*صلاۃ الفجر اور تلاوت قرآن سے دن کا آغاز*

(صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی )

اسلامی بھائیو! اسلامی تعلیم، اسلامی تہذیب، اسلامی روایات، اسلامی کرداروں کی حفاظت میں ہی ہماری کامیابی مضمر ہے، اسلاف کرام کی زندگی میں ہمارے لئے درس سے آفریں ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہمارے اوپر فرض عین ہے۔
مگر آج افسوس صد افسوس! اللہ اور اس کے رسول کا کلمہ پڑھنے والا مسلمان اس سے غافل ہے، مسلمان خود اور اپنے اہل وعیال کو اگر صرف صلاۃ الفجر اور صبح کو تلاوت قرآن کو اپنے گھر میں نافذ کر دے، تو بہت ساری بھلائیاں، خیروبرکت اس کی قدم بوسی کریں گی
مگر حالت یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے بچے دیر رات تک ہنسی مذاق، کھیل کود، اور موبائل کی لغویات میں پڑے رہتے ہیں، اور پھر سورج طلوع ہونے کے بعد بڑی مشکل سے اٹھتے ہیں، اور اپنی بری حرکت کو ماڈرن کہہ کر فخر کرتے اور خوش ہوتے ہیں۔
جبکہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں پورے دن کے شیڈول کو پارہ پارہ کر دیا--
اسلامی بھائیو! کم ازکم فجر کی اذان کے ساتھ اٹھئے،گھر کے افراد کو بیدار کیجئے، اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر فجر کی دو رکعت سنت ادا کیجئے، آپ کو پہلی بھلائی عطا ہوگی۔
حدیث شریف ہے: عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
روایت کرتی ہیں کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :فجر کی دو رکعت (سنت )پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ،اس سے بہتر ہیں ’‘
(صحیح مسلم)
باجماعت فجر کی صلاة ادا کیجیئے، دوسری بھلائی آپ کو عطا ہوگئی۔
پھر صلوٰۃ کے بعد کے اذکار و صبح و شام کی دعاؤں اور تلاوت قرآن کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کیجئے۔ اب آپ اپنے پورے دن کا شیڈول، پنج وقت صلاة کیساتھ ترتیب دیجئے، اور پھر دیکھئے کتنی بھلائیاں اور برکتیں آپ کے دامن گیر ہو جاتی ہیں، اور آپ بڑے سے بڑا کام وقت کی پابندی کے ساتھ آسانی و خندہ پیشانی، خوش و خرم، چستی و تندہی کیساتھ مکمل طور پر انجام دینے میں کامیاب ہو جائیں گے-
اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائے۔ آمین۔۔۔۔۔
 
Top