لاک ڈاؤن میں اہل و عیال کی خدمت
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
------------------------------------------------------------
اس وقت جبکہ ہم سب لاک ڈاؤن کے ایام سے گزر رہے ہیں، دوکانیں، تعلیمی ادارے، آفسیں، سیر وسیاحت یہاں تک کہ عبادت گاہیں سب بند ہیں، چھوٹے بڑے اور مرد و خواتین سب اپنے گھروں میں مقیم ہیں، غور طلب بات یہ ہے کہ خواتین حسب معمول اپنے گھریلو کاموں میں مصروف ہیں بلکہ ان کی ڈیوٹی اور بڑھ گئی ہے،گھر کی پاکی صفائی اور کچن کی ذمہ داری ادا کرنے کے ساتھ بچوں کو سنبھالنا ایک مشکل کام ہوگیا ہے، عام دنوں میں بچے زیادہ وقت اسکولوں میں گزارتے تھے، مرد حضرات ملازمت اور تجارت میں مصروف رہتے تھے، اب ان سب کو برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے،
ان حالات میں مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھریلو کاموں میں بیوی کا تعاون کریں اور ہاتھ بٹائیں
گھریلو کاموں میں بیوی کا تعاون کرنا یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے، بعض لوگ اسے اپنی بےعزتی اور توہین سمجھتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے امور میں بھی بیوی پر انحصار کرتے ہیں،یہ کسی اچھے انسان کی پہچان نہیں ہے، ہمیں ہر معاملے میں اسوہ نبوی کو اختیار کرنا چاہئے جیسا کہ حدیث میں ہے :
سَأَلْتُ عائِشَةَ ما كانَ النبيُّ ﷺ يَصْنَعُ في بَيْتِهِ؟ قالَتْ: كانَ يَكونُ في مِهْنَةِ أهْلِهِ - تَعْنِي خِدْمَةَ أهْلِهِ - فَإِذا حَضَرَتِ الصَّلاةُ خَرَجَ إلى الصَّلاةِ.
(صحيح البخاري ٦٧٦)
اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ اہل وعیال کی خدمت میں لگے رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے نکل جاتے،

یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق ہے اہل وعیال کے ساتھ، مذکورہ حدیث کی روشنی میں ہم اپنی عائلی زندگی کا جائزہ لیں کہ ہم کہاں تک اس اسوہ پر عمل پیرا ہیں، یقیناً یہ حسن معاشرت کی واضح دلیل ہے اور خوشگوار ازدواجی زندگی کا اہم راز ہے، اسے نہ اپنانے کی وجہ سے اکثر میاں بیوی کے جھگڑے اور باہمی اختلافات شروع ہو جاتے ہیں،

اسی طرح اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال تواضع معلوم ہوتی ہے، آپ کی شخصیت کتنی عظیم ہے پھر بھی آپ گھریلو کام کاج کو کسر شان نہیں سمجھتے تھے.

اسی طرح اس حدیث میں ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ ہم گھریلو معاملات میں اس قدر مصروف نہ ہو جائیں کہ نمازوں سے غافل ہو جائیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سنتے ہی فوراً نماز کے لئے چلے جاتے تھے جیسا کہ بخاری کی دوسری روایت میں ہے :
سَأَلْتُ عائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها، ما كانَ النبيُّ ﷺ، يَصْنَعُ في البَيْتِ؟ قالَتْ: كانَ يَكونُ في مِهْنَةِ أهْلِهِ، فَإِذا سَمِعَ الأذانَ خَرَجَ.
(صحيح البخاري ٥٣٦٣)

دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں وہ تمام کام کیا کرتے تھے جو ایک عام انسان کرتا ہے، کپڑے سی لیتے، جوتے کی خود مرمت کر لیتے، بکری کا دودھ نچوڑتے،ڈول سی لیتے، وغیرہ
حدیث :
سألتُ عائشةَ رضيَ اللهُ عنها: ما كان النَّبيُّ ﷺ يعملُ في بيتِهِ؟ قالت: يخصِفُ نعلَهُ، ويعملُ ما يعملُ الرَّجلُ في بيتِهِ. وفي روايةٍ: قالت: ما يصنَعُ أحدُكُم في بيتِهِ: يخصِفُ النَّعلَ، ويَرْقَعُ الثَّوبَ، ويَخِيطُ
( صحيح الأدب المفرد ٤١٩)

قُلْتُ لعائشةَ: يا أمَّ المؤمنينَ أيُّ شيءٍ كان يصنَعُ رسولُ اللهِ ﷺ إذا كان عندَكِ؟ قالت: ما يفعَلُ أحدُكم في مِهنةِ أهلِه يخصِفُ نعلَه ويَخيطُ ثوبَه ويرقَعُ دَلْوَه
( صحيح ابن حبان ٥٦٧٦)

اسی طرح یہ کامل مومن کی صفت ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کے حق میں بہتر ہو،اس کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ مشکل اوقات میں ان پر آسانی کرے اور گھریلو امور میں ان کا تعاون کرے،
حدیث :
أكملُ المؤمنين إيمانًا أحسنُهم خُلُقًا، وخيارُكم خيارُكم لنسائِهم.
(صحيح الترغيب ١٩٢٣ • حسن صحيح • أخرجه أبو داود (٤٦٨٢)، والترمذي (١١٦٢)، وأحمد (٢/ ٤٧٢) واللفظ له)

کامل مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہو اور اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہو.
دوسری حدیث میں ہے :
خيرُكم خيرُكم لأهلِه، وأنا خيرُكم لأهلي.
( صحيح الترغيب ١٩٢٥ • صحيح لغيره • أخرجه ابن ماجه (١٩٧٧))

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے اور اس وبا کو جلد از جلد ہم سے ہٹا دے، پورے ملک اور جملہ انسانیت کی حفاظت فرمائے آمین
-----------------------------------------------------------
9 / اپریل 2020، جمعرات
 
Top