ذیشان خان

Administrator
علماء اپنا فرض منصبی ادا کریں

✍⁩ تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

اللہ تعالٰی نے آسمان و زمین اور ساری کائنات اور اس میں موجود تمام مخلوقات کو حق(مقصد) کے ساتھ پیدا کیا ہے
آسمانی و نوری مخلوق فرشتے ہمیشہ اللہ تعالٰی کی عبادت و اطاعت میں مصروف رہتے ہیں
اللہ تعالٰی نے ان کو اسی فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
اور اللہ تعالٰی نے جن و انس کو بھی صرف اور صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے
لیکن ان کو عبادت اور ابتلاء کے لئے پیدا کیا ہے
اسی لئے ان کی فطرت میں خیر و شر کا مادہ رکھا گیا ہے
اور ان کو اللہ تعالٰی نے ایک گونا قسم کی آزادی اور اختیار دے کر ان کا امتحان لینا اور آزمائش کرنا چاہتا ہے۔
اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام سے لے کر ساری کائنات کے اور سارے انس و جن کے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک انبیاء و رسل علیہم السلام کا مبارک سلسلہ جاری رکھا۔
ہمارے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد قیامت تک کے لئے علماء کو انبیاء کا وارث قرار دے کر اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تبلیغ اسلام کے فرض منصبی کی عظیم الشان ذمہ داری علماء کرام کو سونپی گئی ہے
امت مسلمہ میں بہت سے گمراہ فرقے پائے جاتے ہیں
امت مسلمہ کے اکثر افراد میں میں شرک و بدعت کا غلبہ ہے
بعض نام نہاد فرقے تو امت مسلمہ ہی سے خارج ہیں
جیسے قادیانی ہیں یہ تو کافر ہیں
امت مسلمہ اہل سنت و جماعت کے افراد میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تئیں بہت زیادہ غفلت ہے
کبائر و صغائر گناہوں کی بھی کثرت ہے
باطل اور خود ساختہ افکار و نظریات کی بھی کثرت ہے
أعداء اسلام کی جانب سے اسلام اور اہل اسلام پر اعتراضات کی کثرت ہے
غرض عہد نبوی اور عہد صحابہ میں موجود خالص توحید و سنت اور ایمان و اسلام تفاسیر قرآن اور شروحات حدیث میں محفوظ ہے
اور منھج سلف کے مطابق مختلف اسلامی موضوعات پر لکھی گئی کتابوں میں محفوظ ہے
اور پوری دنیا میں عملی حیثیت سے خالص توحید و سنت پر کاربند مسلمان،فرمان الہی کے مطابق "و قليل من عبادى الشكور" کے تحت صرف تھوڑے ہی ہیں ۔
اس لئے علماء کرام کو ہر حیثیت سے اپنی ہر ہر علمی، دعوتی،اصلاحی ، تقریری، تحریری اور تدریسی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے پوری چستی کے ساتھ اور کامل اخلاص کے ساتھ اپنا فرض منصبی ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
بریلوی اور صوفی فرقہ میں موجود شرک ان کی خود ساختہ وضاحت سے توحید بن نہیں سکتا ہے
کوئی خلاف سنت مسئلہ مسلکی عصبیت کی حسن توجیہ سے سنت نہیں بن سکتا ہے
کوئی باطل اپنی خود ساختہ عقلی دلیل سے حق کا مقام حاصل کر نہیں سکتا ہے
بعض احباب نام نہاد اتحاد کے نام پر اپنی خوش نما ادبی تحریر و تعبیر میں غیر شعوری طور پر رد شرک و بدعت کے اسلامی فریضہ پر قدغن لگانے کی کوشش کرتے ہیں ،
اور توحید و سنت کی اشاعت سے چشم پوشی اختیار کرنے کی وکالت کرتے ہیں
اور احقاق حق اور ابطال باطل کے لئے قرآن و سنت اور فہم سلف کی روشنی میں لکھی گئی کتابوں پر ابھارنے کے بجائے شرک و بدعت، باطل افکار و نظریات سے پر بدعتی علماء کی کتابوں سے اور خلاف سنت مسائل پر لکھی گئی کتابوں سے استفادہ کرنے پر ابھارتے ہیں۔
جب کوئی عالم دین کوئی تقریر کرے یا تحریر اسلامی پیغام سے متعلق لکھے
تو اس تقریر و تحریر میں عقیدہ و منھج کے اعتبار سے قرآن و سنت سے فہم سلف کے مطابق صحیح اور معتبر دلائل فراہم کرنا ضروری ہے۔
اسلامی پیغام میں من مانی عقلی دلائل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
کیوں کہ اسلام وحی الہی کا نام ہے
من مانی خود ساختہ عقلی دلیل کا نام اسلام نہیں ہے۔
شرک و بدعت اور باطل افکار و نظریات کی تردید پر قدرت اور صلاحیت نہ رکھنے والے عام قسم کے مسلمان اور غیر راسخ علماء کرام اگر شرک و بدعت اور باطل افکار و نظریات پر لکھی گئی بدعتی علماء کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے،
تو اللہ کی مشیئت سے ایسے کم علم کے حامل عوام و خواص گمراہ بھی ہو سکتے ہیں ۔
اسی لئے صرف علمی رسوخ کے حامل علماء کرام کو ہی بدعتی علماء کی کتابوں کو پڑھ کر ان کے شرک و بدعت پر مبنی عقائد اور خلاف سنت مسائل کی تردید کا اسلامی فریضہ انجام دینے کی ضرورت ہے۔
غرض آج کے دور میں کفر،شرک الحاد، بدعت ،معصیت الہی،عداوت اسلام اور خواہشات نفس کا غلبہ ہے
اسی لئے ہر چھوٹے بڑے عالم دین کو اپنی اپنی محدود صلاحیت کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر تبلیغ اسلام اور دعوت دین کا فرض منصبی ادا کرنا نہایت ہی ضروری ہے، تاکہ پوری دنیا میں ہر ہر سطح پر توحید و سنت کی نشر و اشاعت ہو سکے،
اور شرک و بدعت اور باطل افکار و نظریات کا قلع قمع ہو سکے ،
اور معصیت الہی میں غرق ہو کر زندگی گزارنے والے گناہ گار مسلمان بندے توبہ و استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی طرف رجوع ہو سکیں۔
اور اپنی آخرت کی کامیابی کی فکر کریں۔

اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو عہد نبوی اور عہد صحابہ میں موجود خالص توحید و سنت کی طرف رجوع ہونے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین ۔

خالص توحید و سنت کا صحیح معنی و مفہوم اور ان کے تقاضوں کی تفصیلات منھج سلف کے علماء کی کتابوں اور ان کی تقریروں سے حاصل ہوں گی۔
اس لئے منھج سلف کے حامل علماء کرام کو حکمت و بصیرت کے ساتھ مثبت اسلوب اور ناصحانہ انداز میں خالص توحید و سنت کی اشاعت اور ترویج کا اپنا فرض منصبی جاری رکھنا چاہئے۔
اللہ تعالٰی حق گو علماء کی دعوت کو ان کے اخلاص کے مطابق ضرور بارآور کرے گا۔

اللہ تعالٰی علماء کرام کو اپنا فرض منصبی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 
Top