نام: ندیم وجدان
رہائش: واہ کینٹ
سرکاری ملازم ہوں۔۔۔شادی شدہ دو بچے ہیں۔
دینی تعلیم وفاق المدارس السلفیہ سے شہادۃ العالیہ۔۔۔۔دنیاوی تعلیم میں ایجوکیشن میں ماسٹر
 
کسی کلمہ گو مسلمان کو قادیانی کہنا کیسا ہے ۔قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کی تکفیر کرے۔اگرچہ وہ مسلمان گناہ گار اور فاسق وفاجر ہی کیوں نہ ہو۔

نبی کریم نے فرمایا:"إذا قال الرجل لأخيه يا كافر فقد باء بها أحدهما"(بخاری: 6103)جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو اے کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک ضرور کافر ہو جاتا ہے۔

ایک جگہ فرمایا:"لَعْنُ المُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ (البخاری:6105)"مسلمان کو لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی مانند ہےاورمسلمان کی تکفیر کرنا اس کو قتل کرنے کی مانند ہے ۔ایک اور صحیح مسلم حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"إن قال الرجل لأخيه كافر فإن كان كما قال وإلا رجعت عليه"اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے ،اور وہ کافر ہی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ وہ کفر اس کہنے والے پر لوٹ آئے گا۔(صحیح المسلم :60)

اور ارشاد بارتعالیٰ ہے : ’’وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا‘‘ (النساء: 94) ’’اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں۔‘‘

اسی طرح حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ‘‘’’جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے‘‘(سنن ابی داودحدیث نمبر:3597 حکم البانی: صحيح)

اب اگر کوئی کسی کو کافر یا قادیانی کہتا ہے تو اس حدیث کے مطابق اسنے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالیا ہے جب تک وہ توبہ نہ کرلے اگر وہ توبہ کرنے کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو اسکی نجات نہ ممکن ہے ۔

مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہین کہ وہ کسی کلمہ گو مسلمان کو کافر قرار دے الا یہ کہ اس اندر تکفیر کی ساری شروط اور موانع موجود ہوں اور یہ کام صرف راسخ علماء ہی کر سکتے ہیں ۔

واللہ اعلم
 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ذہنی مریض ہوں اور یکم نومبر2020 کو مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی افاقہ ہونے پر میری بیوی نے بتایا کہ میں اس کے لیے تین بار طلاق کے الفاظ استعمال کر چکا ہوں ،آیا کہ یہ طلاق واقع ہو چکہی ہے یا نہیں ۔قرآن وحدیث کی روشنی میں فتوی مطلوب ہے ؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بے ہوشی کی حالت میں دی ہوئی طلاق قرآن و سنت کی روشنی میں واقع نہیں ہوتی جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ’’ بَابُ الطَّلاَقِ فِي الإِغْلاَقِ ‘‘کےتحت بیان کرتے ہیں کہ ’’ لقول النبي صلى الله عليه وسلم: «الاعمال بالنية ولكل امرئ ما نوى» . وتلا الشعبي: {لا تؤاخذنا إن نسينا او اخطانا} وما لا يجوز من إقرار الموسوس. وقال النبي صلى الله عليه وسلم للذي اقر على نفسه: ابك جنون وقال عثمان ليس لمجنون ولا لسكران طلاق وقال علي الم تعلم ان القلم رفع عن ثلاثة عن المجنون حتى يفيق، وعن الصبي حتى يدرك، وعن النائم حتى يستيقظ. وقال علي وكل الطلاق جائز إلا طلاق المعتوه. ‘‘(البخاری،كِتَاب الطَّلَاقِ،بَابُ الطَّلاَقِ فِي الإِغْلاَقِ،رقم الحدیث :5269)​

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام کام نیت صحیح پر ہوتے ہیں اور ہر ایک آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے اور عامر شعبی نے یہ آیت پڑھی «لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا‏» اور اس باب میں یہ بھی بیان ہے کہ وسواسی اور مجنون آدمی کا اقرار صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جو زنا کا اقرار کر رہا تھا۔ کہیں تجھ کو جنون تو نہیں ہے۔اور عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا مجنون اور نشہ والے کی طلاق نہیں پڑے گی ۔ اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تین آدمی مرفوع القلم ہیں (یعنی ان کے اعمال نہیں لکھے جاتے) ایک تو پاگل جب تک وہ تندرست نہ ہو، دوسرے بچہ جب تک وہ جوان نہ ہو، تیسرے سونے والا جب تلک وہ بیدار نہ ہو۔ اور علی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر ایک کی طلاق پڑ جائے گی مگر نادان، بیوقوف (جیسے دیوانہ، نابالغ، نشہ میں مست وغیرہ) کی طلاق نہیں پڑے گی۔

اسی طرح یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ابو داؤد میں بھی مروی ہے ’’عن ابن عباس، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رفع القلم عن ثلاثة عن المجنون المغلوب على عقله حتى يفيق، وعن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم‘‘، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے“ (سنن ابي داود،حدیث نمبر: 4401)

لہذا جنون یعنی بے ہوشی کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔سائل کی بیوی کو شرعاْْ طلاق واقع نہیں ہوئی ۔



واللہ اعلم
 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بیٹا محمد اسلم فوت ہو گیا ہے ۔اس کی ایک بیوی ہے اولاد موجود نہیں ہے۔باپ دو بھائی اور چار بہنین زندہ ہیں ۔اسکی وراثت کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی نیز سسر کی وراثت میں سے اس کا کچھ حصہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سسر زندہ ہے ؟

سائل محمد صدیق ولد محمد اسماعیل

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محمد صدیق کے بیٹے کی وراثت مندرجی ذیل طریقے سے تقسیم ہو گی۔​

  • بیوی کو فوت شدہ خاوند کی کل جائیداد( ترکہ) میں سے 4/1 حصہ دیا جائے گا اور باقی 4/3 حصہ باپ کو دیا جائے گا۔ بھائیوں اور بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ کیونکہ باپ قریب ترین عصبہ ہے صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے’’اقسموا المال بين اهل الفرائض على كتاب الله، فما تركت الفرائض، فلاولى رجل ذكر "ترجمہ”مال اللہ کی کتاب کے مطابق اہل فرائض میں تقسیم کرو اور جو کچھ ذوی الفروض چھوڑیں قریبی مرد اس کا زیادہ حقدار ہے۔“(صحیح مسلم حدیث نمبر 4143)
  • سسر زندہ ہو تو وہ اپنی جائیداد کا خود مالک ہے اورسسر اگر فوت ہو جائے تو اس کی وراثت سے بہو کا کوئی حصہ بھی قرآن و حدیث میں موجود نہیں جو ترکہ وہ چھوڑ جائے گا وہ اس کے صرف زندہ ورثاء کو ملے گا۔


واللہ اعلم
 
کیا باپ کی موجودگی میں بیٹا اپنی بہن کا ولی بن سکتا ہے ؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے عقد کے لیے ولی کی شرط اہم ترین شرط ہے اس کے بغیر قرآن و حدیث کے مطابق عورت کا نکاح باطل قرار پاتا ہے ۔ اللہ رب العزت نے نکاح کی ولایت میں عورت کی مصلحت و خیر خواہی کا خیال رکھا ہے عورت کا سب سے زیادہ خیر خواہ اس کا والد ہوتا ہے اسکی موجودگی میں بلا عذر شرعی کوئی دوسرا ولی نہیں بن سکتا ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’إذَا زَوَّجَهَا الْوَلِيُّ الْأَبْعَدُ، مَعَ حُضُورِ الْوَلِيِّ الْأَقْرَبِ، فَأَجَابَتْهُ إلَى تَزْوِيجِهَا مِنْ غَيْرِ إذْنِهِ، لَمْ يَصِحَّ ‘‘ (جب قریبی ولی کی موجودگی میں دور والا ولی عورت کا نکاح کردے اور عورت قریب والے ولی کی اجازت کے بغیر اسے قبول کر لے تو یہ نکاح صحیح نہیں ہے ۔ )( المغني لابن قدامة:ج:7 ،ص :364)

ولایت بھی تعصیب کی طرح ہے جس طرح وراثت میں قریبی عصبہ کے ہوتے ہوئے دور والے عصبہ میراث سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ ابعد کے مقابلے میں اقرب جذبہ شفقت و رحم خیر خواہی و مصلحت کے لحاظ سے زیادہ حریص ہوتا ہے اسی طرح عورت کی ولایت میں بھی اسی جذبہ خیر خواہی و مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے قریب والا ہی ولی بنے گا دور والے کو اس کی موجودگی میں کوئی اختیار نہیں ہو گا ۔

لہذا صورت مسئولہ میں باپ عبدالحمید کی موجودگی میں بیٹا طیب ولی بننے کا اہل نہیں ہے ۔

واللہ اعلم
 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی نے ہماری اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا اور بعد میں طلاق ہو گئی تھی اب کیا ہم اسکا نکاح دوسری جگہ کر سکتے ہیں ؟قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ ارشاد فرمائیں جزاکم اللہ خیرا۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے عقد کے لیے ولی کی شرط اہم ترین شرط ہے اس کے بغیر قرآن و حدیث کے مطابق عورت کا نکاح باطل قرار پاتا ہے ۔ اللہ رب العزت نے نکاح کی ولایت میں عورت کی مصلحت و خیر خواہی کا خیال رکھا ہے . جمہور علماء کرام جن میں امام شافعی ، امام احمد ، امام مالک رحمہ اللہ تعالی کامسلک ہے کہ کسی بھی مرد کے لیےحلال نہیں کہ وہ عورت سے اس کے ولی کے بغیر شادی کرے چاہے وہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ ۔ان کے دلائل میں مندرجہ ذيل آیات شامل ہیں :اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :’’اورتم انہیں اپنے خاوندوں سے شادی کرنے سے نہ روکو ‘‘اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :’’اورمشرکوں سے اس وقت تک شادی نہ کرو جب تک وہ ایمان نہيں لے آتے‘‘ ۔اورایک مقام پر یہ فرمایا :’’اوراپنے میں سے بے نکاح مرد و عورت کا نکاح کردو ۔‘‘ان آیات میں نکاح میں ولی کی شرط بیان ہوئي ہے اوراس کی وجہ دلالت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان سب آیات میں عورت کے ولی کو عقدنکاح کے بارہ میں مخاطب کیا ہے اوراگر معاملہ ولی کا نہیں بلکہ صرف عورت کے لیے ہوتا تو پھر اس کے ولی کو مخاطب کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی فقہ ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح بخاری میں ان آیات پر یہ کہتے ہوئے باب باندھا ہے ( باب من قال ) " لانکاح الا بولی " بغیر ولی کے نکاح نہیں ہونے کے قول کے بارہ میں باب ۔اورحدیث میں بھی یہ وارد ہے کہ : ابوموسی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) سنن ترمذي حدیث نمبر ( 1101 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2085 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر( 1881 ) ۔علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 1 / 318 ) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔اورام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( جوعورت بھی اپنے ولی کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اوراگر ( خاوندنے ) اس سے دخول کرلیا تو اس سے نفع حاصل اوراستمتاع کرنے کی وجہ سے اسے مہر دینا ہوگا )سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1102 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2083 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1879 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواء الغلیل ( 1840 )

لہذا لڑکی کی پہلی شادی( کورٹ میرج) ولی کی اجازت کے بغیر باطل تھی ۔تو لڑکی کو توبہ و استغار کرنا چاہیئے اور اب لڑکی کا ولی اسکی رضا مندی سے کسی بھی اس کی شادی کر سکتا ہے ۔واللہ اعلم
 
اگر خاوند تاخیر سے حق مہر ادا کرتا ہے اور وہ بیوی سے جماع کر لیتا ہے تو کیا اس کا یہ جماع کرنا زنا میں شامل ہوگا کیونکہ لڑکی کے گھر والے کہتے ہیں کہ جب تک شوہر بیوی کو حق مہر ادا نہیں کرتا تو اس وقت تک اس کے ساتھ جماع نہیں کر سکتا اگر کرے گا تو گناہ ہوگا جبکہ بیوی نے اپنے آپ کو پہلے دن ہی خاوند کے سپرد کر دیا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں ۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسؤلہ میں ان کا نکاح ہو چکا ہے کیونکہ صرف حق مہر کو مؤخر کرنا نکاح کی صحت میں رکاوٹ نہیں ہے نکاح کی جو شرائط ہیں وہ یہاں پر پائی جارہی ہیں اس لیے نکاح درست ہے اور جب نکاح درست ہے تو خاوند کا عورت سے جماع کرنا حلال ہے زنا نہیں ہے ۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی ایک عورت سے شادی کر دی تو اس نے نہ عورت کے لئے حق مہر مقرر کیا اور نہ اسے حق مہر دیا لیکن اس سے جماع کر لیا جب اسےصحا بی کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری فلاں عورت سے شادی کی تھی لیکن میں نے اسے حق مہر ادا نہیں کیا تھا تو تو گواہ ہو جا کہ میں اپنا خیبر کا حصہ اسے دیتا ہوں تو اس عورت نے اپنا حصہ لیا اور پھر اسے ایک لاکھ میں فروخت کر دیا (سنن ابو داؤد حدیث نمبر 2117)

اسی طرح ایک صحابی کا حق مہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مقرر کیا کہ اسے جتنا قرآن مجید یاد ہے وہ اپنی بیوی کو یاد کروائے گا ۔( صحیح بخاری حدیث نمبر 310 2)

قرآن یاد کروانے پر ظاہر سی بات ہے وقت لگے گا فوری تو نہیں ہوگا لیکن رسول اللہ نے پھر بھی اس نکاح کو صحیح قرار دیا۔

مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ مہر کو مؤخر کرنا نکاح کی درستگی میں رکاوٹ نہیں ہے ۔لہذا یہ نکاح درست ہے اور حق مہر ادا کرنے سے پہلے بیوی سے جماع کرنا شرعاً حلال کی ہے ۔

واللہ اعلم
 
Top