. حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :"اللہ کے رسول نے وضو کیا تو موزوں اور جوتوں پر مسح کیا"(ابو داؤد 159، ترمذی 99
صححہ الالبانی فی الارواء ح: 101)
اسی طرح اوس بن ابی اوس ثقفی اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مرفوعا اللہ کے رسول کا جوتوں پر مسح کرنا ثابت ہے .(ملاحظہ فرمائیں:سنن ابی داؤد 150 ، صحیح ابن خزیمہ 109 وصححہما الالبانی رحمہ اللہ) اور حضرت علی وابن عباس سے موقوفا ایسا کرنا ثابت ہے. (ملاحظہ فرمائیں مصنف عبد الرزاق 783 و784 وصححہ الالبانی فی صحیح ابی داؤد 156)

پگڑیوں پر مسح کی دلیل مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث"اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے وضو کیا تو اپنی پیشانی پگڑی اور موزوں پر مسح کیا( بخاري 182 مسلم274 واللفظ له).
موزوں جرابوں جوتوں اور پگڑیوں پر مسح عام حالات میں بھی جائز ہے اور جواز کی علت بندوں کو بار بار اتارنے اور پہننے کی مشقت سے بچانا ہے لہذا ٹھنڈی کے موسم میں جب کہ مشقت مزید بڑھ جاتی ہے ان چیزوں کا مسح بدرجہ اولی جائز ہوگا-

چہارم: سخت ٹھنڈی کی وجہ سے گھروں میں نماز پڑھنے کا جواز.
نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں: کہ انہوں نے سردی ،ہوا اور بارش و الی ایک رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا:" سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو،سنو! گھروں میں نماز پڑھو،"پھر کہا: جب سفر میں رات سرد یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے" أَلَا صَلُّوا فِی رحَالِکُم) "سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔"(بخاری 632 مسلم 1601)
اسی طرح حضرت نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ:ایک ٹھنڈی والے دن فجر کی اذان دی گئی اس حال میں کہ حضرت نعیم اپنی بیوی کے چادر میں تھے تو انہوں نے کہا کاش موذن کہتا کہ جو شخص گھر میں رہ جائے اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے تو اللہ کے رسول کے موذن نے اذان کے اخیر میں کہا"من قعد فلا حرج" کہ جو شخص گھر میں رہ جائے اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے"(مصنف عبد الرزاق 1926 وصححہ الالبانی فی الصحیحۃ 2605)
ان دونوں حدیثوں سے پتا چلتا ہے کہ اگر سخت ٹھنڈی کی وجہ سے گھروں سے نکلنا مشکل ہو یا بیماری یا کسی بھی قسم کی مشقت کا اندیشہ ہو تو بجائے مسجد کے گھروں میں نماز پڑھ لینا جائز ہے .
امام نووی جماعت ترک کرنے کو جائز قرار دینے والے اعذار بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"سخت ٹھنڈی عذر ہے خواہ رات میں ہو یا دن میں، اور سخت گرمی عذر ہے ظہر کی جماعت کے لیے اور برف باری بھی عذر ہے اگر اس سے کپڑا بھیگ جائے"( المجموع 4/99)

پنجم:سخت ٹھنڈی کی وجہ سے جمع بین الصلاتین کا جواز.
اگر جاڑے کی شدت کی وجہ سے بار بار مسجد میں جمع ہونا لوگوں کے لیے مشقت پریشانی اور حرج کا باعث ہو تو ایسی صورت میں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ جمع کر کے ایک ہی وقت میں پڑھ لینا جائز ہے. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر،عصر اور مغرب،عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔وکیع کی روایت میں ہے(سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا:تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔(صحیح مسلم :1632)
اس حدیث میں مذکور ہے کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے بغیر کسی عذر کے ایسا کیا تھا اس وجہ سے بعض علما بلا کسی معقول عذر کے بھی محض انسانی حاجات کی وجہ سے جمع بین الصلاتین جائز سمجھتے ہیں جیسے ابن عباس ابن سیرین اشہب قفال شاشی ابو اسحاق مروزی اور امام ابن المنذر وغیرہم لیکن راجح قول کے مطابق اگر کسی قسم کی پریشانی یا حرج میں واقع ہونے کا خدشہ ہو - جیسا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آپ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں- تبھی جمع بین الصلاتین جائز بلکہ سنت و مستحب ہے.
چونکہ سخت ٹھنڈی جس سے انسان کو ضرر لاحق ہونے کا خطرہ ہو عذر ہے لہذا اس کی وجہ سے بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے چنانچہ اس کا جواز حضرت عبد اللہ بن عمر سے ثابت ہے اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ شیخ ابن عثیمین شیخ عبید الجابری شیخ سلیمان الماجد اور شیخ ولید بن راشد السعیدان نے بھی جواز کا فتویٰ دیا ہے (ملاحظہ فرمائیں: مجموع الفتاویٰ 24/29 موقع الشیخ ابن عثیمین ، موقع میراث الانبیاء...)

ششم: سخت ٹھنڈی کی وجہ سے ہیٹر کی طرف منھ کر کے نماز پڑھنے کا جواز.
آگ کے پرستار مجوسیوں کی مشابہت کی وجہ سے آگ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا حرام ہے لیکن گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیٹر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے.

ہفتم: منھ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا جواز.
حدیث کے اندر وارد ہے :"اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے نماز میں سدل کرنے اور منھ ڈھانپ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے"( صحیح ابن حبان 2353 ، سنن ابی داود 643 ، ترمذی 387 وصححہ الالبانی)
یہ حدیث میرے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ امام ابن باز نے اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے البتہ جو لوگ اسے صحیح سمجھتے ہیں ان کے حساب سے عام حالات میں سدل کرنا اور منھ ڈھانپ کر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے.
سدل کہتے ہیں کسی کپڑے کو بدن پر ڈال کر اس کے دونوں اطراف کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا نہ جائے...
لیکن شدید ٹھنڈی کی وجہ سے سے اگر کوئی شخص منھ ڈھانپ کر نماز پڑھتا ہے تو المشقۃ تجلب التیسیر کے تحت یہ بھی جائز ہے.
ان کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں ہیں لیکن طوالت کے خوف سے انہیں کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت کو صحیح سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
 
Top