ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ مسجدِ نبوی
بتاریخ:12؍ ربیع لآخر؍1442 ھ مطابق 27؍نومبر؍2020عیسوی۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن حُذیفی
موضوع: دین خیر خواہی کا نام ہے۔
ترجمہ: نورعالم محمد ابراہیم سلفی


پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ عزت اور کرم والا اور تمام جانداروں کو پیدا کرنے والا ہے، اس کا فضل اور نعمتیں بہت وسیع ہیں، میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم نعمتوں پر اسی کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ معزز ترین اور نہایت کرم کرنے والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو اللہ تعالی نے جوامع الکلم سے نوازا، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد ، ان کی آل اور راہ راست پر چلنے والے صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اپناؤ اور اس کے لیے نیک اعمال کے ذریعے قرب الہی کی جستجو کرو، حرام کاموں سے بچو؛ کیونکہ متقی ہی کامیاب و کامران ہوں گے، جبکہ ہوس پرست اور کوتاہی برتنے والے نامراد ہوں گے۔
مسلمانو!
اپنا محاسبہ خود ہی کر لو قبل اِس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، دلوں کو غفلت سے بیدار کرو، اپنے نفوس کو حرام کاموں اور ان کی لذت سے روکو، گناہوں سے توبہ کر لیں اس سے قبل کہ موت آئے، امیدیں بکھر جائیں اور مزید عمل کرنا ممکن نہ رہے۔
آپ سالہا سال اور ایام تیزی کے ساتھ گزرتے دیکھ رہے ہیں، اس زندگی کے بعد موت ہی ہے، اور موت کے بعد یا تو نعمتوں والی جنت ہو گی یا درد ناک عذاب۔
آپ جس طرح فانی دنیا کے لئے کد و کاوش کرتے ہیں اسی طرح دائمی آخرت کے لئے بھی محنت کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
”بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو [16] حالانکہ آخرت بہتر اور دائمی رہنے والی ہے۔“ [الأعلى: 16، 17]
مسلمانو!
قرآن کریم پر توجہ دو اسی میں تمہاری عزت اور سعادت ہے، اسی سے تمہارے حالات سنور سکتے ہیں، اسی میں تمہاری موت کے بعد کامیابی ہے، فتنوں سے تحفظ بھی اسی سے ملے گا اور یہ فتنے قربِ قیامت تک بڑھتے چلے جائیں گے، یہ فتنے ایسے ہیں کہ ابتدائی طور پر واضح نہیں ہوتے، لیکن جب انتہا ہو جائے تو ان کے بارے میں آنکھیں کھل جاتی ہیں؛ چنانچہ ان فتنوں سے وہی محفوظ رہ سکے گا جو قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے، اور ملت اسلامیہ کے ہم رکاب رہے، اس لیے کتاب اللہ پر غور و فکر کرو، اسی پر عمل پیرا رہو۔
رسول اللہ ﷺ کی احادیث یاد کریں تا کہ دین قائم رہے، عقیدہ صحیح رہے اور عبادات مکمل ہوں، خصوصاً ایسی احادیث پر توجہ دیں جو فضیلت والے اسلامی اعمال کے احکام پر مشتمل ہیں، ان احادیث کا معنی اور مفہوم اچھی طرح سمجھیں تاکہ اُنہیں مضبوطی سے تھام کر اُن پر عمل کرسکیں، سلف صالحین کا یہی منہج ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
”مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ (التوبہ: 100)
میں یہاں پر ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو کہ جوامع الکلم میں سے ہے، ہر حالت میں اس حدیث پر عمل ہر مسلمان مرد و عورت کی ذمہ داری ہے، جسم میں جب تک روح باقی ہے اس وقت تک تمام آدمیوں اور عورتوں کے لئے اس پر عمل ضروری ہے، وہ حدیث رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے: ”دین خیر خواہی کا نام ہے “ تو ہم نے کہا: "کن کی خیر خواہی؟" تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی ، کتاب اللہ، رسول اللہ، مسلم حکمرانوں اور عوام الناس کی۔“اس حدیث کو امام مسلم نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
نیز اس حدیث کو امام مسلمؒ کے علاوہ دیگر بہت سے محدثین نے روایت کیا ہے، یہ حدیث بہت عظیم حدیث ہے۔ امام ابو داودؒ کہتے ہیں: "فقہ پانچ احادیث کا نچوڑ ہے، پہلی حدیث: (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔۔۔) دوسری حدیث: (نہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی کسی اور کو نقصان دو) تیسری حدیث: (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے) چوتھی حدیث: (دین خیر خواہی کا نام ہے) پانچویں حدیث: (جس چیز سے میں تمہیں روک دوں اس سے فوری رک جاؤ، اور جس چیز کے کرنے کا حکم دوں تو اس پر حسب استطاعت عمل کرو)"
محدث حافظ ابو نعیم ؒ کہتے ہیں: "یہ بہت عظیم ہے"
محمد بن اسلم طوسیؒ نے ذکر کیا ہے کہ : ”حدیث (دین خیر خواہی کا نام ہے ) دین کا ایک چوتھائی حصہ ہے“
اور اس بات کی دلیل کہ اس حدیث پر عمل ہر مسلمان مرد اور عورت پر ہر حالت میں واجب اور ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ عبادات کو بعض مکلف افراد مرد یا عورتوں سے کسی عذر یا دیگر کسی سبب کی بنا پر ساقط کر دیا لیکن خیر خواہی کو کسی حالت میں بھی ساقط نہیں فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے:
”کمزور ،مریض اور وہ لوگ جن کے پاس انفاق فی سبیل اللہ کے لئے کچھ نہیں تو ان پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں ۔ نیکی کرنے والوں پر [اعتراض ]کا کوئی راستہ نہیں، اور اللہ درگزر کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔“ [التوبہ: 91]
تو اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا کہ کسی بھی مسلمان کا ایک لمحے کے لئے بھی خیر خواہی سے عاری ہونا قبول نہیں ہے۔
صحابہ کرام نے آیت میں مذکور خیر خواہی کا معنی نہیں پوچھا؛ کیونکہ انہیں دین میں خیر خواہی کے معانی کا دلالتِ مطابقت، دلالتِ تضمین و التزام ہر اعتبار سے علم تھا، تو اس خیر خواہی میں اسلام، ایمان اور احسان کے تینوں مراتب شامل ہیں، ہاں صحابہ کرام نے یہ ضرور پوچھا کہ یہ خیر خواہی کن کے لئے ہو گی؟ اور کون اس خیر خواہی کے مستحق ہوں گے؟
عربی زبان میں "النصيحة" [خیر خواہی]نصح سے ہے، جو کہ کسی بھی چیز کو ملاوٹ اور غیر متعلقہ چیز سے صاف کرنے کو کہتے ہیں، چنانچہ: "نَصَحَ العَسْلُ" اس وقت کہا جاتا ہے جب شہد کو موم سے صاف ستھرا کر لیا جائے۔
اس حدیث میں اللہ تعالی کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ سے محبت ہو، اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری ہو، شریعت الہی کے سامنے مکمل سرنگوں ہو کر تابعداری اس لیے ہو کہ اللہ کی رضا اور ثواب ملے، اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں، فرمان باری تعالی ہے:
”ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ان کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ [15] ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“ [السجدة: 15، 16]۔
اسی طرح فرمایا:
”اور ایمان لانے والوں کی اللہ تعالی سے محبت شدید ترین ہوتی ہے۔“ [البقرة: 165]
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”اللہ سے بھر پور دلی محبت کرو ؛ کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلاتا پلاتا ہے۔“
اللہ تعالی کی عظیم ترین خیر خواہی یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی اور عبادت کی جائے، اخلاص، سنت نبوی، اور طریقہ نبوی ﷺ کے مطابق عبادت کی جائے، ہر قسم کی عبادت جیسے دعا، مدد طلبی ،استغاثہ اور توکل وغیرہ صرف اللہ ہی سے کی جائے ، فرمانِ باری تعالی ہے:
”آپ کہہ دیں: میں تو اپنے پروردگار کو ہی پکارتا ہوں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔“ [الجن: 20]
اللہ تعالی کی بندگی اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ صفاتِ کمال اور جلال کا مالک ہے، وہ ہمہ قسم کے نقائص اور عیوب سے پاکیزہ اور منزہ ہے، ساری مخلوقات پر اسی کی نعمتیں ہیں، سب لوگ اسی کی رحمت کے سوالی ہیں، اس لیے اللہ کی عبادت اللہ تعالی سے خیرات ملنے کا باعث ہے۔ اللہ کی بندگی، زندگی میں اور زندگی کے بعد بلائیں ٹالنے کا باعث ہے۔ اللہ تعالی کی خیر خواہی یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے لیے ثابت کیا ہے اور جو
کچھ اسما و صفات رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کے لئے ثابت قرار دی ہیں انہیں اسی انداز سے ثابت مانا جائے جیسے سلف صالحین نے مانا تھا۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ”میری خیر خواہی؛ بندے کی میرے ہاں محبوب ترین عبادت ہے“( اس حدیث کو امام احمد نے اور طبرانی نے ا لکبیر میں روایت کیا ہے)۔
رسول اللہ ﷺ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: آپ نبیﷺ سے محبت کریں ،ان کا احترام کریں، اُن کی سنت کی تعظیم بجا لائیں اور ان کے احکامات کی تعمیل کریں، ان کے منع کردہ کاموں سے بچیں، ان کی شریعت کے مطابق اللہ کی عبادت کریں، ان کی سیرت کو اپنائیں، ان کی احادیث کی تصدیق کریں، ان احادیث کو آگے پھیلائیں اور دین محمدی کی جانب لوگوں کو دعوت دیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
”کہہ دو: اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، لیکن اگر تم پھر جاؤ تو رسول کے ذمے صرف وہ ہے جس کا وہ مکلف بنایا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جس کے تم مکلف بنائے گئے اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔ “ [النور: 54]
کتاب اللہ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: قرآن کریم کی تعظیم کریں، قرآن سے محبت کریں، اسے سیکھنے ، سکھانے اور قرآنی احکام سمجھنے کی پوری کوشش کریں، قرآن کریم کی صحیح انداز سے تلاوت کریں، قرآن کے احکامات کی تعمیل کریں اور ممنوعہ امور سے اجتناب کریں، پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کریں، قرآن کے حروف اور حدود کو یاد رکھیں، قرآن کریم کی تفسیر، معنی اور مراد کی معرفت حاصل کریں، قرآن کریم پر تدبر کریں، اپنا اخلاق قرآن کے مطابق بنائیں، قرآن و سنت کے فہم میں غلطی کرنے والوں کو جواب دیں، ان کی باطل باتوں کا رد کریں اور ان سے خبردار کریں۔ فرمانِ باری تعالی ہے:
”بیشک یہ قرآن اسی کی رہنمائی کرتا ہے جو انتہائی مضبوط راستہ ہے۔“[الإسراء: 9]
مسلم حکمرانوں کے لئے خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے لئے خیر پسند کریں، ان کے عدل کو پسند کریں، ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کریں، انہیں دھوکا نہ دیں، ان کے ساتھ خیانت نہ کریں، ان کے خلاف بغاوت نہ کریں، ان کے خلاف مظاہرے نہ کریں۔ حق بات پر ان کے ساتھ تعاون کریں، گناہوں کے علاوہ ہر کام میں ان کی اطاعت کریں، ان کی کامیابی اور فیصلوں میں درستگی کی دعا کریں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالی تم سے تین چیزوں کو پسند کرتا ہے: تم اسی کی عبادت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہوں میں مت بٹو، اور جس کو اللہ تعالی نے تم پر حاکم بنایا ہے اس کی خیر خواہی کرو۔“ (اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "اجتماعیت میں جو چیز تمہیں ناگوار ہے، وہ اختلاف میں تمہاری چاہت سے بہتر ہے، اور خیر خواہی دل کی سلامتی کا نام ہے۔“

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خیف کے مقام پر اپنے خطاب میں فرمایا تھا: ”تین چیزوں کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کمی نہیں کرتا: عمل کرتے ہوئے اللہ کے لئے اخلاص، حکمرانوں کی خیر خواہی، اور ملت اسلامیہ کا التزام۔“ (اس حدیث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے)۔
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس بندے کو اللہ تعالی رعایا کا حکمران بنائے اور وہ رعایا کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا)۔“(اس حدیث کو بخاری ، مسلم، اور احمد نے روایت کیا ہے)۔
مسلمان عامۃ الناس کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ: عوام الناس کو ان کے فائدے کی باتیں بتلائیں، انہیں دین سکھلائیں، ان کی عیب پوشی کریں، ان کی ضروریات پوری کریں، انہیں دھوکا مت دیں، خیانت سے کام مت لیں، ان سے حسد مت کریں،اور اُن سے اچھے سے پیش آئیں۔
خیر خواہی انبیائے کرام علیہم السلام کی صفت ہے،چنانچہ نبی ﷺ کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
” (لوگو)! تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا ہے۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اسے گراں گزرتی ہے۔ وہ ( تمہاری فلاح کا) حریص ہے، مومنوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔“ (توبہ:128)۔
نوح علیہ السلام کے بارےمیں فرمایا:
”میں تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں۔“ (اعراف:62)۔
ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
”تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارے لیے امانت دار، خیرخواہ ہوں۔“ (اعراف:68)۔
اور صالح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
”میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی بھی کی۔“ (اعراف:79)۔
اور خیر خواہی مومنوں کی بھی صفت ہے، اللہ تعالی نے سورہ یسین میں مذکور مردِ مومن کی صفت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
”اے میری قوم کے لوگو! ان رسولوں کی پیروی اختیار کرلو۔“ (یس:20)۔
پھر فرمایا:
”اس شخص سے کہاگیا کہ جنت میں داخل ہوجا ؤ تو اس نے کہا کاش میری قوم کو معلوم ہو جائے!“ (یس:26)۔
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اُس شخص نے دنیا میں بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور مرنے کے بعد بھی اُن کی خیر خواہی کی۔
فرمانِ باری تعالی ہے:
”بیشک مومن آپس میں بھائی بھائی ہی ہیں۔“ [الحجرات: 10]
اسی طرح فرمایا:
”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہوں میں مت بٹو۔“ [آل عمران: 103]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں ۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ غیب جاننے والا ، دلوں کو پھیرنے والا، مشکل کشا اور حاجت روا ہے، میں اگلی پچھلی تمام نعمتوں پر اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہی گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد -ﷺ-، انکی آل اور شریعت پر قائم تمام صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
خلوت اور جلوت میں تقوی الہی اختیار کرو ؛ تقوی کے ذریعے ہی بلند درجات حاصل کرو گے، اور اپنی زندگی میں اور موت کے بعد بھی کامیاب ہو جاؤ گے۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور و فکر کرو:
”مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے دوست ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم کرے گا، بے شک اللہ سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے۔“ [التوبہ: 71] اس آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعاون، مدد، خیر خواہی، تکافل، اخوت، مودت اور شفقت کا ذکر ہے۔
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ”میں نے نبی ﷺ سے بیعت کی کہ میں: نماز قائم کروں گا، زکاۃ دوں گا، اور ہر مسلمان کی خیر خواہی چاہوں گا“ ( اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)۔
ابو بکر مزنی ؒ کہتے ہیں: ”ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ کرام پر نماز اور روزے کی وجہ سے امتیازی مقام نہیں رکھتے تھے، بلکہ یہ ان کے دل میں کسی چیز کی وجہ سے تھا۔“ اس کی تفصیل میں ابن علیہؒ کہتے ہیں: ”سیدنا ابو بکر کے دل میں جو چیز تھی وہ اللہ کی محبت اور خلق خدا کی خیر خواہی تھی۔“
اور حکیم بن یزید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی سے اُس کا بھائی مشورہ طلب کرے تو اسے خیر خواہی پر مبنی مشورہ دے۔“ ( اس حدیث کو احمد نے اور طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے)۔
اللہ کے بندو!
”یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو۔“ [الأحزاب: 56]
اور آپ ﷺ کا فرمان ہے : ”جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔“
اس لئے سید الاولین والآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔
اے اللہ تو محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمایا، یقینا تو قابلِ تعریف اور بزرگ ہے،
اے اللہ تو محمد اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما ، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمایا، یقینا تو قابلِ تعریف اور بزرگ ہے،
اور تو بہت زیادہ درود وسلام نازل فرما۔
اے اللہ تو تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا۔
اے اللہ تو خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ حکمران ابو بکر وعمر وعثمان وعلی رضی اللہ عنہم سےاور بقیہ تمام صحابہ کرام سے اور قیامت تک اُن کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہوجا، اور اے اللہ تو اُن کے ساتھ ساتھ اپنے فضل وکرم اور رحمت سے ہم سے بھی راضی ہوجا، اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اے اللہ تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما،
اور کفر وکافرین، اور شرک ومشرکین کو ذلیل ورسوا فرما،۔
اے اللہ تواپنے اور دین کے دشمنوں کو تہ وبالا کردے۔
اے اللہ تو اپنے دین، اپنی کتاب، اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی ہر دور اور ہرجگہ مدد فرما، اے سارے جہانوں کے پروردگار! یقینا تو طاقتور اور مضبوط ہے۔
اے اللہ تو اپنی رحمت سے ہر مسلمان ومومن مردو وعورت کے معاملات کی ذمہ دراری لے لے، اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ تو مسلمانوں کی پریشانیوں، تکلیفوں اور مصیبتوں کو دور فرما،
اے اللہ اُن میں جو فقیر ہیں اُنہیں بے نیاز کردے، جو قرض دار ہیں اُن کے قرض کو ادا کردے، جو بیمار ہیں اُنہیں شفا عطا فرما، اے رب العالمین۔
اے اللہ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو اہل ِ شام کی مصیبتوں، سختیوں اور پریشانیوں کو دور فرما،
اے اللہ ! مسلمانوں میں جو گزر گیے تو اُن کی مغفرت فرما، اُن کی قبروں کو منور کردے، اُن کی لغزشوں کو معاف فرما، اور اُن کی نیکیوں کو دوچند کردے، اے رب العالمین۔
اے اللہ! تو ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان، اُس کی ذریت اور اُس کےگروہ کے شر سے محفوظ فرما، اے رب العالمین۔
اے اللہ ، اے عظمت وجلال والے پروردگار! تو اپنے ذکر وشکر اور اچھی طرح عبادت کرنے اور اپنے رسول کی سنت کو پکڑے رہنے میں ہماری مدد فرما،
اے اللہ ! تمام امور میں ہمارے انجام کو درست فرما، اور ہمیں دنیا وآخرت کی شرمند گی سے محفوظ فرما، اور ہم پر اپنی رحمت و برکت اور رزق کے دروازے کھول دے، اے رب العالمین۔
اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہم پر بارش نازل فرما، اے اللہ تو ہم پر موسلا دھار ، بابرکت، نفع بخش اور غیر نقصان دہ بارش نازل فرما، اے رب العالمین۔
اے اللہ تو ہمارے ملک کی ہر شر وبرائی سے حفاظت فرما، اے اللہ تو ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ تو ہمارے اگلے پچھلے، ظاہری وباطنی اور جن کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، اُن تمام گناہوں کو بخش دے، بیشک تو ہی اول وآخر ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
اے اللہ تو ہمارے والدین کو بخش دے، اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ تو انسانیت کے دشمنوں کی خبر لے، جن کے بارے میں تو زیادہ جانتا ہے، اے اللہ تو انسانیت کو اُن کے شرسے محفوظ فرما، اے ذو الجلال والاکرام، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ تو ہمیں اپنے نفس کے شر سے اور برے اعمال سے محفوظ فرما، اور ہمیں دنیا وآخرت میں ثابت قدمی عطا فرما۔
اے اللہ تو خادمِ حرمین شریفین کو اپنے پسند اور رضامندی کے کام کی توفیق عطا فرما، اور اُن کے ذریعے اپنے دین کی مدد فرما، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو اُنہیں ہر خیر وبھلائی کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ تو اُن کے ولی عہد کو خیر کی توفیق عطا فرما، اور اُنہیں بھی اپنی رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور ہر خیر کے کام میں اُن کی مدد فرما، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے،
اے اللہ تو پلک جھپکنے کے برابر بھی ہمیں اپنے نفسوں کے حوالے نہ کرنا، اے اللہ تو ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر جمادے، اے ارحم الراحمین۔
اللہ کے بندو! یقینا اللہ تعالی عدل واحسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی وبرائی اور زیادتی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
عظیم وجلیل اللہ کو یاد کرو، اور اُس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
 
Top