کثرت سے اللہ کا ذکر کریں
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
-------------------------------------------------------------
لاک ڈاؤن کے ان ایام میں ہمیں جن امور کی پابندی کرنی چاہئے ان میں اللہ کا ذکر بھی ہے، ذکر الٰہی عظیم الشان نیکی ہے، دل اور روح کی غذا ہے، اطمینان قلب کا اہم ذریعہ ہے، اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ عبادت ہے، قرب الہی کا سبب ہے، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، اعلیٰ و ارفع اور افضل عمل ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ألا أُنبِّئكم بخيرِ أعمالِكم، وأزكاها عند مليكِكم، وأرفعِها في درجاتِكم، وخيرٌ لكم من إنفاقِ الذهبِ والوَرِقِ، وخيرٌ لكم من أن تلْقَوا عدوَّكم، فتضرِبوا أعناقَهم، ويضربوا أعناقَكم؟ ذكرُ اللهِ
(صحيح الجامع ٢٦٢٩ • صحيح • أخرجه الترمذي (٣٣٧٧)، وابن ماجه (٣٧٩٠)، وأحمد (٦/ ٤٤٧)
کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر، تمہارے آقا ومولی کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ اور تمہارے درجات میں سب زیادہ اضافہ کرنے والا اور تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر اور اس سے بھی بہتر کہ تم اپنے دشمن سے مقابلہ کرو اور تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں؟ وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
ما شيءٌ أنجى من عذابِ اللهِ من ذكرِ اللهِ.
( صحيح الترغيب ١٤٩٣)
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کے عذاب سے نجات نہیں دے سکتی

کتاب و سنت میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم ہے،اس لئے کہ یہ ایسا عمل ہے جو ہم اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، چلتے پھرتے انجام دے سکتے ہیں، اس کے لئے زمان و مکان کی کوئی قید نہیں ہے، دوکان ومکان، سفر و حضر اور دن اور رات کبھی بھی اور کہیں بھی ذکر کر سکتے ہیں ذیل میں بعض آیات ملاحظہ فرمائیں :
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ ذِكۡرࣰا كَثِیرࣰا. وَسَبِّحُوهُ بُكۡرَةࣰ وَأَصِیلًا [الأحزاب: ٤١-٤٢]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو کثرت سے ذکر کرنے اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا ہے،

اسی طرح سورہ احزاب آیت نمبر (35) میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مرد و عورت کے دس صفات کا تذکرہ کیا ہے کسی صفت کے ساتھ کثیرا نہیں ہے مگر ذکر کے ساتھ کثیرا آیا ہے، یعنی ذکر الٰہی کا اہتمام کثرت سے ہونا چاہئے، فرمایا :
﴿إِنَّ ٱلۡمُسۡلِمِینَ وَٱلۡمُسۡلِمَـٰتِ وَٱلۡمُؤۡمِنِینَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ وَٱلۡقَـٰنِتِینَ وَٱلۡقَـٰنِتَـٰتِ وَٱلصَّـٰدِقِینَ وَٱلصَّـٰدِقَـٰتِ وَٱلصَّـٰبِرِینَ وَٱلصَّـٰبِرَ ٰ⁠تِ وَٱلۡخَـٰشِعِینَ وَٱلۡخَـٰشِعَـٰتِ وَٱلۡمُتَصَدِّقِینَ وَٱلۡمُتَصَدِّقَـٰتِ وَٱلصَّـٰۤىِٕمِینَ وَٱلصَّـٰۤىِٕمَـٰتِ وَٱلۡحَـٰفِظِینَ فُرُوجَهُمۡ وَٱلۡحَـٰفِظَـٰتِ وَٱلذَّ ٰ⁠كِرِینَ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا وَٱلذَّ ٰ⁠كِرَ ٰ⁠تِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغۡفِرَةࣰ وَأَجۡرًا عَظِیمࣰا﴾ [ الأحزاب ٣٥]

تفسیر بغوی میں امام مجاہد کا قول ہے :
لَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا حَتَّى يَذْكُرَ اللَّهَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَمُضْطَجِعًا
اس وقت تک بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں شمار نہیں ہوسکتا جب تک وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے ذکر نہ کرے

سورۃ الجمعہ میں اللہ تعالیٰ نے نماز جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیل جانے اور اللہ کا فضل تلاش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا بھی حکم دیا اور اس پر فلاح کی بشارت سنائی، فرمایا :
﴿فَإِذَا قُضِیَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُوا۟ فِی ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُوا۟ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾ [الجمعة ١٠]
معلوم ہوا کہ تجارت اور کاروبار میں مشغول رہ کر بھی ہم ذکر کرتے رہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، استغفر اللہ، لاحول ولا قوۃ الا باللہ، سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظيم، سبحان اللہ و بحمدہ، اس قسم کے چھوٹے چھوٹے اذکار کی پابندی کریں

اسی طرح جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرتے وقت اللہ کی طرف سے نصرت و مدد طلب کرنے کے لئے کثرت سے ذکر الٰہی کا حکم دیا، فرمایا :
﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِذَا لَقِیتُمۡ فِئَةࣰ فَٱثۡبُتُوا۟ وَٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾ [الأنفال ٤٥]
آیت کریمہ کی تفسیر میں تفسیر سعدی میں شیخ عبد الرحمن ناصر سعدی فرماتے ہیں :
أي‏:‏ تدركون ما تطلبون من الانتصار على أعدائكم،فالصبر والثبات والإكثار من ذكر اللّه من أكبر الأسباب للنصر‏.‏

جنگ میں دشمن کے مقابلے میں صبر وثبات اور کثرت سے اللہ کا ذکر نصرت الہی کے عظیم اسباب میں سے ہے

اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام کو کثرت سے ذکر کرنے کی وصیت کی، فرمایا :
وَٱذۡكُر رَّبَّكَ كَثِیرࣰا وَسَبِّحۡ بِٱلۡعَشِیِّ وَٱلۡإِبۡكَـٰرِ﴾ [آل عمران ٤١]

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا :
...... كَیۡ نُسَبِّحَكَ كَثِیرࣰا. وَنَذۡكُرَكَ كَثِیرًا.
[طه ٢٥-٣٥]

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں ذکر کرنے کا حکم دیا، فرمایا :
﴿فَإِذَا قَضَیۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ قِیَـٰمࣰا وَقُعُودࣰا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمۡۚ... ﴾ [النساء ١٠٣]

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اولوا الألباب کی یہی صفت بیان کی ہے، فرمایا :
إِنَّ فِی خَلۡقِ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَـٰفِ ٱلَّیۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّأُو۟لِی ٱلۡأَلۡبَـٰبِ.ٱلَّذِینَ یَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِیَـٰمࣰا وَقُعُودࣰا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ..... [آل عمران:١٩٠ - ١٩١]

اسی طرح حدیث میں ہے کہ خدمت نبوی میں ایک شخص آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اسلام کے احکام تو میرے لئے بہت ہیں، پس آپ مجھے ایسی بات بتلائیے جس کو میں مضبوطی سے پکڑ لوں، آپ نے فرمایا :
لا يزالُ لسانُك رطبًا من ذكرِ اللهِ
( صحيح الترمذي ٣٣٧٥)
تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھی یہی ہے کہ آپ تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے تھے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كانَ النبيُّ ﷺ يَذْكُرُ اللَّهَ على كُلِّ أحْيانِهِ.
( صحيح مسلم ٣٧٣)

ان حالات میں ہمیں صبح و شام کے اذکار کا خصوصاً التزام کرنا چاہئے، کیونکہ آفتوں اور بلاؤں سے حفاظت کرنے میں یہ اذکار بہت مؤثر ہیں، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ﺃﺫﻛﺎﺭ ﺍﻟﺼﺒﺎﺡ ﻭﺍﻟﻤﺴﺎﺀ ﺑﻤﺜﺎﺑﺔ ﺍﻟﺪﺭﻉ ﻛﻠﻤﺎ ﺯﺍﺩﺕ ﺳﻤﺎﻛﺘﻪ ﻟﻢ ﻳﺘﺄﺛﺮ ﺻﺎﺣﺒﻪ ، ﺑﻞ ﺗﺼﻞ ﻗﻮﺓ ﺍﻟﺪﺭﻉ ﺃﻥ ﻳﻌﻮﺩ ﺍﻟﺴﻬﻢ ﻓﻴﺼﻴﺐ ﻣﻦ ﺃﻃﻠﻘﻪ.
(الوابل الصيب : ٧١)
صبح و شام کے اذکار جنگی زرہ کی طرح ہیں زرہ جتنی موٹی ہوگی آدمی اسی قدر دشمن کی تیروں اور تلواروں سے متاثر نہیں ہوگا، (محفوظ رہے گا) بلکہ کبھی کبھی زرہ کی قوت اس حدتک ھوتی ھے کہ تیر اپنے مارنے والے کوجالگتاھے(یعنی
پلٹ کر اسی کو لگ جاتاھے)

شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ﺃﺫﻛﺎﺭ ﺍﻟﺼﺒﺎﺡ ﻭﺍﻟﻤﺴﺎﺀ ﺃﺷﺪ ﻣﻦ ﺳﻮﺭ ﻳﺄﺟﻮﺝ ﻭﻣﺄﺟﻮﺝ ﻓﻲ ﺍﻟﺘﺤﺼﻦ ﻟﻤﻦ ﻗﺎﻟﻬﺎ ﺑﺤﻀﻮﺭ ﻗﻠﺐ.
صبح و شام کے اذکار یاجوج ماجوج کی دیوار سے سے زیادہ مضبوط ہیں (آفتوں اور بلاؤں سے) حفاظت میں اس شخص کے لئے جو حضور قلب کے ساتھ انہیں پڑھتا ہے
(رابط المادة: 🎯 *ﻓـﺎﺋﺪﺓ ﻣﻬـﻤﺔ* ✍🏻 *ﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻘﻴﻢ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ :* ﺃﺫﻛﺎﺭ ﺍﻟﺼﺒﺎﺡ ﻭﺍﻟﻤﺴﺎﺀ ﺑﻤﺜﺎﺑﺔ ﺍﻟﺪﺭﻉ ﻛﻠﻤﺎ ﺯﺍﺩﺕ ... - طريق الإسلام (http://iswy.co/e268o5))
رابط الموضوع : أذكار الصباح والمساء الحصن الحصين (خطبة) (https://www.alukah.net/sharia/0/132303/#ixzz6JM2RCyUi))

*اسی طرح فرض نمازوں کے بعد کے اذکار*
*سونے جاگنے کے اذکار*
*کھانے پینے کے اذکار*
*گھر سے باہر جانے اور گھر میں داخل ہونے کے اذکار*
*چھوٹے چھوٹے مخصوص اذکار جن کے فضائل احادیث میں بیان کئے گئے ہیں*
ان تمام اذکار کی ہم پابندی کریں.

ہمیں چاہیے کہ فرصت کے ان ایام کی قدر کریں اور ان قیمتی لمحات سے بھرپور مستفید ہوں، کثرت سے ذکر الٰہی کا اہتمام کریں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے آمین
----------------------------------------------------------
11 / اپریل 2020 ، بروز ہفتہ
 
Top