جھوٹی خبریں پھیلانے سے بچیں
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
-------------------------------------------------------------------
بغیر ثبوت، دلیل، تصدیق اور تحقیق کے خبریں پھیلانا چاہے کسی بھی طرح سے ہو شرعی اور قانونی ہر اعتبار سے عظیم جرم ہے،سماجی برائیوں میں ایک بڑی برائی ہے، سماج اور افراد دونوں پر اس کے بھیانک نتائج مرتب ہوتے ہیں اس لئے اس برائی سے معاشرے کو پاک رکھنا بیحد ضروری ہے تاکہ پرامن اور خوشگوار معاشرہ قائم ہو، بلاشبہ قرآن مجید پوری انسانیت کے لئے کتاب ہدایت ہے، جس میں ہر دور کے لئے مکمل رہنمائی موجود ہے، ہمیں چاہیے کہ قرآن مجید سے ہدایت حاصل کریں، اللہ رب العالمین خبروں کی تحقیق کرنے کا حکم دیتا ہے اور بلا تحقیق کسی قسم کی کارروائی کرنے سے منع کرتا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِن جَاۤءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإࣲ فَتَبَیَّنُوۤا۟ أَن تُصِیبُوا۟ قَوۡمَۢا بِجَهَـٰلَةࣲ فَتُصۡبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَـٰدِمِینَ﴾ [الحجرات ٦]

شرعی اعتبار سے یہ جائز نہیں ہے کہ جس چیز کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے پڑیں، کیونکہ قیامت کے دن ہمارے کان، آنکھ اور دل و دماغ کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿وَلَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚ إِنَّ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡبَصَرَ وَٱلۡفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔولࣰا﴾ [الإسراء ٣٦]
آیت کریمہ کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لَا تَقُلْ: رَأَيْتُ، وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ، وَلَمْ تسْمعْ، وَعَلِمْتُ، وَلَمْ تَعْلَمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُكَ عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ. ( تفسير ابن کثیر آیت: ٣٦)
جو تم نے دیکھا نہیں، سنا نہیں، علم نہیں، اس کے بارے میں بات مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تم سے ان تمام کے بارے میں سوال کرے گا.
تفسیر سعدی میں ہے :
أي: ولا تتبع ما ليس لك به علم، بل تثبت في كل ما تقوله وتفعله.
(تفسير السعدی سورة الإسراء: ٣٦)
جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو بلکہ جو بھی کہو یا کرو اس کی تحقیق کر لو.
عہد نبوی میں منافقین یہ کام کرتے تھے کہ جیسے ہی کوئی خبر خوف یا امن کی انہیں ملتی فوراً اسے لوگوں میں مشہور کردیتے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَإِذَا جَاۤءَهُمۡ أَمۡرࣱ مِّنَ ٱلۡأَمۡنِ أَوِ ٱلۡخَوۡفِ أَذَاعُوا۟ بِهِ [النساء :٨٣]

لہذا اہل ایمان کو اس سے بچنا چاہئے کیونکہ بغیر تحقیق کے سنی سنائی باتوں کو بیان کرنے والا انسان جھوٹ ہے نہیں بچ سکتا،سماج میں ایسے انسان کا وقار مجروح ہوجاتا ہے. جیسا کہ حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كَفى بالمَرْءِ كَذِبًا أنْ يُحَدِّثَ بكُلِّ ما سَمِعَ.
(صحيح مسلم [المقدمة] ٥)

*خاص طور پر لاک ڈاؤن کے ان ایام میں ہم بلا تحقیق کوئی خبر شوشل میڈیا پر نشر نہ کریں، بعض احباب اس کا خیال نہیں کرتے ہیں اور جو بھی میسیج یا آڈیو و ویڈیو واٹساپ پر موصول ہوتا ہے اسے فوراً تمام گروپوں میں سینڈ کر دیتے ہیں، فلاں جگہ اتنے اموات ہوئے، فلاں جگہ اتنے Positive کیس ہیں، کمزور دل والے ان خبروں کو پڑھ، کر سن کر نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں، اور خوفزدہ ہو جاتے ہیں*

حکومت کی طرف سے قانوناً بھی یہ جرم ہے کہ ہم ایسی جھوٹی خبریں پھیلائیں جس سے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو، بعض ملکوں میں ایسے لوگوں کے لئے سخت سزائیں مقرر ہیں،

اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم خود محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی امن اور سکون سے جینے دیں.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے آمین
-------------------------------------------------------------------
14 / اپریل 2020 ، منگل
 
Top