لاک ڈاؤن میں نمازوں کا مسئلہ
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
-----------------------------------------------------------
لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد جن امور پر پابندی عائد کی گئی ان میں ایک اہم معاملہ مساجد میں باجماعت نمازوں کا تھا، فوری طور پر مسلمان جذبات میں تھے، اور پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی کے لئے حسب معمول مسجد جانے پر بضد تھے، مگر علماء کرام نے مسئلے کی نزاکت کو بھانپ لیا اور شرعی رخصت پر عمل کرتے ہوئے احباب جماعت کی بروقت رہنمائی کی اور احباب کو مسئلہ سمجھ میں آگیا، الحمدللہ پورے ملک میں مسلمان اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں میں نمازیں ادا کر رہے ہیں، اللہ قبول فرمائے آمین

مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس اعلان کے بعد بعض مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نمازوں سے بالکل غافل نظر آرہے ہیں،لگتا ہے انہیں نماز کی بھی چھٹی مل گئی ہے، حالانکہ صرف مساجد میں آکر نماز ادا کرنے سے روکا گیا باقی گھروں میں نماز ادا کرنا ضروری ہے، اسی لئے مؤذن حى على الصلاة، حى على الفلاح، كی جگہ *صلوا في رحالكم*کی ندا لگا رہے ہیں، اللہ انہیں نیک توفیق دے آمین
ذیل کے سطور میں لاک ڈاؤن کے ان ایام میں نمازوں سے متعلق بعض اہم امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے :
(1) مشکلات میں نماز مضبوط سہارا:
ہرمکلف مسلمان مرد وعورت پر دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے، اور ایمان کے بعد یہ عظیم الشان عمل ہے، مسلمان کی پہچان ہے، کتاب و سنت میں نماز کی اہمیت اور فضیلت مختلف شکلوں میں مذکور ہے، اسی طرح نماز میں سستی کرنے والے اور چھوڑنے والے کے لئے وعیدیں بیان کی گئی ہیں،
نماز کسی بھی حال میں معاف نہیں ہے، البتہ مشکل حالات میں مومن کے لئے نماز ایک مضبوط سہارا اور ہتھیار ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا :
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱسۡتَعِینُوا۟ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِینَ﴾
[البقرة ١٥٣]
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب آپ کو کوئی مشکل معاملہ درپیش ہوتا تو آپ نماز پڑھتے :
كانَ النَّبيُّ ﷺ إذا حزبَهُ أمرٌ صلّى
( صحيح أبي داود ١٣١٩)
اسی طرح سورج اور چاند گرہن کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً نماز کا اہتمام کرتے اور آپ نے اپنی امت کو حکم دیتے ہوئے فرمایا :
إنَّهُما آيَتانِ مِن آياتِ اللَّهِ لا يَخْسِفانِ لِمَوْتِ أحَدٍ ولا لِحَياتِهِ، فَإِذا رَأَيْتُمُوهُما فافْزَعُوا إلى الصَّلاةِ.
(صحيح البخاري ٣٢٠٣)
یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن کا کسی کے موت و حیات سے کوئی تعلق نہیں ہے، پس جب تم انہیں دیکھو تو نماز کے لئے جلدی کرو
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھتا ہے وہ اللہ کے حفظ وامان میں آجاتا ہے، حدیث :
مَن صَلّى الصُّبْحَ فَهو في ذِمَّةِ اللهِ، فلا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِن ذِمَّتِهِ بشيءٍ فيُدْرِكَهُ فَيَكُبَّهُ في نارِ جَهَنَّمَ.
(صحيح مسلم ٦٥٧)
ان ایام میں جبکہ ہمارے پاس آرام کرنے کے لئے پورا وقت ہے، دن میں بھی آرام کرسکتے ہیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم ان ایام میں بالخصوص قیام اللیل کا اہتمام کریں اور وقت سحر اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئیں اور گڑ گڑائیں، یقیناً ہمارا رب بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، وہ ہمارے اوپر رحم کر کے اس وبا سے ہمیں نجات دے سکتا ہے،

صرف احساس ندامت اک سجدہ اور چشم تر
اے خدا کتنا آساں ہے منانا تجھ کو


مگر حیف در حیف ہم رات دیر گپ شپ میں مشغول رہ کر یا تو موبائل فون میں مصروف ہوکر تاخیر سے سوتے ہیں اور صبح نماز فجر سے غافل ہو کر دیر سے اٹھتے ہیں، اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں صحیح سمجھ دے، آمین
آخر اللہ کی مدد کیسے آئے گی،؟؟؟
معلوم ہوا کہ مشکل حالات میں نماز سہارا ہے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کا، ایسے وقت بھی نمازوں میں سستی اور کوتاہی حد درجہ غفلت کی بات ہے، دنیا کی شدید محبت اور آخرت سے بے فکری کی دلیل ہے، یہ ہماری سنگ دلی ہے جو کسی عذاب سے کم نہیں، جس کی وجہ سے ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس بھی نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین
(2) وقت مقررہ پر نماز ادا کریں:
بعض لوگوں کا حال یہ ہے کہ نماز پڑھ رہے ہیں مگر اول وقت پر نہیں بلکہ ٹائم بے ٹائم پڑھ رہے ہیں، یہ طریقہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ نمازوں کو اللہ تعالیٰ نے مقررہ وقت پر فرض کیا ہے، ارشاد ربانی ہے :
إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِینَ كِتَـٰبࣰا مَّوۡقُوتࣰا﴾ [النساء ١٠٣]
دوسری جگہ اللہ نے فرمایا :
حَـٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَ ٰ⁠تِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَـٰنِتِینَ﴾
[البقرة ٢٣٨]
نماز کی حفاظت کہتے ہیں : نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، تمام شروط و ارکان کے مطابق نماز ادا کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، یہ سب حفاظت صلاۃ ہے، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يَأْمُرُ اللَّهُ تَعَالَى بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ فِي أَوْقَاتِهَا، وَحِفْظِ حُدُودِهَا وَأَدَائِهَا فِي أَوْقَاتِهَا.
تفسیر بغوی میں ہے:
أَيْ وَاظِبُوا وَدَاوِمُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ بِمَوَاقِيتِهَا وَحُدُودِهَا وَإِتْمَامِ أَرْكَانِهَا.
اور ایسے نمازیوں کے لئے وعید ہے جو وقت مقررہ پر نماز ادا نہیں کرتے، وقت مقررہ پر نماز ادا نہ کرنے والے ساھون میں شامل ہیں، اللہ نے فرمایا :
فَوَیۡلࣱ لِّلۡمُصَلِّینَ (٤) ٱلَّذِینَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (٥)
[الماعون ٤-٥]
تفسیر بغوی میں ہے:
﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [أَيْ: عَنْ مَوَاقِيتِهَا غَافِلُونَ]
أول وقت پر نماز ادا کرنا اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے، حدیث میں ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا :
سَأَلْتُ النبيَّ ﷺ: أيُّ العَمَلِ أحَبُّ إلى اللَّهِ؟ قالَ: الصَّلاةُ على وقْتِها......
(صحيح البخاري ٥٩٧٠)
دوسری حدیث میں ہے آپ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا ایک وقت آئے گا جب ایسے امراء ہوں گے جو نمازوں کو مردہ کر کے یا وقت مقررہ سے مؤخر کرکے پڑھیں گے تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسے وقت میں ہمارے لئے آپ کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : صل الصلاة لوقتها، تم نماز کو اس کے (اول) وقت پر پڑھ لو
حدیث :
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قالَ: قالَ لي رَسولُ اللهِ: كيفَ أَنْتَ إذا كانَتْ عَلَيْكَ أُمَراءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عن وَقْتِها أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلاةَ عن وَقْتِها؟ قالَ: قُلتُ: فَما تَأْمُرُنِي؟ قالَ: صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِها، فإنْ أَدْرَكْتَها معهُمْ، فَصَلِّ، فإنَّها لكَ نافِلَةٌ. وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ: عن وَقْتِها.
(صحيح مسلم ٦٤٨)
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ان ایام میں اپنے گھروں میں وقت مقررہ پر نماز ادا کریں، سستی اور کوتاہی سے بچیں، اسی میں ہمارے لئے خیر ہے، اللہ ہم سب کو توفیق دے آمین
(3) باجماعت نماز قائم کریں:
اگر ہمارے گھر میں دو یا دو سے زائد افراد ہیں تو ہمیں باجماعت نماز ادا کرنا چاہئے کیونکہ باجماعت نماز تنہا نماز سے 27 / درجہ افضل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :
صَلاةُ الجَماعَةِ أَفْضَلُ مِن صَلاةِ الفَذِّ بسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
(صحيح مسلم ٦٥٠)
وضاحت:
باجماعت نماز قائم کرنے کے لئے محلے کے کسی گھر میں جمع ہونا مناسب نہیں ہے کیونکہ جس سبب سے مسجد میں جماعت قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے وہ سبب یہاں بھی موجود ہے یعنی لوگوں کا ہجوم اور اختلاط،؛ اس لئے درست بات یہ ہے کہ ہم اپنے ہی گھر میں اہل وعیال کے ساتھ جماعت بنائیں.
(4) سنن و نوافل کی ادائیگی :
سنن و نوافل فرائض کی تکمیل، درجات کی بلندی، گناہوں کی مغفرت، تقرب الہی، رفاقت نبوی اور دخول جنت کا ذریعہ ہیں، اور ان کی ادائیگی گھروں میں افضل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:
فإنَّ أَفْضَلَ الصَّلاةِ صَلاةُ المَرْءِ في بَيْتِهِ إلّا المَكْتُوبَةَ
(صحيح البخاري ٧٣١ )
دوسری حدیث :
اجْعَلُوا مِن صَلاتِكُمْ في بُيُوتِكُمْ، ولا تَتَّخِذُوها قُبُورًا.
( البخاري ٤٢٢- صحيح مسلم ٧٧٧)
اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو اور گھر کو قبرستان نہ بناؤ،
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
أي : صلوا النوافل فى بيوتكم ( صحيح مسلم : ٦/ ٦٧)
دوسری حدیث میں ہے کہ گھروں میں نوافل کی ادائیگی مسجد نبوی میں ادا کرنے سے افضل ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ سنن و نوافل گھروں میں ہی ادا کرتے تھے،حدیث :
صلاةُ المرءِ في بيتِهِ أفضلُ من صلاتِهِ في مسجدي هذا إلّا المَكتوبةَ
(صحيح أبي داود ١٠٤٤)
گھروں میں سنن و نوافل کی ادائیگی گھر میں خیر وبھلائ کا ذریعہ ہے:
حدیث :
إذا قَضى أحَدُكُمُ الصَّلاةَ في مَسْجِدِهِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِن صَلاتِهِ، فإنَّ اللَّهَ جاعِلٌ في بَيْتِهِ مِن صَلاتِهِ خَيْرًا.
(صحيح مسلم ٧٧٨)
گھر میں افضل اور زیادہ اجر و ثواب کیوں ہے؟
اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اخلاص زیادہ ہے اور ریاکاری سے دوری ہے، یہ خفیہ عمل ہے، اور اہل خانہ کی تربیت بھی ہے :
والتطوع في البيت أفضل … ولأن الصلاة في البيت أقرب إلى الإخلاص ، وأبعد من الرياء ، وهو من عمل السر ، وفعله في المسجد علانية والسر أفضل .
" المغني " ( 1 / 442 ) .
وفيه أيضاً : تذكير الناسي ، وتعليم الجاهل من أهل البيت أو من يراه .
*عام حالات میں اگر ہمارے لئے سنن و نوافل کی ادائیگی گھروں میں مشکل تھی تو ان ایام میں بہت آسان ہے، اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اس اہم سنت پر عمل کریں*
بالخصوص سنن رواتب / سنن مؤکدہ کا اہتمام جن کی تعداد بارہ رکعت ہے، کیونکہ اس پر جنت میں گھر کی بشارت دی گئی ہے، حدیث :
ما مِن عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَومٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا، غيرَ فَرِيضَةٍ، إلّا بَنى اللَّهُ له بَيْتًا في الجَنَّةِ...
(صحيح مسلم ٧٢٨)
اس کی تفصیل ترمذی کی روایت میں اس طرح ہے:
مَن صلّى في يومٍ وليلةٍ ثِنْتَيْ عَشْرةَ ركعةٍ، بَنَي له بيتٌ في الجنَّةِ: أرْبَعًا قبلَ الظُّهرِ، وركعتيْنِ بعدَها، وركعتيْنِ بعدَ المغرِبِ، وركعتَيْنِ بعدَ العِشاءِ، وركعتيْنِ قبلَ الفَجرِ - صلاةِ الغَداةِ
(سنن الترمذي ٤١٥)
ظہر سے پہلے چار رکعت
ظہر کے بعد دو رکعت
مغرب کے بعد دو رکعت
عشاء کے بعد دو رکعت
فجر سے پہلے دو رکعت
اسی طرح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت اور فجر سے پہلے دو رکعت نہیں چھوڑتے تھے، حدیث :
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
أنَّ النبيَّ ﷺ كانَ لا يَدَعُ أرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، ورَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الغَداةِ.
(صحيح البخاري ١١٨٢)
اسی طرح فجر کی دو رکعت نماز کا جتنا خیال آپ کرتے تھے اتنا کسی دوسری نفل نماز کا نہیں کرتے، حدیث :
«لَمْ يَكُنِ النبيُّ ﷺ على شيءٍ مِنَ النَّوافِلِ أشَدَّ منه تَعاهُدًا على رَكْعَتَيِ الفَجْرِ».
( صحيح البخاري ١١٦٩)
اسی طرح فجر کی دو رکعت دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے، حدیث :
رَكْعَتا الفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيا وَما فِيها.
(صحيح مسلم ٧٢٥)
چاشت کی نماز:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی: ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنے، چاشت کی دو رکعتیں، اور سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی.
أَوْصانِي خَلِيلِي ﷺ بثَلاثٍ: بصِيامِ ثَلاثَةِ أَيّامٍ مِن كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ.
(صحيح مسلم ٧٢١)
چاشت کی دو رکعت جسم کے 360 / جوڑوں کی طرف سے صدقہ:
حدیث:
يُصْبِحُ على كُلِّ سُلامى مِن أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بالمَعروفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ المُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِن ذلكَ رَكْعَتانِ يَرْكَعُهُما مِنَ الضُّحى.
(صحيح مسلم ٧٢٠)
نماز إشراق پڑھنے سے مکمل حج وعمرہ کا ثواب:
حدیث :
---- من صلى الفجرَ في جماعةٍ ثم قعدَ يذكُرُ اللهَ حتى تطلُعُ الشمسُ ثم صلى ركعتين كانت له كأجرِ حَجَّةٍ وعمرةٍ. قال: قال رسولُ اللهِ ﷺ: تامَّةٍ، تامَّةٍ، تامَّةٍ.
( صحيح الترمذي ٥٨٦)
جو شخص فجر کی نماز باجماعت پڑھے پھر سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرتا ہوا بیٹھا رہے، سورج نکلنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھے، اس شخص کے لئے مکمل حج اور عمرہ کا ثواب ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو مذکورہ سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین
-------------------------------------------------
(5) اہل وعیال کو نمازوں کی تربیت دیں:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب ہو کر فرمایا :
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَیۡهَاۖ
[طه ١٣٢]اے نبی آپ اپنے اہل وعیال کو نماز کا حکم دیں اور اس پر جمے رہیں
والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی دینی تربیت کر کے ان کو جہنم کی آگ سے بچائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ قُوۤا۟ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِیكُمۡ نَارࣰا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُ عَلَیۡهَا مَلَـٰۤىِٕكَةٌ غِلَاظࣱ شِدَادࣱ لَّا یَعۡصُونَ ٱللَّهَ مَاۤ أَمَرَهُمۡ وَیَفۡعَلُونَ مَا یُؤۡمَرُونَ﴾
[التحريم ٦]
حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أَلا كُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، فالإِمامُ الذي على النّاسِ راعٍ وهو مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، والرَّجُلُ راعٍ على أهْلِ بَيْتِهِ، وهو مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، والمَرْأَةُ راعِيَةٌ على أهْلِ بَيْتِ زَوْجِها، ووَلَدِهِ وهي مَسْئُولَةٌ عنْهمْ، وعَبْدُ الرَّجُلِ راعٍ على مالِ سَيِّدِهِ وهو مَسْئُولٌ عنْه، ألا فَكُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ.
( صحيح البخاري ٧١٣٨)
ماں باپ ذمہ دار ہیں قیامت کے دن ان سے ان کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا،
دوسری حدیث میں ہے :
مُروا أولادَكم بالصلاةِ وهم أبناءُ سبعِ سنينَ واضربوهُم عليها وهمْ أبناءُ عشرٍ وفرِّقوا بينهُم في المضاجعِ
(صحيح أبي داود ٤٩٥)
بچے جب سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو

بچوں کو نمازوں کی تربیت کا یہ سنہرا موقع ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم ان ایام میں بالخصوص خود نمازوں کی پابندی کریں اور اہل وعیال کی بھی تربیت کریں

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر حال میں نماز قائم کرنے کی توفیق دے آمین
---------------------------------------------------------
7/ اپریل 2020 ،بروز منگل
 
Top