اہل وعیال کی دینی تربیت
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ

نوٹ: تفصیل کے لئے بشکل پی ڈی ایف ہمارا مضمون اس لنک پر پڑھیں:

--------------------------------------
لاک ڈاؤن کے ان ایام میں ہم سب اپنے گھروں میں مقید ہیں، پورا وقت اہل و عیال کے درمیان گزار رہے ہیں، ایسے وقت میں ہم سب کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ اہل وعیال کی دینی واخلاقی تربیت پر توجہ دیں، یہ ہم سب پر شرعی فریضہ ہے، قیامت کے دن ہم سے ہماری اس ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا،ہم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ قُوۤا۟ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِیكُمۡ نَارࣰا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُ عَلَیۡهَا مَلَـٰۤىِٕكَةٌ غِلَاظࣱ شِدَادࣱ لَّا یَعۡصُونَ ٱللَّهَ مَاۤ أَمَرَهُمۡ وَیَفۡعَلُونَ مَا یُؤۡمَرُونَ﴾ [التحريم ٦]
حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أَلا كُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، فالإِمامُ الذي على النّاسِ راعٍ وهو مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، والرَّجُلُ راعٍ على أهْلِ بَيْتِهِ، وهو مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، والمَرْأَةُ راعِيَةٌ على أهْلِ بَيْتِ زَوْجِها، ووَلَدِهِ وهي مَسْئُولَةٌ عنْهمْ، وعَبْدُ الرَّجُلِ راعٍ على مالِ سَيِّدِهِ وهو مَسْئُولٌ عنْه، ألا فَكُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ.
( صحيح البخاري ٧١٣٨)

مختلف زاویے سے ان کی تربیت کریں مثلاً :
ایمانی تربیت

توحید اور شرک کا آسان انداز میں معنی و مفہوم بتائیں، انسانی زندگی میں توحید کی اہمیت، شرک کی مذمت واضح کریں، سماج میں شرک کے جو مظاہر ہیں ان سے آگاہ کریں اور ان سے دور رہنے کی تلقین کریں، اللہ کی عظمت کے واقعات انہیں بتائیں، ہم انہیں بتائیں کہ ہمارے پاس سب بڑی دولت ایمان اور صحیح عقیدہ کی دولت ہے، ہر حال میں اس کی حفاظت کریں، ہماری دنیوی واخروی فلاح اسی میں مضمر ہے، وغیرہ وغیرہ.
اہم باتیں آسان و سہل انداز میں سمجھائیں
اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور آپ کی اطاعت پر ابھاریں، آپ کی عظمت کو بیان کریں، ہم پر ہمارے نبی کے جو حقوق ہیں واضح کریں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں کو اجاگر کریں، اگر ہو سکے تو الرحیق المختوم کے منتخب دروس پیش کریں، وغیرہ وغیرہ. کیونکہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول اور دین کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی ہمارے اندر اطاعت اور عمل کا جذبہ پیدا ہوگا.
فکر آخرت
موت کی حقیقت، قیامت، میدان حشر، موت کے بعد کے مراحل، قبر کا بیان، پل صراط، میزان، حساب و کتاب، نامہ اعمال کی تقسیم، اللہ کے سامنے کھڑا ہونا، جنت جہنم ان تمام باتوں کو ان کے دلوں میں راسخ کریں، کیونکہ عقیدہ آخرت ایک انقلابی عقیدہ ہے.
عبادات کی تربیت
وضوء کا مسنون طریقہ ( زبانی اور عملی دونوں شکل میں)، نماز کا مسنون طریقہ ( زبانی اور عملی دونوں شکل میں )، ماہ رمضان اور روزوں سے متعلق اہم باتیں، قرآن مجید کی منتخب سورتیں اور ادعیہ ماثورہ حفظ کرائیں، غسل کا طریقہ، طہارت کے بعض اہم مسائل وغیرہ
تعلیم قرآن
ہمارے چھوٹے بچوں کا پہلے ناظرہ قرآن درست کریں، گھر میں جو لوگ قرآن مجید پڑھنا جانتے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن پر ابھاریں، تفسیر احسن البیان سے ترجمہ و تفسیر پڑھیں کم از کم عم پارہ کا ترجمہ و تفسیر اور منتخب سورتیں جو نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں، مشہور قراء کی قرأت سنیں، ہم ہر اعتبار سے قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اس میں ہمارے سارے مسائل کا حل موجود ہے
آداب زندگی
زندگی گزارنے کے مختلف آداب بتائیں مثلاً :کھانے پینے، سونے جاگنے، بڑوں کے آداب، مجلس میں بیٹھنے کے آداب، مسجد کے آداب، طلب علم کے آداب، وغیرہ
ایک دوسرے کے حقوق
رشتہ داروں کے حقوق، والدین کے حقوق، بھائی بہنوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، غریبوں، مسکینوں،مجبوروں اور معذوروں کے حقوق، اساتذہ کے حقوق، وغیرہ
اخلاقی تربیت
سچائی کی تعلیم دیں اور جھوٹ سے نفرت دلائیں، زبان کا صحیح استعمال کریں اور زبان کی ہلاکتوں سے خوف دلائیں، موبائل فون کے فوائد و نقصانات دونوں پہلو کو واضح کریں، فواحش و منکرات سے دور رہنے کی تلقین کریں، لڑکیوں کو حجاب کی تعلیم دیں، وغیرہ
علمی مسابقہ
بچوں میں دینی شعور پیدا کرنے اور ان کی تربیت کے لیے علمی مسابقہ رکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات متعین کریں، مثلاً :
حفظ سور، حفظ ادعیہ، حفظ احادیث، عقیدہ یا سیرت النبی پر سوال جواب وغیرہ
بچوں کے لئے عملی نمونہ اور قدوہ بنیں
یاد رکھیں کہ ہمارے بچے گھروں میں ماں باپ سے جو دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں، ہم لاکھ انہیں نصیحت کریں مگر ہماری نصیحت اسی وقت مؤثر ہوگی جب ہم ان کے سامنے عملی نمونہ پیش کریں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں قرآن مجید، دینی کتب ہوں تو پہلے والدین کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے، والدین ہمیشہ موبائل فون میں مصروف رہیں اور خواہش کریں کہ ہمارے بچے قرآن کی تلاوت کریں، موبائل کی آفتوں سے محفوظ رہیں، آخر کیسے ممکن ہے؟ ہم بچوں کے لئے گھر کا ماحول پاکیزہ بنائیں، بچوں کی تربیت میں اس کا بڑا کردار ہے.
گزارش:
فرصت کے ان لمحات کی قدر کریں اور آزمائش کی اس گھڑی کو یونہی کھانے سونے اور گپ شپ میں ضائع نہ کریں، تربیت کا یہ سنہرا موقع ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں، کیونکہ عام دنوں میں اس طرح بیوی بچوں کے ساتھ اتنا فرصت سے مل بیٹھنے کا اتفاق بہت کم نصیب ہوتا ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے، اور جلد از جلد اس وبا سے ہمیں نجات دے، آمین۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*13 / اپریل 2020 ، بروز پیر*
 
Top