اللہ کی بارگاہ میں عاجزانہ التجا اور گریہ و زاری
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
---------------------------------------------------------------
بلاشبہ کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے جس سے دنیا کی اکثر آبادی متاثر ہے، اب تک پوری دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں اس وبا سے اموات ہوچکی ہیں اور روز بروز سلسلہ جاری ہے، ایسے وقت میں ماہرین اطباء، محکمہ صحت اور حکومت کی طرف سے دئیے گئے گائیڈ لائنس پر سارے لوگ عمل پیرا ہیں اور ان ظاہری تدابیر کو اختیار کرنا ضروری بھی ہے اور یہ توکل اور تقدیر کے خلاف بھی نہیں ہے، جو بھی حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر ہیں ان پر سختی سے عمل کریں.

مگر یہ اسباب اور تدابیر ہی سب کچھ نہیں ہیں، مسبب الأسباب اللہ رب العالمين کی ذات ہے، ہماری کوششوں اور تدابیر کو کامیاب بنانے والا وہی ہے، اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جنہیں اپنی ٹکنالوجی اور اختراعات و ایجادات پر بڑا ناز تھا، سب اللہ رب العزت کی قدرت کے سامنے بےبس اور مجبور نظر آرہے ہیں، ساری دنیا کے سامنے واضح ہوگیا کہ ہم سب اللہ رب العالمین کے در کے بھکاری ہیں اور تنہا اللہ تعالیٰ کی ذات غنی اور بے نیاز ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَاۤءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِیُّ ٱلۡحَمِیدُ (فاطر:١٥)
اس مہلک وبا نے یہ ثابت کر دیا کہ مشکل کشا، بگڑی بنانے والا، بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالنے والا، بیماریوں سے شفاءیابی دینے والا صرف اللہ رب العالمین ہے، ساری قدرت کا مالک وہی ہے، سارے اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں، اس کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا، ارشاد ربانی ہے :
وَإِن یَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرࣲّ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥۤ إِلَّا هُوَۖ وَإِن یُرِدۡكَ بِخَیۡرࣲ فَلَا رَاۤدَّ لِفَضۡلِهِۦۚ یُصِیبُ بِهِۦ مَن یَشَاۤءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ﴾ [يونس ١٠٧]
اور فرمایا :
﴿قُلِ ٱللَّهُمَّ مَـٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِ تُؤۡتِی ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَاۤءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَاۤءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاۤءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاۤءُۖ بِیَدِكَ ٱلۡخَیۡرُۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ قَدِیرࣱ﴾ [آل عمران ٢٦]
کہاں گئے قبروں اور درگاہوں کے مجاور، کہاں گئے پیشہ ور جھوٹے عاملین جو بڑے بڑے دعوے کرتے تھے اور مٹھی میں جنت دکھاتے تھے، ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ کر قسمت بتاتے تھے، زندگی میں آنے والے آفات و حوادث سے بچنے کے نسخے بانٹتے تھے،؟؟؟ وغیرہ وغیرہ
ان حالات میں سب کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی، آج وہ خود روپوش ہوگئے ہیں اور اپنی حفاظت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں.
لوگو! اللہ سے ڈرو، عبادت کے لائق صرف وہی ہے، اسی سے مدد طلب کرو، اسی سے مانگو، اسی کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ، وہی نفع اور نقصان کا مالک ہے، عزت اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے، غریب نواز، داتا نواز، مشکل کشا وہی ہے.
چھوڑ دو یہ پیری مریدی کا چکر، دنیا کے ان جھوٹے اور مکار عاملوں، کاہنوں، نجومیوں، پجاریوں اور مجاوروں کے دھوکے میں مت آؤ، لوٹ جاؤ اللہ رب العالمین کی طرف اور اس کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرو، عبادت کی ساری قسمیں اسی کے لئے انجام دو، اسی میں تمہارے لئے بھلائی ہے اور دنیا و آخرت میں عافیت اور نجات ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے آمین

یہ حقیقت ہے کہ بہت سارے لوگ احتیاطی تدابیر کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں، تدابیر ضرور اختیار کریں مگر اس سے بڑھ کر اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں عاجزانہ التجا کریں اور سچے دل سے گریہ و زاری کریں،اس کی طرف رجوع کریں، اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگیں، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں، روئیں اور گڑ گڑائیں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا :
ٱدۡعُوا۟ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعࣰا وَخُفۡیَةًۚ إِنَّهُۥ لَا یُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِینَ﴾ [الأعراف ٥٥]
حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بلاؤں، آفتوں، بیماریوں اور پریشانیوں میں اس لئے مبتلا کرتا ہے تاکہ بندے مصیبت کی اس گھڑی میں اس کی بارگاہ میں تضرع و زاری کریں، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَاۤ إِلَىٰۤ أُمَمࣲ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَـٰهُم بِٱلۡبَأۡسَاۤءِ وَٱلضَّرَّاۤءِ لَعَلَّهُمۡ یَتَضَرَّعُونَ﴾فَلَوۡلَاۤ إِذۡ جَاۤءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَـٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَیَّنَ لَهُمُ ٱلشَّیۡطَـٰنُ مَا كَانُوا۟ یَعۡمَلُونَ.
[الأنعام ٤٢ - ٤٣]
دوسری جگہ فرمایا :
وَلَقَدۡ أَخَذۡنَـٰهُم بِٱلۡعَذَابِ فَمَا ٱسۡتَكَانُوا۟ لِرَبِّهِمۡ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ. [المؤمنون :٧٦]
اگر بندے مصیبت نازل ہونے کے بعد پورے اخلاص اور دل کے تڑپ سے رب العالمین کو پکارتے تو ضرور اللہ ارحم الراحمين ہم پر رحم فرما کر مصیبت کو ٹال دیتا، مگر دلوں کی سختی اور ہمارے اوپر شیطان کا تسلط ہمیں اس پر آمادہ نہیں کر رہا ہے، ہم اپنے آپ میں مست و مگن ہیں، لہو لعب میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ نازک حالات بھی ہمیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر رہے ہیں، یقیناً یہ حد درجہ افسوسناک بات ہے.

اللہ کے بندو! اپنے اعمال کا جائزہ لو، نفس کا محاسبہ کرو، اپنے گناہوں پر نادم اور پشیماں ہوکر خالص سچی توبہ کرو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،سنبھل جاؤ، خواب غفلت سے بیدار ہو جاؤ ورنہ یاد رکھو (اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے)

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے آمین
-----------------------------------------------------------
10 / اپریل 2020 ،بروز جمعہ
 
Top