حاضر غائب کی ضد ہے موجود کو کہتے ہیں
ناظر دیکھنے والا یہ اعمی (نابینا) کی ضد ہے
حاضر اللہ کی صفات میں سے ہے یا نہیں اس کے متعلق فی الحال میرے علم میں کوئی آیت یا حدیث نہیں، البتہ اس سے ملتی جلتی صفات اللہ کے لئے قرآن و احادیث میں وارد ہوئی ہیں مثلاً "فإني قريب " (البقرة :186) ، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بے شک میں قریب ہوں " إنني معكما أسمع و ارى" (طه :46) یعنی یقیناً میں تم دونوں کے ساتھ ہو سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں، صفت قربت و معیت کو مد نظر رکھتے ہوئے علماء اللہ کو اپنی کتابوں و تقریروں میں حاضر و ناظر کہتے چلے آئے ہیں
رہی بات ناظر کی تو بطور صفت ایک ضعیف حدیث میں آیا ہے چنانچہ حدیث میں ہے " فناظرٌ كيف تعملون" (إبن ماجہ :4000) البتہ مسلم کی روایت میں صفات فعلیہ کے طور ہے "فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ" (مسلم : 2742) یعنی اللہ تم کو دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو، اس کے معنی میں اور بھی صفات ہیں مثلاً البصير وغيرها
یاد رہے یہ قربت و معیت ذوات کے اپنے اپنے اعتبار سے ہوتی ہے مخلوق میں ہم دیکھتے ہیں انسان کے اعتبار سے جسے قریب شمار کیا جائے گا وہ ایک چیونٹی کے لئے ہرگز قریب نہیں کہا جا سکتا، اور جب یہ فرق ایک مخلوق کا دوسری کے ساتھ ہے تو خالق کے فرق کو سمجھ پانا ناممکن ہے اس لئے اللہ کی قربت و معیت اس کے اپنے اعتبار سے ہے،
اس سلسلے میں ایک بات اور یاد رہے کہ اللہ کی قربت و معیت کا ہرگز یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اپنی مخلوق سے ملا ہوا یا اس میں داخل ہے جیسا کہ گمراہ صوفیوں کا کہنا ہے بلکہ اللہ اپنی مخلوق سے جدا اور بلند ہے
واللہ اعلم بالصواب
 
Last edited:
Top