بیماری پر صبر کرنے کی فضیلت
ابو حمدان اشرف فیضی؍ ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
بیماری پر صبر کرنا سچے مومن کی نشانی ہے:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :وَٱلصَّـٰبِرِینَ فِی ٱلۡبَأۡسَاۤءِ وَٱلضَّرَّاۤءِ وَحِینَ ٱلۡبَأۡسِۗ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ صَدَقُوا۟ۖ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ﴾ [البقرة ١٧٧] آیت میں الضراء سے مراد بیماری ہے، شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ﴿وَالضَّرَّاءِ﴾ أي: المرض على اختلاف أنواعه، من حمى، وقروح، ورياح، ووجع عضو، حتى الضرس والإصبع ونحو ذلك، فإنه يحتاج إلى الصبر على ذلك؛ لأن النفس تضعف، والبدن يألم، وذلك في غاية المشقة على النفوس، خصوصا مع تطاول ذلك، فإنه يؤمر بالصبر، احتسابا لثواب الله [تعالى]. ( تفسیر السعدی)
*بیماری مومن کے گناہوں کا کفارہ اور دخول جنت کا ذریعہ ہے:
بشرطیکہ وہ اس پر صبر کرے اور اللہ کے فیصلے سے راضی رہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: [عن عبدالله بن مسعود:] دَخَلْتُ على النبيِّ ﷺ وهو يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بيَدِي فَقُلتُ: إنَّكَ لَتُوعَكُ وعْكًا شَدِيدًا، قالَ: أجَلْ، كما يُوعَكُ رَجُلانِ مِنكُم قالَ: لكَ أجْرانِ؟ قالَ: نَعَمْ، ما مِن مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أذًى، مَرَضٌ فَما سِواهُ، إلّا حَطَّ اللَّهُ سَيِّئاتِهِ، كما تَحُطُّ الشَّجَرَةُ ورَقَها.( صحيح البخاري (٥٦٦٧)، ومسلم (٢٥٧١)
[عن عبدالله بن عباس:] قالَ لي ابنُ عَبّاسٍ: ألا أُرِيكَ امْرَأَةً مِن أهْلِ الجَنَّةِ؟ قُلتُ: بَلى، قالَ: هذِه المَرْأَةُ السَّوْداءُ، أتَتِ النبيَّ ﷺ فَقالَتْ: إنِّي أُصْرَعُ، وإنِّي أتَكَشَّفُ، فادْعُ اللَّهَ لِي، قالَ: إنْ شِئْتِ صَبَرْتِ ولَكِ الجَنَّةُ، وإنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أنْ يُعافِيَكِ فَقالَتْ: أصْبِرُ، فَقالَتْ: إنِّي أتَكَشَّفُ، فادْعُ اللَّهَ لي أنْ لا أتَكَشَّفَ، فَدَعا لَها. ( صحيح البخاري ٥٦٥٢)
*بیماری میں اللہ تعالیٰ سے ہی شفایابی و صحتیابی کی امید رکھیں:
اللہ ہی شفا دینے والا ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کا قول اللہ نے نقل کیا : وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ یَشۡفِینِ ( الشعراء : 80)ب
بیماری پر صبر کرنے میں ایوب علیہ السلام کی مثال:
﴿۞ وَأَیُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥۤ أَنِّی مَسَّنِیَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّ ٰ⁠حِمِینَ ۝٨٣ فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَكَشَفۡنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرࣲّۖ وَءَاتَیۡنَـٰهُ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةࣰ مِّنۡ عِندِنَا وَذِكۡرَىٰ لِلۡعَـٰبِدِینَ ۝٨٤﴾ [الأنبياء ٨٣-٨٤]
بیماری کو برا نہ کہیں:
بیماری سے تنگ آکر بیماری کو برا نہ کہیں : [عن جابر بن عبدالله:] أنَّ رَسولَ اللهِ ﷺ، دَخَلَ على أُمِّ السّائِبِ، أَوْ أُمِّ المُسَيِّبِ فَقالَ: ما لَكِ؟ يا أُمَّ السّائِبِ، أَوْ يا أُمَّ المُسَيِّبِ تُزَفْزِفِينَ؟ قالَتْ: الحُمّى، لا بارَكَ اللَّهُ فِيها، فَقالَ: لا تَسُبِّي الحُمّى، فإنَّها تُذْهِبُ خَطايا بَنِي آدَمَ، كما يُذْهِبُ الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ.( صحيح مسلم ٢٥٧٥)
ملاحظہ :بیماری پر صبر کرنے کی فضیلت کو جان کر کوئی ہرگز یہ نہ سمجھے کہ بیماری کوئی اچھی چیز ہے اور اس کی خواہش کرے بلکہ ہمیشہ اللہ سے عافیت طلب کریں اور اگر کبھی کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے تو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر راضی رہیں اور صبر کا مظاہرہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے،آمین
 
Top