لاک ڈاؤن میں غریبوں کو بھوک مری کے وائرس سے بچائیں

ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
----------------------------------------------
اس وقت ہمارے ملک ہندوستان میں ایک طویل مدت تک کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے اور ماہرین نے مزید مدت دراز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، ایسے وقت میں ہرزندہ دل انسان مضطرب و بےچین نظر آرہا ہے، اور بار بار اپنے ذہن میں یہ سوال قائم کر رہا ہے کہ آخر ان غریبوں اور مزدوروں کا کیا حال ہوگا جن کا یومیہ کمائی پر گزر بسر ہوتا تھا، اس وقت وہ تمام غریب و مزدور اپنے گھروں میں محبوس ہیں، اور بہت سے ایسے مزدور ہیں جو ملک کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور بھوک مری کا شکوہ کر رہے ہیں،یہ وہ طبقہ ہے جو دو دو وائرس کا مقابلہ کررہا ہے،اندیشہ ہے کہ کہیں کرونا وائرس سے پہلے بھوک مری کا وائرس ہی ان کا کام تمام نہ کر دے ، جیسا کہ شوشل میڈیا پر وائرل ہورہی تصویریں اور ان کی چیخ وپکار گواہی دے رہی ہیں.

سوال یہ ہے کہ آخر ان کا پرسان حال کون ہوگا،کیسے گزرے گی ان کی زندگی، کون ان کے دکھوں اور غموں کا سہارا بنے گا؟؟؟

بلاشبہ دین اسلام ایک سچا دین ہے جو سماج کے ہر طبقے کے لئے دین رحمت ہے، اسلام نے سماج کے غریبوں اور کمزوروں کے حقوق متعین کئے ہیں اور ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنے کی ترغیب دلائی ہے، ذیل کے سطور میں چند اسلامی تعلیمات کا تذکرہ کیا جارہا ہے تاکہ ہم ان نازک حالات میں اپنے غریب بھائیوں کے لئے سہارا بن سکیں، اللہ ہم سب کو توفیق دے آمین
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا :
وَءَاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِینَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِیلِ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِیرًا ( الإسراء : 26)
نیز فرمایا : فَـَٔاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِینَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِیلِۚ ذَ ٰ⁠لِكَ خَیۡرࣱ لِّلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِۖ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ( الروم : 38)

مذکورہ دونوں آیتوں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ بھلائی کرنا ضروری ہے، ہمارے مال میں ان کا مقررہ حق ہے جس کی ادائیگی ہم پر لازم ہے، عدم ادائیگی کی صورت میں ہم عنداللہ مجرم قرار پائیں گے، اور جب ان کا حق ہے تو پھر تعاون کرنے کے بعد ان پر احسان کرنے کا ہمیں حق نہیں ہے.

دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے قرابت داروں کا تذکرہ کیا ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے غریب رشتے دار ہمارے تعاون کے زیادہ مستحق ہیں اور اس میں زیادہ اجر و ثواب بھی ہے ،ایک صدقے کا ثواب دوسرے صلہ رحمی کا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الصدقةُ على المِسكينِ صدقةٌ، وهي على ذِي الرَّحِمِ ثِنْتانِ: صدقةٌ وصِلَةٌ
تخريج مشكاة المصابيح ١٨٨١ • إسناده صحيح أو حسن لغيره • أخرجه الترمذي (٦٥٨)

سورۃ الروم والی آیت میں بتایا گیا کہ یہ عمل خیر ہے اور ایسا کرنے والوں کے لئے فلاح کی بشارت ہے.

سورۃ الإسراء والی آیت کا اختتام ولاتبذر تبذيرا : سے اشارہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں اور اپنی روز مرہ زندگیوں میں اسراف اور فضول خرچی سے بچیں اور اپنی خواہشات کم کرکے ان غریبوں کی مدد کریں جو ایک ایک دانے کو ترستے ہیں،
مبارک عمل :
بھوکوں کو کھانا کھلانا اور محتاجوں کی مدد کرنا بڑا مبارک عمل ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے :
أَطْعِمُوا الجائِعَ، وعُودُوا المَرِيضَ، وفُكُّوا العانِيَ
(صحيح البخاري ٥٣٧٣)
کمال ایمان کے منافی :
اسی طرح آپ نے اسے کمال ایمان کے منافی بتایا کہ ایک شخص خود شکم سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے،
ليس المُؤْمِنُ الَّذي يَشْبَعُ وجارُهُ جائِعٌ.
(صحيح الترغيب ٢٥٦٢)
بھوکوں کو کھانا کھلانا اسلام کی بہترین تعلیمات میں سے ہے:
أنَّ رَجُلًا سَأَلَ النبيَّ ﷺ: أيُّ الإسْلامِ خَيْرٌ؟ قالَ: تُطْعِمُ الطَّعامَ، وتَقْرَأُ السَّلامَ على مَن عَرَفْتَ ومَن لَمْ تَعْرِفْ.
(صحيح البخاري ١٢)
دخول جنت کا سبب
أيُّها النّاسُ أفشوا السَّلامَ، و أطْعِمُوا الطَّعامَ، وصِلُوا الأرحامَ، و صلُّوا باللَّيلِ و النّاسُ نيامٌ، تدخُلوا الجنَّةَ بسَلامٍ
(صحيح الترغيب ٦١٦)
جان بوجھ کر بھوکوں کو کھانا نہ کھلانا دخول جہنم کا سبب:
ارشاد ربانی ہے :
فِی جَنَّـٰتࣲ یَتَسَاۤءَلُونَ (٤٠) عَنِ ٱلۡمُجۡرِمِینَ (٤١) مَا سَلَكَكُمۡ فِی سَقَرَ (٤٢) قَالُوا۟ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّینَ (٤٣) وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِینَ (٤٤) ( المدثر)
نماز اللہ کا حق اور کھانا کھلانا بندوں کا حق، آخرت میں کامیابی کے لئے دونوں حقوق کی ادائیگی ضروری ہے.
اللہ کی رحمت اور مدد سے محرومی:
حدیث قدسی ہے:
إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ يقولُ يَومَ القِيامَةِ: يا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قالَ: يا رَبِّ كيفَ أعُودُكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: أما عَلِمْتَ أنَّ عَبْدِي فُلانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أما عَلِمْتَ أنَّكَ لو عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قالَ: يا رَبِّ وكيفَ أُطْعِمُكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: أما عَلِمْتَ أنَّه اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلانٌ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أما عَلِمْتَ أنَّكَ لو أطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذلكَ عِندِي، يا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ، فَلَمْ تَسْقِنِي، قالَ: يا رَبِّ كيفَ أسْقِيكَ؟ وأَنْتَ رَبُّ العالَمِينَ، قالَ: اسْتَسْقاكَ عَبْدِي فُلانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، أما إنَّكَ لو سَقَيْتَهُ وجَدْتَ ذلكَ عِندِي.
(صحيح مسلم ٢٥٦٩)
=====
* مَن نَفَّسَ عن مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِن كُرَبِ الدُّنْيا، نَفَّسَ اللَّهُ عنْه كُرْبَةً مِن كُرَبِ يَومِ القِيامَةِ، وَمَن يَسَّرَ على مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عليه في الدُّنْيا والآخِرَةِ، وَمَن سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ في الدُّنْيا والآخِرَةِ، واللَّهُ في عَوْنِ العَبْدِ ما كانَ العَبْدُ في عَوْنِ أَخِيهِ.....
(صحيح مسلم ٢٦٩٩)
=====
* الرّاحمونَ يرحمُهُمُ الرَّحمنُ. ارحَموا من في الأرضِ يرحَمْكم من في السَّماءِ
(صحيح الترمذي ١٩٢٤)
* إنَّما يَنصرُ اللَّهُ هذِهِ الأمَّةَ بضَعيفِها، بدَعوتِهِم وصَلاتِهِم، وإخلاصِهِم
(صحيح النسائي ٣١٧٨)
یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدی کا
کہ ہےساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ھے خالق دوسرا کا
خلائق سے ھے جسکو رشتہ ولا کا
یہی ھے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آے دنیا میں انساں کے انساں
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
-----------------------
اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
پہلی وحی کے نزول کے وقت جب آپ گھبرائے ہوئے گھر لوٹے، اس وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے آپ کے بلند اخلاق کا تذکرہ کیا:
كَلّا، أبْشِرْ، فَواللَّهِ لا يُخْزِيكَ اللَّهُ أبَدًا، إنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وتَصْدُقُ الحَدِيثَ، وتَحْمِلُ الكَلَّ، وتَقْرِي الضَّيْفَ، وتُعِينُ على نَوائِبِ الحَقِّ......
(صحيح البخاري ٦٩٨٢)
بعثت سے قبل ہی یہ آپ کے سماجی وفلاحی خدمات تھے.
===
اسی طرح آپ نے کہا مجھے کمزوروں کے بیچ تلاش کرو اور یاد رکھو کہ تمہیں روزی دی جاتی ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے تمہارے کمزوروں کی وجہ سے، ان کی پرخلوص دعاؤں کی وجہ سے :
ابغُوني الضُّعَفاءَ؛ فإنَّما تُرزَقون وتُنصَرون بضُعَفائِكم.
( سنن أبي داود ٢٥٩٤)
====
آپ صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں اور مسکینوں سے محبت کی دعا اللہ سے کیا کرتے تھے :
اللهمَّ إني أسألُكَ فِعْلَ الخيراتِ وتَرْكَ المنكراتِ وحُبَّ المساكينِ
(صحيح الترمذي ٣٢٣٥)
====
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سماج کے غریبوں اور کمزوروں کے پاس آتے جاتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے :
كان يأتي ضُعفاءَ المسلِمينَ، ويزورُهمْ، ويعودُ مرضاهمْ، ويشهَدُ جنائزَهمْ
(صحيح الجامع ٤٨٧٧)
====
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کا ر سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
=====
آخری گزارش
کتاب وسنت کی مذکورہ تعلیمات سے اس کی اہمیت و افادیت واضح ہوگئی، اور ثابت ہوا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے.
پورے ملک کے مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے شہر اور محلے میں اس کار خیر کو شروع کریں، مساجد اور جمعیات کی طرف سے یہ کام شروع ہو، اصحاب خیر آگے آئیں اور حالات کی سنگینی اور خطرناکی کو سمجھیں اور بلاتفریق مذہب و ملت پوری انسانیت کی خدمت کریں اور اسلام کے پیغام کو عام کریں، عملی طور پر دنیا والوں کو یہ بتادیں کہ اسلام دین رحمت اور دین خدمت ہے :

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
-------------
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
-----------

مقام مسرت
بڑی خوشی و مسرت کی بات ہے کہ بعض مساجد و مراکز اور جمعیات و تنظیمات کی طرف سے یہ کارخیر شروع کیا گیا ہے، یقیناً وہ قابل مبارکباد کے مستحق ہیں، اللہ ان کے جذبے کو قبول فرمائے اور مزید حوصلہ عطا فرمائے آمین

ہر عمل میں اخلاص پیدا کریں اور ریاکاری سے بچیں
اللہ کے نیک بندوں کو یہی صفت ہے :
وَیُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِینࣰا وَیَتِیمࣰا وَأَسِیرًا (٨) إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِیدُ مِنكُمۡ جَزَاۤءࣰ وَلَا شُكُورًا (٩)﴾ [الإنسان-٨-٩]
*اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا عمل ہی قابل قبول ہوگا:
جاءَ رجلٌ إلى النَّبيِّ ﷺ، فقالَ: أرأيتَ رجلًا غزا يلتمسُ الأجرَ والذِّكرَ، ما لَهُ؟ فقالَ رسولُ اللَّهِ ﷺ: لا شيءَ لَهُ فأعادَها ثلاثَ مرّاتٍ، يقولُ لَهُ رسولُ اللَّهِ: لا شيءَ لَهُ ثمَّ قالَ: إنَّ اللَّهَ لا يقبلُ منَ العملِ إلّا ما كانَ لَهُ خالصًا، وابتغيَ بِهِ وجهُهُ
(صحيح النسائي ٣١٤٠)
*خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے قیامت کے دن عرش الہی کے سائے میں ہوں گے :
ورَجُلٌ تَصَدَّقَ
بصَدَقَةٍ فأخْفاها حتّى لا تَعْلَمَ شِمالُهُ ما تُنْفِقُ يَمِينُهُ...
(صحيح البخاري ١٤٢٣)
*خفیہ صدقہ رب کے غضب کو بجھاتا ہے:
صنائِعُ المعروفِ تَقِي مصارعَ السُّوءِ، وصدقةُ
السِّرِّ تُطفِيءُ غضبَ الرَّبِّ، وصِلةُ الرَّحِمِ تَزيدُ في العُمرِ
(صحيح الترغيب ٨٨٩ • حسن لغيره • أخرجه الطبراني (٨/٣١٢) (٨٠١٤)
*غریب کی غربت کا مزاق نہ اڑائیں
شوشل میڈیا پر بعض تصاویر نشر کی گئی ہیں غریبوں اور مجبوروں کو راشن پیکج دیتے ہوئے، ان کے بارے میں میرا یہ حسن ظن ہے کہ انہوں نے دوسروں کو ترغیب دلانے کے لئے یہ سیلفی لی ہے ورنہ انہیں اپنی نیتوں کو درست کر لینی چاہئے، اللہ توفیق دے آمین

میں محسنین و مخیرین حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ خالص اللہ کی رضا کے لئے عمل کریں اور جھوٹی شہرت اور ریا ونمود سے بچیں،کیونکہ ریاکاری سے عمل اللہ کی بارگاہ میں رد کر دیا جاتا ہے اور بندے کی محنت ضائع ہو جاتی ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور پورے ملک اور جملہ انسانیت کی ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرمائے اور اس وبا کو اپنے فضل وکرم سے جلد از جلد ختم کردے. آمین
----------------------------------------------
30 / مارچ 2020 ، بروز پیر
 
Top