ذیشان خان

Administrator
درشت لہجہ حق گوئی میں تلخی گھول دیتا ہے

✍حافظ سمیر احمد جامعی میسور

معاشرہ میں بالعموم کچھ افراد سے ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں جو حقیقت سے پرے ہوتے ہیں مثلا :
[سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے]
[حق بات ہے منہ پر بولونگا کسی کو برا لگے تو لگے]


دراصل یہ لوگ حق بات اسے سمجھتے ہیں جس میں درشت اور طنز آمیز لہجہ ہو، الفاظ کی کرختگی،انداز میں بھدا پن ہو مزید یہ کہ الفاظ کا غیر مناسب انتخاب کرکے بدتمیزی کے ساتھ گفتگو کی جائے، اور یہ سارا کچھ کرنے کے بعد اپنے عمل کو حدیث کے مطابق ثابت کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ شریعت میں حکم ہے قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا
حقيقتا ایسے افراد کا مقصد و منشا کچھ اور ہوتا ہے اس لئے کہ فطرتا اور حقیقتا حق اور سچ کڑوا نہیں ہوتا، سچ بولنے کا انداز کڑوا ہوتا ہے ، یہ لوگ سچ بولنے کے ساتھ ساتھ دراصل دوسرے کو ذلیل کر رہے ہوتےہیں، اور توقع رکھتے ہیں کہ انکی ذلیل کرنے والی حرکت کو صرف حق اور سچ سمجھا جاۓ


مذكوره افراد کے متعلق اہل علم کا کہنا ہے کہ انہوں نے حدیث کا مطلب سمجھا ہی نہیں ۔
حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ بات کے کڑوی ہونے کا تعلق سننے والے کے ساتھ ہے ( کہنے والے سے اس کا کوئی تعلق نہیں) یعنی کہنے والا تو الفاظ کی رعایت کے ساتھ ہی بات کرتا ہے اور اسے حکم بھی یہی ہے ہاں کبھی سننے والے کو اپنے مزاج کے خلاف ہونے کی وجہ سے بات کڑوی لگ جاتی ہے یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ حق بات ہی کہنی چاہیے اگرچہ وہ اپنے نفس ،مزاج اور طبیعت کے بھی خلاف ہونے کی وجہ سے کڑوی کیوں نہ لگے۔

اس معنی کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے ۔
یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰی أنْفُسِکُمْ أوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْأقْرَبِیْنَ۔
[سورۃ النساء، آیت نمبر 135]
ترجمہ: اے ایمان والو!تم انصاف قائم کرنے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو۔اگرچہ )وہ ( خود اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف کیوں نہ ہو۔


مذکورہ حدیث (قل الحق و ان كان مرا) کو ڈھال بنا کر حق بات کو تلخ لہجے میں کرنا نا سمجھی ہے اور دیکھا جائے تو سوچنے والی بات ہے کہ ایسے لہجے میں حق گوئی کا کیا فائدہ جس سے لوگوں کا دل ٹوٹ جائے لوگوں کے سامنے انکی تذلیل ہو اور سامع حق سے متنفر و منتشر ہوجائے طرفین میں ناچاقی جنم لے اور بعض اوقات مدعو حق کو سمجھنے پر بھی سامنے والے کے لہجے کی بنا اپنی غلطی پر اڑا رہتاہے

معاشرہ کے بعض خطباء و واعظین بھی کچھ حد تک اسی روش کا شکار ہیں حق کی وضاحت اور گناہ کی قباحت میں بسا اوقات انداز ایسا تلخ اپناتے ہیں کہ رحمتوں کا نزول بھی عذاب شدید جیسا لگتاہے لوگوں کی طبیعت ان کے وعظ میں بیٹھنے اور انہیں سننے کو گوارہ نہیں کرتی خصوصا خطباء اور واعظین کا انداز اس طرح بالکل بھی نا ہو وگرنہ داعی مدعو سے متنفر ہوگا


خلیفةالعباسی کے مشھور و معروف حکمران ہارون رشید کے دربار میں وقت کے مشھور واعظ پہونچے اور انہوں نے ہارون رشید سے کہا
اسمع مني كلامًا شديدًا، قال: ولمَ الشديد؟ والله لا أسمع، والله لا أسمع، والله لا أسمع، أرسل الله من هو خيرٌ منك، لمن هو شرٌ مني فقال له: ﴿فَقُولا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أوْ يَخْشى}
جب اس واعظ نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتاہوں لیکن بات تھوڑی سخت ہے ہارون رشید نے فورا انکار کردیا اور کہا آپ سے بہتر داعی (یعنی موسی) کو مجھ سے زیادہ برے شخص (فرعون) سے خطاب کے لئے اللہ نے کہا ﴿فَقُولا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أوْ يخشي} تو آپ کیونکر مجھے سخت کلامی کرسکتے ہیں
📚[البدایۃ والنھایۃ]


اس واقعہ میں ہم سب کے لئے خصوصا حق کو تلخ و درشت لہجے میں اترا کر کہنے والوں کے لئے عبرت ہے کہ وقت کے ظالم و جابر،جفاکش و متکبر کے سامنے حق کی وضاحت نرمی سے کرنے کا حکم ہے تو اب نا تو ہم موسی سے بڑے داعی ہیں اور نا ہی فرعون سے برے مدعو تو اس چیز کا خیال ضرور رکھنا چاہئیے


ہم سب ہر روز کسی نہ کسی سے ضرور حق کی تلقین کرتے ہیں اس حوالے سے اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ آئندہ گفت و شنید، وعظ یا خطبہ کے دوران حق گوئی کرتے وقت مذکورہ بالا آداب کی مکمل رعایت کریں گے۔اپنی گفتگو کو فضول گوئی، بیہودہ گوئی سے پاک رکھیں گے مزید یہ کہ اپنی گفتگو کو ادب و احترام ، سنجیدہ ، معنی خیز ، جامعیت ، نرم خوئی اور سلیقہ مندی کے ساتھ مزین کریں گے ، تو یقین جانیے کہ ہمیں قول سدید کی نعمت بھی مل جائے گی ، قول حسن کی توفیق بھی نصیب ہوگی اور قول حق کا موقع بھی ملے گا اور اس میں باذن اللہ تاثیر بھی ہوگی -

اللہ ہم سب کو زندگی کے ہر محاذ پر درست لہجے کے ساتھ حق گوئی کی توفیق نصیب فرمائے ہماری ذات کو ہر ایک کے لئے خیر کا ذریعہ بنائے آمین
 
Top