کرونا سے نصیحت پکڑیں اسے مزاق نہ بنائیں
ابو حمدان اشرف فیضی، رائیدرگ
--------------------------------------------------------------------
بعض نادان اور کمزور مسلمان ان حالات میں گھروں میں رہتے ہوئے بیزار ہو کر اور کاروبار متاثر ہونے یا گھریلو پریشانیوں سے عاجز ہو کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کر بیٹھتے ہیں، کرونا وائرس کو برا کہنے لگتے ہیں انہیں اس سے بچنا چاہئے یہ عظیم جرم ہے، بیماری یہ اللہ کی طرف سے ہے، زمانے اور آفات و حوادث کو گالی دینا گویا اللہ کو گالی دینا ہے کیونکہ ان سب کا خالق اور مدبر اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب کے پاس گئے، پوچھا :کیا بات ہے تم کانپ رہی ہو؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول بخار ہے، اللہ اس میں برکت نہ دے، تو آپ نے فرمایا :
لا تَسُبِّي الحُمّى، فإنَّها تُذْهِبُ خَطايا بَنِي آدَمَ، كما يُذْهِبُ الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ.
(صحيح مسلم ٢٥٧٥)
تم بخار کو برا مت کہو کیونکہ وہ ابن آدم کے گناہوں کو ویسے ہی ختم کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ختم کر دیتی ہے.
حدیث قدسی میں ہے اللہ فرماتا ہے :
يُؤْذِينِي ابنُ آدَمَ يقولُ: يا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فلا يَقُولَنَّ أحَدُكُمْ: يا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فإنِّي أنا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ ونَهارَهُ، فإذا شِئْتُ قَبَضْتُهُما.
( صحيح مسلم ٢٢٤٦)

مومنانہ کردار یہ ہے کہ ہم صبر کریں اور ہر حال میں اللہ کے فیصلے سے راضی رہیں، اسی میں ہمارے لئے بھلائی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا تو اللہ کے نبی نے انہیں بتایا :
أنَّها سَأَلَتْ رَسولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الطّاعُونِ، فأخْبَرَها نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ: أنَّه كانَ عَذابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ على مَن يَشاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فليسَ مِن عَبْدٍ يَقَعُ الطّاعُونُ، فَيَمْكُثُ في بَلَدِهِ صابِرًا، يَعْلَمُ أنَّه لَنْ يُصِيبَهُ إلّا ما كَتَبَ اللَّهُ له، إلّا كانَ له مِثْلُ أجْرِ الشَّهِيدِ
( صحيح البخاري ٥٧٣٤)
یہ عذاب تھا جس پر اللہ تعالیٰ چاہتا اسے نازل فرماتا، اب اللہ نے اسے مومنون کے لئے رحمت کا ذریعہ بنا دیا ہے اب جو بندہ بھی اس طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے طاعون زدہ شہر میں ہی صبر کرتا ہوا ثواب آخرت کی نیت سے ٹھہرا رہے، اسے یقین ہو کہ اسے وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے، تو ایسے شخص کے لئے شہید کے مثل أجر ہے.
قارئین کرام
معلوم ہوا کہ بعض لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے والوں کا مزاق اڑا رہے ہیں اور انہیں کمزور اور بزدل سمجھ رہے ہیں اور خود آزادانہ گھوم رہے ہیں اور اپنے آپ کو بہادر اور چالاک سمجھ رہے ہیں، یہ حد درجہ حماقت والی بات اور غیر دانشمندانہ حرکت ہے، یہ انتہائی خطرناک وبا ہے جس سے ترقی یافتہ ممالک پریشان اور عاجز ہیں، سب اللہ کی قدرت کے سامنے لاچار، مجبور اور بےبس بنے ہوئے ہیں.

لہٰذا ہوش میں آجائیں، ہنسی مزاق سے احتراز کریں ، اسے سنجیدگی سے لیں، لاپرواہی نہ کریں، یاد رکھیں کہ ہماری معمولی غفلت ہمیں اپنے عزیزوں سے جدا کر سکتی ہے، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین
محترم قارئین
اس وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، دیکھا جارہا ہے کہ اس سے بچنے کے لئے ہر آدمی ایک دوسرے سے بھاگ رہا ہے، لوگ بوقت ملاقات مصافحہ کرنے سے ڈر رہے ہیں، اگر کوئی اس کا شکار ہو گیا تو اس کے پورے اہل خانہ سے سماجی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو بھی دیکھنے میں آئی کہ اس مرض میں مبتلا ایک بچی بستر پر پڑی چیخ و پکار کر رہی ہے مگر اس مرض کی سنگینی کی وجہ سے ماں باپ اس کے قریب آنے کے لئے تیار نہیں ہیں، اگر کسی کی موت ہوجائے تو قریبی لوگ بھی جنازہ اور تدفین میں شریک نہیں ہوتے. الأمان والحفيظ

یہ سب واقعات ہمیں جھنجھوڑنے اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے کافی ہیں، عقلمند انسان ان سے عبرت ونصیحت حاصل کرتا ہے اور اللہ کی طرف سچے دل سے رجوع کرتا ہے،

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ ہے کہ جب ہوائیں چلتیں، آسمان میں بدلی نظر آتی تو آپ بےچین ہوجاتے، گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار آپ کے چہرے میں نظر آتے،ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب لوگ بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اس سے بارش برسے گی لیکن اس کے برخلاف آپ کو میں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھتے ہیں تو ناگواری کا اثر آپ کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا عائِشَةُ ما يُؤْمِنِّي أنْ يَكونَ فيه عَذابٌ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بالرِّيحِ، وقدْ رَأى قَوْمٌ العَذابَ، فَقالوا: هذا عارِضٌ مُمْطِرُنا
(صحيح البخاري ٤٨٢٨)
اے عائشہ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم (عاد) پر ہوا کا عذاب آیا تھا۔ انہوں نے جب عذاب دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔

مگر افسوس صد افسوس ان حالات میں ہم اپنی نظروں سے دلخراش مناظر دیکھ رہے ہیں، روز بروز ہلاکت وتباہی کی خبریں سن رہے ہیں مگر ہماری غفلت اور بےحسی کا حال یہ ہے کہ ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بار بار اپنے نفس کا محاسبہ کریں، اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کریں.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق دے آمین.
--------------------------------------------------------------------
18 / اپریل 2020 ، ہفتہ
 
Top